Sunday, Sep 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

قومی خبریں

عبداللہ جبار کی دوسری سالگرہ کا فنگشن

روم۔ 30 دسمبر 2012 ۔۔۔۔ اٹلی کی مشہور شخصیت حاجی جبار کے پوتے عبداللہ جبار کی دوسری سالگرہ کا فنگشن زور و شور سے منایا گیا ۔ روم میں آباد حاجی جبار کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواح سے ہے ۔ عبداللہ جبار کے والد فہد جبار نے کہا کہ میرے بیٹے کی پیدائش کے بعد ہم نے ہمیشہ اسکی سالگرہ کا جشن منایا ہے اور روم کے علاوہ دوسرے شہروں کی پاکستانی کمونٹی کو بھی دعوت دی جاتی ہے ۔ اس سال بھی ہر سال کی طرح کمونٹی کے خاندانوں نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے محفل کی رونق کو دوبالا کیا ۔ روم کے مشہور ریسٹورنٹ تاج محل میں سالگرہ کا جشن منایا گیا ہے ۔ دوپہر کے وقت پہلے مہمانان گرامی کو لذیذ کھانا پیش کیا گيا اور اسکے بعد عبداللہ جبارنے اپنی دوسری سالگرہ کا کیک کاٹا اور تمام عورتوں اور مردوں نے انگریزی میں ہیپی برتھ ڈے ٹو یو کا گیت گایا ۔ یاد رہے کہ حاجی جبار کا خاندان کمونٹی کو متحد کرنے کے لیے اور آپس میں خوشیاں بکھیرنے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتا ہے ، ورنہ اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں تمام معاشی بحران کیوجہ سے خوف زدہ ہوگئے ہیں ۔ میزبان فہد جبار، عبدالجبار ۔ موبائل 3272807020۔ 3296463435

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 01 جنوری 2013 22:40

انسانی ہمدردی کی سوجورنو

روم۔ 21 دسمبر 2012 ۔۔۔۔ اٹلی میں پرمیسو دی سوجورنو مختلف قسم کی پائی جاتی ہے ۔ یہ ایک پرمٹ ہوتا ہے ۔ اس میں کام کی سوجورنو، بزنس کی سوجورنو ، تعلیم کی سوجورنو ، صحت کی سوجورنو، ٹورزم کی سوجورنو، لمبی مدت یا یورپین یونین کی سوجورنو، خاندان کی سوجورنو، سیاسی پناہ کی اپیل کی سوجورنو، سیاسی پناہ ملنے کی سوجورنو، عدالت کی طرف سے انصاف کی سوجورنو، کام تلاش کرنے کی سوجورنو اور اسکے بعد انسانی ہمدردی کی سوجورنو بھی قابل زکر ہے ۔ آج کل اٹلی میں سیاسی پناہ کے لیے اپلائی کرنے والے غیر ملکیوں میں پاکستانی اولیت اختیار کرگئے ہیں ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ کافی پاکستانی لیبیا سے فرار ہو کر اٹلی میں آئے ہیں اور دوسرے  جو کہ  ڈنکی لگا کر یا غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہوئے ہیں ۔ اٹلی کے سیاسی پناہ کے زرائع نے بتایا کہ پاکستانیوں کے پاس سیاسی پناہ کے لوازمات پورے نہیں ہوتے اور وہ اٹلی میں رہنے کے لیے سیاسی پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بعض ایسے کیس ہوتے ہیں ، جہاں نہ تو غیر ملکی کو سیاسی پناہ دی جاتی ہے اور نہ ہی اسے ملک بدری کا نوٹس دیا جاتا ہے ، کیونکہ جج کو ڈر ہوتا ہے کہ اس غیر ملکی کو ملک بدر کرنے سے ، اسکی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے ، ایسی صورت میں انسانی ہمدردی کی سوجورنو جاری کردی جاتی ہے ۔ انسانی ہمدردی کی سوجورنو سے غیر ملکی کو اٹلی میں رہنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے ، اس سوجورنو پر کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور لیگل کام ملنے کی صورت میں اسے کام کی سوجورنو میں تبدیل بھی کروایا جا سکتا ہے ۔ اس سوجورنو پر غیر ملکی یورپ کے شنگن کے ممالک     میں تین ماہ کے لیے سیر کے لیے جاسکتا ہے لیکن وہاں کام نہیں کرسکتا ۔ انسانی ہمدردی کی سوجورنو کو کام کے بغیر رینیو نہیں کیا جاتا ۔ یہ سوجورنو سیاسی پناہ کی سوجورنو سے مختلف ہوتی ہے ، اس سوجورنو پر آپ پاکستان جا سکتے ہیں اور اسکی مدت سے آدھا حصہ پاکستان میں گزار سکتے ہیں ۔ ہمارا مشورہ ہے کہ وہ پاکستانی جن کے پاس انسانی ہمدردی کی سوجورنو ہے ، وہ فوری طور پر کام تلاش کریں اور کنٹریکٹ حاصل کرتے ہوئے ، اسے کام کی سوجورنو یعنی permesso di soggiorno per lavoroمیں تبدیل کروائیں ۔ اگر آپ لوگ سنٹروں میں رہتے ہوئے وقت گزارتے رہے تو اس سوجورنو کی مدت ختم ہونے کو آجائے گی اور اسکے بعد سنٹروں والے دوسرے ممالک کے غیر ملکیوں کے لیے مصروف ہوجائیں گے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کولف اور بادانتے کی بھرتی انٹرنیٹ پر ہوگی

