Friday, Jul 21st

Last update08:57:59 PM GMT

RSS

اہم خبریں

ایمبیسی میں وومن ایسوسی ایشن کی جانب سے فوڈ فیسٹیول کا اہتمام

وومن ایسوسی ایشن روم ،جس میں صدر پاکستانی ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ ،وائس پریذیڈنٹ شاہدہ اور جنرل سکریٹری ثمینہ رب ہیں اور روم میں رہائش پذہر خواتین اسکی اراکین ہیں  ۔  19 اپریل بروز اتوار پاکستا ن ایمبیسی میں فوڈ فیسٹول کا اہتمام کیاگیا۔جس میں پاکستانی روایتی کھانوں کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں سموسے،پکوڑے ۔حلوہ پوری ،باربی کیو،بریانی،مٹر پلاؤ،چکن،کوفتے،دال ،سبزی،روٹی ،نان،رائتہ، مٹھائی اور لسی کا انتظام تھا ۔ یہ وویمن ایسوسی ایشن کی محنت کا منہ بولتا ثبوت تھا  کہ اٹالین اور دوسری قوموں کے مہمانان گرامی  نے بہت شوق سے پاکستانی کھانے کھائے اور بہت سراہا۔ اس فیسٹول کی خاص بات یہ بھی تھی کہ مرد حضرات نے خواتین کے شانہ بشانہ کام کیا اور بھرپور تعاون کا ثبوت دیا۔فوڈ فیسٹول دن گیارہ بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہا۔اس فیسٹول کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ ہم نے اٹالین لوگوں کو اپنی تاریخ سے آگاہ کیا اور اس سلسلے میں پاکستانی ڈاکومینٹری فلم کا بھی اہتمام کیا گیا ۔جن جن خواتین و حضرات نے اس فیسٹول میں کسی بھی طرح حصہ لیا وہ قابل تعریف ہیں ۔امید کرتی ہوں کہ آئندہ بھی اس طرح کے فیسٹول منعقد کیے جاتے رہیں گے جس سے ہم اپنے کلچر کو واضح طور پہ روشناس کرا سکیں گے اور خواتین کو اپنی صلاحتیں مزید دکھانے کا موقع ملتا رہے گا۔ نگہت شفیق ۔روم

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 26 اپریل 2015 21:14

فقیر غنی کو دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر کر دیا گیا

روم، 20 جنوری 2015 ۔۔۔۔ آج اٹلی کے ریجن مارکے سے فقیر غنی کو دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر کر دیا گیا ہے ۔ فقیر غنی کی عمر 26 سال ہے اور وہ چویتا نووا شہر میں 12 سال سے مقیم تھا ۔ فقیر غنی جوتے بنانے کی فیکٹری میں کام کرتا تھا اور اپنی بہن، بھائی اور والدین کے ساتھ رہائش پزیر تھا ۔ غنی پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے فیس بک کے صفحے پر جہادی نعرے اور پیغام لکھے تھے اور اسکی فیس بک پر چند ایسی ویڈیو فلم تھیں ، جنکے زریعے جہاد کا پرچار کیا جاتا تھا ۔ فقیر غنی کو اسکی فیکٹری سے گرفتار کرتے ہوئے روم ائر پورٹ کے زریعے پاکستان ملک بدر کردیا گیا ہے ۔ اس واقع کے بعد اسکے والدین اور بہن بھائی ، جنکے پاس اٹالین شہریت ہے ، وہ بھی پاکستان روانہ ہوگئے ہیں ۔ فقیر غنی کے وکیل نے بتایا کہ اس پر جھوٹا الزام لگایا گیا ہے اور اسے وزرات داخلہ کے اسپیشل آرڈر کے بعد ملک بدر کیا گیا ہے ، اسکے فیس بک پر جہادی پرچار کی ویڈیو اسکے دوست نے لگائی تھیں ۔ ایک ہی دن میں اسے جج کے سامنے پیش کرتے ہوئے ملک بدر کردیا گیا ہے ۔ فقیر غنی نے گزشتہ عید میلادالنبی کے جلوس میں شرکت کی تھی ۔ اسی جلوس پر ایک اٹالین نے غصے میں آکر حملہ کردیا تھا ۔ یہ اٹالین اس جلوس کے خلاف اس لیے ہوا تھا کیونکہ جلوس سے چند دن قبل نام نہاد مسلمانوں نے پیرس میں صحافیوں کو قتل کیا تھا ۔ فقیر غنی کے وکیل نے کہا کہ وہ عدالت میں کیس کریں گے اور یہ ظاہر کریں گے کہ وہ دہشت گرد نہیں تھا ۔ اٹلی کی خفیہ پولیس نے اسکے فون بھی ریکارڈ کیے تھے اور کہا جاتا ہے کہ فقیر غنی اپنی بحث کے دوران یورپین کلچر کے خلاف بولتا تھا اور جہاد کی رہنمائی کرتا تھا ۔ تصویر میں فقیر غنی

