Friday, Mar 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

ایمبیسی کی خبریں

ایمبیسی میں یوم آزادی کی تقریب

روم۔ 14 اگست 2012 ۔۔۔۔ معمول کے مطابق روم میں موجود پاکستان کے سفارتخانے میں یوم آزادی کی رسمی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ صبح 10 بجے کے قریب تقریب کا آغازطاہر صاحب نے تلاوت کلام پاک سے کیا ۔ اسکے بعد کمرشل کونصلر عامر سعید نے سفارتکارہ تہمینہ جنجوعہ کو دعوت دی کہ وہ اسٹیج پر تشریف لائیں اور اپنے خیالات کا اظہار کریں ۔ محترمہ تہمینہ جنجوعہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے پینسٹھ سال گزر گئے ہیں ۔ ہمارا پیارا ملک پاکستان بڑی مشکلوں اور قربانیوں کے بعد وجود میں آیا تھا ۔ ہم نے عہد کیا تھا کہ ہم مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ اسٹیٹ بنائیں گے ، جہاں اسلامی نظام ہو گا اور اس ملک میں نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو، سکھ اور عیسائی بھی پوری آزادی کے ساتھ آباد ہونگے ۔ آج یہاں کے اخبارات میں altپاکستان کے بارے میں جو امیج دیا جاتا ہے وہ بالکل غلط ہے ۔ پاکستان کے بارے میں بہت ساری ایسی مثبت چیزیں ہیں ، جنہیں پیش کرتے ہوئے ہمارے ملک کی اصل تصویر سے اٹالین کو آگاہ کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم ایک کٹھن مرحلے سے گزر رہے ہیں لیکن اسکے باوجود ہم ترقی کی طرف گامزن ہونگے اور ہمارا مستقبل روشن ہوگا ۔ اسکے بعد پرچم کشائی کی گئی اور قومی ترانہ میوزک کے زریعے سنایا گیا ۔ محترمہ تہمینہ جنجوعہ نے سفید اور سبز پرچم روم کی ہوا میں لہرایا  اور پرچم کو بلند کرنے تک قومی ترانہ پڑھتی رہیں، کرنل حسیب گل نے اپنی گارڈ  کے ہمراہ پرچم کو سلامی دی ۔ انہوں نے پاکستانی آرمی کا یونیفارم پہن رکھا تھا اور فرضی پریڈ کرتے ہوئے پاکستانی پرچم کے نیچے احترام کی حالت میں کھڑے ہو گئے تھے ۔ پرچم کشائی کی اس تفریب میں اتنا جوش ہوتا ہے کہ ہر پاکستانی جذباتی نظر آتا ہے۔ تقریب میں ہیڈ آف چانسلری شہباز کھوکھر, ایگریکلچرل آفیسر ذوالفقارکے علاوہ عملے کے تمام افراد  موجود تھے  ۔ تقریب کے بعد تمام مہمانان گرامی روزے کی حالت میں روزمرہ کی زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے روانہ ہوتے نظر آئے ۔  رپورٹ اعجاز altaltaltalt

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت بدھ, 15 اگست 2012 13:26

پاکستانی ائرپورٹوں پر تارکین وطن کو روکنے کا سلسلہ جاری ہے ، بشارت جذبی

 

