Sunday, May 26th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

ایمبیسی کی خبریں

سابقہ منگیتر کا گلہ گھونٹنے کے جرم میں محمد بشیر گرفتار

روم۔ 22 جنوری 2013   ۔۔۔ اٹلی کے شہر سینیگالیہ میں ایک پاکستانی محمد بشیر کو سابقہ منگیتر کا گلہ گھونٹنے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق محمد بشیر عمر 55 سال سینیگالیہ میں پرمیسو دی سوجورنو کے ساتھ آباد ہے اور راج مزدوری کا کام کرتا ہے ۔ اس نے یوکرائن کی ایک عورت عمر 47 سال نام ایس ایل کے ساتھ منگیتر کا رشتہ قائم کررکھا تھا ۔ کچھ عرصہ قبل یوکرائن کی عورت نے محمد بشیرکے ساتھ اس لیے  رشتہ ختم کردیا تھا کیونکہ وہ شراب کے نشے میں اسے مارتا پیٹتا ہے ۔ محمد بشیر نے اس علیحدگی کو تسلیم نہ کیا اور کل اس نے عورت کا پیچھا کرنا شروع کردیا ۔ یہ عورت جب شام کو اپنے کام سے نکلی اور اس نے اپنے سائیکل پر گھر واپس جانا چاہا تو اسے پتا چلا کہ کسی نے اسکے سائیکل کو تالہ لگا دیا ہے ۔ عورت کو سمجھ لگ گئی کہ یہ کام اسکے سابقہ منگیتر نے کیا ہے ، اسکے بعد عورت نے تیزی سے راستہ بدلتے ہوئے اپنے گھر واپس جانا شروع کیا۔ اسی اثنا میں اسکے پیچھے سے محمد بشیر شراب کے نشے میں آگیا اور اس نے عورت کو مارنا پیٹنا شروع کردیا اور اسکے بعد اسکے پرس کی چین سے اسکا گلہ گھونٹنا شروع کردیا ۔ عورت کی چیخ و پکار سے ایک راہ گزر بھی وہیں آگیا اور اس نے فوری طور پر پولیس کو فون کردیا ۔ پولیس جب اس جگہ پر پہنچی تو محمد بشیر نے انکی بھی کوئی پرواہ نہ کی اور عورت کو مارتا رہا اور اسکے گلے کو دبانے کی کوشش کرتا رہا ۔ بڑی مشکل سے پولیس عورت کو آزاد کروانے میں کامیاب ہوگئی ۔ دونوں کو پولیس اسٹیشن لایا گیا اور مرہم پٹی کی گئی ۔ انکونا کی عدالت نے محمد بشیر پر ارادہ قتل اور پولیس پر ہاتھ اٹھانے کا کیس کردیا ہے اور اسے جیل میں بند کردیا گیا ہے ۔ تصویر میں محمد بشیر پولیس کی حراست کے دوران 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 22 جنوری 2013 21:22

روم کے غیر ملکیوں کے سنٹر میں پاکستانیوں کا لڑائی جھگڑا

روم۔ 6 دسمبر 2013 ۔۔۔ روم کے غیر ملکیوں کے چمپینو کے سنٹر میں پاکستانیوں اور اریٹریا کے سیاسی پناہ گزین میں لڑائی جھگڑا ہونے سے متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں ۔ چمپینو کے سنٹر میں ان غیر ملکیوں کو رکھا گیا ہے جو کہ اپنی سیاسی پناہ کی درخواست کی منظوری کا انتظار کر رہے ہیں ۔ پولیس نے پاکستانیوں اور اریٹریا کے 23 غیر ملکیوں کو لڑائی جھگڑا کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا ہے ۔ کل شام 7 بجے کے قریب سنٹر کے عملے نے اس وقت پولیس کی مدد مانگ لی  جب لڑائی شدت اختیار کرگئی ۔ یہ لڑائی سنٹر کے میس میں عمل میں آئی ، جو کہ تصویر میں بھی نظر آرہا ہے ۔ ایک پاکستانی اور ایک اریٹریا یعنی افریقہ کے ملک کے غیر ملکی کے دوران گالی گلوچ ہوئی اور اسکے بعد سنٹر کے تمام پاکستانی اور تمام اریٹریا کے غیر ملکی اس منی جنگ میں شامل ہو گئے ۔ انہوں نے کرسیاں میز توڑ دیے اور فرنیچر کے ڈنڈے بناتے ہوئے ایک دوسرے پر لپک پڑے ۔ جب پولیس میس میں داخل ہوئی تو دونوں گروپ ڈنڈوں اور پتھروں سے ایک دوسرے پر وار کر رہے تھے ۔ پولیس انہیں علیحدہ کرنے میں کامیاب ہوگئی اور اسکے بعد زخمیوں کو قریبی ہسپتال میں پہنجا دیا گیا ۔ پولیس نے اسپیشل پولیس کی مدد بھی مانگ لی جو کہ میس کی تباہی کا حساب لگائے گی ۔ لڑائی کے بعد 11 پاکستانی اور 12 اریٹریا کے غیر ملکیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کوٹھی میں ڈاکہ مارنے پر 2 پاکستانی گرفتار

