Sunday, May 26th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

اہم خبریں

اٹلی میں غیر ملکی بچوں کے لیے شہریت کا قانون

 اٹلی میں قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے بچوں کی تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے جن میں سے پانچ لاکھ بچے اٹلی میں پیدا ہوئے ہیں جبکہ باقی پانچ لاکھ چھوٹی عمر میں یہاں آئے ہیں-یہ بچے اطالوی سکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور ان کی تعداد میں اسی ہزار سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے-ان کی تعداد سکولوں میں بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے-یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مستقبل میں ان بچوں کا کردار بڑا اہم ہو گا لیکن بد قسمتی سے ابھی تک ان کی شہریت کے لیے مناسب قانون سازی نہیں کی جا سکی ہے- اس تاخیر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسے سیاسی مسلہ بنا دیا گیا ہے-دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ بائیں بازو کی جماعتیں غیر ملکیوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے آسانی سے شہریت حاصل کرنے کے قوانین بنوا کر ان کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتی ہیں اس لیے وہ اس قانون سازی کی راہ میں روڑے اٹکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں- فی الوقت اٹلی میں غیر ملکیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو قانون نمبر91بتاریخ1992کے تحت شہریت دی جاتی ہے- پیدائیش کے بعد شہریت حاصل کرنے کا یہ واحد ذریعہ ہے-یہ قانون “خون کا حق“ کے اصول پر مبنی ہے جسے  IUS  SANGUINISکے نام سے جانا جاتا ہے-یہ لاطینی زبان کے الفاظ ہیں جن کا مطلب خون کا حق ہے-اس قانون کے مطابق غیر ملکی والدین کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ اٹھارہ سال کی عمر پوری کرنے کے بعد ایک سال کے اندر اپنی رہائش کے کمونے میں شہریت کے لیے درخواست دے سکتا ہے-پیدا ئش سے لے کر بلوغت کی عمر کو پہنچنے تک مسلسل ایطالیہ میں رہائش پزیر رہنا لازمی ہے-یہ تسلسل چھ ماہ سے زیادہ نہیں ٹوٹنا چاہیے- فی الحال یہاں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے شہریت کا حصول ماں باپ کی شہریت پر منحصر ہے-جب والدین میں سے کسی ایک کو دس سالہ رہائش کی بنا پر شہریت ملتی ہے تو ساتھ رہنے والے نا بالغ بچوں کو بھی مل جاتی ہے یا والدین میں سے کسی ایک کو شہریت ملنے کے بعد بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسے بھی اطالوی شہری تسلیم کیا جاتا ہے-امریکہ اور کنیڈا کے علاوہ پورے یورپ میں فرانس واحد ملک ہے جو “زمین کا حق“ کے اصول کی بنیاد پر شہریت دیتا ہے-اطالیہ میں یہ قانون “IUS SOLI“ کے نام سے جانا جاتا ہے- لاطینی زبان میں IUS SOLIزمین کے حق کو کہتے ہیں-اس قانون کے مطابق ریاست کی سرزمین پر پیدا ہونے والا بچہ پیدائش کے وقت سے ہی اس ریاست کا شہری تسلیم کیا جاتا ہے جس میں وہ پیدا ہوا ہے اس کے والدین کی شہریت چاہے کوئی بھی ہو-یورپ کے دیگر ممالک میں مختلف قوانین نافذ ہیں جبکہ اکثر میں “خون کا حق“ کا قانون اطالیہ کی نسبت نرم شرائط کے ساتھ لاگو ہے- ڈنمارک،یونان اوراسٹریا میں شرائط اطالیہ سے ملتی جلتی ہیں یعنی شہریت حاصل کرنا آسان نہیں ہے- جرمنی میں بھی خون کے حق کا قانون رائج ہے جو کہ بڑا سادہ اور آسان ہے-یہاں پیدا ہونے والے بچے کے والدین میں سے ایک کا آٹھ سال سے قانونی طور پر قیام پذیر ہونا لازمی ہے علاوہ ازیں زبان کا امتحان اور اقتصادی طور خود کفیل ہونا بھی ضروری ہے- یہی قانون آئرلینڈ ، بلجیئم ،پرتگال اور سپین میں بھی لاگو ہے- سوئٹزرلینڈ میں بارہ سالہ رہائش کی شرط ہے جبکہ چار قومی زبانوں میں سے ایک کا اچھی طرح جاننا اور سوئس نظام زندگی میں ضم ہونا بھی ضروری ہے-اس وقت اطالوی پارلیمنٹ میں شہریت کا قانون تبدیل کرنے کے متعلق بیس مختلف مسودے بحث کے انتظار میں موجود ہیں-پچھلے دنوں ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے جو مسودہ جمع کروایا گیا ہے اس کے مطابق پانچ سال سے قانونی طور پر مقیم غیر ملکی والدین کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ پیدائش کے وقت سے ہی اطالوی شہری تسلیم کیا جاہے گا جبکہ چھوٹی عمر میں یہاں آنے والے بچے سکول کا ایک درجہ پاس کرنے کے بعد اطالوی شہریت کے حقدار ہوں گے-شہریت کے قوانین میں ترمیم کے بل کو نیشنل اسمبلی میں منظور ہونے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے اس کے بعد سینٹ کی منظوری بھی لازمی ہے- اطالوی صدر، وزیر اعظم جن کا تعلق پی ڈی سے ہے، اسپیکر قومی اسمبلی جن کا تعلق پی ڈی کی اتحادی جماعت سے ہے، وزیر انٹیگریشن جن کا تعلق پی ڈی سے ہے اور وہ کونگو نژاد پہلی غیر ملکی وزیر ہیں، خالد چاؤکی جو مراکش نژاد ہیں اور پی ڈی کے ممبر پارلیمنٹ و “نئے اطالوی“ کے انچارج بھی ہیں کی پر جوش حمایت خوش آئند ہے تو وزیر داخلہ جن کا تعلق دائیں بازو سے ہے، لیگا نورد اور دیگر جماعتوں کی مزاحمت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- لیگا نورد کا موقف ہے کہ شہریت کے قانون میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ شہریت کے بغیر ہی غیر ملکیوں کو تمام بنیادی حقوق اور سہولتیں حاصل ہیں- جبکہ کچھ پارٹیاں ترامیم کے حق میں تو ہیں لیکن آسان شہریت کی مخالف ہیں- ان دنوں کافی کمونوں میں غیر ملکی بچوں کو بڑے زور و شور سے اعزازی شہریت دی جا رہی ہے- یہ ایک سرٹیفکیٹ ہوتا ہے جس کی عملی طور پر حثیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے لیکن یہ پر زور اخلاقی حمایت کا اظہار ضرور ہے- اب دیکھتے بیں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے- (تحریر: حاجی وحید پرویز ، بریشیا)-

