Friday, Mar 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

اہم خبریں

اٹلی اور پاکستان نے باہمی معاہدے پر دستخط کردیے

روم۔ 4 فروری 2013 ۔۔۔۔ گزشتہ روز اٹلی کے وزیر خارجہ تیرسی اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے روم میں باہمی معاہدے پر دستخط کردیے ہیں ۔ دونوں ممالک میں معاشی ، ثقافتی اور کوآپریشن کا معاہدہ تہہ پایا ہے ۔ وزیرخارجہ تیرسی  نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مابین باہمی بزنس ایک عرب یورو تک پہنچ چکا ہے ۔ اٹلی کی مصنوعات کی امپورٹ پاکستان میں 20 فیصد زیادہ ہو گئی ہیں  ۔ انہوں نے کہا کہ خزاں کے موسم میں پاکستان کی مصنوعات کی نمائش اٹلی میں کی جائے گی ، تا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت کو تقویت حاصل ہو سکے ۔ یاد رہے کہ اٹلی اور پاکستان دوسرے بین الاقوامی منصوبوں پر بھی ملکر کام کررہے ہیں اور اگلے ہفتوں میں ان منصوبوں پر اٹلی کے دارالخلافے روم میں بات چیت کی جائے گی ۔ سوموار کو اقوام متحدہ کی کونصل میں ترمیم پر بحث کی جائے گی ، جس پر دونوں ممالک آپس میں اتفاق کرتے ہیں ۔ اس ترمیم کے مطابق efficienza, partecipazione edemocraziaیا جمہوریت، میل ملاپ  اور دیانت داری جیسی اقدار شامل ہیں ۔ اس کانفرنس کے چند دنوں بعد مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق پر بات چیت کی جائے گی ۔ وزیر خارجہ تیرسی نے کہا کہ ہم مذہبی ہم آہنگی اور افغانستان میں امن کے منصوبے پر بھی پاکستان سے مکمل تعاون پر یقین رکھتے ہیں ۔ پاکستانی وزیر خارجہ ربانی کھر نے اپنی تقریر میں کہا کہ اٹلی میں پاکستانی کمونٹی آباد ہے اور اٹلی کی معاشی، معاشرتی اور باہمی میل ملاپ کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہے ۔ اسکے علاوہ اٹلی پاکستان اور یورپ کے مابین تعلقات ہموار کرنے کے لیے دوستی کا کردار ادا کررہا  ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ قدرتی زرائع موجود ہیں جو کہ اٹلی کی ترقی کے لیے بھی سودمند ثابت ہوسکتے ہیں ۔ اٹلی میں آباد پاکستانی کمونٹی کافی عرصے سے آباد ہے اور اب تیسری نسل پیدا ہو چکی ہے ۔ پاکستانیوں کی اولاد یہاں کے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کررہی ہے ۔ روم میں موجود پاکستانی ایمبیسی نے ہونہار طالب علم کے لیے ایک ہزار یورو کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے ۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ ہم ملتان میں اغوا ہونے والے اٹالین پورتو کو آزاد کروانے کے لیے انتہائی کوشش کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ انہیں جلد آزاد کردیا جائے گا ۔ یاد رہے کہ اٹلی کی موجودہ حکومت عبوری حکومت ہے اور چند دنوں بعد نئی حکومت آنے والی ہے ۔تصویر میں اٹالین وزیر خارجہ تیرسی

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ضروری اعلان

پیارے قارئین ، وہ تارکین وطن اور پیارے پاکستانی جو کہ اٹلی میں آباد ہیں اور آزاد اخبار پیپر یا کاغذ پر چھپا ہوا پڑھتے ہیں ، ان سے التماس کی جاتی ہے کہ موجودہ معاشی بحران کیوجہ سے آزاد کی پبلسٹی کم ہو گئی ہے ، اس لیے کچھ عرصہ کے لیے ہمیں آزاد ماہانہ بند کرنا پڑ رہا ہے ۔ آزاد 12 سال سے زیادہ عرصے سے اٹلی میں شائع ہو رہا ہے اور تارکین وطن کو خبریں، قوانین اور دوسری معلومات فراہم کرتے ہوئے انکی خدمت کررہا ہے ۔ اب آزاد صرف انٹرنیٹ کے زریعے اپنے قارئین سے منسلک رہے گا اور جونہی پبلسٹی آئے گی تو کاغذ پر بھی چھپا آزاد آپکے گھر، دکان اور دفتر میں پہنچ جائے گا ، آپکا خدمتگار ایڈیٹر آزاد اعجاز احمد

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ریذیڈنس کے لیے رجسٹریشن کا تعلق گھر کی حالت سے منسلک نہیں ، اسٹیٹ کونصل

