Friday, Mar 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

قومی خبریں

بریشیا میں پاکستانی بچہ ڈوب کر ہلاک ہو گیا

روم، 14 مئی 2013 ۔۔۔۔ بریشیا میں ایک پاکستانی بچہ دریا Mellaمیں ڈوب کر ہلاک ہو گیا ہے ۔ بچے کی عمر 2 سال تھی اور اس کا نام محمد رانجھا تھا ۔ گواہوں کے مطابق بچہ اپنی والدہ سدرہ خضر اور اسکی بہن کے ہمراہ ایک پارک میں جا رہے تھے ۔ انہیں ٹریفک والی سڑک سے ڈر لگتا تھا ، اس لیے یہ اپنے گھر سے کچی سڑک پکڑ کرپارک تک آتے تھے ۔ یہ کچی سڑک دریا کے کنارے سے گزرتی تھی ۔ یہ لوگ سڑک پار کر رہے تھے کہ اچانک بچہ دریا کے اندر گر گیا ۔ ماں نے اسے بچانے کے لیے چھلانگ لگا دی اور یہ دونوں پانی میں بہہ گئے ۔ ماں کی 17 سالہ بہن نے انہیں بچانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی ۔ اس نے سڑک پر چیخنا اور چلانا شروع کردیا اور لوگ اسکی مدد کے لیے پہنچ گئے ۔ موجودہ بارشوں کیوجہ سے دریا کا پانی کافی تیز ہو گیا ہے ۔ خیر پولیس ، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس جائے وقوع پر پہنچ گئی اور انہوں نے ایک کلومیٹر دور جا کر بچے اور ماں کو پانی سے باہر نکال لیا ۔ دونوں کو ابتدائی امداد فراہم کی گئی ۔ بچے نے ہسپتال میں پہنچ کر دم توڑ دیا اور ماں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے ۔ یہ واقع بریشیا کے گاؤں Castelmellaمیں وجود میں آیا ہے ۔ بچے نے 22 اگست کو 2 سال کی عمر پوری کرنی تھی ۔ بچے کا والد ان دنوں پاکستان میں موجود ہے ۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سسلی میں کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم فائنل میں

سسلی، 9 مئی 2013 ۔۔۔ سسلی کے شہر پلیرمو میں حالیہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے مقابلوں میں پاکستانی ٹیم اعلی کارکردگی کی بنا پر فائنل میں پہنچ گئی ہے ۔ پلیرمو کے ملٹی کلچرل منصوبے Palermo apre le porte  کے تحت یہ ٹورنامنٹ منعقد کیا گيا ہے ۔ اس میں 4 ٹیمیوں نے حصہ لیا ہے ۔ اس میں 2 ٹیمیں سری لنکا کی ہیں اور اسکے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں موجود ہیں ۔ پاکستان کی ٹیم کا نام کنگ ان پلیرمو ہے ۔ ان ٹیموں کے کھلاڑی سسلی میں آباد ہیں ۔ یہ ٹورنامنٹ 7 مئی کو شروع ہوا تھا اور اس کا فائنل میچ 31 مئی کو کھیلا جا رہا ہے ۔ فائنل سری لنکا اور پاکستان کی ٹیم کے مابین ہوگا اور شائقین کی کافی تعداد شرکت کرے گی ۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان اقتدار حسین نے کہا کہ ہماری ٹیم فائنل کے لیے تیاری کررہی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہم اپنی بہترین بیٹنگ اور عمدہ  فیلڈنگ کے زریعے ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ رپورٹ ، سید شہزاد حسین نمائندہ آزاد سسلی

