Sunday, May 26th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

ایمبیسی کی خبریں

جیلوں میں غیر ملکیوں کی تعداد میں کمی

روم۔ 25 دسبمر 2012 ۔۔۔۔ اٹلی کی جیلوں میں غیر ملکیوں کی تعداد میں حال ہی میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ یاد رہے کہ 1980 میں اٹلی کی جیلوں میں غیر ملکی بالکل موجود نہیں تھے ،  اکتوبر 2012 کے مہینے میں جیلوں میں غیر ملکیوں کی تعداد 23 ہزار 828 تھی اور ان میں سے گیارہ سو کے قریب عورتیں شامل تھیں ۔ 2007 میں اٹلی کی جیلوں میں غیر ملکیوں کی تعداد 37 فیصد سے زیادہ ہو گئی تھی اور اب آخری رپورٹ کے مطابق غیر ملکیوں کی تعداد 35 فیصد کے برابر ہوگئی ہے ۔ جیلوں کے رسالے Dapکے مطابق معاشی بحران کیوجہ سے اب اٹلی میں غیر ملکی کم آرہے ہیں اور اسکے بعد حکومت کی امیگریشن کی پالیسی کیوجہ سے بھی جیلوں میں غیر ملکی کم آرہے ہیں ۔ یاد رہے کہ اٹلی کی جیلوں میں ڈیڑہ سو کے قریب پاکستانی موجود ہیں اور ان میں سے اکثریت آپس کے جرائم کیوجہ سے قید کاٹ رہی ہے ۔ یعنی یہ مجرم اٹالین سوسائٹی کے لیے خطرناک نہیں تھے ۔ سب سے زیادہ قیدی مراکش ، رومانیہ اور البانیہ کے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور انکے جرائم بھی چوری، ڈاکہ اور منشیات فروشی پر مبنی ہیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کویت میں پاکستانی سکول سفارتخانے کے زیرانتظام کام کریگا


از کویت2012  ۔۔۔۔ پا کستانیوں کی خدمت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جائے گی۔ کویت میں پا کستان سفارت خانہ کی جانب سے عمارت کی تعمیر جلد شروع کی جائے گی اور ایک اسکول قائم کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار پا کستان کے سفیر افتخار عزیز عباسی نے  پاکستانی صحا فیوں سے خصو صی ملاقات میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کویت میں طلباءو طالبات کے لئے پا کستانی سکول قائم کیا جائے گا جو سفارت خانہ پا کستان کے زیر انتظام کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی صحافی تعمیری خبریں دیں میں ساتھ دونگا۔ سفیر پا کستان نے کویت میں موجود تمام پا کستانیوں سے کہا کہ وہ میزبان ملک کویت کے قوانین کا احترام کریں کوئی ایسا کام نہ کریں جس کی وجہ سے اپنے وطن کے نام پر حرف آتا ہو۔انہوں نے کہا کہ قوموں پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں وہی قومیں بہادر ہوتی ہیں جو مشکلات میں اپنے پاﺅں پر ثابت قدم کھڑی رہتی ہیں۔ پا کستان کا وقار مزید بلند کرنے کیلئے ہم سب کو افسر بن کر نہیں بلکہ ملک و قوم کا خادم بن کر کام کرنا ہوگا تب ہم چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ سفیر پاکستان نے کہا کہ دنیا چند دن کی ہے اور خدمت خلق ہی راہ نجات بنے گی۔ کل کو اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی اس دنیا کی ذمہ داریوں کے بارے میں حساب دینا ہے۔ انہوں نے پا کستان میں ہونے والی دہشت گردی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض قوتیں پا کستان کو ایٹمی قوت کے طور پر پسند نہیں کرنا چاہتیں اور ایسی قوتیں الزامات عائد کرتیں ہیں جبکہ پا کستان نے دہشتگر دی کے خلا ف جنگ میں سب سے زیادہ نقصانات اٹھائے ہیں۔ چند افراد پا کستانی پا سپورٹ ہولڈر تو ہیں مگر ان کا پا کستان سے کوئی تعلق نہیں اور وہ پا کستان کو بدنام کرنے کیلئے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ایسے افراد کا ہم سب نے مل کر راستہ روکنا ہے۔ آخر میں انہوں نے کویت میں رہنے والی پا کستان کمونٹی کو دوسرے ممالک میں رہنے والی پا کستان کمونٹی سے بہتر قرار دیا ہے۔انہوں نے کویت کی جیل میں قید پاکستانی شعیب حنیف ڈار کی رہائی کے بارے کہاکہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے اس کی رہائی کروائیں گے۔ تصویر میں ایمبیسڈر بلڈ ڈونر کی تنظیم کے ہمراہ ۔ یاد رہے کہ ہم نے کویت کی خبر اس لیے شائع کی ہے کیونکہ کویت اور اٹلی کا گہرہ تعلق ہے ۔ کویت میں آباد پاکستانی اٹلی کی امیگریشن کے بارے میں جاننے کے لیے آزاد پڑھنے میں اولیت حاصل کرگئے ہیں

