Sunday, May 24th

Last update06:26:21 PM GMT

RSS

اہم خبریں

حلال و حرام

 امام ابو حنیفہ رحمتہ الله علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر ایک خاتون نے بیان کیا کہ اس کا گھر آبادی کے آخر میں قافلوں کی گزر گاہ کے کنارے پر واقع ہے-رات کے وقت اپنے مکان کی چھت پر دیا جلا کر اس کی روشنی میں سوت کاتتی ہوں-جب قافلہ گزرتا ہے تو قافلے والوں کی مشعلوں کی تیز روشنی میں دیے کی لو ماند پڑ جاتی ہے اور مجھے ذیادہ واضح نظر آنے لگتا ہے جس کے نتیجے میں سوت کاتنے میں سہولت محسوس کرتی ہوں-اس کے بعد خاتون نے دریافت کیا کہ بغیر اجازت قافلے والوں کی روشنی استعمال کرتے ہوئے کاتا گیا سوت حلال ہے یا نہیں؟ جواب دینے سے پہلے امام صاحب نے خاتون سے ان کے خاندان کا تعارف معلوم کیا تو خاتون نے اپنے خاوند اور باپ کا نام بتایا- اس کے بعد امام صاحب نے فرمایا کہ اگر یہ معاملہ ایک عام مسلمان سے وابستہ ہوتا تو بے شک یہ سوت حلال ہے لیکن آپ کا خاندان چونکہ تقوئ کے اعلئ مقام پر فائز ہے لہذا آپ کے لیے یہ سوت حرام ہے- یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ متقی اور پرہیز گار لوگ حلال و حرام کے درمیان تمیز کرنے میں کتنی ذیادہ احتیاط برتتے ہیں-اب ذکر کرتے ہیں یورپ کے ایک عام مسلمان کا-لندن کے ایک ریستوران میں شراب کے نشے میں دھت ایک پاکستانی صاحب تشریف لائے اور دریافت فرمانے لگے کہ حلال گوشت سے تیار کردہ کھانا مل جائے گا یا نہیں؟ کچھ ملتا جلتا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایتھنز کے ایک ریستوران میں شراب کا آرڈر دے کر انتظار کرنے والے پاکستانی کے قریب بیٹھے ہوئے ترکی مسلمان نے سؤر کے گوشت سے تیار شدہ کھانے کا آرڈر دیا تو پاکستانی نے اس سے افسوس کا اظہار کیا تو جوابا“ ترکی نے کہا کہ اگر شراب اور سؤر کے گوشت میں شرعی اعتبار سے کوئی فرق ہے تو تمہارا اعتراض درست ہے ورنہ ہم دونوں ایک جیسے ہی ہیں-ایک دوست کی زبانی معلوم ہوا کہ فرینکفرٹ میں ایک جرمن خاتون نے اس کے پاکستانی دوست کی محبت میں مبتلا ہوکر شادی کی پیشکش کی تو اس پاکستانی نے شرط رکھی کہ وہ مسلمان ہو جائے،نماز پڑھے، روزے رکھے،شراب اور سؤر کے گوشت سے پرہیز کرے-خاتون نے یہ سب شرائط تسلیم کر لیں اور ان پر عمل پیرا بھی ہو گئی- شادی کے بعد وہ خاتون اپنے شوہر کے دوستوں سے شکوہ کرتی ہے کہ میں تو اس کے کہنے پر اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں لیکن وہ خود باقاعدگی سے شراب نوشی کرتا ہے-جو لوگ جؤا خانوں یا ایسے ریستورانوں، ہوٹلوں، دکانوں اور فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں جہاں شراب اور سؤر کے گوشت کی خرید و فروخت یا تیاری ہوتی ہے ممکن ہے کہ وہ ان کاموں کو جائز سمجھتے ہوئے کرتے ہوں- خود کو آحمدی ظاہر کر کے پناہ لے کر رہائیشی اجازت نامہ حاصل کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ وہ دل سے احمدی