Monday, Jul 15th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

امیگریشن کے قوانین

جرمنی نے خطنہ کرنے کی اجازت فراہم کردی

10 اکتوبر 2012 ۔۔۔ جرمنی کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی عدالت کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔جرمنی کی حکومت نے خطنہ جیسی مذہبی روایت پر جاری قانونی تعطل کو دور کرنے کے لیے اس قانون کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کے تحت خطنہ کرنے کی باقاعدہ اجازت ہوگي۔ملک کی کابینہ نے اس قانون کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کے تحت خطنہ کرنے کی روایت کو جاری رکھا جائیگا۔چند ماہ قبل کولون کی ایک عدالت نے حکم دیا تھا کہ صرف مذہبی بنیادوں پر نوزائیدہ بچوں کا خطنہ سنگین جسمانی نقصان قرار دیا تھا ۔  اس فیصلے کے بعد جرمن میڈیکل ایسوسی ایشن نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے تمام ڈاکٹروں سے کہا تھا کہ وہ بچوں کا خطنہ نہیں کریں سوائے اس کے کہ جب یہ عمل طبی طور پر ضروری ہو۔جرمنی کے یہودیوں اور مسلم تنظیموں نے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنی اس مذہبی روایت کا بھرپور دفاع کریں گے۔جولائی میں جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل کے ترجمان نے کہا تھا کہ حکومت اس مسئلے کو قانون سازی سے حتمی شکل دینا چاہتی ہے۔چونکہ پارلیمان کے بیشتر ارکان خطنہ کرنے کی اجازت دینے کے حق میں ہیں اس لیے اس مجوزہ قانون میں اسے قانونی شکل دے دی جائیگی۔توقع ہے کہ جرمنی کی پارلیمان اس سال کے اختتام سے پہلے ہی اس قانون کو منظور کرلیگی۔نئے قانون میں والدین کو خطرات سے آگاہ کر کے تربیت یافتہ شخص کو خطنہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ جن برادریوں میں خطنہ کی روایت ہے وہ پہلے ہی سے ان کی شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ جرمنی کی حکومت عدالت کے فیصلے سے پریشان رہی ہے خاص طور پر اس طرح کے الزامات کے بعد کہ اس ملک میں جہاں ’ہولوکاسٹ‘ یا یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اب وہاں ان کے بنیادی عقائد کو غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا تھا کہ عدالت کے اِس فیصلے سے دنیا بھر میں جرمنی کا مذاق اڑے گا۔ اس کے برعکس اٹلی میں خطنے کرنے کا رواج عام ہے اور سرکاری ہسپتالوں سے بھی خطنے کرانے کا انتظام موجود ہے ۔ اب موجودہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ چند ہسپتالوں میں خطنوں کے علاوہ باقی تمام لوازمات بھی پورے کرے جو کہ مذہبی طور پر ضروری سمجھے جاتے ہیں ۔

