Sunday, May 26th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

قومی خبریں

امیگریشن کی خبر

روم، 16 اپریل 2013 ۔۔۔۔ وہ پاکستانی جنہوں نے موجودہ امیگریشن میں درخواست دے رکھی ہے ، وہ اب پریشان ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ ان لوگوں سے التماس ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں اور انتظار کریں ۔ اب تک صرف 30 ہزار درخواستوں پر پرمیسو دی سوجورنو جاری کی گئی ہے ۔ ابھی ایک لاکھ سوجورنو مزید جاری ہونی ہے ۔ ہر تین درخواستوں میں سے ایک درخواست لوازمات پورے نہ ہونے کیوجہ سے مسترد کی جارہی ہے ۔ تمام درخواستوں پر عملدرآمد کرنے کے لیے کم از کم ایک سال لگ جائے گا ۔ وزارت داخلہ اپنی پالیسی کے مطابق زیادہ تر زور ڈومیسٹک کام کی سوجورنو پر دے رہی ہے ۔ آزاد کی انٹرنیٹ کی اٹالین سائٹ استرانیری ان اطالیہ نے وزارت سے درخواستوں کی نوعیت کے بارے میں پوچھا ہے اور لگتا ہے کہ آج یا کل وہ تمام رپورٹ دیدیں گے اور ہم آپ کو اردو میں پیش کردیں گے ۔ وہ درخواستیں جن کے لوازمات پورے نہیں ، یعنی سالانہ بچت کم ہے ، انہیں مسترد کرنے کی بجائے آخر پر ڈالا جا رہا ہے ۔ تحریر ، ایڈیٹر اعجاز احمد

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کام کے دوران ایک پاکستانی ہلاک

روم، 10 اپریل 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے جنوبی شہر کزیرتا میں کام کے دوران ایک پاکستانی ہلاک  ہو گیا ہے ۔ اس پاکستانی کی عمر 37 سال تھی اور اس کا نام رضوان محمود تھا ۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق رضوان کنسٹرکشن کی فرم میں مزدوری کا کام کرتا تھا اور کل ایک فیکٹری کی چھت پر چڑہ کر اسکی مرمت کررہا تھا ۔ چھت گرنے سے رضوان 10 میٹر کی بلندی سے گر گیا ، فوری طور پر ایمبولینس کو بلا لیا گیا اور جائے وقوع پر ہی اسکی موت واقع ہو گئی ۔ عدالت نے رضوان کی موت کے واقع کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کا حکم جاری کردیا ہے ۔ اب پتا چلایا جائے گا کہ رضوان کے لیے سیکورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے یا پھر وہ کسی سہارے کے بغیر کام کررہا تھا ۔ تصویر میں پولیس کی گاڑی فیکٹری کے باہر کھڑی ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