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 03 جون 2013 17:02

فیملی چیک کی نئی رقم جاری

روم۔ 27 مئی 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے قانون کے مطابق ہر سال مہنگائی اور روزمرہ کی زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیملی چیک کی رقم تعین کی جاتی ہے ۔ ہر سال اس رقم میں فرق پیدا ہوتا ہے ۔ اس سال بھی اٹلی کے فیملی چیک کے ادارے انمپس نے نئی رقم کا اعلان کردیا ہے ۔ اس چیک کی رقم یکم جولائی 2013 سے لیکر 30 جون 2014 تک فکس رہے گی ۔ عام طور پر یہ چیک نوکری کرنے والے اور ان پنشن شدہ کو دیا جاتا ہے جو کہ نوکری کرتے رہے ہیں ۔ وہ ملازم جو کہ تہہ شدہ مدت کا کام کرتے ہیں یا پھر parasubordinatiہوتے ہیں ، انکے کام کو مدنظر رکھتے ہوئے چیک کی رقم تہہ کی جاتی ہے ۔ فیملی کے چیک کی رقم بچوں اور بیوی کو مدنظر رکھتے ہوئے تہہ کی جاتی ہے ۔ یہ چیک اٹالین اور غیر ملکی ورکروں کو بغیر کسی تفرق کے دیا جاتا ہے ۔ فیملی چیک کے لیے کام کا مالک اپلائی کرتا ہے اور وہ بوستا پاگا کے زریعے ورکر کو ادا کردیتا ہے اور اسکے بعد انمپس کے ادارے سے اس رقم کی وصولی کرتا ہے ۔ ڈومیسٹک کام اور زراعت میں کام کرنے والے ملازمین کو انمپس کا ادارہ براہ راست فیملی چیک ادا کرتا ہے ۔ فیملی چیک کو assegno familiare  کہتے ہیں ۔ رقم چیک کرنے کے لیے قانون پر کلک کریں

