Friday, Mar 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

ایمبیسی کی خبریں

مشرق و مغرب

 بچپن میں سنا تھا کہ ایک یورپی سیاح پاکستان کی دیہاتی زندگی کا مشاہدہ کرنے گاؤں میں گیا تو دیہات والوں نے اسے کھانے میں باجرے کی روٹی پر ساگ رکھ کر دیا-اس نے ساگ تو کھا لیا لیکن روٹی کو پلیٹ سمجھتے ہوئے واپس کر دیا-یہ واقعہ سن کر بڑی حیرت ہوئی تھی اور یورپین باشندوں کی کم علمی پر ترس بھی آیا تھا-یہاں آکر اس بات کا ادراک ہوا کہ باجرے کی روٹی سے نا واقفیت کی بنا پر کسی کو نا لائق یا کم علم قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس جانچ کے پیمانے کچھ اور ہیں-دوسری بات یہ سنی تھی کہ مغربی شہری بڑے گندے ہوتے ہیں، مہینوں نہاتے نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کے جسم سے بڑی ناگوار بو آتی ہے-پاکستان میں آئے ہوئے ہپی ٹائپ مغربی سیاحوں کی وضع قطع اور طرز عمل کو دیکھ کر یہ بات سچ معلوم ہوتی تھی لیکن یہاں آکر معلوم ہوا کہ ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے-اس کے بر عکس کئی بار ایسا اتفاق بھی ہوا ہے کہ کام سے واپسی پر ہمارے جسم سے پسینے کی بو آ رہی ہوتی ہے اور اس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب بس یا ٹرین میں قریبی سیٹ پر بیٹھا مسافر اپنی ناک پر رومال رکھتا ہے یا چہرے کے تاثرات سے ناگواری کا اظہار کرتا ہے- مغربی زبانیں الٹی سمت یعنی بائیں سے دائیں لکھے جانے کے علاوہ ٹریفک کا نظام بھی متضاد ہے-پورے یورپ میں برطانیہ کے علاوہ تمام ممالک میں گاڑی میں اسٹیرنگ وہیل بائیں طرف جبکہ گاڑی سڑک کے داہنے حصے میں چلائی جاتی ہے اچھا ڈرائیور اسے سمجھا جاتا ہے جو ٹریفک قوانین کی پابندی کرے-اس کے بر عکس ہمارا ماہر ڈرائیور وہ ہے جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیز رفتاری سے خطرناک ڈرائیونگ کرے جبکہ پیچھے سے آنے والی گاڑیوں اور پیدل سڑک عبور کرنے والے لوگوں کو راستہ نہ دینا اضافی قابلیت سمجھی جاتی ہے-وطن عزیز میں فرنٹ سیٹ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے-خاص طور پر لوکل روٹس پر چلنے والی ویگنوں اور بسوں میں کنڈیکٹر حتی الوسع اگلی سیٹ پر بیٹھنے کا موقع معزز حضرات کو ہی دیتا ہے جبکہ بیٹھنے والا شخص اسے عزت افزائی سمجھتا ہے-ٹیکسی میں سفر کرنے والا مسافر فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا اپنا حق سمجھتا ہے اور اس پر بیٹھ کر اطمینان محسوس کرتا ہے-جبکہ ادھر صورت حال بر عکس ہے ، اگلی سیٹ پر ڈرائیور اپنی زاتی چیزیں مثلا“ موبائل فون، عینک، نقشہ اور فائل وغیرہ رکھتے ہوئے اسے بطور میز استعمال کرتا ہے جبکہ مسافر بڑے شوق سے پچھلی سیٹ پر بیٹھتا ہے-معلوم نہیں ہمارے باں ایک عام آدمی اگلی سیٹ کو اتنی زیادہ اہمیت کیوں دیتا ہے جبکہ اونچے طبقے کے لوگ اگلی سیٹ پر ڈرائیور کے برابر بیٹھنا اپنی شان کے مطابق نہیں سمجھتے علاوہ ازیں اعلی سرکاری افسران بھی پروٹوکول کی   وجہ سے پچھلی سیٹ پر ہی براجمان ہوتے ہیں-اپنے ملک میں بکرے کا گوشت سب سے اچھا اور لذیذ سمجھا جاتا ہے اس وجہ سے مہنگا ہے جبکہ مرغی اور گائے کے گوشت کا نرخ اس کا تقریبا“ نصف ہے-گائے کے گوشت کو بادی سمجھا جاتا ہے- یہاں گائے کا گوشت مہنگا ہے-اسے غذائیت سے بھر پور اور لذید خیال کیا جاتا ہے- زیادہ غذائیت ہونے کی وجہ سے کمزور معدے والے لوگ اسے ہضم نہیں کر پاتے تو اس کے نتیجے میں صحت پر پڑنے والے مضر اثرات کو بادی کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے-ادھر بادی کے علاوہ ٹھنڈی اور گرم تاثیر کا بھی کوئی تصور نہیں ہے-وطن عزیز میں مچھلی کے ساتھ دودھ دہی کے استعمال سے پھلبہری کا مرض لاحق ہو جانے کا خطرہ بیان کیا جاتا ہے جبکہ یہاں ایسی کوئی بات سننے میں نہیں آئی ہے- علاوہ ازیں یہاں نہ تو تربوز کھانے سے پہلے اس پر نمک چھڑکنے کا رواج ہے اور نہ ہی کھانے کے فورا“ بعد پانی پینے کی پابندی جبکہ وطن عزیز میں اسے ذود ہضم بنانے کے لئے نمک کا استعمال اور ہیضے سے بچنے کے لئے پانی سے پرہیز ضروری سمجھا جاتا ہے-اس تضاد کی وجہ موسمی کیفیت کا اختلاف بیان کی جاتی ہے-ہمارے ہاں ماں بچے کو گود میں اس طرح اٹھاتی ہے کہ وہ ماں کے سینے سے اس طرح چپک جاتا ہےکہ اس کا چہرہ ماں کے کندھے کے اوپر کی طرف رہتا ہے اور اس کی نظر ماں کی پشت کی طرف موجود چیزوں پر پڑتی ہے- اس ماں کا خیال ہے کہ ماں کے سینے کی حرارت بچے اور ماں کے درمیان پیار کے رشتے کو اور مضبوط کرتی ہے-اس کے بر عکس یورپ میں ماں بچے کو گود میں اس طرح اٹھاتی ہے کہ اس کی پشت ماں کی طرف رہتی ہے اور وہ سامنے کی طرف دیکھتا ہے جبکہ اس کی ٹانگیں سیدھی نیچے کی طرف لٹک رہی ہوتی ہیں- اس ماں کا خیال ہے کہ یہ طریقہ بچے کی جسمانی نشوونما اور مشاہدے کے لیے بہت مفید ہے- ان دونوں ماؤں کے برعکس افریقن ماں بچے کو چادر کی جھولی میں اپنی پشت پر اس طرح لٹکاتی ہے کہ بچے کا چہرہ ماں کی پشت کی طرف رہتا ہے-اس طرح ماں کے ہاتھ فارغ رہتے ہیں اور وہ اپنے روز مرہ کے کام بھی سر انجام دیتی رہتی ہے لیکن اس طرح بچے کا ارد گرد کے ماحول کا مشاہدہ کرنے کا عمل محدود ہو جاتا ہے اور جسمانی نشوونما بھی متاثر ہوتی ہے-علاوہ ازیں جسم بے ڈول ہو جاتا ہے- یہ ایک اتل حقیقت ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں کی ماؤں کا پچے کو اٹھانے کا طریقہ تو مختلف ہو سکتا ہے لیکن بچے کے لئے ان کی شفقت اور پیار ہمیشہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے- یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یورپی ماں اگر بچے کو کسی غلطی پر سزا دیتی ہے تو گال پر تھپڑ مارنے کے بجائے پشت کی طرف کے نرم حصے پر چپت لگاتی ہے- اس بارے میں امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ بچے کے چہرے پر طمانچہ نہ مارا جائے کیونکہ چہرے سے تجلیات الہی کا اظہار ہوتا ہے- مغرب میں “خواتین پہلے“ کے اصول کے مطابق عورت آگے چلتی ہے اور مرد پیچھے اگر ساتھ پچہ ہو تو اسے سنبھالنےکی ذمے داری مرد کی سمجھی جاتی ہے-بمارے ملک میں خواتین زیادہ خوبصورت نظر آنے اور اپنی امارت کا اظہار کرنے کے لئے بیش قیمت ملبوسات اور طلائی زیورات کا استعمال کرتی ہیں تو ادھر جسمانی نمائش کو خوبصورتی بڑھانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے-نیم عریاں، مختصر اور تنگ لباس اس مقصد کے حصول کے لئے بڑے مدد گار سمجھے جاتے ہیں-مغربی ممالک میں کسی دفتری کاؤنٹر کے سامنے، بس یا ٹرین میں سوار ہوتے وقت قطار بنانے میں بڑے نظم و نسق کا مظاہرہ کیا جاتا ہے-قطار بنانے کے بعد اپنی باری کا بڑے صبر و تحمل سے انتظار کیا جاتا ہے-ایک دفعہ جرمن میں بس کا سفر کرنے کا اتفاق ہوا -بس کے اندر اس قدر خاموشی تھی کہ اگر آنکھیں بند کر لی جائیں تو ایسے محسوس ہو جیسے بس میں کوئی اور مسافر موجود ہی نہیں ہے-جب کوئی مسافر اپنے ہمسفر سے بات کرتا تھا تو اپنا منہ اس کے کان کے نزدیک لے جا کر اتنی دھیمی آواز میں بولتا تھا کہ قریب بیٹھا ہوا شخص بھی سن نہ سکے-ایک مسافر کو ڈرائیور سے ٹکٹ خریدنے کے لئے ریزگاری کی ضرورت پڑی تو اس کے مسافروں سے پوچھنے پر ان سب لوگوں نے اپنے ہاتھ بلند کر دیئے جن کے پاس ریزگاری موجود تھی-جرمن میں یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ زیبرا کراس پر سے گزر کر سڑک پار کرتا ہوا شخص جب تک سڑک کے دوسری طرف کے فٹ پاتھ پر قدم نہیں رکھ لیتا اس وقت تک گاڑی کا ڈرائیور زیبرا کراس سے مناسب فاصلے پر رک کر بڑے تحمل سے اس کے دوسری طرف پہنچنے کا انتظار کرتا ہے-یہ چیز یورپ کے کئی ممالک میں دیکھنے کو نہیں ملے گی-جرمن شہری اپنی گفتگو میں براہ مہربانی، شکریہ اور معاف کرنا وغیرہ جیسے الفاظ کا بڑی فراخدلی سے استعمال کرتے ہیں-نشست اور برخاست کے وقت سلام اور دعائیہ کلمات کا استعمال بھی بڑی گرم جوشی سے کیا جاتا ہے-(تحریر:حاجی وحید پرویز، بریشیا، اٹلی)-

