Friday, Mar 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

ایمبیسی کی خبریں

سیمنٹ کے بلاکوں میں چھپ کر اٹلی میں داخل ہونے والے پاکستانی گرفتار

روم۔ 20 اکتوبر 2012 ۔۔۔ یونان سے آنے والے بحری جہاز میں سیمنٹ کے بلاکوں میں چھپ کر اٹلی میں داخل ہونے والے پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ سیمنٹ کے بلاک یونان سے اٹلی پہنچنے تھے اور جہاز میں موجود ٹرک سے انکی ٹرانسپورٹیشن  کی جا رہی تھی ۔ ٹرک ڈرائیور نے چند پاکستانیوں کو ہزاروں یورو لیکر ان بلاکوں میں چھپا کر اٹلی لانا تھا ۔ سیمنٹ کے ان بلاکوں میں ہوا بہت کم تھی ۔ تھوڑی سے جگہ میں 10 غیر قانونی تارکین وطن بند کیے گئے تھے ۔ یہ ٹرک 16 گھنٹوں کا سفر کرنے کے بعد اٹلی کی بندرگاہ انکونا میں پہنچا تھا ۔ پولیس کو شک پڑگیا اور جب انہوں نے ٹرک کی تلاشی لی تو سمینٹ کے بلاکوں کے نیچے قبر کی صورت میں ایک ایسی جگہ بنائی گئی تھی ، جہاں 10 غیر ملکی موجود تھے ۔ غیر ملکیوں میں پاکستانیوں کے علاوہ افغانی، شامی اور افریقی موجود تھے ۔ ان غیر ملکیوں میں 2 کم سن عمر کے غیر ملکی تھے ۔ 8 غیر ملکیوں کو دوبارہ یونان میں ملک بدر کر دیا گیا ہے اور دو کم سن غیر ملکیوں کو انکونا کے کمسن ادارے کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ اسی جہاز میں ایک شامی عورت بھی بلغاریہ کا جعلی شناختی کارڈ دکھا کر اٹلی میں داخل ہورہی تھی لیکن اسے بھی پولیس نے جعلی کاغذات کے جرم میں گرفتار کرلیا ہے اور دوبارہ ملک بدر کردیا ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

غیر ملکیوں کو شنگن کے ویزے زیادہ جاری کیے جائیں ، یورپین یونین

روم۔ 12 نومبر 2012 ۔۔۔۔ یورپین یونین کے کمیشن نے تمام شنگن کے ممالک کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ یورپین معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے زیادہ ویزے جاری کریں ۔ جب غیر یورپین ممالک کے سیاح یورپ کی سیر کریں گے تو اس سے معاشی خوشحالی آئے گی ۔ گزشتہ سال شنگن ممالک نے 1 کروڑ 25  لاکھ ٹورسٹ ویزے جاری کیے تھے ۔ صرف اٹلی نے 15 لاکھ ویزے غیر یورپین شہریوں کو جاری کیے تھے ۔ فرانس نے 19 لاکھ اور جرمنی نے 16 لاکھ ویزے جاری کیے تھے ۔ یورپ میں ایک کروڑ 88 لاکھ یورپین ٹورزم میں کام کرتے ہیں اور انکی روزگاری سیاحوں پر منحصر ہوتی ہے ۔ صرف گزشتہ سال یورپ میں سیاحوں نے 3 سو عرب سے زیادہ یورو خرچ کیے تھے ۔ یورپین یونین کے ایکسپرٹوں نے کہا کہ اگر ہم ٹورزم کو اہمیت دیں تو 2022 میں 2 کروڑ 4 لاکھ ٹورزم کی ملازمتیں پیدا کی جا سکتی ہیں اور ساڑھے 4 سو عرب سے زیادہ رقم کی بچت کی جا سکتی ہے ۔ سیاح جب یورپ میں آتے ہیں تو وہ اپنے سفر، رہائش، ہوٹل، کھانا پینا، شاپنگ اور دوسرے اخراجات کرتے ہیں ، انکے خرچ کرنے سے یورپ کی اکانومی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ یورپین کمیشن کی کمیشنر چیچیلیا نے کہا کہ اگر ایک سیاح ہماری سیکورٹی کی قدر کرتا ہے اور غیر قانونی کام نہیں کرتا تو اسے ویزہ جاری ہونا چاہئے ۔ ہماری خواہش ہے کہ دنیا کا سیاح یورپ کو اپنا پہلا ٹورزم کا مقام تصور کرے ۔ یاد رہے کہ 2007 میں صرف ہندوستان کے شہریوں کو 3 لاکھ 40 ہزار ویزے جاری کیے گئے تھے اور اب 2011 میں انڈیا کو 4 لاکھ 60 ہزار ویزے دیے گئے ہیں ۔ چین میں 2008 میں 5 لاکھ 60 ہزار ویزے جاری کیے گئے تھے اور 2011 میں 10 لاکھ 20 ہزار ویزے جاری ہوئے ہیں ۔ یورپین یونین کا کمیشن ان ویزوں میں اضافہ کرنے کی تاکید کررہا ہے ۔ یورپین کمیشن نے کہا کہ یورپ کی کونصلیٹیں ویزے کی صورت میں کافی مسائل پیدا کرتی ہیں ، یعنی ملاقات کے لیے 15 دن پہلے وقت لینا ہوتا ہے اور اسکے بعد ویزہ جاری کرنے کے لیے کافی وقت لگایا جاتا ہے ۔ انہیں چاہئے کہ یہ ملٹیپل ویزے بھی جاری کریں ۔ ویزے کے فارم ملک کی زبان میں جاری کریں اور ویزے کے پروسیجر کو آسان بنائیں ۔