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 09 مئی 2013 21:01

چلو چلو لوینیو چلو

روم، 3 مئی 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے دارالخلافہ روم کے ساحلی قصبے لوینیو میں تحریک انصاف اٹلی کا عظیم الشان جلسہ بروز اتوار 5 مئی شام 3 بجے منعقد کیا جا رہا ہے ۔ جلسے کے مہمان خصوصی اٹلی کی مشہور و معروف شخصیت اور تحریک انصاف اٹلی کے کوارڈینیٹر ندیم یوسف ہیں ۔ اٹلی میں آباد تمام خواتین و حضرات کو دعوت عام دی جاتی ہے ۔ میزبان عامر صدیق بسراایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جلسے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور پورے اٹلی سے تارکین وطن شمولیت کے لیے تشریف لارہے ہیں ، سب سے زیادہ فون فیملیوں کے آرہے ہیں ۔ نیا پاکستان کا نعرہ حقیقت بن رہا ہے اور عوام کی بھاری اکثریت کی شمولیت اس بات کی گواہی ہے کہ لوگ عمران خان کی لیڈرشپ کے زریعے پاکستان کو بدلنے کا عہد کرچکے ہیں ۔ ہم تہہ دل سے اٹلی کے تمام مہمانان گرامی کو گرم جوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ لوگ وقت پر پہنچ کر جلسے کی رونق کو دوبالا کریں گے ۔ اس جلسے کا مقصد عوام میں قومی ولولہ اجاگر کرنا، سیاست سے دلچسپی، تحریک انصاف کی یقین دہانی اور امید کی کرن پیدا کرنا ہے ۔ ہمارا ملک پرانے سیاست دانوں سے تنگ آچکا ہے اور تبدیلی کا خواہشمند ہے ۔ اگر آپ اپنے پیارے ملک کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمارا ساتھ دیں ۔

جلسے کی استقبالیہ میں عامر صدیق بسراایڈووکیٹ، شیخ خالد، شیخ تنویر، فاروق چوہدری، تحریک انصاف اٹلی کی وومن ونگ اٹلی کی صدر سدرا عامر، انفارمیشن سیکرٹری حنا عروج چوہدری اور دوسری اہم شخصیات شامل ہیں ۔ تمام خواتین و حضرات جلسے کی جگہ کا ایڈریس نوٹ فرمائیں

