Sunday, May 26th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

اہم خبریں

البینگا شہر میں شمالی اٹلی کی سب سے بڑی مسجد کا افتتاح

روم۔ 11 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کے ریجن لگوریا کے البینگا شہر میں شمالی اٹلی کی سب سے بڑی مسجد کا افتتاح کردیا گیا ہے ۔ اس مسجد کا افتتاح لیگا نورد کی میئر روزی گورارنیری نے کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میری پارٹی پر ہمیشہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ نسل پرست پارٹی ہے اور غیر ملکیوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف ہے  حالانکہ یہ صرف پراپیگنڈہ ہے ۔ میرا شہر البینگا غیر ملکیوں کو تمام وہ سہولتیں فراہم کر رہا ہے جو کہ انکی ضروریات کا حصہ ہیں ۔ اس شہر میں غیر ملکی انٹیگریٹ ہو رہے ہیں اور اب ہم نے شمالی اٹلی کی سب سے بڑی اور خوبصورت مسجد بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم اسلام کے خلاف نہیں ہیں ۔ میئر روزی نے اسلامی کمونٹی سے ملاقات کی اور انہیں مبارکباد پیش کی ۔ تصویر میں میئر روزی گوارنیری

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

تعلیم کی ڈگری کے بعد نوکری کا مسئلہ

روم ، تحریر ، ایلویو پاسکا ۔۔۔ وہ غیر ملکی طالب علم جو کہ اٹلی کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں ، اگر یہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کام تلاش کر لیں تو انہیں کام کی پرمیسو دی سوجورنو جاری کی جائے گی اور اگر یہ ایسا نہیں کریں گے تو انہیں اپنے ملک واپس جانا ہو گا یا پھر یہ لوگ غیر قانونی تارکین وطن بن جائیں گے ۔ اٹلی کی وزارت داخلہ کے امیگریشن کے ڈائریکٹر نے کہا کہ اب بھی کئی تھانے ایسے ہیں جو کہ طالب علموں کو کام نہ ہونے پر کام تلاش کرنے کی پرمیسو دی سوجورنو جاری کر دیتے ہیں لیکن یہ بھی قانون کی نفی کرتا ہے ۔ کیونکہ اگر ان طالب علموں نے اپنا یونیورسٹی کا کورس اچھے نمبروں میں پاس کیا ہے اور اس ملک میں پوری طرح انٹیگریٹ ہیں تو اس صورت میں بھی ان کے لیے ضروری ہے کہ یہ اپنی تعلیم ختم کرنے سے قبل ایک قانونی کنٹریکٹ والا کام تلاش کریں ۔ آج کل اٹلی میں معاشی بحران ہے اور اب کافی طالب علم خواہ وہ اٹالین ہوں یا دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے  ۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں کوئی کام مل جائے ۔ اٹلی کے امیگریشن کے قانون میں شامل ہے کہ وہ غیر ملکی طالب علم جو کہ اٹلی میں تعلیم مکمل کرتے ہیں ، ماسٹر کرتے ہیں یا پھر پی ایچ ڈی کرتے ہیں ، ان کا حق ہے کہ انہیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد فوری طور پر کام نہ ہونے کی صورت میں کام تلاش کرنے کی 6 ماہ کی سوجورنو جاری کی جائے ۔ انہوں  نے بتایا کہ اس قانون پر بحث ہونی لازمی ہے کیونکہ ہم نے تمام تھانوں کو ایک سرکولر روانہ کر دیا ہے ، جس میں لکھا ہے کہ غیر ملکی طالب علم اگر تعلیم مکمل کرتے ہیں اور اگر اسکے بعد کام تلاش کر لیتے ہیں تو انہیں تعلیم کی سوجورنو تبدیل کرتے ہوئے کام کی سوجورنو دی جائے ۔ اگر ان کے پاس کام نہیں ہے تو انہیں کام تلاش کرنے کی سوجورنو نہ جاری کی جائے ۔  کام کی سوجورنو حاصل کرنے کے لیے انہیں کوٹوں کا انتظار نہیں کرنا ہو گا لیکن کورس مکمل کرنا لازمی ہے

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

البانو کرکٹ کلب کا قیام

روم۔ 5 مارچ 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے چھوٹے سے شہر البانو میں ایک کرکٹ ٹیم Albano Cricket Clubکا قیام وجود میں آیا ہے ۔ اس شہر کی ٹینس کی کلب نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستانی اور انڈین لڑکوں کے لیے ایک کرکٹ کلب کا انعقاد کریں ۔ انہوں نے کلب کے ممبران سے مشورہ کیا اور ایک اجلاس بلاتے ہوئے کرکٹ کلب کا اعلان کردیا ۔ اسکے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ ٹیم کو سپانسر کسے کیا جائے  ۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک لاٹری سسٹم کے زریعے ہزاروں یورو جمع کرلیے ۔ انہوں نے لاٹری سسٹم میں بھی موٹر سائیکل کمپنی بیریتا سے معاہدہ کیا ۔ اب اس کلب کے پاس ٹیم کی وردی، کرکٹ کا سامان اور یہاں کے میئر کی مدد کے ساتھ ایک گراؤنڈ بھی وجود میں آگئی ہے ۔ کلب کے اراکین کی خواہش تھی کہ وہ مستقبل میں ہونے والی چیمپئن لیگ میں حصہ لیں اور اس سلسلے میں بھی یہ لوگ لیگ میں کھیلنے کے لیے شامل ہو گئے ہیں اور اب Albano Cricket Clubمئی کے مہینے میں سیریل سی اور انڈر 17 کا ٹورنامنٹ کھیلے گی ۔ وہ کھلاڑی جو کہ البانو کرکٹ کلب میں کھیلنے کے ارادہ رکھتے ہیں ، وہ کلب میں اندراج کروا سکتے ہیں ۔ کلب کے کوچ سندیپ کمار ہیں ، جو کہ اسٹیشن پر موجود ڈونر کباب کے مالک ہیں اور Kingsgrove Milanoکلب میں کھیلتے رہے ہیں ۔ البانو کے میئر Maurizio Donisiنے کہا کہ کرکٹ کلب کے وجود سے غیر ملکی اور اٹالین میں میل ملاپ پیدا ہو گا اور انٹیگریشن کا وجود عمل میں آئے گا ۔ تصویر میں البانو کرکٹ ٹیم 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم تھانے نے 2 مہینوں میں 22 ہزار سوجورنو جاری کی ہیں