روم ۔ 22 جنوری 2013 ۔۔۔ اٹلی کی حکومت کی اسٹیٹ کونصل نے حکم جاری کیا ہے کہ غیر ملکیوں کے ریذیڈنس کے لیے کمونے میں  رجسٹریشن کا تعلق گھر کی حالت سے منسلک نہیں ہے ۔ یاد رہے کہ سابقہ برلسکونی کی حکومت نے سیکورٹی کا قانون legge sulla sicurezza 94/2009بنایا تھا ، جس کے مطابق غیر ملکیوں کے لیے ضروری قرار دیدیا گیا تھا کہ وہ ریذیڈنس بنانے کے لیے یا اسے بدلنے کے لیے اپنی رہائش کی چیکنگ کروائیں اور اس سلسلے میں ان کے گھر کا معائنہ کیا جاتا تھا اور یہ دیکھا جاتا تھا ، اگر ان کا گھر قانون کے مطابق تعمیر ہوا ہے ، ہوادار ہے اور اسکی حالت خستہ نہیں ہے ۔ یعنی انہیں condizioni igienico-sanitarieیعنی صاف ستھرا اور پائیدار گھر ہونے کا سرٹیفیکٹ مہیا کرنا ہوتا تھا ۔ اٹلی کی حکومت نے ایک حکم کے زریعے تمام پریفی تورا کو یہ واضع کردیا ہے کہ وہ غیر ملکیوں کے ریذیڈنس کے لیے انہیں اس سرٹیفیکٹ کی موجودگی نہ پوچھیں ۔ اسکے علاوہ تمام کمونوں کو بھی یہ واضع کردیا گیا ہے کہ وہ غیر ملکیوں کو اناگرافے میں ریذیڈنس اپلائی کرنے کے لیے ان کے گھر کا کنٹرول نہ کریں کیونکہ یہ ہمارے آئین کے آرٹیکل 3 کے خلاف ہے ۔ عام طور پر شمالی اٹلی میں جہاں لیگا نورد پارٹی کے میئر موجود ہیں ، وہاں جب غیر ملکی ریذیڈنس کے لیے رجسٹریشن کروانے جاتے تھے تو ان کے گھر کا کنٹرول کیا جاتا تھا ۔ لیگا نورد غیر ملکیوں کی دشمن سیاسی جماعت ہے اور اس قانون کیوجہ سے لیگا کے میئر غیر ملکیوں کا اناگرافے میں اندراج روکتے ہوئے انہیں تنگ کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ اب حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایسے قانون سے امتیازی سلوک کو ہوا ملتی ہے کیونکہ یہ کنٹرول صرف غیر ملکیوں کے گھروں کا ہوتا تھا اور اٹالین پر عائد نہیں کیا جاتا تھا ۔ گھر کا صاف ستھرا ہونا، اسکی حالت اچھی ہونی اور اسے قانون کے مطابق ہونے کا تعلق ریذیڈنس سے نہیں ہے ۔ یہ قانون اٹلی میں رہنے والے تمام شہریوں کے لیے بنا ہوا ہے ، یعنی اٹالین اور امیگرنٹس کے لیے ۔ اگر کوئی گھر یا پلازا خستہ حالت کا ہے تو اسے کمونا بند کروا سکتا ہے یا پھر گرا سکتا ہے لیکن اس کا تعلق ریذیڈنس سے منسلک نہیں ہے ۔ غیر ملکی کسی گیراج، انڈر گراؤنڈ گھر، یا کسی دوسری جگہ پر رہتے ہوئے اپنا ریذیڈنس بنوا سکتا ہے کیونکہ وہ اس کا حق ہے اور ریذیڈنس اسے اٹلی میں رہنے کے لیے درکار ہوتا ہے ، اسکے بعد اگر اس کا گھر خطرناک ہے تو کمونا اس گھر چیک کرسکتا ہے ، جیسے اٹالین کاخستہ گھر چیک کیا جاتا ہے ۔ اس حکم کے بعد اب شمالی اٹلی کے نسل پرست میئر غیر ملکیوں کو ریذیڈنس کے لیے تنگ نہیں کریں گے ۔ گھر کاl’idoneità alloggiativaکا سرٹیفیکٹ بھی حلفیہ بیان کے زریعے پیش کیا سکتا ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 22 جنوری 2013 09:32