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پیرس حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں ۔ اعجاز احمد

روم۔ 8 جنوری 15، تمام اہل وطن سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ پیرس میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے کی سختی سے مذمت کریں۔ 7 جنوری بروز بدہ تین دہشت گرد ایک اخبار کے دفتر میں داخل ہوئے اور انہوں نے صحافیوں سمیت 12 افراد کو قتل کردیا۔ حملہ آور اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے رہے اور کلاشنکوفوں سے خون بہاتے رہے ۔ ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم یہ ظاہر کریں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں اور یورپ کی صحافی آزادی کی پاسداری کرتے ہیں ۔ اگر کوئی ہمارے مذہب کے خلاف لکھتا ہے تو ہم اسکے اخبار کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں لیکن کسی بھی صحافی کو دہمکی یا قتل کرنے کے خلاف ہیں ۔ ہم یورپین قوانین کا احترام کرتے ہیں اور یورپ کی اقدار اور رسومات کے متضاد نہیں ہیں کیونکہ ہم نے یہاں آباد ہونے کا فیصلہ کر رکھا ہے ۔ ہمارے مذہب کا مطلب امن اور سلامتی ہے ۔ تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ جلسے اور جلوس نکال کر یہ ظاہر کریں کہ وہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کی مذمت کرتے ہیں اور یورپین شہری ہونے کے ناطے ہر قسم کی تنگ نظری کے خلاف ہیں ۔ اعجاز احمد نے کہا کہ انہوں نے کل فرانس ایمبیسی کے سامنے جا کرانکے احتجاج میں حصہ لیا اور حملے کی مذمت کی ۔ تحریر، شیر علی

                                                                   

                                                                                                                 

۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم میں اردو زبان کا کورس

یہ منصوبہ پاکستانی، ہندوستانی، بنگالی، سری لنکن اور نیپال کی عورتوں کی سماجی زندگی بہتر بنانے کے لیے وجود میں آیا ہے ۔ کیسے؟ عورتوں کے گروپ بنائے جائیں گے ، جس علاقے میں یہ رہائش پزیر ہیں ، انہیں اس علاقے کے بارے میں بتایا جائے گا ، سکول کے بارے میں جہاں انکے بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں ، ازل یاASL کی تمام تر سروس کے بارے میں  عورت کی صحت کے بارے میں ، بچوں اور خاندان کی صحت کی سہولیات کے بارے میں ، مثال کے طور پر مشاورت کا دفتر یاil  consultorio familiare  ، کام کے بارے میں سروس، عورتوں کے لیے ایسی جگہیں تلاش کرنا ، جہاں وہ ایک دوسرے سے ملکر بیٹھیں اور وہ اسے بیثھک کے طور پر خود استعمال کریں ، علاقے کے سرکاری و پرائیویٹ اداروں کے ساتھ روابط قا‏ئم کرنا جن میں  کاریتاس، آرچی، میونسپل کمیٹی، کمونٹی ، ایسوسی ایشن ، سوشل سنٹر اور وغیرہ وغیرہ  شامل ہیں ۔ ان تمام مقاصد کے لیے اٹالین زبان سیکھنا لازمی ہے ۔ عورتوں کو اٹالین زبان سکھانے کے لیے ایسے کورس کروائے جائیں گے ، جس میں عورتوں کا مشورہ لیا جائے گا ۔ یعنی اگر وہ کسی گھر، سوشل سنٹر یا سکول میں زبان سیکھنے کے بارے میں راضی ہیں  ۔ تمام عورتوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس کورس میں شامل ہوتے ہوئے ہمیں خدمت کا موقع دیں ۔

Associazione Transglobal, Via dei Marsi 67. Roma

Cell. 3460049522

Email.

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

منصوبہ 10 دسمبر کو شروع ہو گا اور 31 اگست 2015 کے دن ختم ہوگا

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 11 دسمبر 2014 09:50

اطلاع عام

تمام اہل وطن کو مطلع کیا جاتا ہے کہ 28 ستمبر بروز اتوار شام 5 بجے روم کے علاقے تورپنیا تارا Tor Pignattaraکی سڑک Via Maranellaسے مقتول محمد شہزاد خان کی یادمیں ایک پرامن جلوس نکالا جا رہا ہے ۔ یاد رہے کہ 18 ستمبر کی رات کو اسی علاقے میں شہزادخان کو بغیر وجہ ایک اٹالین نے ظالمانہ طریقے سے مکے اور لاتیں مارتے ہوئے قتل کردیا تھا ۔ تمام خواتین و حضرات سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ جلوس میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے حب الوطنی کا ثبوت دیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com