Sunday, Jan 20th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

اہم خبریں

سیف اللہ رانجھا کے چکن ہٹ کا افتتاح

روم۔ 15 مارچ 2014 ۔۔۔۔۔۔ آج روم کے خوبصورت اور کمرشل روڈ تبورتینا پر سیف اللہ رانجھا کے چکن ہٹ کا افتتاح کر دیا گیا ہے ۔ آج دوپہر سب سے پہلے لوینیو کے پاکستانیوں کی جانب سے قرآن خوانی کروائی گئی، جس میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے اماموں نے شرکت۔ اسکے بعد ایک میوزک گروپ نے اپنے گیت پیش کیے ۔ قومی اسمبلی کی ایم این اے کمپانا نے فیتا کاٹتے ہوئے چکن ہٹ کیفے کا افتتاح کیا، اس موقع پر علاقے کی میونسپل کمیٹی کے صدر شباتا بھی موجود تھے ۔ سیف اللہ رانجھا روم کی مشہور و معروف شخصیت ہیں اور ٹوگیدر ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے چکن ہٹ میں تمام فوڈ حلال ہے ۔ ہم ہر چیز کی گارنٹی اور کوالٹی کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم سے مدد حاصل کریں گے جو کہ فوڈ کی کوالٹی کنٹرول کے علاوہ اسکی کیلریوں کو بھی کنٹرول کریں گے ۔ کیلری کنٹرول کے لیے ہم نے KCAL کا برانڈ بھی حاصل کر لیا ہے ۔ آج اٹالین اہم شخصیات کے علاوہ پاکستانی شخصیات نے بھی شرکت کی اور رانجھا صاحب کے بزنس کے لیے دعائے خیر کی گئی ۔ سارا دن علاقے کے لوگوں کو فرائی چکن، کباب اور دوسری مصنوعات مفت تقسیم کی گئیں ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 16 مارچ 2014 22:17

کارپی میں اہل تشیع کا جلوس

روم، 8 جون 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے شمالی قصبے کارپی میں اہل تشیع کمونٹی نے عشورہ کا ایک شاندار جلوس نکالا ۔ یہ جلوس امامیہ ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا اور اس میں اٹلی کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے اہل تشیع پاکستانی شریک ہوئے ۔ جلوس میں پانچ سو کے قریب افراد شامل تھے ، عورتیں بھی موجود تھیں ۔ جلوس کارپی کی مختلف سڑکوں سے ہوتا ہوا سنٹر تک پہنجا ۔ جگہ جگہ پر جلوس رکتا رہا ۔ مرثیے پڑھے گئے اور ماتم کیا گیا ۔ اٹالین امام عباس دی پالما نے وعظ کیا اور جلوس کی قیادت کرتے ہوئے اہم کردار ادا کرتے رہے ۔ یاد رہے کہ عباس پالما دس سال قبل مسلمان ہوئے تھے اور ان کا تعلق فیرینزے سے ہے ۔ اب پالما روم میں آباد ہیں ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 30 جون 2013 20:51

پاکستانی ارادہ قتل کے جرم میں گرفتار

روم، 26 جون 2013 ۔۔۔ کل شام روم کے زون کورنیلیا via Guido Montpellierمیں ایک پاکستانی ارادہ قتل کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اس پاکستانی کی عمر 34 سال ہے اور یہ اٹلی میں قانونی طور پر رہائش پزیر ہے ۔ پولیس کے مطابق اس پاکستانی نے غصے میں آکر اپنے ہم وطن پر چھری کے وار کردیے ، اس جرم کے نتیجے میں اسے گرفتار کیا گیا ہے ۔ اس پاکستانی کو ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں نوکری ملی ، جس میں دوسرے پاکستانی کام کرتے ہیں ۔ اس نے اپنے ٹرائی پیرئیڈ کے دوران اپنے کولیگ جس کی عمر 41 سال ہے سے لڑائی کر لی ۔ کہا جاتا ہے کہ انکی لڑائی کام کی تقسیم اور پرانے کام کرنے والوں کی

