Sunday, Jan 20th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

ایمبیسی کی خبریں

بس کے زریعے ایمبیسی پہنچنے کا طریقہ کار

روم۔ 18 مارچ 2012 ۔۔۔ وہ پاکستانی خواتین و حضرات جو کہ روم میں موجود پاکستانی ایمبیسی میں اسٹیشن سے تشریف لانا چاہتے ہیں ، ان سے گزارش ہے کہ وہ مندرجہ زیل طریقہ کار استعمال کریں ۔

اسٹیشن Terminiسے پیاسا منچینی یا Piazza Manciniتک آپ بس نمبر 910 حاصل کریں گے ۔ اسکے بعد پیاسا منچینی سے بس نمبر 446،301،911 ( ان میں سے ایک بس حاصل کرتے ہوئے ) آپ پیاسا جوکی دیلفیچی یا Piazza Giochi Delficiپر اتریں گے ۔ اسکے بعد 7 منٹوں کا پیدل سفر کرتے ہوئے آپ ایمبیسی کے گیٹ پر پہنچ جائیں گے ۔ ایمبیسی کی سڑک کا نام Via Riccardo Zandonai 84  ہے ۔ یاد رہے کہ 2005 تک ایمبیسی کا گیٹ دوسری سڑک Via Della Camilluccia 682  کی طرف ہوا کرتا تھا ، چند ناگزیر وجوہات کی بنا پراسے بند کر دیا گیا تھا ۔ اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ آپ ہمیشہ قونصلر سیکشن کے معاملات کے لیے Via Riccardo Zandonai 84پر تشریف لائیں ۔ وہ خواتین و حضرات جو کہ گاڑی کے زریعے آئيں گے ، انہیں اسی سڑک پر پارکنگ بھی مل جائے گی ۔ یہاں پارکنگ کرنے کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جاتی ۔ تصویر میں پاکستانی ایمبیسی کا ایک منظر

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ایمبسڈر کی آمد پر شاندار اعشائیے کا اہتمام

روم ۔۔ روم میں موجود پاکستانی ایمبیسی کے خوبصورت ہال میں کمونٹی کی جانب سے عزت ماب جنابہ تہمینہ جنجوعہ کی اٹلی آمد پر شاندار اعشائیے کا اہتمام کیا گیا ۔ اس میں کمونٹی کے خاندان اور روم کی معزز شخصیات نے شرکت کی ۔ دوپہر کے وقت پروگرام کا آغاز ہوا ۔ چوہدری بشیر امرے والے نے سپاسنامہ پڑھا اور اسکے بعد جنابہ سفارتکارہ تہمینہ جنجوعہ نے اپنی تقریر کرتے ہوئے تمام مہمانان گرامی کا شکریہ ادا اور کہا کہ میں اٹلی میں موجود پاکستانی کمونٹی کا پرجوش خیر مقدم دیکھ کر بہت خوش ہوئی ہوں ۔ تقاریر کے بعد پاکستانی میوزک کا پروگرام کیا گیا اور اسکے بعد پاک کشمیر ریسٹورنٹ کا لذیذ کھانا پیش کیا گیا ۔ کھانے میں مٹن گوشت، پلاؤ، زردہ، چکن روسٹ اور دوسری ڈشیں موجود تھیں ۔ 19 فروری کے روز دن بھی خوبصورت تھا اور سردی بھی نہیں تھی ۔ یاد رہے کہ صرف چار دن قبل روم میں 20 سال بعد اتنی زیادہ برف پڑی تھی کہ تمام کام رک گئے تھے اور شہر ساکن ہو کر رہ گیا تھا ۔ اعشا‏ئیے میں ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ تمام وقت کمونٹی کے افراد کے ساتھ خوشی سے بیٹھی رہیں اور تمام لوگوں کے ساتھ مسکراہٹ سے پیش آئیں ۔ سب لوگوں نے انکے ساتھ تصویریں بنوائیں اور تمام لوگ انکی آمد کی تعریف کرتے رہے ۔ دھیمہ مزاج، خوش اخلاقی اور سادگی انکی نشانی ہے ۔ اٹلی میں آباد پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہے کہ انکی نمائندگی کے لیے  ایسی شخصیت تشریف لائی ہے ۔ اعشائیے کا اہتمام کرنے والے میزبانوں میں چوہدری بشیر امرے والا، ثقلین علی رضا، راشد مہدی اور چوہدری بشیر آف ناپولی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نےاس اعشائیہ کا انعقاد کمونٹی کی طرف سے سفارتکارہ تہمینہ جنجوعہ کی اٹلی آمد کے سلسلے میں کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہم مستقبل میں بھی ایسی تقاریب کرنے میں اپنی خدمات پیش کریں گے اور ہماری کوشش ہو گی کہ ہم کمونٹی اور ایبمیسی کے درمیان ایسے منصوبے بنائیں ، جن سے اٹلی میں پاکستان کی ساخت مضبوط ہو اور کمونٹی کے مسائل بھی حل ہوں ۔