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

امیگریشن کی درخواستیں سست ، مزدور یونین

5 اکتوبر 2012 ۔۔۔ اٹلی کی مزدور یونین UILیو ای ایل کے حکام نے کہا ہے کہ اس امیگریشن میں ایک لاکھ کے قریب درخواستیں جمع ہونگی ۔ اب تک درخواستیں جمع کروانے کی رفتار بہت سست جارہی ہے ۔ ہر روز اڑھائی ہزار کے قریب درخواستیں ٹیلی میٹک طریقے سے روانہ کی جاتی ہیں ۔ 2 اکتوبر تک صرف 45 ہزار درخواستیں جمع کروائی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ درخواستوں کی سستی کیوجہ یہ ہے کہ یہ امیگریشن غیر ملکیوں کے لیے بہت مہنگی ہے ۔ صرف ڈومیسٹک کام کرنے کی درخواست کم قیمت میں جمع ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 45 ہزار درخواستوں میں سے 40 ہزار ڈومیسٹک کام کے لیے جمع کروائی گئی ہیں ۔ ڈومیسٹک کام کی درخواست 2 ہزار یورو میں جمع ہوجاتی ہے ، جبکہ دوسرے کاموں کی درخواست یعنی انڈسٹری اور زراعت وغیرہ کی درخواست کا مکمل خرچہ 5 سے 10 ہزار یورو کا بنتا ہے ۔ ڈومیسٹک کام میں جن غیر ملکیوں نے 33 فیصد سے زیادہ درخواستیں جمع کروائی ہیں ، ان میں پاکستان، تیونس، مراکش اور مصر کے غیر ملکی شامل ہیں ۔ صاف ظاہر ہے کہ ان ممالک کے غیرملکی عام طور پر ڈومیسٹک کام نہیں کرتے ۔ ان ممالک کے غیرملکیوں نے رقم بچانے کے لیے اور آسانی سے سوجورنو حاصل کرنے کے لیے ڈومیسٹک کام کے کنٹریکٹ کا سہارا لیا ہے ۔ یاد رہے کہ امیگریشن کے تمام تر اخراجات مالک نہیں بلکہ غیر ملکی اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سوجورنو نہ ملنے کی صورت میں مالک اور ملازم کے درمیان غیر مساوی سلوک برتا گیا ہے ، یعنی اگر غیر ملکی کا مالک لوازمات پورے نہ کرسکا تو غیر ملکی کو ملک بدری کا نوٹس دیدیا جائے گا ۔ اس وجہ سے بھی کم درخواستیں جمع ہو رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس امیگریشن کو کامیاب بنانا چاہتی ہے تو اسے اسکی تاریخ 15 نومبر تک رکھنی ہوگی اور قوانین میں بھی نرمی کرنی ہوگی ۔  تصویر میں مزدور یونین کے صدر آنجیلیتی

alt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پاکستان کی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جائے ، ترونکونی

روم۔ یکم اکتوبر 2012 ۔۔۔۔ اٹلی کی چیمبر آف کامرس کے سٹائل و ڈیزائنگ کے صدر Michele Tronconiنے کہا ہے کہ پاکستان کی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جائے۔ آئندہ چند دنوں بعد یورپین پارلمینٹ میں پاکستان کی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی پر بحث شروع ہونی والی ہے ، اس موقع پر ترونکونی نے تمام اٹالین یورپین اراکین کو ایک خط لکھتے ہوئے گزارش کی ہے کہ وہ پاکستان کی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی کو ختم کروانے کے حق میں ووٹ دیں ، کیونکہ اگر پاکستان کے خلاف ووٹ دیا گیا تو اٹالین ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی فرموں کو مزید بحران کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اٹالین معیشت فنانس کے بحران کیوجہ سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور موجودہ معاشی بحران انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ یورپین کسٹم ڈیوٹی کے باوجود پاکستان ٹیکسٹائل اور یورپین کوالٹی کے ملبوسات یورپ میں درآمد کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور غیر یورپین ممالک جو کہ یورپ میں ٹیکسٹائل کی امپورٹ کرتے ہیں ، ان میں پاکستان کا نام سرفہرست ہے ۔ غیر یورپین ممالک جو کہ یورپ میں ٹیکسٹائل کی امپورٹ کرتے  ہیں ان میں 40 فیصد مصنوعات پاکستان میں بنتی ہیں۔ پاکستان کا کوٹہ 80 فیصد ہے لیکن آخری سالوں میں پاکستان سے غیر مساوی سلوک کیا گیا ہے  ۔ اس لیے پاکستان پر کسٹم ڈیوٹی صفر کرتے ہوئے ، اس ملک کے بزنس مینوں کو اجازت دینی چاہئے کہ وہ آزادی کے ساتھ یورپ اور خاص طور پر اٹلی میں اپنا سامان امپورٹ کرتے ہوئے یورپ کے بحران کو کم کرنے کی کوشش کریں ۔ یورپین پارلیمنٹ نے عہد کیا تھا کہ وہ پاکستان میں گزشتہ سیلاب زدگان کی مدد کرنے کے لیے کسٹم ڈیوٹی میں کمی کرنے کا فیصلہ کرے گی ۔ یورپین اسمبلی نے سیلاب زدگان کے لیے 400 ملین یورو کی امداد روانہ کی تھی ، اس لیے ان کا کوئی جواز نہیں بنتا کہ یہ اس ملک کی مصنوعات پر ناجائز کسٹم ڈیوٹی رائج کریں ۔ پاکستان میں ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ کی بڑی فرمیں موجود ہیں جو کہ سال میں 200 ملین یورو کا کاروبار دنیا سے کرتی ہیں ، جبکہ اٹلی میں ایسی بڑی فرمیں مدت سے بند ہوچکی ہیں ۔ پاکستان کی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے سے اٹالین معیشت کو فائدہ ہوگا کیونکہ ہمارے پاس انڈسٹری ہے اور پاکستان میں کاٹن موجود ہے ، اسکے علاوہ پاکستان میں ایسے ملبوسات بنتے ہیں جو کہ کسٹم کے بغیر اٹلی کی دکانوں میں دوبارہ رونق واپس لیکر آسکتے ہیں ۔ یورپ کے کئی ممالک میں مینوفیکچرنگ کی فرمیں بند ہوچکی ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ ہم پاکستان پر ڈیوٹی ختم کریں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط بنانے سے اٹلی کے لیے بھی ایک نئی مارکیٹ کے دروازے کھلیں گے ۔ تصویر میں میکیلے ترونکونی