Viale Di Valle Schioia 67 Lavinio

 3203459644, 3331856444, 3779863490موبائل

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

دس سالوں میں اٹلی میں 35 لاکھ غیر ملکی داخل ہوئے ہیں

روم۔  ۔۔۔۔ اٹلی کے مردم شماری کے ادارے استات کے مطابق 2003 سے لیکر 2012 تک دس سالوں میں اٹلی میں 36 لاکھ غیر ملکی داخل ہوئے ہیں۔ صرف رومانیہ ملک سے 10 لاکھ غیر ملکی اٹلی میں رہائش پذیر ہوئے ہیں ۔ اسکے بعد انہیں دس سالوں میں 1 لاکھ 75 ہزار غیر ملکیوں نے اٹلی چھوڑ دیا ہے اور اسکے بعد 2 لاکھ 81 ہزار غیر ملکی لاپتہ ہوگئے ہیں یا پھر انہوں نے اپنا ریذیڈنس کٹوادیا ہے ۔ یہ وہ غیر ملکی ہیں ، جن کا ورک پرمٹ یا پرمیسو دی سوجورنو ختم ہوگئی ہے ۔ 2007 تک اٹلی میں داخل ہونے والے غیر ملکیوں کی تعداد بڑھتی ہوئی نظر آتی تھی لیکن 2007 کے بعد اس تعداد میں کمی واقع ہونی شروع ہو گئی تھی ۔ 2011 میں 3 لاکھ 86 ہزار غیر ملکی اٹلی میں رجسٹریشن کرواچکے ہیں اور اسی سال میں 82 ہزار غیرملکیوں نے اپنی رجسٹریشن کینسل کروادی ہے ۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں اس سال میں 3 لاکھ 4 ہزار غیر ملکی اٹلی میں رجسٹرڈ کئے گئے ہیں ۔ غیر ملکی جو کہ اٹلی چھوڑ جاتے ہیں ، اکثر انکی عمر 34 سال ہوتی ہے اور ان میں 53 فیصد مرد شامل ہوتے ہیں ۔ وہ غیر ملکی جو کہ اٹلی میں داخل ہوتے ہیں انکی عمر عام طور پر 31 سال کے لگ بھگ ہوتی ہے اور ان کی اکثریت عورتوں پر مبنی ہوتی ہے  ۔ ان غیر ملکیوں کی 43 فیصد تعداد کا تعلق رومانیہ، مراکش، چین اور یوکرائن سے ہوتا ہے ۔ اٹلی چھوڑنے والے غیر ملکیوں میں رومانیہ کے غیر ملکی سرفہرست ہیں اور اسکے بعد چینی اور البانیہ کے غیر ملکی شامل ہیں ۔ 2011 میں اٹلی کے اندرونی شہروں اور قصبوں میں 13 لاکھ 58 ہزار غیر ملکیوں نے نقل مکانی کی ہے یا اندرونی ہجرت کی ہے ۔ 2010 کے مقابلے میں 13 ہزار غیر ملکی زیادہ دوسرے شہروں میں شفٹ ہوئے ہیں ۔ غیر ملکی اٹالین کی نسبت زیادہ اندرونی نقل مکانی کرتے ہیں ۔ ہر ایک ہزار غیر ملکیوں کے بعد 51 غیر ملکی اندرونی نقل مکانی کرتے ہیں جبکہ اٹالین صرف ہر ایک ہزار بعد صرف 21 اندرونی نقل مکانی کرتے ہیں ۔ سب سے زیادہ غیر ملکی جو کہ اندرونی نقل مکانی کرتے ہیں ان میں رومانیہ کے غیر ملکی شامل ہیں ، اسکے بعد چینی غیر ملکی شامل ہیں جو کہ اٹلی کے اندرون میں نقل مکانی کرتے ہیں

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ڈاکٹر جاوید کنول اور تحریک انصاف اٹلی