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

فرارا کی پاکستانی کمونٹی کی حکام سے ملاقات

روم۔ 11 دسمبر 2012 ۔۔۔۔ اٹلی کے شمال میں واقع فرارا شہر میں پاکستانی کمونٹی سے حکام نے باقاعدہ ملاقات کی ہے ۔ فرارا شہر کے صرف ایک پلازہ یعنی Grattacieloمیں بیشتر پاکستانی آباد ہیں۔  شہر کے کمونے یا ٹاؤن ہال کے نمائندگان نے پاکستانی کمونٹی سے ہفتہ کے روز ملاقات کی ہے ، اس ملاقات میں 80 کے قریب پاکستانی موجود تھے جو کہ پلازہ میں یا پھر اسکے آس پاس آباد ہیں ۔ کمونٹی کی طرف سے لیڈر کے طور پر وحید اکبر نے نمائندگی کی اور حالات حاضرہ پر بحث کی گئی ۔ کمونے کی طرف سے Ivano Guidettiمیٹنگ میں شامل ہوئے ۔ ایوانو کمونے کے سابقہ کونصلر ہونے کے علاوہ اسی پلازہ کے عہدیدار بھی ہیں ۔ سب سے پہلے یہ تہہ کیا گیا کہ پاکستانی کمونٹی کو اٹالین سیکھنی ہوگی کیونکہ اٹالین زبان کی کمی کی وجہ سے ڈائیلاگ بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملاقات کے لیے ایک پاکستانی ترجمان کو بلانا پڑا ۔ اب جلد اٹالین زبان کا کورس عمل میں لایا جائے گا ۔ اٹالین حکام نے زور دیا کہ پاکستانی کمونٹی اس ملک میں انٹیگریشن یا میل و ملاپ کی طرف توجہ دے ۔ پاکستانی کمونٹی کی طرف سے یہ اپیل کی گئی کہ انہیں کرکٹ کی گراؤنڈ فراہم کی جائے ۔ جوان نسل کرکٹ کھیلنے کے لیے قریبی سکولوں کی گراؤنڈ عارضی طور پر استعمال کرتی ہے ۔ حکام نے کہا کہ وہ کمونے کے اسپورٹس کے کونصلر سے بات چیت کریں گے اور کرکٹ کی باقاعدہ گراؤنڈ کے لیے کوشش کریں گے ۔ یاد رہے کرکٹ پاکستان کا قومی کھیل ہے اور جوان نسل میں بہت مقبول ہے ۔ اسکے بعد انہوں نے کہا کہ ہمیں مسجد کے لیے جگہ فراہم کی جائے کیونکہ انہیں Traversagnoکی مسجد میں جانا پڑتا ہے اور وہاں ہمیں زبان کا مسئلہ پڑتا ہے کیونکہ پاکستانی کمونٹی عربی نہیں بولتی ۔ فرارا کے حکام نے کہا کہ پلازے کے گراؤنڈ فلور پر جگہ موجود ہے جو کہ مسجد کے لیے ادا کی جا سکتی ہے ۔ انٹیگریشن سے متعلق اس میٹنگ کی کامیابی کے  بعد اگلے ہفتے بھی شام 6 بجے کے قریب کمونے کے حکام سے ملاقات کا وقت تہہ کیا گیا ہے ، جس میں مزید گفت و شنید ہو گی اور کموٹی اور کمونے کے درمیان فاصلے کم ہونگے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ایمبیسی کی جانب سے کرسمس کا تہوار