عزت کے سلسلے میں ہوئی ۔ 34 سالہ پاکستانی نے باورچی خانے سے بڑی چھری اٹھائی اور 41 سالہ پاکستانی پر وار کردیے ۔ 41 سالہ پاکستانی نے بڑی مشکل سے جان بچائی لیکن اسکے باوجود اسکی کونی پر چھری وار کرگئی ۔ وہاں موجود ایک گواہ نے فوری طور پر پولیس کو بلا لیا۔ پولیس نے مجرم کو گرفتار کر لیا اور دوسرے پاکستانی کو ہسپتال پہنچا دیا ۔ زخمی پاکستانی کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اسے پانج دن کے لیے آرام کرنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ 34 سالہ پر ارادہ قتل کا کیس کردیا گیا ہے اور اب اسے سیدھا جیل روانہ کردیا جائے گا ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

شیخ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری صدر سپریم کونسل منہاج القرآن انٹر نیشنل کا دورہ اٹلی


اٹلی-شیخ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری19جون بروز بدھ کو اٹلی کے شہر بلونیا میں تشریف لائے جہاں منہاج القرآن کے اہم عہدداران نے انھیں خوش آمدید کہا وہاں سے اٹلی کے شہر چینتو میں تشریف لے گے جہاں انکے اعزاز میں انھیں عشائیہ دیا گیا اور اس عشائیے میں چینتو شہر کے مہر نے خصوصی ملاقات کی اور محبت کا پیغام دیا 20جون بروز جمعرات کو اٹلی کے شہر آریزو میں جلسہ عام سے خطاب کیا جس کا موضوع جمہوریت اور آج کا پاکستان تھا 21جون بروز جمعہ کو اٹلی کے شہر  کارپی میں ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کےاعزاز میں استقبالیہ دیا گیا جس میں ریجوایمیلیا مودنہ کے عہد داران نے شرکت کی جمعہ کا خطبہ بھی ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے دیا اور باجماعت نماز جمعہ منہاج القرآن مرکز کارپی میں ادا کی 21جون کی رات کارپی میں ایک پرتکلف عشائیہ دیا گیا جس میں  منہاج القرآن کی فیملیز کے علاوہ اٹالین مہمانوں نے بھی شرکت کی 22جون بروز ہفتہ دو بجے دوپہر جمہوریت اور آج کا پاکستان کے عنوان سے کانفرنس اٹلی کے شہر کارپی میں منعقد ہوئی جس میں مردو خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی مزید اٹالین مہمانوں نے بھی خصوصی شرکت کی کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک کے ساتھ حافظ محفوظ نے کیا جن کے بعد بارگاہ رسالت مآب میں ہدیہ نعت عمر بلال اور کئی نعت خوانوں نے حاصل کیا نقابت کے فرائض علام سید غلام مصطفی مشہدی نے سر انجام دئیے خصوصی خطاب شیخ حسن محی الدین قادری نے کیا انھوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کی جمہوریت کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ہر چیز پر اشرافیاء کا حق ہے جو سب سے بڑا ڈاکو ہے وہ سب سے بڑا وزیر صدر اور اس طرح کے اہم عہدوں پر فائز ہو جاتا ہے اور جو سب سے بڑا قاتل ہو اس کو اتنا ہی بڑا عہدہ دے دیا جاتا ہے اس طرح پاکستان کے ہر شعبے پر ایک ظالم ایک ڈاکو اور ایک قاتل بٹھادیاگیا ہے جو غریبوں کی عزتیں جانیں اور مال کھا رہے ہیں انھوں نے مزید کہا کہ جو اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور اسلام کا ایسا نقشہ کھیچ دیتے ہیں جس کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے میثاق مدینہ کے آرٹیکل لوگوں کو سمجھائے جس میں انھوں نے بتایا کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام مذاہب جو مدینہ کے گردونواح میں آباد تھے انکے ساتھ امن معاہدے کیے یہاں تک کہ مدینہ کے یہودیوں کو بھی وہی حقوق حاصل تھے جو ایک مسلمان کو حاصل تھے انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ یہودیوں کا ایک قافلہ مدینہ میں آیا تو انکی عبادت کا وقت ہو گیا تو انکو مسجد نبوی میں عبادت کی اجازت دی گئی مزید انھوں نے کہا اگر انسانی حقوق کی بات کی جائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک نابینا یہودی بھیک مانگ رہا تھا آپ نے اس سے بھیک مانگنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ میرے پاس جزیہ دینے کے لیے کچھ نہیں اس لیے بھیک مانگ کر ادا کرتا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے اسی وقت حکم جاری کیا کہ کسی نابینا اور بزرگ سے کوئی جزیہ نہیں لیا جائے گا بلکہ بوڑھوں اور اپاہج افراد کی کفالت اسلامی حکومت کرے گی اس طرح کے کئی واقعات انھوں نے تفصیل سے بیان کئیے جس سن کر اٹالین مہمانوں سمیت حاضرین خوشی سے حیران ہوگے کہ اسلام میں اتنی وسعت ہے اور اسلام انسانوں کے علاوہ جانوروں اور درختوں کے حقوق کی بھی حفاظت کرتا ہے انھوں نے کہا کہ منہاج القرآن بیدارئے شعور کے ذریعے انسانیت میں علم بانٹ رہا ہے کانفرنس کے اختتام پر شیخ حسن محی الدین قادری نے عالم انسانیت کے لیے اللہ کے حضور خصوصی دعا کی ۔
تحریر ، وقاص بٹ