 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم کی انٹرپول کی کانفرنس میں رحمان ملک کی شرکت

 

روم ۔ 9 نومبر 2012 ۔۔۔ اٹلی کے دارالخلافہ روم میں انٹرپول کی 3 روزہ کانفرنس کا اختتام ہو گیا ہے ۔ اس کانفرنس میں پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک اور انکے وفد نے شرکت کی ہے ۔ انٹرپول کی یہ 81ویں بین الاقوامی کانفرنس تھی ۔ انٹرپول دنیا کی جرائم کی روک تھام کی بین الاقوامی پولیس ہے ۔ کانفرنس 5 نومبر سے لیکر 8 نومبر تک جاری رہی ۔ اس کا اجلاس روم کے مشہور ہوٹل l’Hotel Rome Cavalieriمیں کیا گیا تھا ۔ ہوٹل کے اردگرد تمام سیکورٹی کھڑی کردی گئی تھی اور گند کے کنٹینر وہاں سے اٹھا لیے گئے تھے ۔ اس اجلاس میں دنیا کے 103 وزرا داخلہ نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ کانفرنس میں دنیا کے ممالک سے 81 پولیس کے حکام نے بھی حصہ لیا اور اسکے علاوہ وفدوں میں دنیا کے 168 ممالک سے 11 ہزار افراد شامل ہوئے ۔ کانفرنس میں دنیا میں ہونے والے جرائم ، دہشت گردی ، سیکورٹی اور مافیا جیسے نقاط پر بحث کی گئی ۔ اجلاس کا آغاز اٹلی کی وزیر داخلہ کنچلیری نے میزبان کے طور پر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کانفرنس کے زریعے کوشش کی ہے کہ دنیا کے تمام ممالک سے پولیس کے حکام ایک جگہ بیٹھ کر تمام مسائل پر بحث کرسکیں اور آپس میں ملکر کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرسکیں ، جس سے دنیا میں جرائم اور دہشت گردی پر قابو پایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ممالک اپنے قانون کی پاسداری کرتے ہیں اسکے برعکس جرائم پیشہ افراد کسی ملک کے قانون کے غلام نہیں ہوتے ۔  اس لیے ہمیں متحد ہونا ہوگا اور جرائم پیشہ افراد کو روکنے کے لیے باہمی پراجیکٹ بنانے ہونگے ۔ ہمیں دنیا کی اس پولیس کو ماڈرن بنانا ہوگا اور ایسے آلات استعمال کرنے ہونگے ، جن سے بین الاقوامی جرائم کو روکا جا سکے ۔ انٹرپول کے جنرل سیکرٹری Ronald K. Nobleنے اپنی تقریر میں کہا کہ ہر سال جرائم پیشہ لوگ دنیا کے مختلف ممالک میں ایک بڑی جنگ لڑتے ہیں اور انکی اس جنگ کیوجہ سے ہر سال 5 لاکھ معصوم لوگ قتل کردیے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کانفرنس میں موجود 12 سو کے قریب وفدا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں اضافہ ہورہا ہے ، اس لیے ہمیں مزید ملکر کام کرنا ہوگا ۔ دنیا کے مختلف ممالک میں جہاں سڑکوں پر فائرنگ سے ہزاروں لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان میں بچے بھی شامل ہوتے ہیں ۔ اٹلی کے صدر جورجو ناپولی تانو نے اپنے ایک پیغام کے زریعے کانفرنس کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی پولیس اپنے ممالک کے قوانین کی پابند ہوتی ہے لیکن انٹرپول کی بدولت دنیا کی مافیا کو روکنے کے لیے بہتر اقدامات عمل میں آئے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ ہم مستقبل میں بھی جرائم پیشہ ایسوسی ایشنوں کا خاتمہ کرسکیں اور دنیا میں امن قائم کرسکیں ۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی اور جرائم پیشہ تنظیموں کا بہادری سے مقابلہ کررہا ہے اور اس سلسلے میں ہمیں بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے تاکہ ہم مزید ٹریننگ کرتے ہوئے اپنی پولیس کو مضبوط کرسکیں ۔ تصویر میں وزیر داخلہ رحمان ملک انٹرپول کے جنرل سیکرٹری نوبلے سے ہاتھ ملا رہے ہیں ، دوسری تصویر میں دنیا کے تمام وزرا داخلہ اور وفد نظر آرہے ہیں ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

