Friday, Mar 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

خبریں

اسلام کے ساتھ ڈائیلاگ ضروری ہے ، پوپ فرانچیسکو اول

روم۔ 22 مارچ 2013 ۔۔۔ پوپ فرانچیسکو اول نے ویٹیکن میں دنیا کے تمام سفارتکاروں کو دعوت دیتے ہوئے ان سے کہا ہے کہ مختلف مذاہب اور کلچروں کے ساتھ ڈائیلاگ ضروری ہے اور خاص طور پر اسلام کے ساتھ مکالمے کی ضرورہے ۔ انہوں نے کہا کہ میری پہلی عبادت کے دوران دنیا کے مختلف ایمبیسڈروں نے شرکت کرتے ہوئے مجھے عزت بخشی ہے ۔ پوپ نے کہا کہ صرف مذہبی لوگوں کے ساتھ نہیں بلکہ غیر مذہبی لوگوں کے ساتھ بھی بات چیت مثبت ثابت ہو سکتی ہے ۔ تمام قومیں ڈائیلاگ کے زریعے ایک دوسرے کے قریب آتے ہوئے آپس میں بھائی چارے اور انسانیت کا رشتہ مضبوط کر سکتی ہیں ۔ ڈائیلاگ سے ہر قوم یہ دیکھے گی کہ اس کے سامنے ایک دشمن یا اس کا مقابلہ کرنے والا نہیں بلکہ اس کا اپنا ہی بھائی ہے ۔ میرا تعلق ارجنٹائن سے ہے اور میں اٹالین نژاد ہوں ، شاید یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈائیلاگ سے بہت دلچسپی ہے ۔ آج دنیا کے فاصلے بہت کم ہو گئے ہیں اور ڈائیلاگ کی جگہ بنانے کے لیے مثبت زرائع موجود ہیں ۔ تمام قومیں اپنی عداوتیں دور کرتے ہوئے بھائی چارے کا رشتہ قائم کر سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مکالمے کو وجود میں لانے کے لیے مذہب کی ضرورت ہے ۔ خدا کو دور رکھتے ہوئے قومیں آپس میں میل جول قائم نہیں کر سکتیں ۔ پوپ نے کہا کہ دوسروں کو بھول کر بھی خدا سے رشتہ قائم نہیں کیا جا سکتا ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 22 مارچ 2013 20:30

نازی سلام کرنے پر یونانی کھلاڑی پر پابندی عائد

روم ، 19 مارچ 2013 ۔۔۔ یاد رہے کہ یونان کے معاشی بحران کے بعد نازی سیاسی پارٹی آلبا دوراتا قائم ہو گئی ہے اور یہ قومی اسمبلی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے ۔ نازی زہنیت کے لوگ غیر ملکیوں کے سخت خلاف ہیں اور غیر ملکیوں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے انکی جیت ہوئی ہے ۔ اب یونانی فٹبال کے میدان میں بھی نازی سلام کرنے پر یونانی کھلاڑی پر پابندی عائد کردی ہے ۔ ایتھنز کی ٹیم کے 20 سالہ کھلاڑی Giorgos Katidisنے ہفتہ کے روز ملک کی چیمپئن شپ کے میچ کے دوران گول کرتے ہوئے ایک ہاتھ اوپر کرتے ہوئے نازی سلام کیا ہے ۔ یاد رہے کہ 1936 کے اولمپک میچوں میں کافی کھلاڑیوں نے ہلٹر کو یہ سلام پیش کیا تھا ۔ اس نازی سلام کے بعد  کھلاڑی جورجس کو یونان کی نیشنل ٹیم سے ہمیشہ کے لیے نکال دیا گیا ہے ۔ جورجس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس سلام کے بارے میں ہرگز علم نہیں رکھتا اور اسے نہیں پتا تھا کہ یہ سلام نازیوں کا نشان ہے ۔ ٹیم کے کوچ جو کہ جرمن ہیں ، انہوں نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ جورجس کا تعلق نازی پارٹی سے نہیں اور نہ ہی اسے اس سلام کے نتائج کے بارے میں علم تھا ۔ یونان کی فیڈرل فٹبال یونین نے جورجس کو تمام قومی ٹیموں میں شمولیت سے منع کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس نازی سلام کے زریعے جورجس نے ان کروڑوں شہیدوں کی قبر کو ٹھیس پہنچائی ہے ، جنہوں نے ہٹلر کی نسل پرستی کیوجہ سے جان دی تھی ۔ اٹلی میں بھی پاؤلو دی کانیو کو رومن سلام کرنے پر ایک میچ نہ کھیلنے اور 10 ہزار یورو کا جرمانہ بھگتنے کی سزا دی تھی ۔ حال ہی میں اٹلی میں اسٹیڈیم میں نسل پرستی کے نعروں اور بینروں کے خلاف ایک میچ کھیلا گیا ہے ، جس میں تمام ٹیموں نے ایک ٹی شرٹ پہن رکھی تھی ، جس پر لکھا تھا کہ نسل پرستی بری چیز ہے ۔ اس میچ میں غیر ملکیوں اور انکی اولاد کو دعوت دی گئی تھی کیونکہ عام طور پر نسل پرست غیر ملکیوں کے خلاف ہوتے ہیں اور انہیں یورپ کی تمام تر برائیوں کا قصوروار ٹھہراتے ہیں ۔ تصویر میں جورجس قمیض اتار کر نازی سلام کر رہے ہیں اور اس کے بعد اٹلی میں نسل پرستی کے خلاف میچ کروایا جا رہا ہے ۔ جس میں سرخ قمیض پر لکھا ہے نسل پرستی کو فٹبال سے بھگا دو