Scarica le nuove soglie di reddito

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 27 مئی 2013 20:58

کیا میں اپنے حواس کھو بیٹھا تھا............میں اور تحریک انصاف


کل رات جب میں نے اپنا ماہوار محاسبہ کرنے کی ٹھانی تو مجھ پہ آشکار ہوا کہ شاید میں اپنے حواس کھو بیٹھا تھا . آپ یقینی طور پہ میری اس غلطی کے بارے میں جاننا چاھتے ہونگے جس کے بوتے پہ میں اپنے آپ کو مورد الزام ٹھرا رہا ہوں . جی ہاں آپ درست ہیں ! میں تحریک انصاف کا سپورٹر ہوں.
میں ایک ملازم پیشہ آدمی ہوں جس کی ساری زندگی لوئر مڈل کلاس سے اپر مڈل کلاس میں شمولیت کی جدوجہد میں گزر گئی. آج جب میں نے اپنے دامن کو جھاڑا تو تحریک انصاف کی حمایت کرنے کے فیصلے پر دلیل نہ ڈھونڈ سکا.
آپکا کیا خیال ہے ایک عام آدمی کی بنیادی ضروریات کیا ہوتی ہیں ؟ صحت ، تعلیم ، امن و امان وغیرہ وغیرہ
رب و العزت نے مجہے بہت نوازا ہےاور میں کسی بھی غیر سرکاری ہسپتال سے اپنا علاج آرام سے کروا سکتا ہوں . اور سچ تو یہ ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں، میں نے شاید ہی اپنے علاج کی غرض سے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کیا ہو. پھر مجہے کیا دیوانگی کا دورہ پڑا تھا کہ میں یکا یک تمام سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانے کے لئے سوچنے لگا ؟ شاید میں اپنے غریب ہمساے کی تکلیف کو کچھ زیادہ محسوس کر گیا تھا . جس کی بیوی دوران بیماری مناسب انتظامات نا ہونے کے سبب اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی. مجہے لگا کے اگرتحریک انصاف حکومت بنا پائی تو تمام ہسپتال شوکت خانم کی طرز پر بنائیں جائیں گے اور شاید سب کو ویسی ہی صحت کی سہولیات میسر ہوں جیسی مجہے ہیں. مگر شاید میں اپنے حواس کھو بیٹھا تھا . مجہے صرف اپنے بارے میں سوچنا چاہیے تھا.
میری تنخواہ اتنی ہے کہ میں اپنے بچوں کو ایک مہنگے ادارے میں تعلیم دلوا سکوں. پھر مجہے کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر تحریک انصاف یکساں تعلم نظام رائج کر سکے گی یا نہی. مگر شاید عمر رفتہ کے ٣١ سالوں نے میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیوں پر خاصہ فرق ڈال دیا ہے . اور اب میں سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں کے بچوں کا موازنہ کرنے لگا ہوں . شاید میں پاگل ہو چکا ہوں . مجہے اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے . اور ویسے بھی کل کو جب میرے بچے پڑھ لکھ کے باہر نکلیں گے تو وہ سرکاری سکولوں کے بچوں سے زیادہ پر اعتماد ہونگے . پھر مجہے کیا ہو گیا تھا شاید میں اپنے ہی بچوں کا مستقبل سیاہ کرنے پہ تلا ہوا تھا.
رہی بات امن و امان کی ! تو پریشانی کی کیا بات ہے میں جہاں رہائش پذیر ہوں وہاں کالونی والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گارڈ رکھ لئے ہیں . اصل میں پریشانی مجہے اپنی اہلیہ کی ہے وہ بیچاری اپنے دور کے رشتہ داروں کے ہاں ڈاکہ پڑنے سے کافی دن پریشان رہی . اور انھیں پرچہ کٹوانے کے لئے بھی پیسے دینے پڑے . مجہے لگا کے اگر عمران خان آگیا تو وہ کم از کم پولیس کا نظام تو ٹھیک کر ہی دے گا . مگر جب تک میں محفوظ ہوں مجہے انکے بارے میں سوچنے کا کوئی حق نہی. شاید میرے اعصاب کمزور ہو گئے ہیں . ہاں ایک بات تو میں آپ کو بتانا بھول ہی گیا میرے گھر کام کرنے والے الیکٹریشن نے چند دن پہلے قسطوں پہ ایک موٹر سائکل لی تھی مگر چند اس سے زیادہ ضرورت مند حضرات گن پوانٹ پہ چھین لے گنے . مگر مجہے کیا فرق پڑتا ہے میری گاڑی تو سلامت ہے.
