Friday, Mar 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

ایمبیسی کی خبریں

اٹلی کے بہترین بزنس مین محمد اجمل شاہد کے تاثرات

روم۔ 17 ستمبر 2012 ۔۔۔۔ گزشتہ دنوں روم کے خوبصورت ہال میں منی گرام فرم نے اٹلی کے بہترین غیر ملکی بزنس مین ایوارڈ کے سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا ۔ اس میں اٹلی کے تمام شہروں سے بزنس مین تشریف لائے اور سب کو انکی کیٹاگری کے مطابق اٹلی کا بہترین بزنس کا ایوارڈ نوازا گیا ۔ اسی محفل میں ہمارے ایک جوان بزنس مین محمد اجمل شاہد کو بھی بہترین کواپریٹیو سوسائٹی کے بزنس مین ہونے کا ایوارڈ دیا گیا ۔ محمد اجمل شاہد کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے ہے اور انکی عمر 28 سال ہے ۔ انکی کوبپریٹو سوسائٹی کا نام Impresa Serviceہے اور انکے 24 سے زائد بھائی وال یا ملازمین ہیں ۔ انہوں نے آزاد کے ایڈیٹر سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ چند سال قبل اٹلی میں آئے اور تمام پاکستانیوں کی طرح ہر قسم کا کام کرتے رہے ۔ تمام مزدوریاں کرنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنا بزنس کیا جائے ۔ اسی سلسلے میں محمد اجمل شاہد نے اپنا ایک نجی ادارہ بنایا ، جسے کواپریٹو سوسائٹی کہتے ہیں اور کام کرنا شروع کر دیا ۔ آہستہ آہستہ انکے ملازمین کی تعداد 28 ہوگئی اور انکے ساتھ 90 سے زائد ملازمین نے موسمی کنٹریکٹ پر کام کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اب چونکہ معاشی بحران ہے ، اس لیے کواپریٹو سوسائٹی کا کام کم ہو گیا ہے لیکن ہم نے امپورٹ و ایکسپورٹ کا کام شروع کر دیا ہے اور اٹلی میں پاکستانی مصنوعات کو متعارف کروا رہے ہیں ۔ محمد اجمل نے کہا کہ میں Porto Recanatiمیں آباد ہوں اور یہ چھوٹا سا شہر میرا زاتی قصبہ بن گیا ہے ۔ ہم اپنی کواپریٹو سوسائٹی کے زریعے مفت ایک دن کے لیے اس قصبے کی صفائی کرتے ہیں اور اسکے علاوہ میں نے اپنا اندراج یہاں کے چیمبر آف کامرس میں بھی کروایا دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اٹلی کی بزنس کی محفلوں میں مجھے تمام شہروں میں غیر ملکی بزنس مین کے طور پر دعوت دی جاتی ہے ۔ میں نے اٹلی میں کٹھن کام کرنے کے بعد میڈیم سکول کاڈپلومہ حاصل کیا ، اٹالین زبان سیکھی اور اسکے بعد کمپیوٹر کورس کیا ۔ میں نے نئے آنے والے پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کی مدد ثقافتی ترجمان کے طور پر کرنا چاہی اور آخرکار اپنا کاروبار کر لیا ۔ محمد اجمل شاہد نے روم میں اعلی سیاستدانوں ، بیوروکریٹس اور مزدور یونین کے لیڈروں کی موجودگی میں ایوارڈ حاصل کیا اور اپنی تقریر میں کہا کہ اٹلی میں بہت زیادہ ایسے غیر ملکی ہیں جو کہ اپنا بزنس کرنا چاہتے ہیں لیکن انکی راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ۔ اس لیے میں تمام حکام سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ایسے غیر ملکیوں کی مدد کریں جو کہ زبان نہ بولنے کیوجہ سے یا پھر کسی دوسری مسئلے کیوجہ سے بزنس نہیں کر پاتے ۔ محمد اجمل شاہد نے 2006 میں اپنا بزنس کرنا شروع کیا تھا اور آج وہ پورے اٹلی کے بزنس مینوں کی میٹنگز میں شریک ہوتے ہیں ۔ انکے 2 چھوٹے سے ننھے منھے بچے ہیں اور انکی خواہش ہے کہ انہیں ماچراتے کے سکولوں میں تعلیم حاصل کروائیں ۔ محمد اجمل شاہد اپنی تقریروں میں انٹیگریشن پر بہت زور دیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ اٹلی ہمارا دوسرا وطن ہے جس کے کلچر اور روایات کو سمجھنا ہمارا فرض ہے ۔ تحریر، اعجاز احمد. تصاویر میں محمد اجمل اپنے ایوارڈ کے ساتھ دوسرے بزنس مینوں اور اعجاز احمد کے ہمراہ