alt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

امیگریشن میں ضرور درخواست دیں ، وزیر امیگریشن

روم۔ 27 ستمبر 2012 ۔۔۔۔ اٹلی کی عارضی حکومت کے امیگریشن اور انٹیگریشن کے وزیر ریکاردی نے کہا ہے کہ وہ موجودہ امیگریشن میں غیر ملکیوں کی مدد کے لیے مزید نرمی کرنے کے لیے بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ۔ وزیر ریکاردی نے اٹلی میں موجود تمام مذاہب کی ایک کونصل بنائی ہے ، جس میں بقلم خود بھی کونصل کے رکن کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ آج وزیر ریکاردی نے ہمارے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب تک 37 ہزار سے زائد غیر ملکیوں کے مالکانalt نے درخواستیں  جمع کروائی ہیں  ۔ ان میں سے 70 فیصد درخواستیں ڈومیسٹک کام کے لیے جمع کروائی گئی ہیں ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ڈومیسٹک ملازم 20 ہزار یورو کی بچت سے پارٹ ٹائم بھی رکھا جا سکتا ہے اور اسکے برعکس زراعت اور انڈسٹری کے مالکان فل ٹائم کا کنٹریکٹ کرنے کی وجہ سے اور سالانہ بچت زیادہ ہونے کیوجہ سے کم درخواستیں جمع کروا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی غیر ملکی کو اسکی درخواست قبول نہ ہونے پر ملک بدری کا نوٹس نہیں دیں گے اور اسکے علاوہ ثبوت کا سرکاری ادارے کا ہونے پر بھی غور و فکر کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرین کی ٹکٹ بھی ثبوت کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے کیونکہ ریلوے کا ادارہ بھی سرکاری ادارہ ہے ۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ثبوت والا مسئلہ اتنا سخت نہیں ہو گا کیونکہ وزیر خود اس کی نرمی کا سوچ رہے ہیں ۔ اسکے علاوہ انہوں نے تسلی دی ہے کہ غیر ملکی بالکل ڈریں نہ اور درخواست جمع کروائیں ۔اسکے علاوہ ثبوت درخواست کو جمع کروانے کے بعد بھی میسر کیا جا سکتا ہے ۔ تمام پاکستانیوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ ہر قسم کا ثبوت سنبھال کر رکھیں یا حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ تصویر میں وزیر ریکاردی