نہیں ہوئے ہیں لہذا ان کا رزق حلال ہے جبکہ زبانی اور تحریری اقرار کے بعد ہی ان کی درخواست منظور کی جاتی ہے- یورپ میں جو حلال گوشت ڈبہ بند یعنی پیک کیا ہوا ملتا ہے اس کی پیکنگ پر ایک سلپ لگی ہوتی ہے جس پر حلال لکھا ہوتا ہے- یہ سلپ لگانا قانونی طور پر لازمی ہے- یہ بات سننے میں آئی ہے کہ بعض فیکٹریوں میں سارا گوشت تیار تو ایک ہی طریقے سے کیا جاتا ہے لیکن حسب ضرورت مقدار پر حلال کا سٹکر لگا کر فروخت کر دیا جاتا ہے جبکہ حقیقتا“ یہ اسلامی طریقے سے ذبح کردہ نہیں ہوتا-کچھ عرصہ قبل سننے میں آیا تھا کہ ایک یورپی فیکٹری نے کسی عرب ملک کو مرغی کا حلال گوشت برآمد کرنا تھا- درآمد کندہ کمپنی کا نمائندہ گوشت کے حلال ہونے کی تصدیق کرنے فیکٹری میں پہنچا تو مالک نے اپنے ایک با ریش مسلمان ملازم کو مشین کے پاس کھڑا کر دیا جو با آواز بلند تکبیر کا ورد کرتا تھا جبکہ مشین مرغیوں کی گردنیں کاٹتی جاتی تھی- یہ حقیقت ہے یا فسانہ البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے دنوں برطانیہ میں حکومتی ادارے نے ایک فیکٹری میں چھاپا مارا تو پتہ چلا کہ حلال گوشت میں سؤر کے گوشت کی ملاوٹ کی جا رہی ہے جبکہ یہ فیکٹری حلال گوشت فروخت کرنے کی دعویدار تھی-حال ہی میں سویٹزر لینڈ میں حلال گوشت سے ڈونر کباب تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں سرکاری محکمے نے چھاپہ مارا تو معلوم ہوا کہ سؤر کے گوشت کی آمیزش کی جا رہی ہے-سؤر کے گوشت کی ملاوٹ کرنے کی وجہ اس کا سستا ہونا ہے- ڈونر کباب ترکی کی مشہور ڈش ہے جو کہ لذیذ ہونے کے علاوہ سستی بھی ہے- یورپ میں اس کا آغاز ترکوں نے جرمنی سے کیا- اب یہ پورے یورپ میں پھیل چکا ہے- مسلمانوں کی اکثریت اسے حلال ہونے کی وجہ سے نوش جان کرتی ہے تو غیر مسلم مزیدار اور ارزاں ہونے کی وجہ سے تناول کرتے ہیں- اخباروں میں یہ خبریں اکثر چھپتی رہتی ہیں کہ ڈونر کباب میں شامل اجزا صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں- یہ حقیقت ہے یا پروپیگندہ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ڈونر کباب کی وسیع پیمانے پر فروخت سے یورپی کھانوں کی مانگ میں کمی واقع ہوئی ہے- اسلام حلال کمانے اور کھانے کی بڑی سختی سے تلقین کرتا ہے-بزرگان دین کا فرمان ہے کہ حرام رزق سے پلی ہوئی اولاد نیک نہیں ہو سکتی-بعض لوگ رزق حرام کما کر کھانے کی وجہ مجبوری بیان کرتے ہیں جبکہ شریعت کا حکم ہے کہ اگر بھوک کی وجہ سے کوئی مرنے کے قریب پہنچ جائے تو اتنی کم سے کم مقدار میں مردار کا گوشت (حرام) کھا سکتا ہے جس سے اس کی جان پچ جائے- اشیائے خورد و نوش کی خریداری کرتے وقت ان کے حلال ہونے کی تصدیق کر لینی چاہیے- یورپ میں کھانے پینے کی تمام ڈبہ بند اشیا کی پیکنگ پر اس میں موجود اجزا تحریر ہوتے ہیں جوکہ قانونا“ لازمی ہے لہذا ان اجزا کو پڑھ کر اس چیز کے حلال ہونے کی تصدیق کی جا سکتی ہے-(تحریر: حاجی وحید پرویز ، بریشیا ، اٹلی)-