میں کتنا بیوقوف ہوں ! تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہا، ان لوگوں کا جو کہتے ہیں کے ٹیکس سے ملک کا اخراجات پورے کریں گے. میں تو پہلے سے ہی ٹیکس ادا کرتا ہوں اور اگر کل کو تحریک انصاف کی حکومت آ بھی جاتی ہے اور وہ ٹیکس بڑھا دیتے تو میری آمدنی پہ براہ راست فرق پر سکتا تھا اور میں انھی کے حق میں آواز اٹھاتا رہا. مجہے لگا میرے ٹیکس کے پیسے کسی مناسب جگہ پے استعمال ہونگے شاید مجہے دن میں خواب دیکھنے کی عادت ہے.
مجہے سمجھ نہی آرہا کے میں کب سے جذبات کی رو میں بہہ کر فیصلے کرنے لگا . جب میرے گھر میں بجلی کے حصول کے لئے متبادل ذرائع موجود ہیں تو مجہے کیا پڑے کے وہ غریب کیسے رات گزارتا ہوگا جسکے پاس اتنے پیسے نہی کے وہ اپنے لئے بجلی خرید سکے . شاید مرے دل میں غریبوں کے لئے زیادہ درد موجود ہے شاید یہی وجہ تھی جس نے مجہے دن رات بازاروں میں اور لوگوں کے گھر گھر جا کے ووٹ مانگنے پہ مجبور کیا.
مجہے لگا کے عمران خان ڈرون گرا لے گا . مگر ڈرون حملوں میں میرے گھر والے تو نہی مر رہے تھے پھر مجہے کیا پڑی تھی کہ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کے عمران کے جلسوں میں صرف یہ سننے جاتا تھا کہ وہ بس ایک بار کہہ دے وہ ڈرون حملے رکوا دے گا.
مجھ سے ایک غلطی ہو گئی میں ان لوگوں کا بھلا سوچنے لگا جو ان نعمتوں سے محروم تھے مگر میں ان لوگوں سے اجازت لینا بھول گیا. مگر انھیں مجھ پہ اعتماد نہ تھا . جب آج تک کسی نے انکے بارے میں نہی سوچا تو آج انھیں میری بات پہ کیسے یقین آجاتا. انھیں لگا میں جو خواب انھیں دکھا رہا ہوں انکی تعبیر ممکن ہی نہی . شاید میں پچھتا رہا ہوں میری حد سے زیادہ حب الوطنی میرے مستقبل کی را ہ میں روکاوٹ بن گئی تھی.
جانے میں سوچ رہا تھا میں بھی باقی دوستوں کی طرح ملک چھوڑ کے جا سکتا تھا مگر مجہے لگا اگر میں ہی ملک چھوڑ گیا تو اسے ٹھیک کون کرے گا . میں غلط تھا اگر ملک ٹھیک ہو گیا تو سب کو ٹھیک ہونا پڑے گا اور یہ رسک کوئی نہی لینا چاہتا. مجہے یہ ماننے میں کوئی عار نہی کے شاید میں حواس کھو بیٹھا تھا.
جو لوگ یہ فرماتے ہیں کے تحریک انصاف صرف اپر مڈل کلاس اور برگر فمیلز کی جماعت ہے شاید ٹھیک ہی کہتے ہیں . بھلا اپر مڈل کلاس یا برگر فمیلز کو یہ حق کب سے پوھنچنے لگا کے وہ اپنی معاشرتی ذمہ داری پوری کریں . انھیں کیا فرق پڑتا ہے جب لوگ ڈگری ہاتھ میں لئے نوکریوں کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں. پھر انھیں سوچنے کی کیا ضرورت.
ہمارے بزرگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں بات کرنے کی تمیز نہی . تلخی ہماری رگ رگ میں اتر چکی ہے میرا ان سے ایک ہی سوال ہے . آپ نے جو بویا وہی فصل اب پک کے تیار ہو چکی ہے . تلخیاں بو کے پھولوں کی فصل کا انتظار ؟؟؟؟ آپ زندگی بھر لوگوں کی زیادتیوں پر خاموش رہے آپکے فیصلوں نے ملک کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دی جنھوں نے اس مٹی کو ہموار تو کیا کرنا تھا اوزار بھی بیچ ڈالے.