مظہر اقبال کا تعارف

8 اپریل 2013 ۔ تحریر، حاجی وحید  پرویز از بریشیا ۔۔۔۔۔ مظہر اقبال کا تعلق منڈی بھا ؤالدین کی مشہور تحصیل پھالیہ سے ھے- مقامی سکول سے ابتدائ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آبائ پیشہ کھیتی باڑی سے منسلک ھو گے- اس کام میں دل نہ لگا تو 2 سال بعد یہ کام چھوڑ دیا اور لکڑی کے دروازے کھڑکی بنانے کا کام سیکھا- اپنی لگن اور محنت کے با عث قلیل عرصے میں ٹھیکیدار بن گے- عرصہ 15 سال اس کام سے وابستہ رہے-اس کام سے بھی دل بھر گیا تو یورپ آنے کا ارادہ کیا-1994 میں ایران،ترکی،اور البانیہ سے ھوتے ھوے اٹلی پہنچے- 3ماہ اٹلی میں قیام کے بعد فرانس اور بلجییم سے ھوتے ھوے جرمنی چلے گے- 4 سال جرمنی میں ریسٹو رنٹ کے کام سے وابسطہ رھے- 1998 میں اٹلی کی امیگریشن کھلی تو جرمنی سے واپس آ کر کاغزات حاصل کیے- گاڑیوں کے پرزے بنانے والی کئی  فیکٹریوں میں کام کر چکے ھیں- ان دنوں تانبے کے پا ئپ بنانے والی فیکٹری میں کام کر رہے ھیں- صوبہ بریشیا کے مشھور شہر مونتی کیاری میں گزشتہ ١٥ سال سے اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ھیں-انسانیت کے لیے درد دل رکھتے ھیں اور خدمت خلق کو عبادت کا درجہ دیتے ھیں- عزیزوں ، رشتے داروں اور دوستوں کی خدمت کر کے دلی خوشی محسوس کرتے ھیں- رفاھی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ھیں- مظہراقبال نے آزاد اخبار کے بارے میں اظھار خیال کرتےہوئے کہا کہ پا کستانی کمیونٹی کے لیے انتہائی مفید اور اھم خبروں سے با خبر رکھنے والا اردو اخبار ھے- پاکستانی ھم وطنوں کے نام اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ دنیاوی زندگی انتہائ مختصر ھے اس لیے زندگی میں ایسے کام کیے جائیں جو دنیا اور آخرت میں کامیابی کا سبب بنیں- موبائل ونڈ- 3336161873

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

عبدل حمید مانگھڑ

عبدل حمید مانگھڑ بہتریں اٹالین کوٹ پتلون اور ٹائی باندھے ایک سر کاری تقریب میں بالکل شہزادہ لگ رہا تھا۔اور ساتھ ساتھ اس کا سیکرٹری جسے وہ منشی کہتا تھا۔ چند ہی ماہ پہلے عبدل حمید مانگھڑ ایم این اے کا الیکشن جیتا تھا۔اس نے الیکشن کیمپین (

میں پیسہ پانی کی طرح بہایا تھا۔ ویسے بھی سرگودھے کے جس گاؤں سے وہ تعلق رکھتا تھا، وہاں اْس سے زیادہ زمین کسی کی نہ تھی۔ لیکن وہ ’’مارے‘‘(اطالوی زبان میں مارے سمندر کو کہتے ہیں) لگانے والی بات کبھی نہ بھولتا۔ تقریب میں رنگ رنگ کے لوگ جمع تھے۔ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت کے پاس جاتے ہی مانگھڑ نے گپ شپ لگانی شروع کردی۔مانگھڑ کا اردو بولنے کا انداز بڑا دلنشیں تھا لیکن ابھی وہ چند باتیں ہی کرپایا تو اس کے منہ سے غیرارادی طور پہ نکل گیا، ’’جدوں اسی ول مارے لاندے ساں‘‘ (یعنی جب ہم سمندر یا دریا کے کنارے سامان بیچا کرتے تھے۔اطالوی زبان میں ’’مارے‘‘ سمندر یا دریاء کو کہتے ہیں) سیکریٹری (بقول مانگھڑ کے منشی) نے ٹھوکا لگایا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ’’مارے لگانا‘‘ کیا ہوتا ہے۔ مانگھڑ میں بس یہی ایک نقص تھا اور دوسرا نقص جسے آپ نقص تصور نہیں کرسکتے کیوں کہ جس کلاس میں وہ داخل ہوچکا تھا اْس کلاس میں اسے نقص نہیں تصور کیا جاتا، وہ تھاشراب پینا۔مانگھڑ کے لیئے یہ نقص اور نقصان اس لیئے تھا کیونکہ وہ نشے میں اْول فْول بکتا تھا اور اس کے سیکریٹری کو ڈر تھا کہ کسی کو مانگھڑ کی اوقات نہ پتا چل جائے۔ اِس کے علاوہ مانگھڑ بے شمار خوبیوں کا مالک تھا۔ معلومات عامہ میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں کئی سال فارغ اوقات میں ڈائجسٹ پڑھ پڑھ کر گزارے تھے۔ اردو لکھنا نہیں جانتا تھا لیکن پڑھنا ور بولنا وہ جانتا تھا۔اطالوی زبان کا تلفظ و لب و لہجہ اتنا اچھا کہ اگر آپ اس کا چہرہ نہ دیکھ رہے ہوں تو ایسا لگے گا جیسے کوئی اطالوی آپ سے مخاطب ہے۔مانگھڑ کو ادب پے اچھا خاصہ ملکہ حاصل تھا۔ کئی شعراء کرام کے اشعار بلکہ پوری پوری غزلیں اور نظمیں اسے زبانی یاد تھیں۔ مانگھڑ کے ماضی کے بارے میں بڑے کم لوگ جانتے تھے لیکن جب سے وہ سیاست میں داخل ہوا تھا اس کے ماضی کے بارے میں جاننے کا کئی لوگوں تجسس تھا۔ اس کے بارے میں لوگ صرف اتنا جانتے تھے کہ وہ ہیروں کا کاروبار کرتا تھا اور کرتا ہے۔ اب تک اس کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اس کا سیکریٹری تھا۔ وہ سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتا کیونکہ مانگھڑ جب پیتا تو آپے سے باہر ہوجاتا۔اس صورت حال پے قابو پانے کے لیئے اس کا سیکریٹری تھا۔