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی میں غیر ملکی بچوں کے لیے شہریت کا قانون

 اٹلی میں قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے بچوں کی تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے جن میں سے پانچ لاکھ بچے اٹلی میں پیدا ہوئے ہیں جبکہ باقی پانچ لاکھ چھوٹی عمر میں یہاں آئے ہیں-یہ بچے اطالوی سکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور ان کی تعداد میں اسی ہزار سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے-ان کی تعداد سکولوں میں بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے-یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مستقبل میں ان بچوں کا کردار بڑا اہم ہو گا لیکن بد قسمتی سے ابھی تک ان کی شہریت کے لیے مناسب قانون سازی نہیں کی جا سکی ہے- اس تاخیر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسے سیاسی مسلہ بنا دیا گیا ہے-دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ بائیں بازو کی جماعتیں غیر ملکیوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے آسانی سے شہریت حاصل کرنے کے قوانین بنوا کر ان کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتی ہیں اس لیے وہ اس قانون سازی کی راہ میں روڑے اٹکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں- فی الوقت اٹلی میں غیر ملکیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو قانون نمبر91بتاریخ1992کے تحت شہریت دی جاتی ہے- پیدائیش کے بعد شہریت حاصل کرنے کا یہ واحد ذریعہ ہے-یہ قانون “خون کا حق“ کے اصول پر مبنی ہے جسے  IUS  SANGUINISکے نام سے جانا جاتا ہے-یہ لاطینی زبان کے الفاظ ہیں جن کا مطلب خون کا حق ہے-اس قانون کے مطابق غیر ملکی والدین کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ اٹھارہ سال کی عمر پوری کرنے کے بعد ایک سال کے اندر اپنی رہائش کے کمونے میں شہریت کے لیے درخواست دے سکتا ہے-پیدا ئش سے لے کر بلوغت کی عمر کو پہنچنے تک مسلسل ایطالیہ میں رہائش پزیر رہنا لازمی ہے-یہ تسلسل چھ ماہ سے زیادہ نہیں ٹوٹنا چاہیے- فی الحال یہاں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے شہریت کا حصول ماں باپ کی شہریت پر منحصر ہے-جب والدین میں سے کسی ایک کو دس سالہ رہائش کی بنا پر شہریت ملتی ہے تو ساتھ رہنے والے نا بالغ بچوں کو بھی مل جاتی ہے یا والدین میں سے کسی ایک کو شہریت ملنے کے بعد بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسے بھی اطالوی شہری تسلیم کیا جاتا ہے-امریکہ اور کنیڈا کے علاوہ پورے یورپ میں فرانس واحد ملک ہے جو “زمین کا حق“ کے اصول کی بنیاد پر شہریت دیتا ہے-اطالیہ میں یہ قانون “IUS SOLI“ کے نام سے جانا جاتا ہے- لاطینی زبان میں IUS SOLIزمین کے حق کو کہتے ہیں-اس قانون کے مطابق ریاست کی سرزمین پر پیدا ہونے والا بچہ پیدائش کے وقت سے ہی اس ریاست کا شہری تسلیم کیا جاتا ہے جس میں وہ پیدا ہوا ہے اس کے والدین کی شہریت چاہے کوئی بھی ہو-یورپ کے دیگر ممالک میں مختلف قوانین نافذ ہیں جبکہ اکثر میں “خون کا حق“ کا قانون اطالیہ کی نسبت نرم شرائط کے ساتھ لاگو ہے- ڈنمارک،یونان اوراسٹریا میں شرائط اطالیہ سے ملتی جلتی ہیں یعنی شہریت حاصل کرنا آسان نہیں ہے- جرمنی میں بھی خون کے حق کا قانون رائج ہے جو کہ بڑا سادہ اور آسان ہے-یہاں پیدا ہونے والے بچے کے والدین میں سے ایک کا آٹھ سال سے قانونی طور پر قیام پذیر ہونا لازمی ہے علاوہ ازیں زبان کا امتحان اور اقتصادی طور خود کفیل ہونا بھی ضروری ہے- یہی قانون آئرلینڈ ، بلجیئم ،پرتگال اور سپین میں بھی لاگو ہے- سوئٹزرلینڈ میں بارہ سالہ رہائش کی شرط ہے جبکہ چار قومی زبانوں میں سے ایک کا اچھی طرح جاننا اور سوئس نظام زندگی میں ضم ہونا بھی ضروری ہے-اس وقت اطالوی پارلیمنٹ میں شہریت کا قانون تبدیل کرنے کے متعلق بیس مختلف مسودے بحث کے انتظار میں موجود ہیں-پچھلے دنوں ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے جو مسودہ جمع کروایا گیا ہے اس کے مطابق پانچ سال سے قانونی طور پر مقیم غیر ملکی والدین کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ پیدائش کے وقت سے ہی اطالوی شہری تسلیم کیا جاہے گا جبکہ چھوٹی عمر میں یہاں آنے والے بچے سکول کا ایک درجہ پاس کرنے کے بعد اطالوی شہریت کے حقدار ہوں گے-شہریت کے قوانین میں ترمیم کے بل کو نیشنل اسمبلی میں منظور ہونے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے اس کے بعد سینٹ کی منظوری بھی لازمی ہے- اطالوی صدر، وزیر اعظم جن کا تعلق پی ڈی سے ہے، اسپیکر قومی اسمبلی جن کا تعلق پی ڈی کی اتحادی جماعت سے ہے، وزیر انٹیگریشن جن کا تعلق پی ڈی سے ہے اور وہ کونگو نژاد پہلی غیر ملکی وزیر ہیں، خالد چاؤکی جو مراکش نژاد ہیں اور پی ڈی کے ممبر پارلیمنٹ و “نئے اطالوی“ کے انچارج بھی ہیں کی پر جوش حمایت خوش آئند ہے تو وزیر داخلہ جن کا تعلق دائیں بازو سے ہے، لیگا نورد اور دیگر جماعتوں کی مزاحمت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- لیگا نورد کا موقف ہے کہ شہریت کے قانون میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ شہریت کے بغیر ہی غیر ملکیوں کو تمام بنیادی حقوق اور سہولتیں حاصل ہیں- جبکہ کچھ پارٹیاں ترامیم کے حق میں تو ہیں لیکن آسان شہریت کی مخالف ہیں- ان دنوں کافی کمونوں میں غیر ملکی بچوں کو بڑے زور و شور سے اعزازی شہریت دی جا رہی ہے- یہ ایک سرٹیفکیٹ ہوتا ہے جس کی عملی طور پر حثیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے لیکن یہ پر زور اخلاقی حمایت کا اظہار ضرور ہے- اب دیکھتے بیں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے- (تحریر: حاجی وحید پرویز ، بریشیا)-