alt

12 اگست 2012 ۔۔۔ اٹلی میں آباد پاکستان ویلفئر کلب کے صدر بشارت جذبی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ پاکستانی جو کہ اپنی پرمیسو دی سوجورنو  کی معینہ مدت سے زیادہ پاکستان میں سٹے کر رہے ہیں انہیں پاکستانی ائرپورٹوں پر روکنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمارے چند انٹرنیٹ کے اخبارات میں پاکستانی حکام ، میلان کونصلیٹ اور روم ایمبیسی کو مبارکبادیں پیش کی جارہی ہیں اور خوش آمدی کی مثالیں قائم کی جا رہی ہیں ۔ ان مبارک بادوں میں اس قسم کے بیانات دیے جار ہے ہیں  کہ ہمارے حکام نے تارکین وطن کو روکنے کا مسئلہ حل کروا دیا ہے اور اب اوور سٹے والے بھی اٹلی آرہے ہیں ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ کل ہی میرے دوست نے بتایا ہے کہ اسکی فیملی کو روک لیا گیا ہے اور اٹلی آنے سے منع کر دیا گیا ہے ۔ میں ان تمام دوستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جب وہ کوئی بیان دیں تو اسکی تصدیق کرلیا کریں ۔ ابھی تک مدت سے زیادہ سٹے کرنے والوں کا مسئلہ حل نہیں ہوا لیکن اس پر پاکستانی حکام کوشش کر رہے ہیں ۔ انٹرنیٹ کے اخبارات میں مسئلے کے حل کی خبر سن کر گزشتہ دنوں کئی پاکستانی قرضہ اٹھا کر ہوائی ٹکٹیں خریدتے ہوئے لاہور اور اسلام آباد ائر پورٹوں پر پہنچے ہیں اور دوبارہ انہیں اوور سٹے کا قصور وار ٹھہراتے ہوئے  ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ اٹلی کے معاشی بحران سے تنگ آکر پاکستانی تارکین وطن نے اپنے خاندانوں  کو پاکستان اس لیے روانہ کردیا تھا کیونکہ ان کا گزار مشکل ہو گیا تھا ۔ اب اوور سٹے کے قانون پر سختی سے ان بیچاروں کے خاندانوں کو تنگ کیا جا رہا ہے ۔ ان تارکین وطن سے ائر پورٹ پر رشوت کا تقاضا بھی کیا جا رہا ہے لیکن ان غریبوں کے پاس ایسے وسائل موجود نہیں ہیں ۔ بشارت جذبی نے کہا کہ اگر ہماری کمونٹی کا یہ مسئلہ جلد حل نہ کیا گیا تو ہم میلان کونصلیٹ اور ایمبیسی کے سامنے احتجاج کریں گے ۔ اس مسئلے سے قبل بھی چند کمونٹی کے بارسوخ افراد اور میلان کونصلیٹ نے طارق نیازی کے کیس کے بارے مثبت رائے دی تھی لیکن وہ شخص بھی کمونٹی کے ہزاروں یورو ائر ٹکٹوں کے چکر میں لے کر فرار ہو گیا تھا اور ابھی تک اس نے کسی شخص کے پیسے واپس نہیں کیے ۔  اوور سٹے کرنے والے تمام تارکین وطن سے گزارش ہے کہ وہ مجھ سے رابطہ کریں تا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک مثبت پلیٹ فارم تیار  کیا جا سکے ۔ بشارت جذبی موبائل و ای میل

3880768392۔0039

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی میں آباد پاکستانیوں کی امیگریشن پر کتاب شائع

alt

روم۔ 7 اگست 2012 ۔۔۔ اٹلی میں آباد پاکستانیوں کی قلیل تاریخ پر ایک کتاب شائع کر دی گئی ہے ۔ اس کتاب میں ایشیا کی امیگریشن کے ان ممالک کا زکر کیا گیا ہے جو کہ اٹلی میں آباد ہیں ۔ ان ممالک میں چین، پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش ، فلپائن اور بنگلہ دیش جیسے ممالک شامل ہیں ۔ یاد رہے کہ یہاں صرف پاکستانی امیگریشن کا آرٹیکل شائع کیا جا رہا ہے ۔ مکمل کتاب بک شاپ سے خریدں ۔ یہ آرٹیکل اٹالین زبان میں ہے ۔ آرٹیکل پڑھنے کے لیے  یہاں کلک کریں

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت بدھ, 08 اگست 2012 13:01

ایمبسڈر تہمینہ جنجوعہ کے خیالات

altروم۔ ریما نعیم ۔ مئی 2012 ۔ اٹلی میں آباد ہماری دوسری نسل کی جوان صحافی ریما نعیم نے 6 مئی کے روز  بسنت میلے کے بعد ایمبسڈر تہمینہ جنجوعہ کا انٹرویو کیا ہے اور انکے خیالات قلمبند کیے ہیں ۔ تہمینہ جنجوعہ نے  اٹلی میں 24 فروری 2011 سے سفارتکارہ کا منصب سنبھالا ہے ۔