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

گاما


میلانوں کے چھوٹے سے پنڈ دے زیوکے ہسپتال میں جب چودھری غلام رسول کو لایا گیا تو اس کے داہنے بازو کی حالت نا گفتہ بہ تھی۔جب ڈاکٹروں نے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کیا کہ چودھری غلام رسول کی جان بچانے کا ایک ہی راستہ ہے اگر اس کا داہنہ بازو کاٹ دیا جائے۔
ڈاکٹروں کے لیئے یہ روز مرہ کا کام ہے۔ان کا کام زندگی بچانا ہے لیکن پھر بھی ان کے سامنے کئی مریض دم توڑ دیتے ہیں۔ وہ اپنی بے بسی پے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر جوزپے گلوانی نے بڑی مشکل سے دل کو مضبوط کیا اور آکر کے پاکستان کے اس پنجابی گھبرو جوان کو بتایا کہ تمھاری بازو کاٹ دی جائے گی۔ یہی ایک راستہ ہے تمھاری جان بچانے کا۔ چودھری صاحب کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے اور گہری سوچ میں پڑگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاما یعنی غلام رسول بڑے پاپڑ بیل کر جرمنی پہنچا تھا۔ اس کا باپ ایک مزارع تھا۔ اس نے ساری زندگی چودھریوں کے حقے تازے کیئے تھے، لیکن گامے کو ایک ہی دھن سوار تھی کہ وہ کسی طرح با ہر چلا جائے اور وہ اپنی منزل پے پہنچ چکا تھا۔ گاما جرمنی پہنچتے ہی گامے سے غلام رسول بن چکا تھا۔
اسے کسی نے مشورہ دیا کہ سیاسی پناہ کی درخواست دے دے، چونکہ گاما یعنی غلام رسول ،یہاں چند ماہ رہ کر یہاں کے ماحول سے آشنا ہوگیا تھا۔ اس لیئے اس نے ماحول کے مطابق اپنے نام میں شاہ کا اضافہ کرلیا تھا۔ اس نے سیاسی پناہ کی درخواست بھی اسی نام سے درج کروائی تھی۔اب سب اسے شاہ صاحب کہہ کر بلاتے تھے۔ سارے اسے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ گاما صبح سویرے اٹھ کے
پیزیریاء کی سپیشل آفرز کے پیمفلٹ ڈالتا۔ شام کو اسی پیزیریاء میں پیزا بنانے والے کی مدد کرنا، سلاد کاٹنا،، برتن دھونا، باورچی خانے کی صفائی کرنا وغیرہ۔ رہنے اور کھانے کو مفت ملتا۔ اس کے علاوہ سوشل اور جو رقم وہ کماتا اپنے باپ کو بھیج دیتا۔ گاما یعنی غلام رسول یعنی شاہ صاحب نے شاید ہی کو ئی رنڈی چھوڑی ہو۔ جس علاقے میں وہ رہتا تھا، وہاں ایک بہت بڑا چکلا تھا۔ گاما ہر ہفتے پابندی سے کسی نہ کسی نئی لڑکی کے پاس جاتا اور کئی دفعہ ہفتے میں دو بار دفعہ بھی۔ شراب گاما اندر کے جراثیم مارنے کے لیئے پیتا، کبھی کبھی تھکن زیادہ ہوجاتی تو وہ چرس بھی پی لیا کرتا۔ گامے کو اب گامے یا غلام رسول کے نام سے کوئی نہیں جانتا تھا۔ سب اسے شاہ صاحب کہہ کر بلاتے تھے۔ اس کے باپ اس کی بھیجی ہوئی رقم سے کافی زمین خرید لی تھی اور مکان بھی پکے کروالیئے تھے۔ اب گامے کا خواب تھا کہ شہر میں بھی پکا گھر ہونا چاہیئے، اس کے لیئے ، اس کے باپ نے شہر میں زمین خرید لی تھی۔ گامے کی سیاسی پناہ کی درخواست نامنظور ہوچکی تھی لیکن وہ اپیل کرچکا تھا اس لیئے جب تک اپیل کا جواب ہاں یا نہ آئے وہ جرمنی میں رہ سکتا تھا۔اسی دوران اٹلی نے امیگریشن کھول دی اور گاما اپنے تمام لوازمات سمیٹ کر میلانو(میلان) آگیا۔گاما بہت ہی چالاک تھا۔ اس نے جرمنی سے اٹلی آنے کے لیئے ایک پیسہ بھی خرچ نہ کیا، وہ اپنے شاہ ہونے کا فائدہ اٹھاتا رہا۔جرمنی میں شاید ایک آدھ شخص اس کی اوقات اور اصلیت سے واقف تھا لیکن اٹلی میں تو بالکل کوئی نہیں جانتا تھا۔ نہ وہ گھر میں کھانا پکاتا، نہ صفائی کرتا، حتی کہ ایک شخص نے اس کے کاغذات جمع کرانے کی حامی بھی بھر لی۔ اس کا خیال تھا کہ شاہ صاحب کی مدد کرکے وہ اپنی آخرت سنوار لے گا۔ اب کے شاہ صاحب یعنی گامے کو کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کے جرمنی میں فنگر پرنٹز ہوچکے ہیں اور اگر آپ نے نام اور تاریخ پیدائش نہ بدلی تو آپ کو مشکل پیش آئے گی۔اس لیئے گاما،غلام رسول، غلام رسول شاہ سے چودھری غلام رسول بن چکا تھا۔ پہلے شاہ بن کر عزت و تکریم حاصل کرتا تھا۔ اب چودھری بن کے رعب و داب جماتا۔
گامے کی قسمت اچھی تھی، جلدی ہی پیپرز بھی مل گئے اور کام بھی۔ گاما فیکٹری میں چھ دن کام کرتا، اوور ٹائم بھی کرتا، لیکن اس کے حساب کتاب میں فرق تھا۔ وہ جتنی بچت جرمنی میں کیا کرتا تھا اٹلی میں نہیں کررہا تھا۔ وہ بڑا پریشان ہو ا۔ پیپرز کا فائدہ تو ہوا لیکن اخراجات بڑھ گئے۔ گامے کو کسی نے مشورہ دیا ، بیماری کی درخواست دیکر کسی جگہ غیرقانونی طور پے کام کرلے۔ اس نے ایسا ہی کیااور وہ کئی دفعہ بیماری کی درخواست دیکر ، شام سے رات گئے تک غیرقانونی طور پے کام کرتا، لیکن گامے کا بجٹ صحیح نہیں ہو پارہا تھا۔ کیونکہ اس نے شہر والا مکان تعمیر کرواناشروع کروا دیا تھا ۔ اس نے ہر کمرے میں پنکھے، اپنے کمرے میں،جہاں اس نے سہاگ رات منانی تھی ،کمرا ٹھنڈا کرنے والی مشین بھی لگوانی تھی۔ حتی کہ اس کا ارادہ تھا ،برامدوں میں بھی پنکھے لگوائیگا۔اس کے باپ نے گامے کے لیئے ایک بی.اے. پاس لڑکی بھی ڈھونڈ لی تھی۔ ان تمام کاموں کے لیئے گامے کو ٹھیک ٹھاک رقم چاہیئے تھی۔وہ اپنے ٹارگٹ تک نہیں پہنچ پا رہا تھا۔ اب کے گامے نے انفورتونیو کا سہارا لیا۔یعنی کام کے دوران زخمی ہونا۔ اس نے جان بوجھ کر اپنی انگلی زخمی کرلی۔ اب جب تک وہ ٹھیک نہ ہوتا اسے
انائیل والوں نے پیسے دینے تھے۔ گامے کی انفورتونیو سل لاوورو یعنی کام کے دوران حادثہ چھ ماہ تک چلی۔ اب وہ کچھ کچھ اپنے ٹارگٹ تک پہنچ چکا تھا۔ وہ بڑی بے دلی سے انفورتونیو بند کرا کے دوبارہ کام پے چلا گیا۔ لیکن چند ماہ بعد پھر اس کی انگلی زخمی ہوگئی اور اس طرح چھ ماہ اور گزر گئے۔
گاما جہاں کام کرتا تھا انھیں شک ہوچلا تھا لیکن وہ قانون کا احترام کرتے ہوئے اسے کچھ نہیں کہہ سکتے تھے ،کیونکہ وہ
انائیل اور انپس کو ٹیکس ادا کرتا تھا۔وہ کیا کرتا ، سیدھے سیدھے اس کی پے سلپ بستہ پاگاسے کٹ جاتے۔
اب کہ جب گامے نے انفورتونیو بند کرائی تو اسے کسی نے مشورہ دیاکہ اگرتمھاری ایک انگلی کٹ جائے یا دو ،تو تمہیں ساری زندگی کے لیئے پیسے ملیں گے اور تم غیرقانونی طور پے کام بھی کرتے رہنا۔گامے کو پھر چوٹ لگی۔ وہی انگلی دوبارہ زخمی ہوئی، جس پے دوبار پہلے چوٹ لگ چکی تھی۔اب کہ اس نے علاج میں احتیاط نہ برتی کیونکہ اس نے اپنی انگلی کٹوانی تھی اور پینشن لگوانی تھی۔گامے کی انگلی میں پس پڑگئی اور وہ اسی طرح ، جہاں وہ غیرقانونی طور پے کام پے جاتا تھا، جاتا رہا۔
ایک رات گامے کی شدید تکلیف ہوئی اور اسے پرونتو سکورسولے جایا گیا اور گامے کو ہسپتال میں داخل کرلیا گیا۔ ڈاکٹروں نے گامے کے کاغذات دیکھے وہ
انفورتونیو پے تھا۔ کاغذی کاروائی بالکل ٹھیک تھی۔ گاما درد سے چلا رہا تھا لیکن دل ہی دل میں خوش تھا کہ اس کی انگلی کٹ جائے گی اور پینشن لگ جائے گی۔
ڈاکٹروں نے ایکس رے اور (سکیننگ) بعد بتایا کہ زخم کا زہر آہستہ آہستہ بازو میں سرایت کررہا ہے اور اگر بازو نہ کاٹی گئی تو گامے کی موت واقع ہوجائے گی۔وہ اس دارِ فانی سے کوچ کرجائے گا۔ یہ بات سنتے ہی گامے کی آنکھوں سے یعنی چودھری غلام رسول شاہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سرفراز بیگ ۲۰۰۴۔۰۸۔۰۴اریزو
SARFRAZ BAIG ( یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے ) mobile:300127522