altaltaltalt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 17 ستمبر 2012 20:09

فرانس کی سرحد پار کروانے والے پاکستانی ایجنٹ گرفتار

روم 5 اگست 2012 ۔۔۔ اٹلی کی پولیس نے فرانس سے آنے والے ایک ٹرک کو روکتے ہوئے سرحد پار کروانے والے 2پاکستانی ایجنٹ گرفتار کر لیے ہیں ۔ ان ایجنٹوں پر الزام ہے کہ یہ دونوں غیر قانونی تارکین وطن کو اٹلی میں غیر قانونی طور پر داخل کروا رہے تھے ۔ ایک کا نام بوبی محمد عمر 31 سال ہے اور دوسرے کا نام محمد عارف نعیم عمر 32 سال ہے ۔ یہ دونوں کل ایک ووکس ویگن ٹرک کے زریعے فرانس سے اٹلی کے بارڈر وینتی میلیا میں داخل ہوئے تو پولیس کو انکے ٹرک پرشک پڑ گیا ۔ پولیس نے انہیں موٹر وے پر روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی ۔ پولیس نے انکے پیچھا کیا اور ٹرک کو روک لیا گیا ۔ ٹرک میں 8 پاکستانی ، ایک ہندوستانی اور ایک نیپال کا غیر قانونی تارک وطن موجود تھا ۔ یہ لوگ فرانس سے اٹلی میں داخل ہوئے تھے لیکن انکے سامان سے پتا چلتا ہے کہ یہ غیر ملکی اسپین سے آرہے تھے ۔ ان غیر ملکیوں کے موبائل کے کارڈ اسپین سے خریدے ہوئے تھے اور اسکے علاوہ کھانے پینے کا سامان بھی اسپین کا بنا ہوا تھا ۔ پولیس نے بتایا کہ یہ غیر ملکی چونکہ اسپین سے آرہے تھے ، اس لیے ان کے پاس کمبل وغیرہ بھی نہیں تھے اور اٹلی کے علاقے وینتی میلیا میں سردی کیوجہ سے ان کی حالت کافی خراب تھی ۔ گرفتار ہونے والے ایک ایجنٹ بوبی محمد نے اپنے انڈرویئر سے 5 سو یورو کے نوٹ پھینکنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا ۔ محمد عارف نعیم Montecatini Termeمیں رہائش پزیر ہے اور اسکے پاس ریگولر پرمیسو دی سوجورنو ہے جبکہ بوبی غیر قانونی طور پر اٹلی میں آباد ہے ۔ ان دونوں پر غیر قانونی امیگریشن کو کاروبار بنانے کا جرم عائد کردیا گیا ہے ، جبکہ تمام 10 غیر قانونی تارکین وطن کو دوبارہ فرانس میں ملک بدر کر دیا گیا ہے ۔ تصویر میں ایجنٹوں کا ٹرک اور انکی تصاویر