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 03 جون 2013 17:02

فیملی چیک کی نئی رقم جاری

روم۔ 27 مئی 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے قانون کے مطابق ہر سال مہنگائی اور روزمرہ کی زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیملی چیک کی رقم تعین کی جاتی ہے ۔ ہر سال اس رقم میں فرق پیدا ہوتا ہے ۔ اس سال بھی اٹلی کے فیملی چیک کے ادارے انمپس نے نئی رقم کا اعلان کردیا ہے ۔ اس چیک کی رقم یکم جولائی 2013 سے لیکر 30 جون 2014 تک فکس رہے گی ۔ عام طور پر یہ چیک نوکری کرنے والے اور ان پنشن شدہ کو دیا جاتا ہے جو کہ نوکری کرتے رہے ہیں ۔ وہ ملازم جو کہ تہہ شدہ مدت کا کام کرتے ہیں یا پھر parasubordinatiہوتے ہیں ، انکے کام کو مدنظر رکھتے ہوئے چیک کی رقم تہہ کی جاتی ہے ۔ فیملی کے چیک کی رقم بچوں اور بیوی کو مدنظر رکھتے ہوئے تہہ کی جاتی ہے ۔ یہ چیک اٹالین اور غیر ملکی ورکروں کو بغیر کسی تفرق کے دیا جاتا ہے ۔ فیملی چیک کے لیے کام کا مالک اپلائی کرتا ہے اور وہ بوستا پاگا کے زریعے ورکر کو ادا کردیتا ہے اور اسکے بعد انمپس کے ادارے سے اس رقم کی وصولی کرتا ہے ۔ ڈومیسٹک کام اور زراعت میں کام کرنے والے ملازمین کو انمپس کا ادارہ براہ راست فیملی چیک ادا کرتا ہے ۔ فیملی چیک کو assegno familiare  کہتے ہیں ۔ رقم چیک کرنے کے لیے قانون پر کلک کریں