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سانحہ لاہور سے باہمی ہم آہنگی کو سنگین نقصان پہنچا ہے ، سرور بھٹی

روم ، 10 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی میں پاکستانی کرسچن کمونٹی کی ایسوسی ایشن  POCOکے صدر سرور بھٹی نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کل والے سانحہ لاہور سے باہمی ہم آہنگی کو سنگین نقصان پہنچا ہے ۔ یاد رہے کہ لاہور میں انتہا پسند گروپوں نے مسیجی برادری کے سینکڑوں گھر ، دکانیں اور 2 گرجا گھر جلا دیے ہیں ۔ اس سانحہ کی جڑ ایک حجام کی گواہی ہے ، جس کے تحت ایک کرسچن لڑکے کو توہین رسالت ۖ کا ذمہدار ٹھہرایا گیا ہے ۔ سرور بھٹی نے کہا کہ ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں اور اسکے بعد کرسچن ہیں ۔ ہم پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں اور اسلام کی عزت اپنے مذہب کی طرح کرتے ہیں ۔ جب سے توہین رسالت کا قانون بنایا گیا ہے ، تب سے ہمارے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں ۔ چند لوگ اس قانون کو زاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہوئے ہماری قتل و غارت کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ اس قانون کی آڑ لیکر صرف ہمیں جیلوں میں بند نہیں کیا جا رہا بلکہ ہماری بستیوں کو آگ لگائی جارہی ہے ۔ ہم سالوں سے مسلمانوں سے ڈائیلاگ کا سلسلہ جوڑتے ہوئے بھائی چارے اور باہمی اتحاد کے پل بنا رہے ہیں لیکن پیارے ملک میں چند جاہل اور عسکریت پسند لوگ اس پل کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ہم موجودہ حکام سے دل برداشتہ ہو کر اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کو پامال ہونے سے بچائیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو چاہئے کہ ہزاروں کرسچن جو کہ بے گھر ہو گئے ہیں ، انہیں تحفظ دیا جائے اور انکے گھر و املاک دوبارہ تعمیر کیے جائیں ۔ اس سانحے نے واضع کردیا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اور پولیس امن و امان اور عوام کی زندگی محفوظ کرنے کی گارنٹی فراہم نہیں کر رہی ۔ سروس بھٹی نے کہا کہ آج شام روم میں کرسچن کمونٹی نے ایک اجلاس منعقد کیا ہے ، جس میں عہد کیا گیا ہے کہ ہم اس غمگین سانحہ کے خلاف جلوس و جلسے کی صورت میں احتجاج کریں گے ۔ تصاویر میں سروس بھٹی اور سانحہ لاہور

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

برلسکونی کو ایک سال قید کی سزا

برلسکونی تین بار اٹلی کے وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں . سابق وزیرِ اعظم سلویو برلسکونی کو غیرقانونی فون ٹیپنگ کے الزام میں مجرم قرار دے کر ایک سال کی سزا سنا دی گئی ہے۔ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پولیس کی جانب سے حاصل کردہ ایک فون ریکارڈنگ کو افشا کر کے ایک اخبار میں شائع کروایا تھا۔ یہ اخبار برلسکونی کے بھائی کا تھا۔توقع ہے کہ برلسکونی اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے اور اس دوران حراست میں نہیں رہیں گے۔فی الحال وہ اپنے خلاف ایک اور مقدمے میں اپیل کر رہے ہیں اور اگلے چند ہفتوں میں ان کے خلاف کئی اور مقدمات میںمزید فیصلے آنے والے ہیں۔ایک مقدمہ ٹیکس چوری کا ہے، جبکہ ایک اور  گزشتہ سال  اکتوبر میں برلسکونی کو ٹیکس چوری کے ایک مقدمے میں ایک برس کی سزا ہوئی تھی۔ اس سزا کا انحصار بھی اپیل پر ہے۔استغاثہ نے یہ مقدمہ اس کے بعد پیش کیا جب فون پر کی جانے والی ایک گفتگو کی تحریری نقل برلسکونی کے بھائی پاؤلو کے اخبار میں شائع ہوئی تھی۔یہ گفتگو انشورنس کمپنی یونی پول اور پیئرو فاسینو کی تھی، جو اٹلی کی سب سے بڑی معتدل دائیں بازو کی جماعت کے رہنما اور اس وقت برلسکونی کے سب سے بڑے سیاسی حریف تھے۔تونی پول بنک 2005 میں بی این ایل بینک کو خریدنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مجسٹریٹوں نے اس ریکارڈنگ کی اشاعت کو بینک خریدنے کی کوشش میں نامناسب مداخلت قرار دیا تھا۔اس اشاعت سے تجارتی رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔برلسکونی پر متعدد مقدمات کے دوران ان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں دھوکا دہی، رشوت، دروغِ حلفی، بدعنوانی اور کم عمر طوائف کے ساتھ جنسی تعلق شامل ہیں۔برلسکونی کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف الزامات سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور وہ بعض الزامات میں یا تو بری قرار پائے ہیں یا پھر وہ کسی نہ کسی قانونی سقم کی وجہ سے بچ نکلے ہیں۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 07 مارچ 2013 20:19