روم۔ 2 جنوری 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے شمال میں کارپی شہر میں کوٹھی میں ڈاکہ مارنے پر 2 پاکستانی گرفتارکر لیے گئے ہیں ۔ ان کی عمر 17 سال اور 20 سال ہے ۔ ان 2 جوان پاکستانیوں نے ایک اٹالین کے ساتھ ملکر ایک کوٹھی میں رات کو ڈاکہ مارا۔ اس کوٹھی میں ضعیف میاں بیوی آباد ہیں اور ڈاکو بھی اسی چھوٹے سے شہر میں آباد ہیں ۔ ڈاکے کے بعد جب یہ جوان چلے گئے تو انکا ایک شناختی کارڈ زمین پر گرگیا ۔ پولیس نے تفتیش کے دوران یہ کارڈ حاصل کرلیا اور ان تینوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ ان جوان ڈاکوؤں نے بتایا کہ وہ نئے سال کا تہوار منانے کے لیے ڈاکہ مارنے گئے تھے کیونکہ انکی خواہش تھی کہ وہ اس فنگشن کا خوب مزہ اٹھائیں  ۔ ان تمام پر پولیس نے پرچہ کردیا ہے ۔ ضعیف خاندان نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے منہ پر کپڑا باندھا ہوا تھا اور انکے پاس پستول تھا ، انہوں نے ہم سے رقم وصول کرنے کے لیے کہا تھا ۔ پولیس نے جب پستول دریافت کیا تو پتا چلا کہ یہ نقلی پستول ہے ۔ یاد رہے کہ کارپی میں پاکستانی کمونٹی کی تعداد ہزاروں میں موجود ہے جبکہ یہ چھوٹا سا شہر ہے ۔ تصویر میں پولیس کوٹھی میں داخل ہو رہی ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