تمام غیر ملکیوں کو صحت کی سہولت دی جائے گی

روم۔ 11 جنوری 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کی حکومت، صوبائی اسمبلیاں اور ریجنوں نے متحد ہو کر 20 دسمبر 2012 کو اعلان کیا ہے کہ اٹلی میں موجود تمام غیر ملکیوں کو صحت کی سہولت دی جائے گی۔ اٹلی کے آئین کی شک 32 کے مطابق اٹلی میں رہنے والے ہر شخص کا حق ہے کہ وہ اپنا علاج کرواسکے ۔ اٹلی میں غیر ملکیوں کی مختلف قسمیں ہیں یعنی بچے، بوڑھے، جوان، ورکر، بے روزگار، یورپین کمونٹی کے ممبر یا غیر یورپین، ریگولر، غیر قانونی وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح صحت کے قوانین بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک قانون بنایا گیا ہے جو کہ غیر ملکی اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے سود مند ثابت ہو گا ۔ صحت کا کوئی نیا قانون عمل میں نہیں آیا بلکہ پرانے قانون کو متحد کیا گیا ہے ۔ یعنی اٹلی کے چند علاقوں میں یہ قانون قابل قبول تھا اور باقی اس پر عملدرآمد نہیں کرتے تھے لیکن اب یہ قانون پورے اٹلی میں ایک کردیا گیا ہے ۔ اس قانون کے مطابق اٹلی میں رہنے والے تمام غیر ملکیوں کے بچے بجوں کی ڈاکٹر حاصل کر سکتے ہیں ، چاہے انکے والدین قانونی طور پر اٹلی میں موجود ہوں یا پھر غیر قانونی طور پر آباد ہوں ۔ وہ غیر ملکی جو کہ پہلی پرمیسو دی سوجورنو کے لیے اپلائی کرے گا ، اس کا حق ہو گا کہ وہ میڈیکل کارڈ حاصل کرسکے یا پھر صحت کے شعبے میں اپنا اندراج کرواسکے ۔ وہ ضعیف جو کہ خاندان کے ویزے پر اٹلی میں تشریف لائیں گے ، ان کا حق ہو گا کہ وہ تھوڑی سے رقم ادا کرتے ہوئے قومی صحت کے شعبے میں اپنا اندراج کرواسکیں ۔ انکو پہلے کی طرح پرائیویٹ انشورنس نہیں کروانا ہو گی ۔ یاد رہے کہ یہ قانون لومبردیا میں اس وقت رائج کیا گیا تھا ، جب ایک غیر ملکی نے عدالت سے کیس جیتا تھا ۔ اسکے بعد غیر قانونی امیگرنٹس کا حق ہے کہ وہ ضروری علاج معالجہ کرواسکیں ۔ اس کیٹگری میں بڑے آپریشن بھی شامل ہیں ، آپریشن کی صورت میں انہیں اٹالین جیسے حقوق میسر کیے جائیں گے ۔ غیر قانونی غیر ملکی جب کسی ہسپتال میں جائیں گے تو ان کا اندراج خفیہ ہو گا جو کہ پولیس کے حوالے نہیں کیا جائے گا ۔ یاد رہے کہ غیر قانونی امیگرنٹس کو پولیس کا ڈر ہوتا ہے ۔ اسکے علاوہ غیر قانونی والدین جب ہسپتال میں اپنے بچے کی پیدائش کے لیے جائیں گے تو ان سے پرمیسو دی سوجورنو نہیں طلب کی جائے گی ۔ اسکے علاوہ یورپین یونین کے غیر ملکی جو کہ غریب ہیں ، انکا علاج معالجہ بھی مفت کیا جائے گا ۔ تحریر، ایلویو پاسکا

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 10 جنوری 2013 23:25

دوبئی میں سکائپ پر شادی اور گرفتاری

روم۔ 8 جنوری 2013 ۔۔۔۔ ایک پاکستانی امام عمر 39 سال نے متحدہ امارات میں آباد ایک اسٹوڈنٹ لڑکی عمر 19 سال سے سکائپ پر شادی کی ، جو کہ اسلام کے قوانین کے مطابق ہے ۔ اس شادی کے تین ماہ بعد جب میاں بیوی اکٹھا رہنا شروع ہوئے تو لڑکی کے والد نے امام پر پولیس رپورٹ کروادی اور کہا کہ اس نے میری بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے ۔ متحدہ امارات کے قانون کے مطابق یہ زنا کیس ہے ۔ اب جبکہ یہ شادی پاکستان میں قابل قبول ہے ، اس لیے میاں بیوی پر شادی کے بغیر ہم بستری کرنے کا کیس کردیا گیا ہے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ اٹلی میں بھی چند لڑکے اپنے کام کیوجہ سے یا پھر اپنی پرمیسو دی سوجورنو کے اسٹیٹس کیوجہ سے پاکستان نہیں جا سکتے تو وہ بھی فون پر شادی کرتے ہیں ، اب جبکہ سکائپ آگیا ہے تو لازمی بات ہے کہ یہ شادی سکائپ سے کی جائے گی ۔ میلانو کی عدالت میں ایک پاکستانی نے فون کی شادی کو قبول کروانے کے لیے کیس بھی کیا تھا ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 08 جنوری 2013 23:09