مانگھڑ قومی اسمبلی میں بڑی جلدی مقبول ہوگیا اس کی ایک وجہ تو اس کی خوش لباسی اور اچھے پرفیومز

کا استعمال اور دوسرا اس کی خوش اخلاقی۔ مانگھڑ کی زبان ہی اتنی شیریں اور میٹھی تھی کہ لوگ اس کی طرف کِھچے چلے آتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مائلہ خان کو صحافت کی دنیا میں قدم رکھے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ اس کی شہرت آسمان کو چھونے لگی تھی۔ وہ اپنی خوبصورتی اور صنفِ نازک ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھاتی۔ ایک تو صحافی کو ویسے بھی کہیں آنے جانے پے پابندی نہیں ہوتی اور دوسرا مائلہ عورت تھی۔

مائلہ نے کئی چونکا دینے والی کہانیاں لکھی تھیں۔ بڑے بڑے شاطر اور کائیاں لوگ اس کے سامنے گھبرا جاتے ۔خدا نے اس کی آنکھوں میں ایسی چمک پیدا کی تھی کہ لوگ اس کی آنکھوں کی چمک دمک میں ہی کھو جاتے۔ جیسے کسی پر اسمِ اعظم پھونک دیا گیا ہو۔آجکل وہ عبدل حمید مانگھڑ کے بارے میں لکھنے کا سوچ رہی تھی۔ چند ایک سیاسی شخصیات نے اسے رشوت بھی پیش کی کہ مانگھڑ کو بے نقاب کرو لیکن اس نے رشوت ٹھکرادی کیونکہ وہ اپنے تجسس کے لیئے مانگھڑ کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ اتنا سمارٹ، بااخلاق اور خوش لباس ایم این اے الیکٹ ہوا تھا۔ دوسرے ایم این اے ز( کی طرح مانگھڑ کا پیٹ بالکل نہیں نکلا ہوا تھا۔مائلہ بھی مانگھڑ کی شخصیت سے مرعوب تھی۔ لیکن وہ اس طرح جھمیلوں میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔اس کے سر پے پورے گھر کی ذمہ داری تھی۔ اس کا کوئی بھائی نہیں تھا۔ باپ نشے کا عادی تھا۔ ایک مائلہ تھی جس نے اپنی چھوٹی بہنوں کی شادیاں کرنا تھیں اور گھر کا خرچہ بھی اٹھایا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ باپ کے نشے کا ذمہ بھی اسی کے سر تھا۔ ویسے بھی مانگھڑ کی اور اس کی عمر میں بیس سال کا فرق تھا۔