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 25 جون 2013 22:51

پاکستانی ایمبیسی اور کونصلیٹ کے تہوار

روم۔ 5مارچ ، 2013 ۔۔۔ وہ پاکستانی جو کہ قونصلر سیکشن کے معاملات کے لیے روم تشریف لاتے ہیں یا پھر میلان کونصلیٹ میں جاتے ہیں ، ان سے گزارش ہے کہ وہ اس خبر کو کاٹ کر اپنے گھر میں رکھ لیں ورنہ آپ کو بلاوجہ چکر پڑے گا ۔ یاد رہے کہ مندرجہ زیل دنوں میں ایمبیسی اور میلان کونصلیٹ بند رہے گی

6 جنوری بروز اتوار   Epifania Day

23 مارچ بروزہفتہ  Pakistan Day

1 اپریل   بروز سوموار  Easter

25 اپریل بروزجمعرات   Liberation Day

یکم مئی بروز بدہ  labour Day

29 جون بروزہفتہ patron Saint Day  ( یہ چھٹی صرف روم میں ہو گی )

14 اگست بروز بدہ Indipendence Day

15 اگست بروزجمعرات      Assumption Day

8 اور 9 اگست جمعرات اور جمعہ  Eid ul Fitr*

15 اور 16 اکتوبر بروز منگل اور بدہ      Eid ul Azha*

یکم نومبر بروز  جمعہ  All Saints Day

9 نومبر بروزہفتہ    Iqbal Day    

23 نومبر بروز جمعہ     Ashura*

8 دسمبر  بروز اتوار   Immaculate Day

25 دسمبر بروز بدہ   Quaid-e- Azam Day/ Christmas Day

26 دسبمر بروز جمعرات   St. Stephens day

جن چھٹیوں پر *یا اس تارے کا نشان ہے ، ان چھٹیوں کا تعین چاند کو دیکھ کر کیا جاتا ہے ۔ وہ پاکستانی حضرات جو کہ اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے لیے معلومات حاصل کرنے کے لیے فون کرتے ہیں ، ان سے گزارش ہے کہ وہ دوپہر 00۔14 سے لیکر 00۔16 تک فون کریں ۔ تصویر میں ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ، ملٹری اتاشی ریٹائرڈ کرنل حسیب گل اور کمرشل اتاشی عامر سعید

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پاکستان ایمبیسی روم جانے کا طریقہ کار

روم۔ 18 مارچ 2012 ۔۔۔ وہ پاکستانی خواتین و حضرات جو کہ روم میں موجود پاکستانی ایمبیسی میں اسٹیشن سے تشریف لانا چاہتے ہیں ، ان سے گزارش ہے کہ وہ مندرجہ زیل طریقہ کار استعمال کریں ۔

اسٹیشن Terminiسے پیاسا منچینی یا Piazza Manciniتک آپ بس نمبر 910 حاصل کریں گے ۔ اسکے بعد پیاسا منچینی سے بس نمبر 446،301،911 ( ان میں سے ایک بس حاصل کرتے ہوئے ) آپ پیاسا جوکی دیلفیچی یا Piazza Giochi Delficiپر اتریں گے ۔ اسکے بعد 7 منٹوں کا پیدل سفر کرتے ہوئے آپ ایمبیسی کے گیٹ پر پہنچ جائیں گے ۔ ایمبیسی کی سڑک کا نام Via Riccardo Zandonai 84  ہے ۔ یاد رہے کہ 2005 تک ایمبیسی کا گیٹ دوسری سڑک Via Della Camilluccia 682  کی طرف ہوا کرتا تھا ، چند ناگزیر وجوہات کی بنا پراسے بند کر دیا گیا تھا ۔ اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ آپ ہمیشہ قونصلر سیکشن کے معاملات کے لیے Via Riccardo Zandonai 84پر تشریف لائیں ۔ وہ خواتین و حضرات جو کہ گاڑی کے زریعے آئيں گے ، انہیں اسی سڑک پر پارکنگ بھی مل جائے گی ۔ یہاں پارکنگ کرنے کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جاتی ۔ تصویر میں پاکستانی ایمبیسی کا ایک منظر