سوال ۔ آپکو اٹلی اور اسکے شہری کیسے لگے ہیں ؟ 

جواب ۔ اٹلی ایک مہمان نواز ملک ہے اور اٹالین لوگ ہمارے پاکستانیوں کی طرح ہیں ، یہ ان لوگوں کا بہت خیال رکھتے ہیں جو کہ کسی دوسرے ملک سے آتے ہیں ۔اٹالین  لوگ دوستانہ ہیں اور بڑے  دل کے مالک ہیں ۔

آپ یہ بتائیں کہ بسنت فیسٹیول کیسا رہا اور آپکو کیسا لگا ؟

ہمارا بسنت فیسٹیول بہت خوبصورت تھا جبکہ بارش کیوجہ سے کافی پریشانی اٹھانی پڑی ۔ جب بارش شروع ہوئی تو میں ان لوگوں کی طرف دیکھنے لگی جو کہ اپنی محنت اور کاوش سے بندوبست کر رہے تھے ۔ میں نے مہمانوں سے پوچھا اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے مجھے جواب دیا کہ ہم یہیں رہیں گے ۔ انہوں نے مجھے کہا کہ وہ خوش ہیں اور میلے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اٹلی میں اپنے ملک کا اچھا تصور پیدا کریں اور اپنے ملک کے بارے میں انہیں متعارف کروائیں ۔ ہم نے اس میلے کے زریعے اپنے ملک پاکستان کا اچھا امیج پیدا کیا ہے ۔

سوال۔ بسنت کے زریعے ہم کونسا پیغام دینا چاہتے ہیں ؟

بسنت کے زریعے ہم پاکستان کے بارے میں مثبت رائے قائم کرتے ہیں ۔ بہت سارے پاکستانی اٹالین سوسائٹی میں انٹیگریٹ ہو چکے ہیں اور انہوں نے یہاں کی  روایات، کلچر اور زبان کو جان لیا ہے اور اب اس میلے کے زریعے ہم نے بھی اپنے کلچر، اقدار اور آرٹ کے بارے میں انہیں متعارف کراویا ہے۔ ایسے مواقعوں سے تعلقات مزید مضبوط ہوتے ہیں

کیا آپ مزید ایسے مواقعے پیدا کرنے کی کوشش کریں گی ، جن سے پاکستانی کمونٹی اور اٹالین میں مزید روابط مضبوط ہوں ؟

جواب ۔ ہاں میں کوشش کروں گی کیونکہ مجھے پسند ہے کہ پاکستانی کمونٹی اور اٹالین آپس میں دوستی کے روابط قائم کریں ۔ پاکستانی کمونٹی کے لوگ اس خوبصورت ملک میں آباد ہیں اور انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس ملک کا حصہ بنیں اور دوسری طرف اٹالین کو بھی سمجھنا چاہئے کہ پاکستانی کمونٹی اس ملک کی ترقی اور سالمیت کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔

سوال ۔ آپ دوسری نسل کے جوانوں اور اٹالین شہریت کے بارے میں کیا کہیں گی ؟

میں جوان نسل سے کہوں گی کہ وہ اٹلی میں رہتے ہوئے اس قوم کو اچھی مثال بنتے ہوئے یہ ثابت کریں کہ وہ اچھے پاکستانی ہیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ تمام انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور پاکستان کی ثقافت کو متعارف کروائیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سفارت خانہ پاکستان

 

 

کی جانب سے خواتین و حضرات اور پیارے بچوں کوبہار کی آمد کی خوشی میں

بسنت میلے

میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے 

پتنگوں کے اس روائتی میلے کی خوشی میں

بہار کے موسم کا استقبال کیا جاتا ہے

اس روز پتنگوں کے مقابلے ہونگے

پاکستانی کھانوں کے اسٹال لگیں گے

روائتی ملبوسات کی مارکیٹ اپنے رنگ بکھیرے گی

پاکستانی دستکاری کا آرٹ

موسیقی اور مہندی

اوراس کے علاوہ دوسری کئی تفریحات سے عوام کا دل خوش کیا جائے گا

آپ 6 مئی 2012 کی تاریخ نوٹ کر لیں اور اپنے تمام دوستوں کو بھی ساتھ لیکر آئيں

 

6maggio 2012

dalle ore 10.00 alle 17.00

Ingresso Gratuito

Ambasciata del Pakistan

Via della Camilluccia, 682

Via Riccardo Zandonai, 84b

alt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com