میں شاید پھر بہک رہا ہوں . مجہے زیادہ نہیں سوچنا چاہیے ، کون بیوقوف تھا جو مجہے خواب غفلت سے جگانے چلا تھا . مجہے لگتا ہے وہ بھی اپنے حواس کھو بیٹھا تھا . کیا مجہے کوئی بتائے گا کہ میں لوگوں کو جو خواب بیچ رہا ہوں وہ سچ بھی ثابت ہو سکتے ہیں.
 
پاکستانیوں سے سوال کیا میں غلط کر رہا تھا کیا مجھے اپنی دنیا میں لو ٹ جانا چاہیۓ کیا امید کا دامن چھوڑ دینا چا ہیئے ؟؟؟

 

MUHAMMAD NADEEM YOUSUF.
ADVOCATE.
COORDINATOR, PTI ITALY.
0039 3293526605

http://www.insaf.pk/Chapters/International/Italy

https://www.facebook.com/muhammadnadeem.yousuf

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ہم وطن کے قاتل انڈین کو تیس سال جیل کی سزا

 بریشیا (حاجی وحید پرویز) ایک انڈیین باشندے سردارا سنگھ کو اپنے ہموطن اور دوست بھوپندر سنگھ کو قتل کرنے کے جرم میں بریشیا کی عدالت نے 30 سال جیل کی سزا کا حکم دیا ہے- سردارا سنگھ نے اپنے دوست کو دسمبر 2011میں بریشیا VIACREMONAپر واقع مکان میں شراب کے نشے کی حالت میں چھریوں کے پے در پے وار کر کے بڑی سفاکی سے معمولی تنازعے کی بنا پر قتل کر دیا تھا- وہ لاش کو ایک سوٹ کیس میں رکھ کر فلیٹ سے نیچے لا ریا تھا کہ ایک اٹالین شخص کے دیکھ لینے پر لاش کو لابی میں چھوڑ کر فرار ہو گیا - بعد میں پولیس نے اسے بیرگامو سے گرفتار کر لیا تھا-

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پاکستان تحریک انصاف پیرس کا اجلاس

 