روم۔ 15 دسمبر 2012 ۔۔۔ آج شام روم کے مشہور پاکستانی ریسٹورنٹ انڈس ویلی میں ایمبیسی کی جانب سے کرسمس کا تہوارمنایا گیا ۔ فنکشن کے آرگنائزراور پوکو ایسوسی ایشن کے ممبران نے کہا کہ آج ہمارے لیے انتہائی خوشی کا دن ہے کیونکہ آج ہم نہ تو کرسچن ہیں اور نہ مسلمان ، ہم سب پاکستانی ہیں اور کرسمس کی خوشیاں منا رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی پاکستان ایمبیسی روم کی جانب سے کرسمس کی خوشی میں اٹلی میں آباد تمام پاکستانی کرسچن کمونٹی کو دعوت دی گئی تھی اور اس سال بھی اس روائت کو برقرار رکھا گیا ہے ۔ اٹلی کے دوسروں شہروں سے بھی کرسچن کمونٹی کے افراد تہوار میں شرکت کرنے کے لیے تشریف لائے اور انتہائی پرجوش فنکشن منایا گیا ۔ تقریب کے آغاز سے قبل پوکو ایسوسی ایشن کے صدر سرور بھٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم عزت ماب  ایمبیسڈرتہمینہ جنجوعہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، جن کے تعاون سے کرسمس کا فنکشن ایک روائت بن گیا  ہے اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی کرسچن کمونٹی کے لیے ہر سال اس تہوار کی خوشیاں منانے میں مکمل تعاون کریں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نائب صدر عدن فرحاج، سیکرٹری پرویز طارق، فنانس سیکرٹری رابرٹ جیول اور انور جان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں ، جن کے تعاون سے کرسمس کا تہوارممکن بنایا گيا ہے ۔ پوکو ایسوسی ایشن کی وومن ونگ کی عہدیدار اور انسانی حقوق انٹرنیشنل پاکستان کی راحت افزا بھٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم یسوع مسیح کی پیدائش پر خوشیاں مناتے ہیں اور یہ خوشی صرف کرسچنوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں تمام مذاہب کے افراد شرکت کر تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بین المذاہب مکالمے پر یقین رکھتی ہیں اور انکے نزدیک ایسے مواقعوں پر صرف تہوار کی خوشی منانی کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت، خلوص اور بھائی چارے کا رشتہ قائم کریں اور امن کے راستے ہموار کریں اور امن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں ۔ صرف باتوں سے امن قائم نہیں ہوتا ، اس عمل کے لیے ہمیں زندگی کے ہر پہلو اور شعبے میں امن پسند بننا ہوگا ۔ پیرش پریسٹ فادر یعقوب شہزاد بھی اس موقع پر تشریف لائے اور انہوں نے کرسمس کے تہوار کا آغاز کیا ۔ فادر یعقوب شہزاد کا تعلق جہلم سے ہے اور وہ ان دنوں اٹلی کا وزٹ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یسوع مسیح آسمانوں پر موجود تھے اور جب یہ  زمین پر اترے تو آسمانوں پر فرشتوں نے خوشیاں منائیں ، اسکے بعد جب وہ زمین پرآئے تو یہاں انکی پیدائش کی خوشی میں انسانوں نے کرسمس کا دن منایا ۔ آج پوری دنیا میں انکی پیدائش کا دن زور و شور سے منایا جاتا ہے ۔ کرسمس کے دن تمام انسان متحد ہوتے جاتے ہیں ، خاندانوں میں خوشی، مسرت اور ہمدردی کا چرچا پیدا ہوتا ہے اور انسان ایک دوسرے کو محبت کا پیغام ارسال کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ انکے بعد مسسز رابرٹ اور انکی 2 بیٹیاں نادیہ اور صباح نے ملکر پاکستان کے ملی نغمے پیش کیے اور عوام کے دل جیت لیے ۔ اس فنکشن کی کمپیئرنگ عدن فرحاج نے کرنی تھی لیکن انہیں سخت بخار تھا ، اس لیے کمپئرنگ کے فرائض پوکو ایسوسی ایشن کے صدر سروس بھٹی نے انجام دیے ۔ کرسمس فنکشن کی مہمان خصوصی سفارتکارہ تہمینہ جنجوعہ تھیں ۔ جن کی آمد پر بچوں نے انہیں پھول پیش کیے اور انکا والہانہ  استقبال کیا گیا ۔ ایمبیسڈر کے ساتھ ہیڈ آف چانسلری شہباز کھوکھر بھی تشریف لائے ۔ سروس بھٹی نے مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم  کرسچن برادری اور مسلم برادری کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے اس فنکشن میں شرکت کرتے ہوئے ہماری خوشیوں میں بھرپور شرکت کی اور اسکے بعد ہم عزت ماب تہمینہ جنجوعہ، ہیڈ آف چانسلری شہباز کھوکھر اور بشیر امرے والا کے انتہائی شکرگزار ہیں ، جن کی بدولت کرسمس کے  تہوار کو عملی صورت دی گئی ۔ راحت افزا بھٹی نے اپنی شعلہ دار تقریر سے عوام میں جوش و خروش پیدا کردیا اور انکی تقریر کے دوران کئی بار تالیاں بجائی گئيں ۔ انہوں نے ڈائیلاگ، بھائی چارے اور قومی شناخت کی طرف کافی زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے باہر رہ کر ہمیں کوئی بھی کرسچن یا مسلمان کے طور پر نہیں بلکہ پاکستانی کے طور پر جانتا ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے ملک سے محبت کریں اور عداوتوں کو ختم کردیں ۔ انکے بعد پاکستانی فیڈریشن کے صدر بشیر امرے والا نے اپنی تقریر کے دوران عزت ماب ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انکی بدولت آج ہم اپنے کرسچن بہن بھائیوں کے لیے کرسمس کا تہوار منا رہے ہیں ۔ آخر میں مہمان خصوصی ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال انہوں نے اٹلی آمد پر کرسمس کے فنکشن میں شرکت کی تھی اور یہ انکا پہلا فنکشن تھا ، اس سال بھی میں تمام مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کرتی ہوں ، جنہوں نے شرکت کرتے ہوئے اس فنکشن کی رونق کو دوبالا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسی علیہ الاسلام صرف کرسچنوں کے نہیں بلکہ پوری دنیا کے پیغمبر ہیں ، ہم جب درود شریف پڑھتے ہیں تو اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کے لیے دعا کرتے ہیں  ، اس طریقے سے ہم یسوع مسیح کے لیے بھی دعا کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پزیر ممالک میں وسائل کی کمی وجہ سے بعض اوقات سیکورٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں لیکن اسکے باوجود پاکستان میں امن کی کوششیں جاری ہیں ، عام طور پر دوسری دنیا میں جو پاکستان کا امیج پیش کیا جاتا ہے ، وہ اصلیت سے زرا ہٹ کرہوتا ہے ، اسکے برعکس ہمارے ملک میں لوگ شادیاں کر رہے ہیں ، فنکشن ہو رہے ہیں اور لوگ روزمرہ کی زندگی بڑے خلوص اور محبت سے گزارتے ہیں ، ہاں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں لیکن عوام کے حوصلے بلند ہیں۔ ایسے معاملات اٹلی میں بھی پیش آتے ہیں ، اٹلی دنیا کے امیر ممالک میں شامل ہے لیکن یہاں بھی عوام معاشی بحران  کیوجہ سے پریشان ہیں ۔ یاد رکھیں کہ پاکستان ہمیشہ متحد رہے گا اور ترقی کرے گا ، ہماری قوم کا سرمایہ ہمارے یہ بچے ہیں جو کہ آج کی محفل میں موجود ہیں اور انکی بدولت ہم دنیا میں اپنا مقام بنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ جب چاہیں ایمبیسی میں تشریف لایا کریں کیونکہ ایمبیسی آپ کا اپنا گھر ہے ۔ ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ کی تقریر پر زور دار تالایاں بجائی گئیں اور اسکے بعد مہمانان گرامی کو ثقلین علی کا مشہور کھانا پیش کیا گیا ۔ کھانے میں روسٹ مرغی، بریانی، مٹن گوشت اور کئی دوسری لذیذ ڈشیں شامل تھیں ۔ کھانے کے بعد کرسمس کا کیک کاٹا گیا اور اسکے بعد موم بتیوں کا کھیل کھیلا گیا ، جس کے ونر چوہدری عامربسرا تھے ، ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ نے انہیں انعام دیا ۔  