روم۔ 4 مارچ 2013 ۔۔۔۔ آزاد کی انٹرنیٹ کی اٹالین سائٹ استرانیری ان اطالیہ نے روم کے امیگریشن کے دفتر کے ڈائریکٹر Maurizio Improtaامپروتا کا انٹرویو کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے اس سال کے پہلے 2 مہینوں میں 22 ہزار پرمیسو دی سوجورنو جاری کی ہیں ۔ یاد رہے کہ پرمیسو دی سوجورنو اٹلی میں کام کرنے کا پرمٹ ہے ۔ اس کے علاوہ 59 سوجورنو اس لیے مسترد کردی گئی ہیں کیونکہ غیر ملکیوں نے قانون کے مطابق کوائف پورے نہیں کیے ۔ ہم نے 816 اٹالین شہریت کی درخواستیں قبول کی ہیں اور اور ہمارے دفتر میں 23 ہزار غیر ملکیوں نے فنگر پرنٹ دیے ہیں ۔ ہمارے زون میں 1232 غیر ملکیوں کو گرفتار کرتے ہوئے انکی تفتیش کی گئی ہے ، جن میں 961 غیر یورپین شہری ہیں اور 270 یورپین ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اسکے بعد 545 غیر ملکیوں کو ملک بدری کا نوٹس دیا گيا ہے اور 183 یورپین شہریوں کو اٹلی چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ جیل سے 11 غیر یورپین غیر ملکیوں کو سیکورٹی کے ساتھ  جہاز میں بٹھا کر ملک بدر کیا گیا ہے اور اسکے بعد روم شہر میں موجود غیر ملکیوں کی جیل C.I.E. di Ponte Galeriaسے 146 غیر ملکیوں کو سیکورٹی کے ساتھ  جہاز میں بٹھا کر ملک بدر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ جیل یا سنٹر اسی خاطر ائرپورٹ کے قریب بنایا گیا ہے ۔ اسی عرصے میں 13 غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور 29 غیر ملکیوں پر غیر قانونی طور پر امیگریشن کا کاروبار کرنے کا پرچہ کیا گیا ہے ۔ روم کے امیگریشن کے دفتر نے شمالی افریقہ کی ایمرجنسی کے لیے 1328 غیر ملکیوں کو انسانی ہمدردی کی سوجورنو جاری کی ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 04 مارچ 2013 19:44

اٹلی کے الکیشن میں غیر ملکی امیدوار ناکام رہے

روم، یکم مارچ 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے موجودہ الکیشن میں تمام غیر ملکی قومی اسمبلی اور ریجن کی اسمبلی میں داخل نہیں ہو سکے ۔ اٹلی کے موجودہ الکیشن کے قانون کیوجہ سے ووٹر پارٹیوں کو ووٹ ڈالتے ہیں اور اسکے بعد پارٹی والے اپنے منتخب امیدواروں میں سیٹیں تقسیم کرتے ہیں ۔ اس قانون کی بدولت پی ڈی پارٹی میں ایک مراکش نژاد اور ایک افریقہ نژاد ڈاکٹر قومی اسمبلی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔ اسکے برعکس وہ امیدوار جن پر یہ لازمی تھا کہ ووٹ حاصل کرتے ہوئے ممبر بنیں ، انکے لیے ناکامی ثابت ہوئی ہے ۔ روم کے ریجن لاسیو میں کونگو کے دو امیدوار کامیابی حاصل نہیں کر سکے ۔ Jaen-Leonard Touadiاٹلی کی قومی اسمبلی کے سابقہ ممبر ہیں اور ان کا نام پی ڈی کی لسٹ میں سب سے آگے تھا لیکن ووٹوں کے بعد انکا نام 14ویں نمبر پر چلا گیا ہے ۔ ان کے بعد اٹلی کے مشہور صحافی Fidel Mbanga Baunaجن کا تعلق کونگو سے ہے ، یہ بھی پی ڈی ایل کی ٹکٹ پر امیدوار کھڑے ہوتے ہوئے الکیشن ہار گئے ہیں اور اسکے علاوہ انہیں  نسل پرستی کا شکار بھی ہونا پڑا ہے ۔ انہیں کالا سمجھ کر انکی بے عزتی کی گئی ہے ۔ لومبردیا ریجن کے الکیشن میں بھی تمام غیر ملکی ناکام رہے ہیں اور ہمارے ایک جوان پاکستانی سید ریاص بھی 1361 ووٹ حاصل کر سکے ہیں اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ماہرین کے مطابق اٹلی کے شہری غیر ملکیوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کے سلسلے میں شک و شبہہ میں پڑ جاتے ہیں، اسی وجہ سے  اس ملک میں غیر ملکیوں کو لیڈر بننے کے لیے دیر لگے گی ۔ حالانکہ غیر ملکی لیڈران میں کافی ایسی خصوصیات ہیں جو کہ اس ملک کی معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی میں اہم تبدیلیاں واقع کرسکتی ہیں ۔ تصویر میں ریاص سید

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 03 مارچ 2013 17:34