27 APRIL شام چھ بجے پاکستان تحریک انصاف پیرس کے زیرِ اہتمام ایک جلسے کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد نہ صرف پیرس میں مقیم پاکستانیوں بلکہ پاکستان اور دیگر تمام ممالک میں پائے جانے والے پاکستانیوں کو اس بات سے آگاہ کرنا تھا اور یاد دہانی کروانی تھی کہ الیکشن میں ایک ایسی پارٹی کو ووٹ دیں جو ملک میں تبدیلی لائے ۔ جو سرمایہ دارانہ ،جاگیردارانہ اور پشت در پشت چلنی والی سیاست کا خاتمہ کرسکے۔ جو اس نظام کو بدل کر ایک ایسے پاکستان کا نقشہ پیش کرے جس کی مثال تاریخ اور دنیا میں کہیں نہ ملتی ہو۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سب لوگ مل کر ایک ایسی سیاسی جماعت کو موقع دیں جو ملک میں صحیح معنوں میں تبدیلی لائے نہ کہ چھوٹے وعدے کرے ۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلامِ پاک سے ہوا اور ایک معصوم بچے محمد حسنین نے تلاوت کلام پیش کی اس کے بعد ایک اور بہت پیارے بچے محمد حنین نے حضرت محمدۖ کی شان میں ہدیہ ءِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کی تفصیلات بتانے سے پہلے میں یہ بتانا ضروری سمجھتاہوں کہ پاکستان تحریک انصاف پیرس کے سرکردہ رکن اور روحِ رواں کون ہیں۔

پیرس میں تحریکِ انصاف کے کورڈینیٹر نہایت خوش لباس اور دلنشیں شخصیت ابوبکر گوندل ہیں ۔سیکریٹری انفارمیشن نوجوان اور مرنجہ مرنج شخصیت یاسر قدیر ہیں۔ یوتھ ونگ کے جنرل سیکریٹری دراز قد ، ہنس مکھ اور ملنسار یاسر اقبال خان ہیں۔ یوتھ ونگ کے پریزیڈنٹ انقلابی جذبے سے بھرپور سہیل بھدر ہیں جبکہ یوتھ ونگ اورگنائیزر فرخ گوندل ہیں۔

تلاوت کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول پیش کرنے کے پیرس میں تحریک انصا ف کی بنیاد رکھنے والے محترم صابرخان کو سٹیج پے بلایا گیا اور اس کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغازکیا گیا۔ سب سے پہلے محمد عطا ملک نے پاکستان تحریک انصاب کے حوالے سے پریزینٹیشن دی۔ اس کے اغراض ومقاصدکے بارے میں لوگوں کو مفصل بتایا گیا۔ تحریک انصاف کے منشور پے روشنی ڈالی گئی۔ اس کے بعد عارف مصطفے کو دعوت دی گئی جو اپنی شعلہ بیاں، انقلابی اور جوشیلی تقریر کے حوالے سے پورے پیرس میں مشہور ہیں۔ انہوں نے اتنہائی جوشیلے اور دھواں دار انداز میں کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت پاکستان میں تبدیلی لاسکتی ہے تو وہ ہے پاکستان تحریک انصاف ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان غربت ، بھوک، افلاس کے دہانے پے کھڑا ہے۔ ملک میں بجلی ، پانی، گیس کا بحران ہے ۔ہمیں پرانے لوگوں کا ساتھ دینے کے بجائے نئے لوگوں کو موقع دینا چاہیئے اور نئے لوگوں میں عمران خان وہ واحد لیڈر ہے جو ملک میں تبدیلی لا سکتا ہے اور اس تبدیلی میں ہم سب کو اس کا ساتھ دینا ہوگا ۔گو کہ ہم پردیس میں رہنے والے اپنے ووٹ کا حق استعمال نہیں کرسکتے لیکن ہم پاکستان میں پائے جانے والے اپنے بہن بھائیوں، ماں باپ ، عزیز و اقارت کو اس طرف مائل تو کرسکتے ہیں کہ اگر اپنے مسائل کا حل چاہتے ہوں تو بلے پے نشان لگاؤ ان پنجرے میں بند سرکس کے شیرو ں کو بھول جاؤ۔ان مداریوں اور شعبدہ بازوں کے چکر سے نکل آؤ۔ ان کی اس جوشیلے تقریر جس کا لفظوں میں احاطہ کرنامشکل ہے سننے کے بعد پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور وہاں بیٹھے ،بچے ،عورتیں، مرد سب تھوڑی دیر کے لیئے یہ محسوس کرنے لگے جیسے ملک میں تبدیلی آچکی ہے۔ اس کے بعد پریس سیکریٹری اور میڈیاء کورڈینیٹر نے ملکر وڈیو پے تحریک انصاف کی اغراض و مقاصد اور اس کی موجودہ سرگرمیوں پے ایک پریزینٹیشن دکھائی۔ جس کو لوگوں نے بہت انہماک سے دیکھا۔ اس کے بعد پاکستان میں موجود پورے یورپ کے کورڈینیٹر اور پارٹی کے ڈپٹی سیکریٹری کا ٹیلیفونک پیغام ہال میں موجود سب لوگوں کو سنایا گیا۔ انہوں نے پیرس میں پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا اور تالیوں کی گونج سنتے ہوئے اس بات کوسراہا کہ آپ لوگ پردیس میں اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر اس جلسے میں آئے اور انہوں بچوں اور خواتین کا خاص طور پے شکریہ ادا کیا۔

