Sunday, May 26th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

خبریں

وزارت داخلہ نے امیگریشن کی درخواستوں کی نوعیت بیان کردی

روم۔ 11 فروری 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے کافی پاکستانی جنہوں نے امیگریشن میں درخواستیں جمع کروا رکھی ہیں ، وہ امیگریشن کی نوعیت کے بارے میں کافی سوالات کرتے رہتے ہیں ، ان کے جواب کے لیے وزارت داخلہ کی امیگریشن کی خبر حاضر ہے ۔ اب تک 10 ہزار غیر ملکیوں کی درخواست قبول کرلی گئی ہے اور وہ جیب میں پرمیسو دی سوجورنو ڈال سکتے ہیں ۔ اسکے بعد وہ مالکان اور نجی ادارے جنہوں نے لوازمات پورے نہیں کیے ، ان کے غیر ملکی ملازموں کی درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں اور انکی تعداد بھی 10 ہزار کے قریب ہے ۔ یاد رہے کہ 15 اکتوبر 2012 تک ایک لاکھ 35 ہزار درخواستیں جمع کروائی گئی تھیں ، وزارت داخلہ نے 4 مہینوں بعد پہلی رپورٹ شائع کی ہے ۔ کل تک 50 ہزار درخواستوں پر کام مکمل ہو چکا تھا ، اس رپورٹ کو آپ خبر کے آخر میں بھی پڑہ سکتے ہیں ۔ اب تک 10 ہزار درخواستوں کے مالک اور ملازم تھانے میں جا کر contratto di soggiornoپر دستخط کر چکے ہیں اور انکی پرمیسو دی سوجورنو بننے کے لیے چلی گئی ہے ۔ یہ غیر ملکی اب ریگولر غیر ملکی بن گئے ہیں ، جن کے پاس اٹلی میں رہنے کے لیے قانونی جواز موجود ہے ۔ اب تھانے نے 8 ہزار دوسری درخواستوں والوں کو بھی حاضر ہونے کے لیے کہا ہے ، اس کے علاوہ 20 ہزار غیر ملکیوں کو convocazioneیعنی حاضر ہونے کے لیے کہا گیا ہے اور جلد انہیں ملاقات کی تاریخ بھی جاری کردی جائے گی ۔ 6 ہزار غیر ملکیوں کو درخواست کے لوازمات پورے کرنے کے لیے کہا گیا ہے ، جن کی قسمت آزمائی ابھی ہونی ہے ۔ ان مالکان اور ملازمین کے لیے لازمی ہو گا کہ یہ Sportello Unicoیا تھانے کے لوازمات پورے کریں ورنہ انکی درخواست مسترد یا کینسل کردی جائے گی ۔ اب تک 50 ہزار درخواستوں پر کام مکمل ہوا ہے اور ان میں سے 10 ہزار درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں ، اس سے پتا چلتا ہے کہ اس امیگریشن میں درخواستیں مسترد ہونے کا رجحان بلند ہے ۔ جب مزید درخواستوں پر کام کیا جائے گا تو صاف ظاہر ہے کہ مسترد ہونے والے کافی ہونگے ۔ یاد رہے کہ اس امیگریشن میں اکثر ایسے لوازمات تھے ، جن کیوجہ سے درخواستیں مسترد ہونی لازمی ہیں ۔ اس امیگریشن نے اٹلی میں موجود غیر قانونی امیگرنٹس کو ختم کرنے کے لیے کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا ۔ وزارت داخلہ کی یہ رپورٹ قومی لیول پر مبنی ہے لیکن جب صوبوں اور شہروں کا اندازہ لگایا جائے گا تو صورت حال مختلف ہو گی ۔ روم کے تھانے کے ڈائریکٹر Fernando Santorielloنے کہا کہ تھانے اور صوبے کے دفتر Direzione Territorialeنے اب تک ساڑھے تین ہزار درخواستوں پر اپنی رائے دی ہے ۔ ڈیڑہ ہزار درخواستوں کو ہم نے قبول کرتے ہوئے انکے لیے پرمیسو دی سوجورنو جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، ایک ہزار درخواستوں پر لوازمات پورے کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور یا پھر انکی درخواست مسترد کرنے کے لیے کہا ہے ۔ باقی مانندہ درخواستوں کے لیے حاضر ہونے کا حکم جاری کردیا گیا ہے ۔ تھانے کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ہم نے اب تک کسی بھی درخواست کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے لیے نہیں کہا ۔ تمام درخواستوں پر یہ حکم لکھا گيا ہے کہ آپ اپنے لوازمات پورے کریں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ درخواستیں جو کہ مکمل ہیں ، ان پر کام جلد کیا جا رہا ہے لیکن تمام درخواستوں پر کام ختم کرنے کے لیے کافی وقت لگ جائے گا ۔ تحریر، ایلویو پاسکا