مائلہ نے بڑی مشکلوں سے مانگھڑ کے سیکریٹری سے انٹرویو کا وقت لیا لیکن سیکریٹری نے ایک شرط رکھی کہ انٹرویو اْس کی موجودگی میں ہوگا۔مائلہ مان گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مائلہ جلدی جلدی اپنا پرس ،بال ، کپڑے ساری چیزیں سنوارتی میریوٹ ) کی کافی شاپ میں داخل ہوئی۔ لیکن وہ زیادہ پریشان اس لیئے نہیں تھی کیونکہ سیاسی اور فلمی شخصیات وقت کی پابند نہیں ہوا کرتیں۔ مانگھڑ صاحب اس کے برعکس نکلے۔ وہ وقت مقررہ پے وہاں موجود تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مانگھڑ صاحب کو مائلہ کے انتظار میں آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا۔ یعنی مائلہ آدھا گھنٹہ لیٹ تھی۔ ساتھ میں ان کا سیکریٹری دل ہی دل میں مائلہ کو کوس رہا تھا۔ مائلہ نے آتے ہی معذرت کی۔ مانگھڑ ، مائلہ کے احترام میں کھڑا ہوگیا۔مائلہ حیرت و استعجاب سے دیکھنے لگی۔ مائلہ نے گھبراہٹ اور تحیر کے ملے جلے جذبات میں کہا، ’’بیٹھئے مانگھڑ صاحب‘‘۔ مانگھڑ صاحب نے نہایت عاجزی و انکساری سے کہا، ’’پہلے آپ‘‘۔ مائلہ اپنے کپڑے اور پرس سمیٹتے ہوئے بیٹھ گئی۔ اس نے انٹرویو شروع کرنے سے پہلے اپنا سازوسامان دیکھا۔منی ٹیپ ریکورڈر)،پین،کاغذ سب کچھ تھا، بس ایک چیز کی کمی تھی ’’فوٹوگرافر‘‘ وہ ابھی پہنچا نہیں تھا۔ مائلہ نے احتیاطً اپنا موبائیل فون بھی سامنے رکھ دیا کیونکہ کسی لمحے بھی فون آسکتا تھا۔ مانگھڑصاحب نہایت سکون سے یہ ساری سرگرمیاں دیکھتے رہے۔مائلہ نے منی ٹیپ ریکورڈر( آن( کرکے سامنے رکھا اور پہلا سوال کیا،

’’آپ کا مکمل نام‘‘

’’عبدل حمید مانگھڑ‘‘

ابھی وہ بمشکل جواب دے ہی پایا تھا کہ سیکریٹری کا موبائیل فون بجنا شروع ہوگیا۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے انٹرویو روکنے کا کہہ کر ایک کونے میں فون سننے چلا گیا۔ جلدی سے فون بند کیا۔چہرہ لٹکا کے مانگھڑ صاحب سے مخاطب ہوا،

’’سر میری والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ،مجھے جانا ہوگاآپ اس بی بی سے کہیں انٹرویو پھر کبھی سہی‘‘ ۔

’’اچھا باباٹھیک ہے کہہ دونگا ۔ تم جاؤ ،اگر میری ضرورت ہے تو میں بھی چلتا ہوں‘‘۔

’’نہیں نہیں میں سچوئیشن ہینڈل ()کرلوں گا‘‘۔

وہ اتنا کہہ کر چلا گیا۔ مائلہ نے جس ترتیب سے میز پے چیزیں رکھی تھیں دوبارہ سنبھالنے لگی۔ مانگھڑ صاحب بولے، ’’بی بی یہ کیا کر رہی ہیں‘‘۔ مائلہ نے مایوسی اورآزردگی سے کہا،

’’اب انٹرویو نہیں ہوگا‘‘

’’ٹھیک ہے بی بی لیکن کافی تو پیتی جائیں‘‘

’’جی میں کافی نہیں پیتی‘‘

’’ٹھنڈا وغیرہ‘‘

مائلہ کے دماغ میں نہ جانے کیا آیا وہ بیٹھ گئی

’’ٹھیک ہے ٹھنڈا پی لیتی ہوں‘‘

مانگھڑ صاحب نے اپنی علاقائی زبان میں اپنے بوڈی گارڈ کو پرے جانے کو کہا اور ویٹر کو اپنا سپیشل اوڈر دیا۔