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

لومبردیا میں سید ریاص کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں

روم۔ 3 فروری 2013 ۔۔۔ پیارے قارئین اٹلی میں الکیشن کی آمد ہے اور اس موقع پر ہمارے ایک پیارے جوان سید ریاص لومبردیا کے انتخابات میں کونصلر کی سیٹ کے لیے الکیشن لڑ رہے ہیں ۔ سید ریاص اٹلی کی مشہور سماجی شخصیت سید تنویر شاہ کے صاحبزادے ہیں اور منہاج القرآن یورپ کے صدر سید ارشد شاہ کے کزن ہیں ۔ سید ریاص 1984 میں پاکستان میں پیدا ہوئے اور اسکے بعد والدین کے ساتھ میلانو میں آباد ہوگئے ۔ انہوں نے میلانو سے تمام تر تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وکالت کے شعبے سے منسلک ہو گئے ۔ سیدریاص اپنی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کمونٹی سے بھی محبت کرتے ہیں اور پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنی قانونی خدمات استعمال کرتے ہیں ۔ انہوں نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اٹلی میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک پاکستانی ریجنل لیول کے الکیشن میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان کا نام روشن کررہا ہے ۔ سید ریاص اٹلی میں مسلمانوں اور غیر ملکیوں کے حقوق کے لیے بھی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کا سب سے بڑا نعرہ غیر ملکیوں کے بچوں کو پیدائش کے فوری بعد اٹالین شہریت دلوانا ہے ۔ سید ریاص اٹلی میں امیگریشن کے قوانین کو مثبت بنانے کے لیے بھی کاروائیاں کر رہے ہیں اور انکی کاوشوں سے سول سروس کے قانون کوبھی تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ سید ریاص الکیشن سے قبل اپنی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کی بدولت نام کما چکے ہیں ۔ تمام کمونٹی کے خواتین و حضرات سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ لومبردیا میں الکیشن لڑنے والے اس جوان کی مدد کریں ۔ ووٹ ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ میلانو یا اس کے صوبے میں آباد ہوں اور آپ کے پاس اٹالین شہریت موجود ہو ، اسکے بعد آپ کو الکیشن کمیشن سے ایک کارڈ حاصل کرنا ہو گا اور ووٹ ڈالنا ہو گا ۔ ووٹ ڈالتے وقت آپ پارٹی PDپر کراس ڈالیں گے اور اسکے بعد ساتھ ہی Reas Syedکا نام درج کریں گے ۔ یاد رہے کہ وہ پاکستانی جو کہ ووٹ نہیں ڈالتے کیونکہ انکے پاس اٹالین شہریت نہیں ہے ، یا پھر وہ ہم وطن جو کہ دوسرے علاقوں میں آباد ہیں ، ان سے گزارش ہے کہ یہ اپنے جاننے والوں سے رابطہ کریں ، جو کہ لومبردیا میں آباد ہیں اور سیدریاص کی کمپین میں حصہ لیں ۔

سید ریاص سے رابطہ کرنے کے لیے انکی سائٹ www.reassyed.com کا پر کلک کریں

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

گواستالہ میں عید میلادالنبی کا جشن

ریجو ایملیا ، مسعود شیرازی سے ۔۔۔۔ اٹلی کے شمالی علاقے ریجو ایمیلیا کے قصبے گواستالہ میں حضور پر نور، حبیب خدا، ختم ارسل ۖ کی ولادت با سعادت کی خوشی میں محفل میلاد منائی گئی ۔ جس میں تلاوت کلام کریم اور حضور ۖ کے لیے نذرانہ پیش کیا گیا ۔ خصوصی بیان کے لیے برطانیہ سے جناب علامہ ظفر محمود( خطیب و عالم امہ چینل انگلینڈ ) تشریف لائے ۔ جنہوں نے علمی و تحقیقی تقریر سے حاضرین محفل کے دینی و مذہبی قلب کو گرمایا ۔ انہوں نے کہا کہ حضور ۖ نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ دوسری مخلوقات کے لیے بھی رحمت بن کر آئے تھے ، حتی کہ جانور اور پتھر بھی آپ سے اپنے مالکان کے مظالم اور سلوک کا زکر کرتے نظر آتے ہیں ۔ علامہ صاحب نے غیر مسلم دنیا میں آباد مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں کو یہ نصیحت کی ، کہ آپ لوگ اپنے نبی کریم ۖ کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے پردیس میں محبت و امن کے عالمی پیغام کے ساتھ غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئيں اور کوئی ایسا عمل نہ کریں ، جس سے اسلام اور پاکستان کے حوالے سے کوئی منفی سوچ پیدا ہو۔ محفل کے کامیاب انعقاد پر پاک محمدیہ اسلامک سنٹر گواستالہ کے امام علامہ فاروق اور کمیٹی انتظامیہ ، ڈاکٹر محمد اظہر، محمد مظفر، عمر فاروق، محمد حنیف، محمد جاوید، خادم حسین اور دیگر حاضرین محفل کو مبارکباد پیش کی ۔ محفل کے اختتام پر لنگر تقسیم کیا گیا ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com