روم ۔۔2012 ...  کولف اور بادانتے کی بھرتی انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کے زریعےلازمی کر دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ انپس کی رسیدوں کو بھی بدل دیا گیا ہے ۔ اب فیکس اور دفاتر میں قطاروں میں نہیں لگنا ہوگا ۔ وہ مالکان جو کہ ڈومیسٹک ملازمین یعنی بے بی سٹر، کولف اور بادانتے کے لیے انپس سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں ، اب وہ صرف انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کے زریعے رابطہ کر سکیں گے ۔ وہ مالکان جو کہ ڈومیسٹک ملازمین کو بھرتی کرنا چاہتے ہیں ۔ انکے اوقات میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں یا پھر انہیں مستعفی کرنا چاہتے ہیں ، ان تمام کاموں کے لیے ان کے پاس تین راستے ہیں ۔ یعنی وہ انپس کی انٹرنیٹ کی سائٹ www.inps.itسے رابطہ کریں ۔ یا پھر گرین نمبر 803164 پر فون کریں ۔ ان دونوں کاموں کے لیے آپ کو پن کوڈ کی ضرورت ہوگی جو کہ انپس کی طرف سے دیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد آپ اپنے کسی ترجمان، یعنی کام کے کنسلٹنٹ، آزاد پروفیشنل ایکسپرٹ یا پھر مالکان کی ایسوسی ایشن سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ وہ مالکان جو کہ کسی ملازم کو بھرتی کرتے ہیں ، ان کے لیے لازمی ہے کہ یہ کام شروع ہونے سے قبل انپس سے رابطہ کریں اور غیر ملکی ملازم ہونے کی صورت میں سوجورنو کا کنٹریکٹ متحدہ دفتر کو روانہ کر دیں ۔ اگر آپ اوقات میں تبدیلی، کنٹریکٹ کی مدت میں اضافہ یا استعفی کے لیے رابطہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ پانچ دنوں کے اندر کر سکتے ہیں ۔ پرانی انپس کی رسیدوں کو ختم کر دیا گیا ہے ، اب ان رسیدوں کی جگہ MAVرسید نے لے لی ہے ۔ یہ رسید کسی بھی بنک اور ڈاک خانے میں جمع کروائی جا سکے گی ۔ انپس کے ٹیکس ایک سرکٹ کے زریعے بھی ادا کیے جا سکیں گے ، اس سرکٹ کو rete amicheکہتے ہیں ۔ اس سرکٹ میں تباکریے شامل ہیں ۔ آپ کریڈٹ کارڈ کے زریعے انپس کی انٹرنیٹ کی سائٹ اور گرین نمبر سے بھی ادائیگی کر سکتے ہیں ۔ اس سے قبل کسی ڈومیسٹک ملازم کو بھرتی کرنے کے لیے انپس کے دفتر میں جانا پڑتا تھا اور انپس کی رسیدیں جمع کروانے کے لیے صرف ڈاک خانے میں جانا ہوتا تھا ۔ انپس کے ڈائریکٹر ماسترا پاسکوا نے کہا کہ اب تمام کام گھر سے کیا جا سکے گا ۔ اب مالکان ایک فون یا کمپیوٹر کے زریعے انپس سے رابطہ کر سکیں گے ۔ 2010 میں انپس میں کولف اور بادانتے کی تعداد 7 لاکھ 18 ہزار تھی ۔ ان میں 1 لاکھ 60 ہزار رومانیہ کی ڈومیسٹک ملازمین شامل تھیں ۔ اسکے بعد 1 لاکھ 50 ہزار اٹالین ، 77 ہزار یوکرائن، 50 ہزار فلپائن اور  36 ہزار مولداویہ کی ملازمین شامل تھیں یا شامل تھے ۔ اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ ایک دوسری ڈومیسٹک ملازمین کی فوج غیر قانونی طور پر کام کرتی ہے ۔ تحریر، ایلویو پاسکا