مائلہ دل ہی دل میں سوچنے لگی۔ مانگھڑ صاحب نے یقیناًمیریوٹ ) میں کمرہ ریزرو کروا رکھا ہوگا اور ہوسکتا ہے مجھے کمرے تک جانے کو کہیں اور اس کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔مائلہ کے دماغ میں ہزار قسم کے خیالات اور سوسے جنم لینے لگے۔تھوڑی دیر میں ویٹر نے میز پر مطلوبہ چیزیں سجا دیں اور چلا گیا۔ مائلہ سوچ رہی تھی سوفٹ ڈرنک() پی کے چلتی بنے گی۔ مانگھڑ صاحب نے سکوت توڑا،

’’بی بی آپ سنا ہے بڑی اچھی صحافی ہیں۔لوگوں کے بارے میں سچ سچ لکھتی ہیں۔ کیا آپ افسانے بھی لکھتی ہیں‘‘

مائلہ کا ہاتھ گلاس کی طرف جاتے جاتے رک گیا۔

’’جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کبھی کوشش نہیں کی ۔ کبھی فرصت ہی نہیں ملی اور کبھی اس طرف دھیان ہی نہیں گیا۔مانگھڑ صاحب آپ افسانے پڑھتے ہیں‘‘

’’جی میں تو بڑے شوق سے پڑھتا تھا۔ اب فرصت ہی نہیں ملتی‘‘

’’پسندیدہ افسانہ نگار‘‘

منٹو اور جووانی بوکاچو

(GIOVANNI BOCCACCIO) ‘‘

مائلہ پے انگشت بدنداں والی کیفیت تھی ۔اپنی حیرت کو چھپاتے ہوئے کہنے لگی،

’’شاعری بھی پڑھتے ہیں آپ‘‘

’’جی پہلے بہت پڑھا کرتا تھا اب سیاست میں آنے کے بعد بالکل فرصت نہیں ملتی‘‘

’’سیاست میں آنے کی وجہ‘‘

’’گاؤں کے لوگوں کا اسرار اور پیسہ‘‘

’’شوق بالکل نہیں تھا‘‘

’’بالکل نہیں تھا‘‘

مائلہ نے دیکھا مانگھڑ صاحب کی گفتگو اور آواز میں لہر پیدا ہورہی ہے۔ وہ یہ راز سمجھ نہ پائی لیکن ایک بات اچمبھے والی تھی کہ ویٹر تھوڑی دیر بعد ان کے لیئے سوفٹ ڈرنک لاتا۔

’’آپ سیاست میں آنے سے پہلے کیا کرتے تھے‘‘

’’جی میں شروع سے کاروبار کرتا آیا ہوں اور اب بھی کاروبار ہی کرتا ہوں‘‘

’’کیا کاروبار کرتے ہیں ۔۔۔۔آپ‘‘

’’جی ہیروں کا بیوپاری ہوں‘‘

’’شروع سے ہیروں کا کام کرتے ہیں‘‘

’’جی پہلے تو نقلی ہیرے بیچا کرتا تھا۔ اب اصلی‘‘

’’کیا مطلب۔۔۔پہلے نقلی ۔۔۔اور اب اصلی‘‘

’’ول جندوں اسی مارے لاندے ساں(جب ہم دریا یا سمندر کے کنارے چیزیں بیچا کرتے تھے)۔اس وقت میں نقلی ہیرے بیچا کرتا تھانقلی موتیوں کے ہار‘‘