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

حلال و حرام

 امام ابو حنیفہ رحمتہ الله علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر ایک خاتون نے بیان کیا کہ اس کا گھر آبادی کے آخر میں قافلوں کی گزر گاہ کے کنارے پر واقع ہے-رات کے وقت اپنے مکان کی چھت پر دیا جلا کر اس کی روشنی میں سوت کاتتی ہوں-جب قافلہ گزرتا ہے تو قافلے والوں کی مشعلوں کی تیز روشنی میں دیے کی لو ماند پڑ جاتی ہے اور مجھے ذیادہ واضح نظر آنے لگتا ہے جس کے نتیجے میں سوت کاتنے میں سہولت محسوس کرتی ہوں-اس کے بعد خاتون نے دریافت کیا کہ بغیر اجازت قافلے والوں کی روشنی استعمال کرتے ہوئے کاتا گیا سوت حلال ہے یا نہیں؟ جواب دینے سے پہلے امام صاحب نے خاتون سے ان کے خاندان کا تعارف معلوم کیا تو خاتون نے اپنے خاوند اور باپ کا نام بتایا- اس کے بعد امام صاحب نے فرمایا کہ اگر یہ معاملہ ایک عام مسلمان سے وابستہ ہوتا تو بے شک یہ سوت حلال ہے لیکن آپ کا خاندان چونکہ تقوئ کے اعلئ مقام پر فائز ہے لہذا آپ کے لیے یہ سوت حرام ہے- یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ متقی اور پرہیز گار لوگ حلال و حرام کے درمیان تمیز کرنے میں کتنی ذیادہ احتیاط برتتے ہیں-اب ذکر کرتے ہیں یورپ کے ایک عام مسلمان کا-لندن کے ایک ریستوران میں شراب کے نشے میں دھت ایک پاکستانی صاحب تشریف لائے اور دریافت فرمانے لگے کہ حلال گوشت سے تیار کردہ کھانا مل جائے گا یا نہیں؟ کچھ ملتا جلتا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایتھنز کے ایک ریستوران میں شراب کا آرڈر دے کر انتظار کرنے والے پاکستانی کے قریب بیٹھے ہوئے ترکی مسلمان نے سؤر کے گوشت سے تیار شدہ کھانے کا آرڈر دیا تو پاکستانی نے اس سے افسوس کا اظہار کیا تو جوابا“ ترکی نے کہا کہ اگر شراب اور سؤر کے گوشت میں شرعی اعتبار سے کوئی فرق ہے تو تمہارا اعتراض درست ہے ورنہ ہم دونوں ایک جیسے ہی ہیں-ایک دوست کی زبانی معلوم ہوا کہ فرینکفرٹ میں ایک جرمن خاتون نے اس کے پاکستانی دوست کی محبت میں مبتلا ہوکر شادی کی پیشکش کی تو اس پاکستانی نے شرط رکھی کہ وہ مسلمان ہو جائے،نماز پڑھے، روزے رکھے،شراب اور سؤر کے گوشت سے پرہیز کرے-خاتون نے یہ سب شرائط تسلیم کر لیں اور ان پر عمل پیرا بھی ہو گئی- شادی کے بعد وہ خاتون اپنے شوہر کے دوستوں سے شکوہ کرتی ہے کہ میں تو اس کے کہنے پر اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں لیکن وہ خود باقاعدگی سے شراب نوشی کرتا ہے-جو لوگ جؤا خانوں یا ایسے ریستورانوں، ہوٹلوں، دکانوں اور فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں جہاں شراب اور سؤر کے گوشت کی خرید و فروخت یا تیاری ہوتی ہے ممکن ہے کہ وہ ان کاموں کو جائز سمجھتے ہوئے کرتے ہوں- خود کو آحمدی ظاہر کر کے پناہ لے کر رہائیشی اجازت نامہ حاصل کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ وہ دل سے احمدی نہیں ہوئے ہیں لہذا ان کا رزق حلال