altaltalt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ملٹری اتاشی ارشد واسطی کے اعزاز میں اعشائیہ

alt
روم ۔ 17 دسمبر ۔۔۔ روم کے ایک پاکستانی ریسٹورنٹ چکن کرنکی میں ملٹری اتاشی ارشد واسطی کے اعزاز میں اعشائیہ دیا گیا ، جس میں پاکستانی کمونٹی کی معزز شخصیات نے شرکت کی ۔ میزبان نیاز میر نے کہا کہ ہم نے ارشد واسطی کے اعزاز میں یہ اعشائیہ اس لیے دیا ہے کیونکہ وہ بہترین افسر ہونے کے علاوہ ایک خوش اخلاق ، ملنسار اور کمونٹی کی خدمت کرنے والے شخص ہیں ۔ انہوں نے اپنے تین سالہ دور میں اٹلی اور پاکستان میں دوستی کے رشتے کو مزید مضبوط کیا ہے اور پاکستان کی ایمبیسی میں پہلی بار 14 اگست کے تہوار کے موقع پر پاکستانی جھنڈے کوآرمی کی وردی میں سلامی دینے والی رسم ڈالی ہے ۔ اس رسم سے پاکستانی کمونٹی کے جذبات اجاگر ہوتے ہیں اور پاکستان سے دلی محبت جاگ اٹھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم انکی خدمات کے سلسلے میں انہیں ایک ٹرافی بھی پیش کر رہے ہیں جو کہ ارشد واسطی اور پاکستانی کمونٹی کی دوستی کا ایک ثبوت ہے ۔ پاکستان ورکر ایسوسی ایشن کے صدر محمد شبیر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ارشد واسطی اپنے تین سال مکمل کرنے کے بعد واپس پاکستان جا رہے ہیں اور انکی جگہ ریٹائرد کرنل حسیب گل نے لے لی ہے ۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ ارشد واسطی کے مشن کو جاری رکھیں گے اور دونوں ممالک میں دوستی کو مضبوط کرنے کے لیے اہم کردار ادا کریں گے ۔ ارشد واسطی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اٹلی کی پاکستانی ایمبیسی کا پہلا ملٹری اتاشی تھا ۔ مجھے آفس سیٹ کرنے کے لیے وقت درکار تھا اسکے بعد میں نے چند مشن مکمل کیے ۔ اٹلی کی آرمی اور پاکستانی آرمی کے باہمی معاہدوں کے لیے کام کرتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ دوسرے مشن بھی مکمل کرتا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چند اٹالین دانشور اور صحافی پاکستان روانہ کیے ۔ انہوں نے پاکستان کا وزٹ کیا اور جب یہ لوگ واپس آئے تو انکی رائے پاکستان کے متعلق بدل گئی ۔ ان کا خیال تھا ہمارے ملک میں جنگ رہتی ہے اور شمالی علاقوں میں بم چلتے رہتے ہیں لیکن جب انہوں نے وزٹ کیا تو انہیں پتا چلا کہ ہماری وومن کرکٹ کی ٹیم کتنی مضبوط ہے اور فیشن شو کرائے جاتے ہیں اور عوام امن و امان چاہتے ہیں بلکہ دوسری اقوام کے ساتھ روابط قائم کرنے کے لیے خوش آئند ارادے رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کمونٹی کے اعتبار سے کہا کہ ہماری کمونٹی کے افراد میں بے شمار صلاحتیں ہیں لیکن تھوڑی بہت تقسیم کیوجہ سے آپس کا اتحاد مجروح ہو رہا ہے ۔ بنگلہ دیش کی کمونٹی میں کافی اتحاد ہے ۔ اس لیے ہمیں چاہئے کہ ہم آپس کے اختلافات کو دور کرتے ہوئے متحد ہو جائیں ۔ روم کے بزنس مین محمد خان نے کہا کہ ایمبیسی کے کمرشل آفیسر کو چاہئے کہ وہ اٹلی میں موجود چھوٹے بزنس مینوں سے روابط قائم کریں کیونکہ انہوں نے آج تک ہم سے کوئی میٹنگ نہیں کی ۔ آخر میں انقلاب اخبار کے ایڈیٹر نیاز میر نے تمام مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا ۔ اعشائیے میں بشیر امرے والا، ثقلین علی،پی پی پی اٹلی کے سینئر رہنما سیف اللہ رانجھا، ملک جہانگیر ، ایمبیسی کے ایگریکلچرل آفیسر ذوالفقار ، عامر وڑائچ اور دوسرے معزز پاکستانی موجود تھے ۔ یہ اعشائیہ پاکستانی بزنس مین چوہدری زرگام شمشاد اور شاہد بھٹی کے ریسٹورنٹ میں دیا گیا ۔
 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 02 جنوری 2012 20:44