’’میں کچھ سمجھی نہیں۔کہاں بیچا کرتے تھے‘‘

’’شیشیلۂ (SICILIA) ‘‘

یہ شیشیلیۂ کہاں ہے‘‘

’’بی بی آپ نہیں جانتیں۔اٹلی کا جزیرہ ہے‘‘

’’او! سسلی ۔۔۔۔۔کب؟‘‘

’’بڑی پرانی بات ہے‘‘

’’کتنی پرانی‘‘

’’تیس یا پینتیس سال پرانی‘‘

’’مانگھڑ صاحب ذرا تفصیل سے بتائیں‘‘

’’میں چھوٹا تھا۔ عمر یہی کوئی سولہ یا سترہ سال تھی۔ گھر سے بھاگ گیا۔ مختلف جگہوں سے ہوتا ہوا شیشیلۂ (سسلی) پہنچ گیا۔ وہاں نہ سر چھپانے کی جگہ تھی نہ کھانے کو کچھ تھا۔ ایک آدمی نے سرکنڈوں کے کھلونے بنانے سکھائے۔وہ بنا بنا کے اپنا پیٹ پالنے لگا۔ کبھی اچھی کمائی ہوجاتی کبھی سارا ہفتہ خالی جاتا۔ وہاں میرا نام تیلیوں والا پڑگیا۔ کیونکہ سرکنڈوں کو ہماری زبان میں تیلا بھی کہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ اور لوگ بھی آنے لگے اور ہم لوگوں کا بھی گروپ بن گیا۔جسے لوگ تیلی گروپ کہنے لگے۔ زیادہ تر لوگوں کا تعلق میرے پنڈ سے تھا جہاں سے میں تعلق رکھتا ہوں۔ہم نے بڑا مشکل وقت دیکھا ہے۔ وہیں شراپ پینے کی عادت پڑی۔ پہلے ہم شراب کو پیتے تھے۔ اب شراب ہمیں پیتی ہے۔‘‘

’’شراب شروع کرنے کی وجہ‘‘

’’ بی بی چھوٹی عمر تھی۔ ناسمجھی تھی اور سب سے بڑی وجہ لوگوں کے سامنے تیلیوں کے یعنی سرکنڈوں کے کھلونے جاکر بیچنے کا حوصلہ ہی نہیں ہوتا تھا۔ شراب پی کر ہمت بندھ جاتی اور تھوڑی سی شرم بھی کم آتی۔ ورنہ ہوش میں تو ادھ ننگے مرد ، عورتوں کے سامنے جانے کا حوصلہ ہی نہیں ہوتا۔ سرکنڈوں کے کھلونے بیچتے بیچتے میں یعنی ہم نے نقلی موتیوں کے ہار بیچنے شروع کردیئے۔ پھر تو اتنی ٹریننگ (ہوگئی تھی کہ مٹی بھی بیچ لیا کرتے ۔ دس سال تک یہی کام کرتا رہا۔ پھر اپنے وطن واپس آگیا۔ پکے مکان بنائے۔کچھ رقم بھی پس انداز کرلی۔ زمین بھی خرید لی تھی۔ پھر اچانک دل میں آئی اور ایجنٹ کو پیسے دیئے اور دوبارہ چلا گیا۔ پھر وہیں شیشیلۂ (سسلی) جاکے پھو ل ، ہار، چاندی کی چیزیں بیچنی شروع کردیں۔ ۱۹۸۷میں اٹلی نے پہلی دفعہ امیگریشن کھولی۔ ہم لوگ لیگل (ہوگئے۔ اس کی وجہ سے ہم آ جاسکتے تھے۔ ایجنٹ والے چکر سے جان چھوٹ گئی تھی۔ اس دوران اطالوی زبان پے کافی عبور حاصل ہوچکا تھا۔ ‘‘

’’ادب سے لگاؤ اسی وجہ سے ہے‘‘

’’بی بی ا س کی خاص وجہ ڈائجسٹ ہیں۔ میں تمام قسم کے ڈائجسٹ بڑے شوق سے پڑھتا تھا۔ اٹلی میں ٹرین کا لمبا سفر میں ڈائجسٹ پڑھ کر ہی گزارتا تھا۔ اس کے علاوہ جن دنوں کام کم ہوتا۔ ہماری دو تفریحات ہوتیں۔ڈائجسٹ اور شراب‘‘