alt

alt

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت بدھ, 05 ستمبر 2012 20:39

مسجد کی بجائے کلچرل سنٹر بنائیں گے ، النور ایسوسی ایشن

روم۔ یکم ستمبر 2012 اٹلی کے شمالی شہر بریشیا کی ایک گلی میں مسجد کی تعمیر کے خلاف اٹالین عوام نے دھرنا مار رکھا ہے اور انہوں نے اٹالین اور پاکستانی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ اس مسجد کی تعمیر کو رکوائیں کیونکہ اس کی موجودگی سے علاقے میں بد امنی پیدا ہو گی اور ٹریفک کے مسائل کھڑے ہونگے ۔ آزاد اخبار کے بریشیا کے نمائندے حاجی پرویز وحید نے موقع پر جا کر حالات کا جائزہ لیا  ہے  اور اصل حقائق کے بارے میں جاننے کی  کوشش کی ہے ۔ ایسوسی ایشن کے اراکین نے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ ہم اس جگہ پرمسجد کی بجائے ایک کلچرل سنٹر بنانے کے خواہش مند ہیں ، جہاں پاکستانی بچوں کو اسلام ، پاکستانی کلچر اور اٹالین کلچر کے بارے میں تعلیم دی جا سکے ، اسکے بعد ہماری کوشش تھی کہ پاکستانیوں کے میل و ملاپ کے لیے کوئی ایسی جگہ ہو جہاں وہ ایک دوسرے سے ملکر اٹلی اور پاکستان کے حالات حاضرہ کے بارے میں اپنے تبادلہ خیال کر سکیں اور کمونٹی کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں حل کرنے کے لیے صلاح و مشورہ دے سکیں ۔ ہم اس ایسوسی ایشن کے زریعے اردو اور اٹالین زبان کے کورس کروانے کے لیے بھی انتظامات کرچکے ہیں کیونکہ انٹیگریشن کے لیے ضروری ہے کہ تارکین وطن اٹالین زبان سیکھیں اور ہمارے بچے اٹالین زبان کے ساتھ ساتھ اپنی زبان بھی سیکھ سکیں ۔ حاجی پرویز وحید نے کہا کہ مسجد کے خلاف دھرنا دینے والے بیشتر افراد باہر سے آئے ہیں اور ان کا تعلق اس گلی اور محلے سے نہیں ہے  اور یہ ایسوسی ایشن کے منصوبے کو سیاسی رنگ دیکر اپنے مفادات کو چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ النور ایسوسی ایشن بین الاقوامی ایسوسی ایشن ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں کلچرل سنٹر بناتے ہوئے انٹیگریشن کے علاوہ پاکستانیوں کی روحانی اور معاشرتی مدد کرتے ہوئے اعلی کردار ادا کر رہی ہے ۔ تصویر میں مسجد کی تعمیر کے خلاف دھرنا

alt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 02 ستمبر 2012 10:51

بریشیا میں مسجد کے قیام کے خلاف دھرنا

روم۔ 30 اگست 2012 ۔۔۔ اٹلی کے شمالی شہر جہاں سب سے زیادہ پاکستانی کمونٹی آباد ہے ، یہاں مسجد کے قیام کے خلاف احتجاج کے طور پر مقامی اٹالین شہریوں نے دھرنا مارتے ہوئے مسجد کی تعمیر کو روک دیا ہے ۔ یہ مسجد ایک پاکستانی ایسوسی ایشن النور کی جانب سے بنائی جا رہی ہے ۔ مسجد Via Bonardi 9 Brescia  میں بنائی جا رہی ہے ۔ مقامی لوگوں نے 40 دنوں سے دھرنا مارتے ہوئے احتجاج کر رکھا ہے اور عام شہری جو کہ اس محلے اور گلی میں آباد ہیں ، اپنی کرسیاں لیکر آتے ہیں اور مسجد والی جگہ پر بیٹھ کر اسکی تعمیر  روکنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ شہریوں نے کہا کہ اس گلی میں جہاں مسجد کا قیام وجود میں لایا جا رہا ہے ، وہاں صرف کمرشل دکان بنانے کی اجازت ہے اور اگر یہاں مسجد تعمیر ہو گئی تو ٹریفک کا نظام دھرم بھرم ہو جائے گا اور دوسرے علاقوں کے لوگ ہمارے علاقے میں آئیں گے ۔ انکے مطابق مسجد میں 10 لاؤڈ سپیکر لگائے جا رہے ہیں ، ان سپیکروں کیوجہ سے محلے میں شور مچے گا اور عوام کا سکون برباد ہو گا ۔ اس علاقے کی میونسپل کمیٹی کے صدر MattiaMargaroliنے بھی مسجد کے قیام کے خلاف آواز بلند کر رکھی ہے ۔ شہریوں نے ان 2 مہینوں میں تھانہ، پریفی تورا اور پاکستانی کونصلیٹ سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اس گلی میں مسجد کی تعمیر کو رکوائیں ۔ یاد رہے کہ اٹلی میں مسجد کی تعمیر کے لیے ابھی تک کوئی قانون نہیں بنایا گیا لیکن اسکے باوجود اس ملک میں 750 سے زائد مساجد موجود ہیں ۔ ان میں سے صرف 2 عبادت گاہ یعنی مسجد کے طور پر تعمیر ہوئی ہیں اور باقی سب کلچرل ایسوسی ایشن کے سائے میں بنائی جاتی ہیں ۔ تصویر میں مسجد کی تعمیر کے خلاف اٹالین عوام کا دھرنا