اس کے بعد یاسر خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گو کہ ہم یہاں رہ ووٹ نہیں دے سکتے لیکن ہم لوگ کسی ایک شخص کو بھی پاکستان فون کرکے کہ یہ پیغام دے دیں کہ اپنا قیمتی ووٹ بلے پر لگائے تو ہمارا یہاں آنے کا مقصد پورا ہوجائے گا اور ایسا عین ممکن ہے یہی ایک ووٹ تبدیلی لائے گا۔ اس کے بعد پیرس میں موجود نوجوان شاعر نے اپنا کلام پیش کیا جس میں انہوں نے ایک نظم خاص طور پاکستا ن تحریک انصاف کی شان میں لکھی اور دوسری عمران خان کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے

لکھی۔ ان کی خوبصورت شاعری سن ساراحال تالیوں گونج اٹھا اورلوگوں انہیں بڑھ چڑھ کر داددی۔

پیرس میں تحریک انصاف کی عورتوں سرگرم رکن ناصرہ فاروقی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ہال موجود تمام حاضرین سے التماس کرتی ہوں کہ اس دفعہ اپنے عزیز و اقارب کو اس بات کی طرف مائل کریں اور قائل کریں کہ ووٹ بلے پے لگائیں انہوں نے کہا دیارِ غیر میں رہنے اسی فیصد پاکستانی عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہیں اور وہ پاکستان میں پائے جانے والے لوگوں سے زیادہ حساس ہیں۔ وہ زندگی کی باریکیوں اور تلخیوں کو زیادہ باریکی سے سمجھ سکتے ہیں ۔انہوں کہا کہ ہم پردیس میں رہنے والے اگر پاکستان میں موجود کسی پارٹی سے تعلق نہ رکھے نہ ہی سیاسی سرگرمیوں حصہ لیں تو اس سے ہماری زندگی میں فرق نہیں پڑتا لیکن ہم جسمانی طور پے تو یہاں موجود ہوتے ہیں لیکن دل و دماغ وہیں چھوڑ آتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہماری وابستگیاں پاکستان اور وہاں رہنے والے ہمارے بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ ہوتے ہیں ۔اگر وہ ہمیں اپنے مسائل ہمیں پیش کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ان سے یہ درخواست کرسکتے کہ اس دفعہ ووٹ بلے پے لگائیں اور اپنے گوناگوں مسائل سے نجات پائیں۔ اس کے بعد آصفہ ہاشمی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ اپنی ساری زندگی پردیس میں گزار دیتیں ہیں اور ہمارے مسائل پاکستان میں رہنے والے لوگوں سے بہت مختلف ہوتے ہیں اور جب ہم پاکستان جاتے ہیں تو ہم وہاں کے مسائل سنتے ہیں ۔ اس طرح ہمارے مسائل دوگنا ہوجاتے ہیں۔ یہاں کے مسائل تو کسی نا کسی طریقے