’’ہیروں کے کاروبار کی طرف کیسے آئے‘‘

’’آپ کو بتایاہے کہ میں اتنا اچھا سیلز میں بن چکا تھا کہ مٹی بھی بیچ لیا کرتا ۔ اسی دوران میں نے نقلی موتی اصلی کرکے بیچنے شروع کردیئے۔ جب کافی سرمایہ اکھٹا ہوگیا تو میں نے ہیروں کے کاروبار میں قدم رکھا۔ اس دوران میری ملاقات بیلجیئم کے ایک یہودی سے ہوئی جو ہیروں کی تجارت کرتا تھا ۔بس خدا نے میرے دن بدلنے تھے۔ اس نے کہا تم میرے نقلی ہیرے اصلی کرکے بیچا کرو۔ دنیا میں بڑے کم لوگ پتھروں کی جانچ رکھتے ہیں۔ کئی دفعہ ہیرا جانچنے والی مشین دھوکا کھا جاتی ہے۔ لیکن وہ یہودی دھوکا نہیں کھاتا تھا۔ اس کے ساتھ کام کرتے کرتے نہ صرف میری دنیا بدل گئی بلکہ میرے پہناوے میں بھی فرق آنے لگا۔ اْسی نے مجھے بڑے بڑے لوگوں سے متعارف کروایا اور اچھے لباس اور پرفیومز سے لگاؤ پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ لیکن یہ کامیابی دو دن کی نہیں بلکہ میری تیس سے پینتیس سالہ محنت کا نتیجہ ہے۔

میرے پاس جتنا بھی پیسہ ہے میں نے بڑی محنت سے کمایا ہے۔ کبھی کسی کا حق نہیں مارا،جھوٹ بولا ہے لیکن کسی کا مال کبھی نہیں چھینا۔ میرے باپ دادا جاگیردار نہیں تھے۔ نہ ہی سرکار نے کوئی زمینیں اور جائیدادیں الاٹ کیں۔ سب اپنے زورِ بازو اور دماغ سے کمایا ہے۔ جب سے سیاست میں آیاہوں۔ میں نے دیکھا ہے سیاست دان کس طرح غریبوں کا خون نچوڑتے ہیں۔ مجبور اور مظلوم عورتوں کی عزت سے کھیلتے ہیں۔ کیونکہ اسمبلی میں کوئی امیدوار ایسا نہیں جس نے اپنی عقل یا محنت سے پیسہ کمایا ہو۔ سب نے اپنے باپ دادا کی چھوڑی ہوئی زمینوں اور جائیدادوں کے بل بوتے پے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ بھلے وہ آکسفورڈ ( اور ہاورڈز ( میں پڑھ آئیں۔ رہتے وہی وڈیرے اور جاگیردار ہی ہیں‘‘

’’تعلیم کہاں تک حاصل کی‘‘

’’بی بی ان پڑھ ہوں۔چند جماعتیں پڑھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو پڑھنی اور بولنی جانتا ہوں۔اطالوی زبان باقاعدہ سیکھی ہے‘‘

’’آخری سوال اگر اجازت دیں۔بڑا ذاتی سوال ہے‘‘

’’کیوں نہیں‘‘

’’آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی‘‘

’’بی بی آج تک مجھے میری من پسند لڑکی ملی ہی نہیں۔ اور کچھ زندگی کے جھمیلوں سے فرصت ہی نہیں ملی۔ میرے دوسرے بہن بھائی سب شادی شدہ ہیں۔والدصاحب کے فوت ہوجانے کے بعد میری ماں اکیلی رہ گئی۔ اب میں اپنی ماں کا خیال رکھتا ہوں‘‘

’’اگر آپ اب شادی کرلیں تو آپ کی ماں کا خیال آپ کی بیوی رکھے گی‘‘

’’آپ کی بات درست ہے۔ لیکن میں اپنی ماں سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں۔ میں اپنی بیوی اور ماں میں پیار کی تقسیم میں برابری نہ کرسکوں گا۔ آخر میں بھی انسان ہوں۔بیویاں تو کئی مل جاتی ہیں۔ لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے‘‘۔