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 30 اگست 2012 17:33

حاجی وحید پرویز کا تعارف

alt28 اگست 2012 ۔۔۔ بریشیا کی مشہور شخصیت حاجی وحید پرویز نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق ضلع منڈی بہاوالدین سے ہے ۔ 1975 میں گورنمنٹ ڈگری کالج منڈی بہاوالدین سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کرنے کے بعد واپڈا کے دفتری شعبہ میں ملازمت اختیار کر لی اور 1981 میں ملازمت ترک کر کے سعودی عرب چلے گئے ۔ عرصہ 9 سال تک بجلی اور فریج و ائر کنڈیشنگ کے کام سے وابستہ رہے ۔ اس دوران حج اور روضہ رسول ۖ کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔ 1996 میں براستہ ایران و ترکی اٹلی میں داخل ہو گئے ۔ اس وقت امیگریشن بند ہو چکی تھی ، لہذا فرانس ، بیلجئم اور جرمنی میں 2 سال گزارے اور کامیابی نصیب نہ ہوئی ۔ 1998 میں دوبارہ امیگریشن کھلی تو اٹلی واپس آگئے ۔ وحید پرویز نے کہا کہ اسکے بعد پراتو، بلونیا اور کوریجو میں کچھ وقت گزارنے کے بعد بریشیا آگئے ۔ اب گزشتہ 12 سال سے بریشیا میں آباد ہیں اور بجلی سے متعلق اور گاڑیوں کے پرزے بنانے کی فیکٹریوں میں کام کر چکے ہیں اور کام کے علاوہ اٹالین زبان اور الیکٹریشن کا شارٹ کورس بھی کر چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان، سعودی عرب اور اسکے بعد اٹلی کے ڈرائیونگ سکولوں سے تین مختلف زبانوں میں لائسنس حاصل کرنے کے لیے امتحان پاس کیا اور شاید اسی وجہ سے اٹلی کے ایک مقامی ڈرائیونگ سکو ل نے مجھے پاکستانیوں کو ڈرائیونگ کی تعلیم دینے کے لیے ٹیچر مقررکر دیا  ۔ وہ پاکستانی جنہیں اٹالین زبان پر عبور نہیں ہوتا ، میں انہیں ڈرائیونگ کی تعلیم دیتے ہوئے اور ایڈمنسٹریشن کی معلومات فراہم کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں ۔ انہوں نے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کو اپنا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ اٹالین زبان سیھکنے پر خصوصی توجہ دیں اور اپنے قول و فعل سے اچھے مسلمان اور بہترین پاکستانی بننے کی کوشش کریں ۔ حاجی وحید پرویز نے کہا کہ وہ آزاد اخبار سے تعاون کریں گے اور بریشیا کے پاکستانیوں کی کارکردگی کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی قلمی خدمات سرانجام دیں گے ۔

حاجی وحید پرویز ۔ موبائل ونڈ ۔ 3398705106

ای میل / یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 28 اگست 2012 19:40