بھٹو کے مشن کو پورا کریں گے ، وزیر داخلہ رحمان ملک

روم۔ 4 اکتوبر 2012 ۔۔۔ آج بروز اتوار شام کے وقت سفارتخانہ روم میں عید ملن پارٹی کا تہوار منایا گیا ۔ فنگشن کا اہتمام پاکستان وومن ایسوسی ایشن روم کی جانب سے کیا گیا۔ فنگشن کے مہمان خصوصی وزیر داخلہ رحمان ملک تھے ۔ انہوں نے کمونٹی کے خواتین و حضرات اور غیر ملکی مہمانان گرامی سے مخاطب ہوکر کہا کہ میری فلائٹ شام 7 بجے کے قریب پہنچنی تھی لیکن جب ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ نے مجھے یہ کہا کہ تارکین وطن عید ملن پارٹی کے لیے جمع ہو رہے ہیں تو میں نے اپنا پروگرام تبدیل کردیا اور وومن ایسوسی ایشن کی عید ملن پارٹی میں شامل ہونے کے لیے پہنچ گیا ۔ میں صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی جانب سے اپنی بہنوں اور بھائیوں کو عید مبارک پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے وومن پاور یا عورتوں کو حقوق فراہم کرنے کے لیے مہم چلائی تھی اور ہم نے اپنے اس 5 سالہ دور میں عورتوں کو بے شمار حقوق فراہم کیے ہیں۔ آج اگر پولیس کی ٹریننگ ہو تو وہاں مردوں کے شانہ بشانہ عورتیں بھی حصہ لیتی ہیں ۔ کرائم برانچ ہو یا پھر کوئی دوسرا سرکاری محکمہ ، ہر جگہ عورتوں کو بھرتی کرتے ہوئے انہیں برابر کے حقوق دیے جارہے ہیں ، ہماری فارن سروس کو دیکھیں اور اسکے علاوہ ہماری کیبنٹ میں عورتوں کو وزرا بناتے ہوئے ہم نے اپنی بہنوں کو وہ حقوق میسر کیے ہیں جو کہ بے نظیر بھٹو کے خواب کی تعبیر کرتے ہیں ۔ وزیر داخلہ نے مذاق کے طور پر کہا کہ آپکی وومن ایسوسی ایشن میں مرد اراکین بھی ہیں تو خود ہی جواب دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ہاں مجھے بتایا گیا ہے کہ چند مرد حضرات وومن ایسوسی ایشن کے انتظامات میں حصہ لیتے ہیں ۔ وزیر داخلہ نے پارٹی کا زکر کیا اور جذباتی ہوکر کہنے لگے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو جب یہ کہا گیا کہ تم پاکستان چھوڑ دو یا پھر پھانسی کے لیے تیار ہوجاؤ تو انہوں نے اپنی جان کی قربانی دیتے ہوئے دلیر لیڈر ہونے کا ثبوت پیش کیا، انہوں نے اصولوں پر سودے بازی نہیں کی تھی اور سولی پر چڑہ گئے تھے  ۔ اس لیے ہم بھٹو کے مشن کو آگے لیکر چلیں گے اور کسی بھی قوت سے نہیں ڈریں گے ۔ ہمارے اس 5 سالہ دور میں دشمن نے دھمکیاں دیں اور ہمیں ختم کرنے کا پروگرام بنایا گیا لیکن صدر زرداری کے ہونٹوں پر ہمیشہ مسکراہٹ رہی اور وہ ہر مشکل کا حل زندہ دلی سے کرتے رہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ میں نے بے نظیر بھٹو کو بھی یہ کہا تھا کہ آپ پاکستان نہ جائیں کیونکہ ہمارے پاس ٹھوس ثبوت ہیں کہ اگر آپ 18 اکتوبر کو ملک میں داخل ہوئیں تو آپ پر حملہ ہو جائے گا ۔ انہوں نے ہماری نہ سنی اور کہا کہ میری قوم میرا انتظار کر رہی ہے اور میں لازمی پاکستان جاؤں گی ۔ انہوں نے کہا کہ آج سے 5 سال قبل جب ہم حکومت میں آئے تھے تو خزانہ خالی ہوچکا تھا لیکن ہم نے اپنی پالیسیوں کی بدولت ملک کو غریبی کے دائرے سے نکالا اور آج پاکستان کے خزانے میں بلین ڈالر موجود ہیں ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہماری حکومت کے خلاف ہر جگہ پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے ۔ ٹیوی میں ہم پر لان تان کی جاتی ہے ، ہمیں عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے لیکن ہم تمام مسائل کا سامنا کرتے ہوئے جمہوری حکومت کو مکمل کر رہے ہیں ۔ وزیر داخلہ نے بے نظیر بھٹو کی شہادت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے دعا کی ۔ انہوں نے کہا کہ دیار غیر میں ہمیں متحد ہو کر پاکستانی بن کر رہنا چاہئے ، ہمارا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو سکتا ہے لیکن اسکے باوجود اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئے ۔ ہمارا سفارت خانہ ہمارا پرچم ہماری پہجان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب حکومت میں آئے تو ہر روز 4 سے 5 خودکش حملے یا رمورٹ کنٹرول اٹیک ہوتے تھے اور اب تک ان دہشت گردی کے واقعات سے 40 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جان کی قربانی دے چکے ہیں اور ان میں اکثریت ان بچوں کی ہے جو کہ پختونخواہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ہم پختونخواہ کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، جن کی مدد سے دہشت گردوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ وطن عزیز آج بھی جنگ کی حالت سے گزر رہا ہے ، یہ جنگ کبھی زور پکڑ جاتی ہے یا پھر کبھی کم ہوجاتی ہے لیکن ختم نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر دنیا کے چند ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کو توڑ کر خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے تو غلطی پر ہیں کیونکہ پاکستان کی سالمیت خطے میں امن کی گارنٹی ہے ۔ ہم بڑی مشکل سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے آپریشن کرتے ہیں لیکن اگر ہمارے ہی ملک پر ڈرون حملے کیے جائیں اور معصوم جانیں لی جائیں اور امریکہ جیسے ملک میں توہین رسالت پر مبنی فلم بنائی جائے تو اس سے نہ صرف پاکستان کے مسلمان بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر دنیا میں دہشت گردی اور منشیات کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی قوانین بنائے جا سکتے ہیں تو اسی طرح کسی بھی مذہب کی سالمیت اور اسکی عزت برقرار رکھنے کے لیے بھی قوانین عمل میں لائے جا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کل میں نے روم میں انٹرپول کی کانفرنس میں حصہ لینا ہے اور میں وہاں ایسے قانون کو عمل میں لانے کی درخواست کروں گا ، تا کہ کسی بھی ملک کے مذہب کو مجروح کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اتحادی افواج کی شکست کا تعلق اسکے وہ ادارے ہیں جو کہ متحد ہو کر کوئی منصوبہ نہیں بناتے ۔ یہ ادارے اپنے طور پر علیحدہ علیحدہ پراجیکٹوں پر کام کرتے ہیں اور وہاں بلین ڈالر تباہ کر رہے ہیں ۔ تصویر میں رحمان ملک روم میں موجود پاکستانی ایمبیسی میں تقریر کر رہے ہیں اور عوام جئے بھٹو اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 04 نومبر 2012 23:18