سے حل ہوجاتے ہیں لیکن وہاں کے مسائل جن سے ہم جان چھڑاکے یہاں پردیس میں آکے ڈیرا جما لیتے ہیں پھر بھی ختم نہیں ہوتے اور یہ پیسنٹھ سا ل سے ختم نہیں ہوئے ان کا ایک ہی حل ہے کہ نئی سوچ نئے ذہن نئے لوگوں کو آگے لائیں۔ انہوں نے کہا ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ڈرون حملے اور اس دیگر گھمبیر مسائل جن کے بارے میں ہمارے حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ان کے بارے میں پاکستان تحریک انصاف نے آواز اٹھائی کیونکہ عمران خان نے ملک سے کچھ لیا نہیں بلکہ دیا ہے ۔اس کی زندہ مثال شوکت خانم میموریل کینسر ہاسپیٹل ہے۔ اس کے بعد رانا عمران اورحاجی شکیل نے وقت کی کمی کے باعث اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔

لوگوں کی ذہنی حالت کومدِ نظر رکھتے ہوئے تقاریر کے دوران محفل کو خوشگوار بنانے کے لیئے شعراء کرام کا حصہ رکھاگیا تانکہ وہ اپنے خوبصورت اشعار سے محفل کی ترو تازگی برقرار رکھیں۔ اس کے بعدایک نوجوان مزاحیہ شاعر کو سٹیج پے بلایا گیا ۔فیصل بھلوال نے اپنے کوخوبصورت اور مزاحیہ اشعار سے پوری محفل لوٹ لی اور ان کے ایک ایک شعر پے محفل میں موجود تمام لوگوں نے دل کھول کر داد دی اور پورے ہال میں واہ واہ کی گونج سنائی دینے لگی اور کئی لوگ تو قہقہے لگا کر ہنسنے لگے۔ یہ فیصل بھلوال کے لیئے کسی انعام سے کم نہیں تھا۔

اس کے بعد افضال رانجھا ، فرخ گوندل، وحید ڈار اور منور جٹ نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آخرمیں ابوبکر گوندل نے تمام حاضرین مجلس کا شکریہ ادا کیا اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا پردیس میں رہتے ہوئے اس طرح کی تقاریب کا انعقاد کرنا بہت مشکل ہوتا ہر کسی کی اپنی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں۔ ہم میں سے نناوے فیصد لوگ اپنے مالی مسائل سے گھبرا کر یہاں آتے ہیں۔ ہم لوگ اس تبدیلی کے خواہاں اس لیئے ہیں ہم لوگ ایک ایسے پاکستان میں جائیں جہاں بنیادی ضروریات زندگی کے لیئے انسان کو دھکے نہ کھانے پڑیں اور ایسا پاکستا ن ہو کہ ہم لوگ پردیس میں محنت مزدوری کرنے

کے بجائے اپنے دیس میں دو قت کی عزت کی روٹی کھائیں۔ ایسا پاکستان تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب ملک میں تبدیلی آئے اور تبدیلی سیاسی جماعت نہیں لاتی بلکہ لوگ لاتے ہیں اور اس دفعہ تبدیلی کا بیڑہ پاکستان تحریک انصاف نے اٹھایا ہے اور اس کے باگ ڈور عمران خان کے ہاتھ میں ہے ۔ہمیں چاہیئے کہ ہم عمران خان کابھرپور ساتھ دیں اور اگر ہم لوگ سہی معنوں میں تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں بلے پے مہر لگانی ہوگی اور پرانی مورثی، جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ سیاست بھلانی ہوگی۔ سب سے آخر میں ایک پر تکلف دعوت کا انتظام کیا گیا۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہواتھا اور یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اب لوگوں میں شعور آگیا ہے اور لوگ سہی معنوں میں تبدیلی چاہتے ہیں۔

 

سرفراز بیگ پیرس

0753250877

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com