تحریر، وسیم رضا ۔۔۔۔ اٹلی کے سینئر صحافی ڈاکٹر جاوید کنول کے کالم " اٹلی میں پاکستان کے انتخابات کی گہما گہمی " کی اشاعت پر تحریک انصاف اٹلی کی قیادت اور بالخصوص بلزانو کے نوجوانوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ یہ کالم روزنامہ جنگ کے 15 اپریل کے شمارے میں شائع ہوا ہے ۔ مذکورہ بالا کالم پر دو طرح کے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ۔ پہلا اعتراض تحریک انصاف اٹلی کے کوارڈینیٹر ندیم یوسف ایڈووکیٹ کی زاتی شخصیت اور سیاسی کردار کی دہجیاں اڑانا جبکہ دوسرا اعتراض قلم کے زور پر تین افراد کو تحریک انصاف اٹلی کی محوزہ اور حقیقی قیادت بنا کر پیش کرنے کی کوشش سے متعلق ہے ۔ آئیے ڈاکٹر جاوید کنول کی تحریک انصاف اٹلی کے متعلق معلومات اور تبصرے کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ ڈاکٹر جاوید کنول کون ہیں ؟ سینئر صحافی ڈاکٹر جاوید کنول جیو ٹیوی کے اٹلی کے نمائندے ہیں ۔ صاحب طرز شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ پختہ سیاسی شعور کے مالک ہیں ۔ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں ۔ تحفظ ختم نبوت ۖ کے حوالے سے ان کا کام سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے مذکورہ تحریر میں رائے قائم کی ہے کہ کوارڈینیٹر ندیم یوسف ایڈووکیٹ کی اس عہدے کے لیے نامزدگی تنقید کی زد میں ہے ۔ اپنی رائے کے حق میں دلیل یوں پیش کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کی اکثریت بلونیا اور بریشیا میں آباد ہے جبکہ کوارڈینٹر موصوف اٹلی کے دوسرے کونے وینس میں آباد ہیں ۔ اس وجہ سے اپنی کمونٹی سے رابطہ نہیں رکھ سکتے جو کہ انتخابات کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر جاوید کنول کی رائے کا نہایت معذرت کے ساتھ تجزیہ کرتے ہوئے عرض ہے کہ آج سے پانچ سال قبل تحریک انصاف کی انتخابات میں عبرت ناک شکست کے بعد تحریک میں صرف اتنے لوگ رہ گئے تھے ، جنہیں بامشکل انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا ۔ اس حقیقت کا اعتراف عمران خان نے اپنی کتاب " میرا پاکستان " میں بھی برملا کیا ہے ، اس دور میں جب تحریک انصاف کے بخیے ادھڑ چکے تھے ، خان صاحب پارٹی کی ناکامی اور مخالفوں کے تعنوں سے تنگ آکر گھر میں قید ہو کر رہ گئے تھے ۔ تب عمران خان نے مکمل خاموشی  اختیار کرلی اور کچھ عرصے کے بعد عوام کے سامنے نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ نمودار ہوئے ۔ ندیم یوسف کو کوارڈینٹر بنانے کا فیصلہ اسی دور میں ہوا ۔ ندیم یوسف کو یہ ذمہداری پارٹی سے ہر حال میں پیوستہ رہنے کیوجہ سے ملی ۔ ڈاکٹر جاوید کنول نے کئی مواقعوں پر اعتراف کیا کہ اگر میں اٹلی میں تحریک انصاف کے کسی حقیقی لیڈر یا کارکن کو جانتا ہوں تو وہ ندیم یوسف ہے یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے ۔ کسی بھی تعلق یا وابستگی سے قطع نظر فوزیہ قصوری کی میزبانی ندیم یوسف کی نامزدگی کی پوریشن کو براہ راست واضع کردیتی ہے ۔ کالم نگار خود بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ایڈووکیٹ صاحب تحریک انصاف پاکستان کی مرکزی لیڈر فوزیہ قصوری کی میزبانی کا شرف حاصل کرچکے ہیں ۔ یوسف ندیم کی بطور کوارڈینیٹر نامزدگی کو چیلنج کرتے ہوئے معزز کالم نگار نے نقطہ اٹھایا ہے کہ بلونیا اور بریشیا اٹلی کی ایک جانب اور وینس دوسری جانب ہے حالانکہ جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اٹلی کے ایک کونے پر پلیرمو اور دوسرے کونے پربلزانو ہے ۔ تاہم اٹلی کی علاقائی حدبندیوں کی بحث میں الجھے بغیر ہمیں دیکھنا چاہئے کہ یورپ کے گیٹ وے اٹلی جسکا رقبہ پاکستان سے کئی گنا کم ہے ۔ یہاں پاکستانی کمونٹی کا ایک دوسرے سے رابطہ رکھنا ممکن ہے یا نہیں ۔ اس سادے سے سوال کا جواب تحریک انصاف کی آفیشل ویب سائٹ سے مل جاتا ہے ۔ ندیم یوسف گزشتہ کئی سالوں سے اٹلی کے مختلف شہروں میں ہنگامی دوروں میں مصروف ہیں ۔ وہ دن رات جگہ جگہ تحریک انصاف کا پرچار کرنے میں متحرک نظر آتے ہیں ۔ ڈاکٹر جاوید کنول کے کالم پر اعتراض کرتے ہوئے تحریک انصاف کے پرجوش کارکن نے مجھ سے کہا کہ تحریک انصاف کو پاکستان میں لوگ عمران خان کیوجہ سے جانتے ہیں اور اٹلی میں ندیم یوسف کیوجہ سے جانتے ہیں ۔ ندیم یوسف اٹلی کی پاکستانی کمونٹی سے مکمل رابطے میں رہتے ہیں ۔ ڈاکٹر جاوید کنول تحریک انصاف اٹلی کی ریڑہ کی ہڈی ندیم یوسف کی زات کے متعلق اپنی رائے دیتے ہوئے لکھتے ہیں " دوسری وجہ جو بظاہر معمولی نظر آتی ہے لیکن زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ، اسے بڑی وجہ کہا جا سکتا ہے ، وہ یہ کہ ندیم یوسف کا تعلق پاکستان کے اس خطے سے نہیں جسکی اکثریت اٹلی میں آباد ہے ۔ " سبحان اللہ ڈاکٹر صاحب ان سطور سے آپکے مذکورہ کالم لکھنے کا مقصد واضع ہو گیا لیکن اگر آپ از راہ کرم اس مخصوص خطے کے نام کا بھی اعلان فرما دیتے تو قارئین کو اس خطے کے سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں آسانی ہوتی اور ان بے علموں اور بے خبروں کو معلوم ہوجاتا کہ کامیابی یا ناکامی ، اہلیت و نااہلیت کا دارومدار اس خطے سے تعلق پر منحصر ہے ۔ اگر آپ تحریک انصاف کے منشور کا جائزہ لیں تو یہ پارٹی علاقائیت پرستی کے سخت خلاف ہے اور تحریک انصاف ان لوگوں کو الیکشنوں میں ٹکٹ فراہم کررہی ہے جو کہ میرٹ پر اترتے ہیں ۔ اب آئیے تحریک انصاف بلزانو کے لیڈران اور قومی کنونشن بلزانو کی تیاریوں کی جانب ۔ مذکورہ بالا کالم میں تین رکنی کمیٹی کے قیام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر کسی تنظیمی تبدیلی کے آغاز کا عندیہ کیا گيا ہے ۔ کمیٹی کی تشکیل اور قومی کنونشن کی تیاریوں کی خبر کے لیے ڈاکٹر جاوید کنول کا خبری منبہ کیا ہے ؟ ان کاروائیوں کے لیے کسی کو کہاں سے احکامات ملے ہیں ؟ مقصد صرف ندیم یوسف ایڈووکیٹ کو ہٹانے کے لیے فضا ہموار کرنا ہے یا حقیقی معنوں میں اٹلی کے مختلف شہروں میں زیلی کمیٹیاں بنا کر ان زیلی کمیٹیوں کے زریعے ملکی سطح کی ایک تنظیمی باڈی کا تشکیل سازی کرنا ہے ۔ ندیم یوسف کے عہدے کے حوالے سے تکنیکی اعتبار سے اتنا جان لینا لازمی طور پر ضروری ہے کوارڈینیٹر کا عہدہ کوئی انتظامی و مرکزی عہدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ خالص ایک مشاورتی ذمہداری ہے ۔ جس کا مقصد کسی باقاعدہ و باضابطہ انتخابی باڈی کے قیام میں آنے تک تمام کارکنان و وابستگانی کے مابین روابط قائم رکھنے اور انہیں بڑھانا ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر جاوید کنول اٹلی کے سکہ بند صحافی ہیں اور انکے مذکورہ کالم سے تحریک انصاف اٹلی اور بالخصوص تحریک انصاف بلزانو میں مسلسل چہہ مگوئیاں جاری ہیں ۔ ڈاکٹر جاوید کنول کے اندرونی راز اشارہ دے رہے ہیں کہ ندیم یوسف ایڈووکیٹ کے خلاف کوئی لابی میدان میں آنے کے لیے پر تول رہی ہے ، ان حالات میں یا تو ان کو اٹلی میں تحریک انصاف کے انتخابات کروانے پڑیں گے ، جیسا کہ عمران خان نے پاکستان میں کروائے اور ون مین شو کا تاثر ختم کیا ، ورنہ اپنا بلا شراکت غیرت اقتدار چھوڑ کر خالی ہاتھ گھر روانہ ہونے پڑے گا ۔ تصویر میں وسیم رضا

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 26 اپریل 2013 20:32