شمالی افریقہ سے فرار ہونے والے غیر ملکیوں کے مسائل حل کیے جائیں

روم۔ 27 دسمبمر 2012 ۔۔۔۔ برلسکونی کی سابقہ حکومت نے شمالی افریقہ سے فرار ہونے والے غیر ملکیوں کے مسائل حل کیے بغیر انہیں نظر انداز کردیا تھا اور اب موجودہ حکومت بھی انکے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کر رہی ۔ موجودہ وزیر داخلہ کنچلیری بھی اس مسئلے کو آگے ڈالتے ہوئے وقت گزار رہی ہیں ۔ ضروری ہے کہ ان سیاسی پناہ گزینوں کے لیے ایک پائیدار پروگرام بنایا جائے ، ان کی اکثریت لیبیا کی جنگ سے فرار ہو کر اٹلی میں داخل ہوئی ہے ۔ امریکہ کے مشہور اخبار نیو یارک ٹائم نے بھی اٹلی میں سیاسی پناہ گزینوں کی موجودہ حالت پر ایک آرٹیکل شائع کیا ہے ۔ اٹلی کی مشہور سیاسی پناہ گزینوں کی ایسوسی ایشنیں ARCI, ASGI, Casa dei diritti sociali, Centro Astalli, CIR, FCEI, Senza Confineجو کہ حکومت کے سیاسی پناہ کے پروگرام میں شریک ہیں ، انہوں نے کہا ہے کہ اٹلی کی حکومت مختلف علاقوں میں سیاسی پناہ گزینوں کو روانہ کرتے ہوئے مسائل میں مزید اضافہ کر رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کی سیاسی پناہ گزینوں کی تنظیم Unhcrنے فروری کے مہینے میں شمالی افریقہ کے غیر ملکیوں کی خستہ حالت دیکھ کر ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا لیکن تمام ایموجنسیوں کے باوجود موجودہ حکومت نے نومبر کے مہینے میں ان غیر ملکیوں کو انسانی ہمدردی کی سوجورنو دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شمالی افریقہ کے مسئلے کے لیے ایک تنظیم ENAبنائی گئی ہے ، جس نے تمام مواقع ضائع کر دیے ہیں اور کافی زرائع غیر ضروری طور پر خرچ کردیے ہیں ۔ یہ تنظیم اٹلی کے معاشی بحران کے دور میں غیر ملکیوں کے خلاف نسل پرستی جیسے مواقع مہیا کر سکتی ہے ۔ سیاسی پناہ کے مسئلے میں شریک ایسوسی ایشنوں نے کئی بار حکومت سے میٹنگ کرنے کے لیے خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن حکومت نے انکی خواہش کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے ۔ یاد رہے کہ شروع میں شمالی افریقہ سے آنے والے بیشتر غیر ملکیوں کی درخواستیں مسترد کردی گئیں تھیں اور بعد میں کافی وقت گزر جانے کے بعد انہیں انسانی ہمدردی کی سوجورنو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا ، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ان تمام غیر ملکیوں کی درخواستوں پر دوبارہ نظر ثانی کی جائے ۔ یہ غیر ملکی بغیر کسی مدد کے اٹلی میں موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ENAکو سیاسی پناہ کی تمام تر مشین سونپنے سے مسائل اتنے بڑہ جائیں گے کہ انہیں حل کرنا مشکل ہو گا ۔ ENAکیوجہ سے سیاسی پناہ اور امیگریشن کی تمام تر مشین رک سکتی ہے کیونکہ حکومت تمام زرائع انکے لیے خرچ کر رہی ہے ۔ تمام ایسوسی ایشنوں نے کہا کہ ENAکے متعلق تمام غیر ملکیوں کو انسانی ہمدردی کی سوجورنو جاری کی جائے ، چاہے یہ لوگ ENAکے سائے میں ہیں یا پھر شمالی افریقہ سے آئے ہوئے ہیں اور انہیں ENAکی پروٹیکشن نہیں دی گئی ۔ یاد رہے کہ ENAسے متعلق تمام غیر ملکیوں کو 31 دسمبر کا الٹی میٹم دیا گیا ہے ۔ اٹلی میں دسمبر کے مہینے کے بعد کافی سردی ہوتی ہے ، یہ غیر ملکی اتنی سردی میں کہاں جائیں گے ، اس لیے ایسوسی ایشنوں نے اپیل کی ہے کہ ان غیر ملکیوں کو 30 مارچ تک شیلٹر مہیا کیا جائے ۔ اگر ان ہزاروں غیر ملکیوں کو اٹلی میں بغیر کام اور بغیر گھر چھوڑ دیا گیا تو اس سے کافی سوشل مسائل پیدا ہو جائیں گے کیونکہ سردی سے بچنے کے لیے ہزاروں غیر ملکیوں کے لیے کوئی ایسا انتظام نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ ضروری ہے کہ ان سیاسی پناہ گزینوں کو سنٹروں کی طرف سے تمام اہم معلومات فراہم کی جائیں ، جو کہ انکے مستقبل کے لیے ضروری ہیں ۔ ضروری ہے کہ ENAکے غیر ملکیوں کو سنٹروں کی بجائے دوسری قسم کی رہائشوں میں منتقل کیا جائے ۔ مثال کے طور پر جو غیر ملکی کمزور ہیں یا پھر فیملی والے ہیں ، انہیں ہوٹلوں میں منتقل کیا جائے ، جیسا کہ ماضی میں غیر ملکیوں کے لیے کیا گیا تھا ۔ یاد رہے کہ سردیوں میں اٹلی کے ساحلوں کے ہوٹل خالی ہوتے ہیں اور انہیں گرمیوں میں دوبارہ کھولا جاتا ہے ۔ ضروری ہے کہ ENAسے منسلک غیر ملکیوں کے لیے جو زرائع باقی رہ گئے ہیں ، انہیں انکی سوشل انٹیگریشن کے لیے خرچ کیا جائے ، یعنی انہیں کام دلوایا جائے اور اٹالین سوسائٹی میں شامل کیا جائے ۔ ایسے خاندانوں کے مکان دیا جائے جو کہ بچوں کے ساتھ آئے ہیں کیونکہ قانون sensi dell'art. 8 del D.Lgs 140/05کے تحت ان کا حق بھی بنتا ہے ۔ وہ غیر ملکی جو کہ اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہیں ، انکے سفر وغیرہ کے لیے انتظام کیا جائے اور پروگرام SPRARکے زرائع انکے لیے خرچ کیے جائیں ۔ یاد رہے کہ شمالی افریقہ کے ان غیر ملکیوں کی تعداد 20 ہزار کے قریب ہے اور ان میں پاکستانی بھی موجود ہیں ۔ یہ پاکستانی بخوشی لیبیا میں کئی سالوں سے کام کر رہے تھے اور جنگ کیوجہ سے انہیں فرار ہونا پڑا ہے ۔ کافی پاکستانی ہنرمند ہیں اور اٹلی میں انکے ہنر کو کوئی اہمیت نہیں دی جا رہی ۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی میں نسل پرست سیاسی جماعت کا انعقاد