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 27 ستمبر 2012 19:02

شہریت کا قانون اسمبلی میں روک دیا گیا

altروم۔ 22 ستمبر 2012 ۔۔۔۔ دوسری نسل کے غیر ملکیوں کو فوری طور پر شہریت دینے کا قانون اسمبلی میں روک دیا گیا   ہے ۔ اٹلی کی سیاسی پارٹیاں پی ڈی ایل یعنی برلسکونی کی پارٹی اور لیگا نورد نے اس قانون کے خلاف بائیکاٹ کر دیا ہے ۔ سینٹ اور قومی اسمبلی میں شہریت کے قانون میں ترمیم کرنے کے لیے قوانین پیش کیے گئے تھے لیکن لگتا ہے کہ موجودہ حکومت اسے پاس کروانے میں ناکام رہے گی ۔ جون کے مہینے میں قومی اسمبلی کے ایک آئینی کمیشن نے دوسری نسل کے غیر ملکیوں کو شہریت دینے پر مختلف تجاویز پر کام شروع کر دیا تھا اور لگتا تھا کہ یہ قانون تمام سیاسی جماعتوں کی مثبت رائے سے پاس ہو جائے گا ۔ چند سیاسی جماعتوں کے اراکین نے کہا ہے کہ موجودہ شہریت کے قانون میں تبدیلی نہیں ہونے دیں گے اور دوسروں نے یہ کہا ہے کہ سال بعد ہونے والے الیکشنوں کے بعد دیکھا جائے گا کہ ہم نے کونسی تبدیلیاں لانی ہیں ۔ اب شہریت کے قانون میں ترمیم لانے کا وقت نہیں کیونکہ اٹلی میں عارضی حکومت قائم کر دی گئی ہے اور اکثریت کی سیاسی جماعتیں اسمبلی میں اپوزیشن کی طرح بیٹھ گئی ہیں ۔ شہریت کے قانون میں ترمیم کرنے کے لیے قومی اسمبلی اور سینٹ کے 10 کے قریب اجلاس بلائے گئے ہیں اور یہاں پی ڈی ایل پارٹی اور لیگا نورد نے ہمیشہ منفی رائے کا اظہار کیا ہے ۔ 25 جولائی کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں لیگا نورد کے رکن Pierguido Vanalliنے کہا تھا کہ شہریت کے قانون میں ترمیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، اس لیے اس قانون کو مت چھیڑا جائے ، لیگا نورد پارٹی کا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے کہ اٹلی میں دوسری نسل کے غیر ملکیوں کو 18 سال کی عمر ہونے پر شہریت دی جائے ۔ 31 جولائی کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ڈی ایل پارٹی کے رکن Pietro Laffrancoنے کہا تھا ہم چند ترامیم کرنے کے لیے تیار ہیں ، یعنی شہریت حاصل کرنے کے لیے وقت کی مدت کم کی جائے اور بیروکریسی کو بھی کم کیا جائے کیونکہ شہریت حاصل کرنے کے لیے کافی وقت لگ جاتا ہے لیکن ہم نہیں چاہتے کہ موجودہ حکومت کوئی ایسی ترمیم کرے ، جس سے دوسری نسل کے غیر ملکیوں کو شہریت دینے کا قانون آسان بنایا جا سکے ، اس قانون میں ترمیم کرنے کے لیے آئندہ آنے والی حکومت کام کرے گی ۔ اب پی ڈی ایل کی رکن اسمبلی Isabella Bertoliniاور پی ڈی پارٹی کی Sesa Amiciکی ذمہداری ہو گی کہ وہ ایک نئی تجویز اراکین اسمبلی کو پیش کریں لیکن اس مقصد کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے ۔ پی ڈی پارٹی کے Andrea Sarubbiاور ایف ایل ای پارٹی کے Fabio Granataنے یہ قانون اسمبلی میں پیش کیا تھا ، جس میں اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کے اراکین نے ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا اور 50 سے زیادہ اراکین اسمبلی فوری طور پر شہریت کے قانون میں ترمیم لانے کے لیے جمع ہو گئے تھے ، اس وقت لگتا تھا کہ اب شہریت کا قانون تبدیل ہو جائے گا ۔ اندریا سروبی نے کہا کہ جب 31 جولائی کے اجلاس میں چند سیاسی جماعتوں نے ہمارے خلاف ووٹ دیا تو ہماری امیدیں ختم ہو گئيں لیکن میں ہمت نہیں ہاروں گا اور آخر تک اس قانون میں ترمیم لانے کے لیے جنگ لڑوں گا ۔ تصویر میں ایک دوسری نسل کا پاکستانی ۔ تحریر، ایلویو پاسکا

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com