Scarica le nuove soglie di reddito

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 27 مئی 2013 20:58

کیا میں اپنے حواس کھو بیٹھا تھا............میں اور تحریک انصاف


کل رات جب میں نے اپنا ماہوار محاسبہ کرنے کی ٹھانی تو مجھ پہ آشکار ہوا کہ شاید میں اپنے حواس کھو بیٹھا تھا . آپ یقینی طور پہ میری اس غلطی کے بارے میں جاننا چاھتے ہونگے جس کے بوتے پہ میں اپنے آپ کو مورد الزام ٹھرا رہا ہوں . جی ہاں آپ درست ہیں ! میں تحریک انصاف کا سپورٹر ہوں.
میں ایک ملازم پیشہ آدمی ہوں جس کی ساری زندگی لوئر مڈل کلاس سے اپر مڈل کلاس میں شمولیت کی جدوجہد میں گزر گئی. آج جب میں نے اپنے دامن کو جھاڑا تو تحریک انصاف کی حمایت کرنے کے فیصلے پر دلیل نہ ڈھونڈ سکا.
آپکا کیا خیال ہے ایک عام آدمی کی بنیادی ضروریات کیا ہوتی ہیں ؟ صحت ، تعلیم ، امن و امان وغیرہ وغیرہ
رب و العزت نے مجہے بہت نوازا ہےاور میں کسی بھی غیر سرکاری ہسپتال سے اپنا علاج آرام سے کروا سکتا ہوں . اور سچ تو یہ ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں، میں نے شاید ہی اپنے علاج کی غرض سے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کیا ہو. پھر مجہے کیا دیوانگی کا دورہ پڑا تھا کہ میں یکا یک تمام سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانے کے لئے سوچنے لگا ؟ شاید میں اپنے غریب ہمساے کی تکلیف کو کچھ زیادہ محسوس کر گیا تھا . جس کی بیوی دوران بیماری مناسب انتظامات نا ہونے کے سبب اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی. مجہے لگا کے اگرتحریک انصاف حکومت بنا پائی تو تمام ہسپتال شوکت خانم کی طرز پر بنائیں جائیں گے اور شاید سب کو ویسی ہی صحت کی سہولیات میسر ہوں جیسی مجہے ہیں. مگر شاید میں اپنے حواس کھو بیٹھا تھا . مجہے صرف اپنے بارے میں سوچنا چاہیے تھا.
میری تنخواہ اتنی ہے کہ میں اپنے بچوں کو ایک مہنگے ادارے میں تعلیم دلوا سکوں. پھر مجہے کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر تحریک انصاف یکساں تعلم نظام رائج کر سکے گی یا نہی. مگر شاید عمر رفتہ کے ٣١ سالوں نے میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیوں پر خاصہ فرق ڈال دیا ہے . اور اب میں سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں کے بچوں کا موازنہ کرنے لگا ہوں . شاید میں پاگل ہو چکا ہوں . مجہے اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے . اور ویسے بھی کل کو جب میرے بچے پڑھ لکھ کے باہر نکلیں گے تو وہ سرکاری سکولوں کے بچوں سے زیادہ پر اعتماد ہونگے . پھر مجہے کیا ہو گیا تھا شاید میں اپنے ہی بچوں کا مستقبل سیاہ کرنے پہ تلا ہوا تھا.
رہی بات امن و امان کی ! تو پریشانی کی کیا بات ہے میں جہاں رہائش پذیر ہوں وہاں کالونی والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گارڈ رکھ لئے ہیں . اصل میں پریشانی مجہے اپنی اہلیہ کی ہے وہ بیچاری اپنے دور کے رشتہ داروں کے ہاں ڈاکہ پڑنے سے کافی دن پریشان رہی . اور انھیں پرچہ کٹوانے کے لئے بھی پیسے دینے پڑے . مجہے لگا کے اگر عمران خان آگیا تو وہ کم از کم پولیس کا نظام تو ٹھیک کر ہی دے گا . مگر جب تک میں محفوظ ہوں مجہے انکے بارے میں سوچنے کا کوئی حق نہی. شاید میرے اعصاب کمزور ہو گئے ہیں . ہاں ایک بات تو میں آپ کو بتانا بھول ہی گیا میرے گھر کام کرنے والے الیکٹریشن نے چند دن پہلے قسطوں پہ ایک موٹر سائکل لی تھی مگر چند اس سے زیادہ ضرورت مند حضرات گن پوانٹ پہ چھین لے گنے . مگر مجہے کیا فرق پڑتا ہے میری گاڑی تو سلامت ہے.