ملالہ کی حالت بہتر ہو رہی ہے

altalt

24اکتوبر 2012 ۔۔۔ انگلینڈ  کے کوئین الزبتھ ہسپتال کےمطابق پاکستان میں طالبان کی گولی سے زخمی ہو نے والی ملالہ یوسفزئی کی حالت اب مستحکم ہو رہی ہے۔ پیر بائیس اکتوبر کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے ہسپتال کا دورہ کیا۔ کوئین الزبتھ ہسپتال کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیوڈ روسر نے پاکستانی وزیر میاں افتخار حسین کو ملالہ یوسفزئی کے علاج سے متعلق آگاہ کیا۔ ڈاکٹر راسر کے ساتھ ایک ملاقات میں انہیں ملالہ کی صحت میں ہونے والی بہتری اور طریقۂ علاج سے متعلق طبی رپورٹ دی گئی۔ پاکستانی وزیر اپنے ہمراہ ملالہ کے لیے خیر سگالی کے تحت پھول اور کارڈز بھی لے کر گئے تاہم وہ ذاتی طور پر ملالہ سے ملاقات نہیں کر پائے۔ انہوں نے ملالہ کا خیال رکھنے پر ہسپتال کے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے کا شکریہ ادا کیا۔ میاں افتخار نے کہا کہ ملالہ کو برطانیہ کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں دنیا کا بہترین علاج اور توجہ مل رہی ہے اور ہسپتال منتظمین اپنی بہترین مہارت اور تجربے کی مدد سے ملالہ کا علاج کر رہے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق ملالہ کا خاندان تاحال پاکستان میں ہی ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ملالہ کے لیے بھیجے جانے والے کارڈز اور پھول ہسپتال میں وصول نہیں کیے جائیں گے۔ اس کے لیے پاکستانی قونصلیٹ کا پتہ دیا گیا ہے۔ کوئین الزبتھ ہسپتال میں ملالہ کے لیے ایک چیرٹی اکاؤنٹ بھی بنایا گیا ہے تاکہ ملالہ کی مدد کرنے کے خواہشمند اس میں عطیات جمع کروا سکیں۔اسکے ساتھ ساتھ اٹلی میں بھی تمام نقطہ نظر کے افراد ملالہ کی صحت یابی کے لیے دعا کر رہے ہیں اور اسکی مدد کے لیے اپیلیں کر رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ ملالہ پر گولی چلنے سے تمام مذہبی حلقوں میں بھی ان طالبان کے خلاف بیانات جاری کیے جا رہے ہیں جو کہ شمالی پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں ۔ تحریر، اعجاز احمد

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com