مائلہ نے بڑی مشکل سے اپنے آپ پے قابو پایا۔ اگر وہ اکیلی ہوتی تو چیخ چیخ کر روتی۔ وہ جسے بے نقاب کرنے چلی تھی۔کتنا نفیس انسان نکلا۔ مائلہ نے منی ٹیپ ریکورڈر سے منی ٹیپ نکال کر توڑ دی اور لکھے ہوئے تمام پوائنٹز پھاڑ دیئے۔

ابھی وہ اسی ذہنی توڑ پھوڑ میں مصروف تھی اور وہ کاغذجن پے اہم نقاط لکھے تھے پھاڑ رہی تھی کہ اس کا فوٹو گرافروارد ہوا اور آتے ہی کہنے لگا،

’’سوری مائلہ دیر ہوگئی۔وہ اڈیٹر صاحب کا فون آگیا تھا۔ ایک بہت ضروری ایونٹ تھا۔ وہاں کی تصاویر کھینچنی تھیں۔ اس لیئے دیر ہوگئی۔ معذرت خواہ ہوں‘‘

’’میگنم تم ہمیشہ دیر سے آتے ہو۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ویسے بھی میں اپنا کام مکمل کرچکی ہوں

 

سرفراز بیگ ۲۰۰۴؍۰۸؍۱۱تا ۲۰۰۴؍۰۸؍۱۳اریزو ،اٹلی

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

عسکریت پسند دائیں بازو کی پارٹی نے مسجد پر بین لگا دیا

روم۔ 29 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کے شہر Pesaroمیں عسکریت پسند دائیں بازو کی پارٹی نے مسجد کو سیل کرتے ہوئے اس پر بین لگا دیا ۔ لازمی بات ہے کہ یہ اس بین کی قانونی اہمیت نہیں لیکن اس قسم کے ایکشنوں سے نسل پرستی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ایک مہینہ قبل اسی پارٹی Forza Nuovaنے تھانے کے باہر ایک بینر لگادیا تھا ، جس پر لکھا تھا ، " غیر ملکیوں کی یلغار کے بعد دفتر بند کر دیا گیا ہے " ۔ اب گزرنے والی رات کو انہوں نے via Antonio Scialoiaمیں موجود ایک مسجد پر بینر لکھ کر لگایا ہے ، جس پر لکھا ہے ، " ہمارے شہر میں کسی بھی مسجد کی اجازت نہیں ، فورسا نووا " ۔ اس قسم کے بینروں سے غیر ملکیوں کے خلاف شہر میں نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن سے ہمارا ملک تباہ کیا جا رہا ہے ۔ فورسا نووا کے زمہدارSanchiniنے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے شہر میں ہمارے ہی سرمائے سے غیر ملکیوں کو کلچرل ایسوسی ایشنیں کھولنے کی اجازت دی جائے ، جب کہ ہمارے ہزاروں نجی ادارے معاشی بحران کیوجہ سے بند ہو رہے ہیں ۔ غیر ملکی ہمارے ملک میں جرائم کرتے ہیں اور آزاد پھرتے ہیں ۔ جہاں مسجد بنتی ہے ، وہاں غیر ملکی اکثریت میں رہائش پزیر ہوجاتے ہیں اور یہاں اٹالین کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے ، غیر ملکی مسجدوں میں جرائم کے اڈے کھول لیتے ہیں ۔ یاد رہے کہ Sanchiniکی پارٹی نے آخری الکیشن میں نسل پرست نعروں کے باوجود صرف 0,26%ووٹ حاصل کیے ہیں اور یہ قومی اسمبلی سے باہر ہیں ۔ اس پارٹی نے Pesaro میں صرف ایک ہزار ووٹ حاصل کیے تھے اور انکا نعرہ تھا کہ یہ امیگریشن کو بند کروادیں گے اور ریگولر تارکین وطن کو آہستہ آہستہ انکے ملک واپس روانہ کردیں گے ۔ خدا کا شکر ہے کہ اٹالین ایسے نسل پرستوں کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com