میں کتنا بیوقوف ہوں ! تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہا، ان لوگوں کا جو کہتے ہیں کے ٹیکس سے ملک کا اخراجات پورے کریں گے. میں تو پہلے سے ہی ٹیکس ادا کرتا ہوں اور اگر کل کو تحریک انصاف کی حکومت آ بھی جاتی ہے اور وہ ٹیکس بڑھا دیتے تو میری آمدنی پہ براہ راست فرق پر سکتا تھا اور میں انھی کے حق میں آواز اٹھاتا رہا. مجہے لگا میرے ٹیکس کے پیسے کسی مناسب جگہ پے استعمال ہونگے شاید مجہے دن میں خواب دیکھنے کی عادت ہے.
مجہے سمجھ نہی آرہا کے میں کب سے جذبات کی رو میں بہہ کر فیصلے کرنے لگا . جب میرے گھر میں بجلی کے حصول کے لئے متبادل ذرائع موجود ہیں تو مجہے کیا پڑے کے وہ غریب کیسے رات گزارتا ہوگا جسکے پاس اتنے پیسے نہی کے وہ اپنے لئے بجلی خرید سکے . شاید مرے دل میں غریبوں کے لئے زیادہ درد موجود ہے شاید یہی وجہ تھی جس نے مجہے دن رات بازاروں میں اور لوگوں کے گھر گھر جا کے ووٹ مانگنے پہ مجبور کیا.
مجہے لگا کے عمران خان ڈرون گرا لے گا . مگر ڈرون حملوں میں میرے گھر والے تو نہی مر رہے تھے پھر مجہے کیا پڑی تھی کہ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کے عمران کے جلسوں میں صرف یہ سننے جاتا تھا کہ وہ بس ایک بار کہہ دے وہ ڈرون حملے رکوا دے گا.
مجھ سے ایک غلطی ہو گئی میں ان لوگوں کا بھلا سوچنے لگا جو ان نعمتوں سے محروم تھے مگر میں ان لوگوں سے اجازت لینا بھول گیا. مگر انھیں مجھ پہ اعتماد نہ تھا . جب آج تک کسی نے انکے بارے میں نہی سوچا تو آج انھیں میری بات پہ کیسے یقین آجاتا. انھیں لگا میں جو خواب انھیں دکھا رہا ہوں انکی تعبیر ممکن ہی نہی . شاید میں پچھتا رہا ہوں میری حد سے زیادہ حب الوطنی میرے مستقبل کی را ہ میں روکاوٹ بن گئی تھی.
جانے میں سوچ رہا تھا میں بھی باقی دوستوں کی طرح ملک چھوڑ کے جا سکتا تھا مگر مجہے لگا اگر میں ہی ملک چھوڑ گیا تو اسے ٹھیک کون کرے گا . میں غلط تھا اگر ملک ٹھیک ہو گیا تو سب کو ٹھیک ہونا پڑے گا اور یہ رسک کوئی نہی لینا چاہتا. مجہے یہ ماننے میں کوئی عار نہی کے شاید میں حواس کھو بیٹھا تھا.
جو لوگ یہ فرماتے ہیں کے تحریک انصاف صرف اپر مڈل کلاس اور برگر فمیلز کی جماعت ہے شاید ٹھیک ہی کہتے ہیں . بھلا اپر مڈل کلاس یا برگر فمیلز کو یہ حق کب سے پوھنچنے لگا کے وہ اپنی معاشرتی ذمہ داری پوری کریں . انھیں کیا فرق پڑتا ہے جب لوگ ڈگری ہاتھ میں لئے نوکریوں کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں. پھر انھیں سوچنے کی کیا ضرورت.
ہمارے بزرگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں بات کرنے کی تمیز نہی . تلخی ہماری رگ رگ میں اتر چکی ہے میرا ان سے ایک ہی سوال ہے . آپ نے جو بویا وہی فصل اب پک کے تیار ہو چکی ہے . تلخیاں بو کے پھولوں کی فصل کا انتظار ؟؟؟؟ آپ زندگی بھر لوگوں کی زیادتیوں پر خاموش رہے آپکے فیصلوں نے ملک کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دی جنھوں نے اس مٹی کو ہموار تو کیا کرنا تھا اوزار بھی بیچ ڈالے.