 

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پاکستان ایمبیسی کے قوانین

روم۔ 15 اگست 2012 ۔۔۔ پاکستان ایمبیسی روم کے بلیک بورڈ پر چند قوانین و ہدایات موجود ہیں جو کہ تارکین وطن کے لیے سود مند ثابت ہو سکتے ہیں ۔

۔ وہ حضرات جنکی شریک حیات غیر ملکی ہیں ، وہ اپنی بیوی کا POCیا پاکستان اوریجن کارڈ بنوا سکتے ہیں ۔

۔ تمام اہل وطن کو بتایا جاتا ہے کہ یہ سفارت خانہ انکا اپنا ہے ، اس لیے وہ کسی بھی ایجنٹ کے بغیر اپنا کام کروا سکتے ہیں ۔

۔ نارمل پاسپورٹ بنانے کی فیس 40 یورو ہے اور اسکی واپسی 45 دن میں ہوگی ۔

۔ ارجنٹ پاسپورٹ بنانے کی فیس 70 یورو ہے اور اسکی واپسی 15 دنوں میں ہو گی ۔

۔ اگر آپ کا پاسپورٹ پہلی دفع گم ہوا ہے تو اسکی فیس 80 یورو ہو گی اور اگر آپ کو یہ پاسپورٹ ارجنٹ چاہئے تو اس صورت میں فیس 140 یورو ہو گی ۔

۔ اگر آپ کا پاسپورٹ دوسری  دفع گم ہوا ہے تو اسکی فیس 160 یورو ہو گی اور اگر آپ کو یہ پاسپورٹ ارجنٹ چاہئے تو اس صورت میں فیس 280 یورو ہو گی ۔

۔ مشین ریڈ ایبل بنوانے کے لیے آپکو پرانا پاسپورٹ یا لاسٹ رپورٹ دینی ہوگی، نادرا کا اصل شناختی کارڈ ، 18 سال سے کم عمر ہونے کی صورت میں " ب فارم " اور والدین کے شناختی کارڈ کی کاپیاں ، اٹالین کاغذات ( اگر موجود ہیں ) تمام کاغذات کی فوٹو کاپیاں

 

۔ اٹالین ویزہ حاصل کرنے کے لیے منگل اور جمعرات کا دن مختص کیا گیا ہے اور ویزے اپلائی کرنے کا وقت صبح 30۔09 سے لیکر 30۔12 بجے تک ہے ۔

۔ وہ پاکستانی جنہیں ملک بدر کیا جا رہا ہے وہ ایمبیسی کے ہیڈ آف چانسلری شہباز کھوکھر سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں ، انہیں ایمبیسڈر کی طرف سے Liasion Officerمقرر کیا گیا ہے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پاکستان وومن ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام محفل میلاد

                           

   ربیع الاول کے مبارک مہینے کی شام ڈھلنے والی ہے۔گھر گھر میں محفل میلاد منعقد کیے گئے اور بہت جوش و خروش سے اپنے آقا حضرت محمد صلّى الله عليه وسلّم کی مبارک آمد کی خوشیاں منائی گئیں۔  پاکستان وومن ایسوسی ایشن نے مورخہ 6فروری کو محفل میلاد کا انعقاد کیا۔میلاد کا اہتمام پاکستانی ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ کی رہائش گاہ پر دوپہر ڈیڑھ بجےکیا گیا تھا۔ سفارتکارہ تہمینہ صاحبہ نے بہت خوش دلی اور شائستگی سے تمام مہمان خواتین کا استقبال کیا۔ وومن ایسوسی ایشن کی طرف سے ایمبیسڈر کو پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیا گیا۔ تقریب میں تقریبا بیس کے قریب خواتین نے شرکت کی جن میں کچھ بچے بھی شامل تھے۔ سرور کونین صلّى الله عليه وسلّمکی شان اقدس میں نعت خوانی کی گئی۔ صلوۃ و سلام کے بعد دعا کی گئی جس میں ملک کی سلامتی و امن اور امت مسلمہ کے لیے بھی خصوصی دعا کی گئی۔ تہمینہ صاحبہ کی مہمان نوازی اور شائستہ طبعیت نے سب ہی مہمان خواتین کے دل موہ لیے۔ محفل میلاد کے بعد کھانے اور چائے کا بھی اہتمام تھا۔ شام چار بجے محفل میلاد کا اختتام ہوا ۔ تحریر،نگہت شفیق ازروم

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پاکستان میں یورپین بزنس مینوں کی انشورنس کا مسئلہ حل کر دیا گیا