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

امریکن ایمبیسی کے افسران سے کمونٹی کی ملاقات

روم۔ 7 دسمبر 2012 ۔۔۔۔ آج شام روم میں موجودامریکن ایمبیسی کے پولیٹکل سیکشن کے افسران نے پاکستانی کمونٹی سے ملاقات کی اور حالات حاضرہ پر بات چیت کی گئی ۔ امریکن ایمبیسی کے افسران اٹلی میں موجود مختلف تارکین وطن کی کمونٹیوں سے ملاقات کرتے ہوئے انکے مسائل سنتے ہیں اور اسکے بعد اٹالین حکام سے ملاقات کرتے ہوئے تارکین وطن کے مسائل حل کرنے کے لیے سفارش کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ امریکن ایمبیسی اٹلی میں موجود تارکین وطن کے لیے چند معاہدے بھی کر چکی ہے ، جس میں غیر ملکیوں کو اٹالین زبان سکھانا شامل ہے ۔ ملاقات کے دوران روم کی شخصیات بشیر امرے والا، ماسٹر غلام نبی، محمد انثار، تنویر اختر  ، شیر علی ، زاہد وڑائچ، ملک ندیم، عامر، سیف اللہ رانجھا اور اسکے علاوہ دوسرے حضرات روم کے قریبی شہروں سے بھی تشریف لائے تھے ۔ یہ میٹنگ آزاد کے ایڈیٹر اعجاز احمد کے تعاون سے عمل میں آئی ۔ اعجاز احمد نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ جلد ہماری کمونٹی دوسرے نقطہ نظر کے مختلف حلقوں سے بھی ملاقات کرتے ہوئے  اپنے آپ کو منظم کرے تاکہ اس شہر میں ہماری مقبولیت ہو اور ہمیں بھی دوسری بڑی کمونٹیوں کی طرح سیاسی، سماجی اور معاشی معاملات میں حصہ لینے کی جگہ مہیا کی جائے ۔ ہم جلد کمونٹی کی ترقی کے لیے ایسے عوامل کریں گے ، جن سے لوگ ہمارے کلچر اور پاکستان کے بارے میں مثبت معلومات حاصل کرسکیں گے ۔ 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

بزنس مین پاکستانی کا سامان ضبط

روم۔ 16 نومبر 2012 ۔۔۔۔ اٹلی کے شہر تریویزو میں ہفتہ وار لگنے والی مارکیٹ میں ایک بزنس مین پاکستانی کا سامان ضبط کرلیا گیا ہے ۔ اس پاکستانی کی عمر 30 سال ہے اور یہ اٹلی میں مصنوعی زیورات اور ہینڈی میڈ سامان پاکستان اور ایشیا سے امپورٹ کرتے ہوئے فروخت کرتا تھا ۔ اٹلی کی فنانس پولیس نے چھاپہ مارتے ہوئے پاکستانی کے اسٹال سے 12 ہزار مصنوعات ضبط کرلی ہیں ۔ پولیس نے بتایا کہ یہ سامان ایشیا سے آیا ہے اور اس سامان پر کوئی مہر وغیرہ نہیں ہے ۔ پروڈکٹس کی ترکیب، اس شامل مٹیریل اور انکی کوئی دوسری شناخت درج نہیں ہے ، جس سے یہ پتا چل سکے کہ یہ مصنوعات کیسی ہیں ، انہیں کس نے بنایا ہے اور یہ کس ملک میں بنائی گئی ہیں اور انکو بنانے کے لیے کونسا مٹیریل استعمال کیا گیا ہے ، اسکے علاوہ زیوارات پر کوئی برانڈ بھی درج نہیں ہے ۔ یورپین یونین کے اصولوں کے مطابق غیر یورپین ممالک سے آنے والی مصنوعات کے لیے لازمی ہے کہ ان پر تمام ہدایات درج کی جائیں ، اگر اس زیور کو پہن کر کسی شہری کی جلد کو نقصان پہنچے یا پھر اس میں کوئی ایسا مٹیریل استعمال کیا جائے جو کہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تو اس صورت میں حکام ذمہدار ہوتے ہیں ۔ پاکستانی کے زیور پر کوئی مہر، برانڈ ، زیور کے بنانے والی فیکٹری کا نام وغیرہ درج نہیں تھا ۔ اس پاکستانی کو 30 ہزار کا جرمانہ کردیا گیا ہے اور اس کا سامان ضبط کرلیا گیا ہے ۔ تصویر میں ضبط شدہ سامان

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com