میں شاید پھر بہک رہا ہوں . مجہے زیادہ نہیں سوچنا چاہیے ، کون بیوقوف تھا جو مجہے خواب غفلت سے جگانے چلا تھا . مجہے لگتا ہے وہ بھی اپنے حواس کھو بیٹھا تھا . کیا مجہے کوئی بتائے گا کہ میں لوگوں کو جو خواب بیچ رہا ہوں وہ سچ بھی ثابت ہو سکتے ہیں.
 
پاکستانیوں سے سوال کیا میں غلط کر رہا تھا کیا مجھے اپنی دنیا میں لو ٹ جانا چاہیۓ کیا امید کا دامن چھوڑ دینا چا ہیئے ؟؟؟

 

MUHAMMAD NADEEM YOUSUF.
ADVOCATE.
COORDINATOR, PTI ITALY.
0039 3293526605

http://www.insaf.pk/Chapters/International/Italy

https://www.facebook.com/muhammadnadeem.yousuf

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ہم وطن کے قاتل انڈین کو تیس سال جیل کی سزا

 بریشیا (حاجی وحید پرویز) ایک انڈیین باشندے سردارا سنگھ کو اپنے ہموطن اور دوست بھوپندر سنگھ کو قتل کرنے کے جرم میں بریشیا کی عدالت نے 30 سال جیل کی سزا کا حکم دیا ہے- سردارا سنگھ نے اپنے دوست کو دسمبر 2011میں بریشیا VIACREMONAپر واقع مکان میں شراب کے نشے کی حالت میں چھریوں کے پے در پے وار کر کے بڑی سفاکی سے معمولی تنازعے کی بنا پر قتل کر دیا تھا- وہ لاش کو ایک سوٹ کیس میں رکھ کر فلیٹ سے نیچے لا ریا تھا کہ ایک اٹالین شخص کے دیکھ لینے پر لاش کو لابی میں چھوڑ کر فرار ہو گیا - بعد میں پولیس نے اسے بیرگامو سے گرفتار کر لیا تھا-

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com