روم ۔ 20 جنوری 2013 ۔۔۔۔ وہ اٹالین اور تمام غیر ملکی بزنس مین جو کہ اپنے تجارتی دورے کے لیے پاکستان جائیں گے ، اب انکی انشورنس کا مسئلہ حل کردیا گیا ہے ۔ آخری 30 سالوں میں امریکہ اور یورپین ممالک کے حکام نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان کا وزٹ نہ کریں کیونکہ یہ ایک خطرناک ملک ہے ۔ اسکے بعد وہ بزنس مین جو کہ پاکستان کا وزٹ کرتے ہیں ، انکی انشورنس بہت مہنگی ہوگئی تھی ۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے نیشنل انشورنس کمپنی سے ایک معاہدہ کیا ہے ، جس کے مطابق اب غیر ملکی بزنس مینوں کی انشورنس کم داموں میں کی جائے گی ۔ یہ انشورنس 2 لاکھ، 3 لاکھ اور 5 لاکھ ڈالر تک کور کرے گی اور اسکے ہفتہ وار پرائم 75، 150،  225  ڈالر ہونگے ، اگر بزنس مین مہینے سے زیادہ پاکستان میں رہے گا تو پرائم 250، 350 اور 500 ڈالر ہونگے ۔ اٹلی پاکستان ترقی کی کمیٹی l'Italian Development Committeeکے صدر عرفان حسین علی وزیر نے کہا کہ کافی عرصے سے اٹالین بزنس مین پاکستان آنا ترک کرگئے تھے لیکن اب حکومت نے انشورنس کا مسئلہ حل کرتے ہوئے یورپین ممالک کے مینجر اور تاجروں کے لیے پاکستان کا راستہ کھول دیا ہے ، اب پاکستان میں انوسٹمنٹ کے مواقع بڑھیں گے ۔ اسلام آباد میں موجود اٹلی کی ایمبیسی کے کمرشل کونصلر Federico Bianchiنے کہا کہ سیکورٹی کا مسئلہ حل کرنے سے انوسٹمنٹ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ کہ پاکستان میں دوسرے بڑے مسئلے موجود ہیں ، جن میں سب سے بڑا مسئلہ انرجی سے منسلک ہے ۔ پاکستان اپنے مسائل کے باوجود 18 کروڑ عوام کا ملک ہے جو کہ کاٹن کی ایکسپورٹ کرتے ہوئے یورپین انڈسٹری کے کافی مسائل حل کر سکتا ہے ، اگر پاکستان کو Gsp plusکے زریعے کاٹن ایکسپورٹ کرنے دی جائے اور کسٹم نہ لگایا جائے تو اس سے پاکستان کی معیشت کو بھی کافی ترقی مل سکتی ہے ۔ تصویر میں عرفان حسین علی وزیر

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

عبداللہ کی خوشی

یہ تیس دسمبر 2012 کا ایک روشن دن تھا جس میں فہد بھائی کے بیٹے اور انکل حاجی عبدالجبار کے پوتے عبداللہ کی دوسری سالگرہ ریسٹورنٹ تاج محل تورپنا تارہ (روم) میں بہت دھوم دھام سے منائی گئی۔ فہد بھائی کی والدہ شمیم باجی نے کافی فیملیز کو دعوت دی تھی۔ ہال کو بہت خوبصورت سجایا گیاتھا اور عبداللہ ماشااللہ بہت خوبصورت نظر آرہاتھا۔ مہمانوں کو دن بارہ بجے کا ٹائم دیا گیا تھا اور سب نے ہی ٹائم کی پابندی کی۔ سب لوگ خوش دلی سے تقریب میں شریک ہوئے۔ جہاں خواتین اور لڑکیوں کے رنگبرنگے اور دیدہ زیب لباس نظر آئے وہیں چھوٹی بچیوں نے بھی خوبصورت لباس زیب تن کئے تھے۔ایک سے بڑھ کر ایک کا منظر تھا۔ خواتین اور مردوں نے اپنے میز پہلے ہی سنبھال لئے تھے۔ تاج محل ریسٹورنٹ کا کھانا بہت لذیذ تھا۔ چکن روسٹ،بریانی ،حلیم اور نان کے ساتھ کولڈڈرنکز کا اہتمام تھا۔کھانے کے بعد عبداللہ نے اپنے والد،والدہ ،دادا اور دادی کے ساتھ مل کر کیک کاٹا۔اسکے بعد سالگرہ پر لائے گئے تحائف کھولے گئے۔آخر میں چائے کا بھی اہتمام تھا۔شام ڈھلے یہ پررونق تقریب ختم ہوئی۔

نگہت شفیق ،روم

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com