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 16 دسمبر 2012 15:54

ملالہ یوسفزائی کوروم کمونے نے اعزازی شہریت جاری کردی

روم۔ 26 نومبر 2012 ۔۔۔۔ اٹلی کے دارالخلافہ روم کی کارپوریشن نے 15 سالہ بچی کو اسکی جرات کے نتیجے میں اعزازی شہریت جاری کردی ہے ۔ ملالہ یوسفزائی سوات میں بچیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے جنگ لڑ رہی ہے ۔ روم کمونے کے تمام ممبران یعنی اکثریت اور اپوزیشن نے ملکر ملالہ کو شہریت جاری کرنے کا قانون 104 پاس کردیا ہے ۔ روم کمونے کے میئر الیمانو نے کہا کہ پوری دنیا میں عورت کے حقوق برابر ہونے ضروری ہیں  اور ہر ملک میں عورت کی حالت بہتر بنانے کے لیے کام کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عورت کے لیے تعلیم ضروری ہے کیونکہ تعلیم سے علم کے دروازے کھلتے ہیں اور انسان اپنے کمالات اجاگر کرتے ہیں ۔ دوسرے انسانوں سے تعلقات بنانے کے لیے ، معلومات حاصل کرنے کے لیے اور دوسرے کو اپنا موقف بتانے کے لیے تعلیم ضروری ہے ۔ یاد رہے کہ ملالہ نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا " ہمارے ہاتھوں میں کتاب دیدو ، اس سے پہلے کہ کوئی ہمارے ہاتھوں پر ہتھیار رکھ دے " ۔ میئر نے کہا کہ کسی بھی کلچر کا پرچار کرنے کے لیے تعلیم ضروری ہوتی ہے ۔ آلیمانو نے کہا کہ اس اعزازی شہریت سے ہم نے مذہب اور عسکریت پسندی کے درمیان فرق ظاہر کردیا ہے ۔ ہم طالبان کی بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کی تردید کرتے ہیں اور پاکستان کے حق میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں کیونکہ یہ ملک اسلامی جمہوری ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے ۔ آج ہم پاکستان کے ساتھ دوستی کا پیغام ارسال کرتے ہیں کیونکہ جس ملک میں ملالہ جیسے افراد موجود ہیں ، وہ ملک عظیم ہے ۔ ہماری خواہش ہے کہ ایک دن ملالہ ہمارے شہر کا وزٹ کرے ۔ ہمارے دل کے دروازے اس دلیر لڑکی کے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے ۔ اعزازی شہریت جاری کرنے والے کمیشن کی صدر مونیکا نے میئر اور تمام اسمبلی کے ممبران کا شکریہ ادا کیا ۔ اسمبلی کے ممبران نے اپنے الفاظ میں کہا کہ ملالہ کو اعزازی شہریت نوازنے سے ہمارے شہر کی قدر بڑھی ہے کیونکہ یہ لڑکی دلیری اور بلند حوصلوں کی علمبردار بن کر ابھری ہے اور پوری دنیا کی عورتوں کی آزادی کا نشان بن گئی ہے ۔ ملالہ کی اعزازی شہریت کو حاصل کرنے کے لیے کمونے میں پاکستان کی ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ موجود تھیں ۔ انہوں نے اپنی طرف سے اور پاکستانی قوم کی طرف سے کمونے دی روما کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ملالہ نے دوسری عورتوں کے ساتھ ملکر سوات میں اپنے حقوق کی مہم چلائی تھی ، عورتوں کا حق ہے کہ وہ سوسائٹی میں اپنے حقوق حاصل کرتے ہوئے ملک و قوم کا نام روشن کرسکیں ۔ تصویر میں ایمبسڈر تہمینہ اعزازی شہریت حاصل کر رہی ہیں اور نیچے ملالہ کی تصویر جو کہ گولی لگنے سے قبل کھینچی گئی تھی ۔  تحریر، ریما نعیم

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com