روم۔ 27 دسمبر 2012 ۔۔۔ حال ہی میں اٹلی میں نسل پرست سیاسی جماعت کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ اس سیاسی جماعت کا نام Alba Dorata Italiaہے اور اسکا لیڈر Alessandro Gardossiہے ۔ یہ جماعت ہٹلر کی نازی سیاسی جماعت جیسی ہے اور غیر ملکیوں کے سخت خلاف ہے ۔ آلبا دوراتا پارٹی نے 2013 میں ہونے والے الیکشنوں میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے سیاسی جماعت کے لیے یونان کی عسکریت پسند دائیں بازو کی سیاسی جماعت کا نشان حاصل کیا ہے ، جو کہ ہٹلر کے سواستیکا سے ملتا جلتا ہے ۔ اٹلی میں مافیا کو الکیشنوں میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے ایک قانون بنایا گیا ہے ، جس کے مطابق کوئی بھی نئی سیاسی جماعت جو کہ الیکشنوں میں حصہ لینے کی خواہش مند ہے ، اسکے لیے ضروری ہے کہ یہ 60 ہزار عوام کے دستخط اکٹھا کرے ۔ نسل پرست سیاسی جماعت نے اپنی انٹرنیٹ کی سائٹ سے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ دستخط اکٹھا کرسکتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ یہ صرف نعرے مار رہے ہیں ۔ آلبا دوراتا کی انٹرنیٹ کی سائٹ میں امیگریشن کے متعلق کافی سخت بیان لکھے گئے ہیں ۔ یعنی غیر ملکی ہمارے ملک میں جان بوجھ کر لائے جا رہے ہیں اور یہ سب بنکوں اور ملٹی نیشنل فرموں کی پلاننگ سے ہو رہا ہے ۔ غیر ملکی ہماری سوسائٹی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے لکھا ہوا ہے کہ یہ سچ ہے کہ غیر ملکی ہماری سرحدوں کے زریعے اٹلی میں داخل ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ممالک میں حالات سازگار نہیں لیکن ہم دنیا کے تمام غم کیوں اپنے کندھوں پر سوار کریں ۔ اسکے علاوہ ہم قومیت کے قانون کے بھی خلاف ہیں کیونکہ موجودہ قانون بہترین ہے ۔ یعنی یہاں پیدا ہونے والے غیر ملکی بچوں کو پیدائش کے فوری بعد قومیت دینا غلط ہو گا ۔ ہم چاہتے کہ ہماری حکومت لیبیا میں بہترین جیلیں بنائے ، جہاں ان غیر ملکیوں کو رکھا جائے اور انہیں اٹلی میں داخل ہونے سے روکا جائے اور اگر یہ زبردستی کریں تو انکے خلاف فوج کو استعمال کیا جائے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ پہلے اٹالین کے حقوق میسر کرے ، اگر ہمارے ملک میں بے روزگاری ہوگی تو ہم کسی کی کیا مدد کرسکیں گے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com