ہے جبکہ زبانی اور تحریری اقرار کے بعد ہی ان کی درخواست منظور کی جاتی ہے- یورپ میں جو حلال گوشت ڈبہ بند یعنی پیک کیا ہوا ملتا ہے اس کی پیکنگ پر ایک سلپ لگی ہوتی ہے جس پر حلال لکھا ہوتا ہے- یہ سلپ لگانا قانونی طور پر لازمی ہے- یہ بات سننے میں آئی ہے کہ بعض فیکٹریوں میں سارا گوشت تیار تو ایک ہی طریقے سے کیا جاتا ہے لیکن حسب ضرورت مقدار پر حلال کا سٹکر لگا کر فروخت کر دیا جاتا ہے جبکہ حقیقتا“ یہ اسلامی طریقے سے ذبح کردہ نہیں ہوتا-کچھ عرصہ قبل سننے میں آیا تھا کہ ایک یورپی فیکٹری نے کسی عرب ملک کو مرغی کا حلال گوشت برآمد کرنا تھا- درآمد کندہ کمپنی کا نمائندہ گوشت کے حلال ہونے کی تصدیق کرنے فیکٹری میں پہنچا تو مالک نے اپنے ایک با ریش مسلمان ملازم کو مشین کے پاس کھڑا کر دیا جو با آواز بلند تکبیر کا ورد کرتا تھا جبکہ مشین مرغیوں کی گردنیں کاٹتی جاتی تھی- یہ حقیقت ہے یا فسانہ البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے دنوں برطانیہ میں حکومتی ادارے نے ایک فیکٹری میں چھاپا مارا تو پتہ چلا کہ حلال گوشت میں سؤر کے گوشت کی ملاوٹ کی جا رہی ہے جبکہ یہ فیکٹری حلال گوشت فروخت کرنے کی دعویدار تھی-حال ہی میں سویٹزر لینڈ میں حلال گوشت سے ڈونر کباب تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں سرکاری محکمے نے چھاپہ مارا تو معلوم ہوا کہ سؤر کے گوشت کی آمیزش کی جا رہی ہے-سؤر کے گوشت کی ملاوٹ کرنے کی وجہ اس کا سستا ہونا ہے- ڈونر کباب ترکی کی مشہور ڈش ہے جو کہ لذیذ ہونے کے علاوہ سستی بھی ہے- یورپ میں اس کا آغاز ترکوں نے جرمنی سے کیا- اب یہ پورے یورپ میں پھیل چکا ہے- مسلمانوں کی اکثریت اسے حلال ہونے کی وجہ سے نوش جان کرتی ہے تو غیر مسلم مزیدار اور ارزاں ہونے کی وجہ سے تناول کرتے ہیں- اخباروں میں یہ خبریں اکثر چھپتی رہتی ہیں کہ ڈونر کباب میں شامل اجزا صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں- یہ حقیقت ہے یا پروپیگندہ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ڈونر کباب کی وسیع پیمانے پر فروخت سے یورپی کھانوں کی مانگ میں کمی واقع ہوئی ہے- اسلام حلال کمانے اور کھانے کی بڑی سختی سے تلقین کرتا ہے-بزرگان دین کا فرمان ہے کہ حرام رزق سے پلی ہوئی اولاد نیک نہیں ہو سکتی-بعض لوگ رزق حرام کما کر کھانے کی وجہ مجبوری بیان کرتے ہیں جبکہ شریعت کا حکم ہے کہ اگر بھوک کی وجہ سے کوئی مرنے کے قریب پہنچ جائے تو اتنی کم سے کم مقدار میں مردار کا گوشت (حرام) کھا سکتا ہے جس سے اس کی جان پچ جائے- اشیائے خورد و نوش کی خریداری کرتے وقت ان کے حلال ہونے کی تصدیق کر لینی چاہیے- یورپ میں کھانے پینے کی تمام ڈبہ بند اشیا کی پیکنگ پر اس میں موجود اجزا تحریر ہوتے ہیں جوکہ قانونا“ لازمی ہے لہذا ان اجزا کو پڑھ کر اس چیز کے حلال ہونے کی تصدیق کی جا سکتی ہے-(تحریر: حاجی وحید پرویز ، بریشیا ، اٹلی)-

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com