Friday, Mar 22nd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

خبریں

چائینی سامان کے ہول سیلر بابر سلطان کا تعارف

روم۔ 30 ستمبر 2012 ۔۔۔ بابر سلطان کا تعلق سیالکوٹ کے گاؤں کاکے والی سے ہے اور وہ اٹلی کے دارالخلافہ روم میں 2008 سے آباد ہیں ۔ انہوں نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ چینی مال یعنی جوتے ، ملبوسات اور چمڑے کا ہول سیل کا کاروبار کرتے ہیں اور فرانس کی ایک مشہور چینی فرم کے اٹلی میں سیلر ہیں ۔ بابر نے کہا کہ وہ ان پاکستانیوں کو سامان کم قیمتوں میں فروخت کر سکتے ہیں جو کہ یورپ میں سٹال یا دکان کا کاروبار کرتے ہیں ۔ ہماری قیمتیں اور کوالٹی دوسرے چینی ہول سیلروں سے کافی بہتر ہیں اور ہمارے چمڑے کے جوتے پورے یورپ میں مشہور ہیں ، انہوں نے کہا کہ میری پارٹنر پامیلا اٹالین شہری ہے اور میں اسکے ساتھ ملکر ہول سیل کا کاروبار کئی سالوں سے کر رہا ہوں ۔ وہ پاکستانی جو کہ سامان خریدنے کے خواہشمند ہیں وہ بابر سلطان سے رابطہ کرلیں ۔ موبائل ۔ 3317601991۔ 3460040014

تصاویر میں بابر سلطان کے دفتر کا افتتاح

altalt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

امیگریشن کو کامیاب بنانے کے لیے ایسوسی ایشنوں کی رائے

روم ۔ 28 ستمبر 2012 ۔۔۔۔ اٹلی کی تمام ایسوسی ایشنوں Acli, Arci, Asgi, Caritas Italiana, Centro Astalli, Cgil, Cisl, Comunità Di S.Egidio, Fcei, Sei Ugl e Uil نے اٹالین حکومت سے ایک کمیشن بنایا ہے ، جس میں حال ہی میں ایک میٹنگ کے دوران ان تمام ایسوسی ایشنوں نے رائے دی ہے کہ موجودہ امیگریشن میں بہت کم درخواستیں اس لیے جمع ہو رہی ہیں کیونکہ موجودہ حکومت نے امیگریشن کے لوازمات بڑے عجیب رکھے ہیں ۔ انہوں نے چند نقات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ہمارے ان نقات پر عمل کرتے ہوئے انہیں قانون میں شامل کرلے تو موجودہ امیگریشن میں کافی غیر ملکی اور مالکان درخواستیں جمع کروائیں گے ۔ نقات مندرجہ زیل ہیں ۔

۔ ان غیر ملکی مالکان کو بھی امیگریشن میں حصہ لینے کی دعوت دی جائے ، جن کے پاس پرمیسو دی سوجورنو ہے اور یہ کارتا دی سوجورنو کے مالک نہیں ہیں ۔

۔ ثبوت کے مالک کا حلفیہ بیان قبول کیا جائے ، جس میں وہ یہ لکھے کہ غیر ملکی 31 دسبمر 2011 سے پہلے اٹلی میں موجود تھا ۔

۔ ثبوت کے لیے سرکاری محکموں مین اندراج کا سوال مزید آسان بنایا جائے ۔

ہر سیکٹر یعنی زراعت، انڈسٹری اور کمرشل سیکٹر میں پارٹ ٹائم ملازم رکھنے کی اجازت فراہم کی جائے ۔

۔ اگر مالک سوجورنو کے کنٹریکٹ کے دوران تشریف نہ لائے تو ملازم کو کام تلاش کرنے کی پرمیسو دی سوجورنو جاری کی جائے ۔

۔ ریگولر غیر ملکی کی بیوی یا خاوند کو ریگولر ہونے کی اجازت فراہم کی جائے ۔

۔ درخواست کینسل ہونے کی صورت میں مالک کی تمام تر رقم واپس کی جائے اور امیگریشن کی رقم کم کی جائے ۔

۔ امیگریشن کی تاریخ 15 نومبر 2012 تک کی جائے ۔

۔ غیر ملکیوں کے ملک بدری کے کیس ختم کیے جائیں ۔

ایسوسی ایشنوں نے یہ نقاط حکومت کو پیش کردیے ہیں اور وزارتوں نے کہا ہے کہ وہ چند دنوں کے اندر ان کا جواب دیں گی ۔ لگتا ہے حکومت موجودہ امیگریشن میں کچھ نرمی کرے گی لیکن تمام نقاط کو تسلیم کرنا مشکل نظر آتا ہے ۔تصویر میں موجودہ حکومت کی ٹیم

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 30 ستمبر 2012 16:29

یورپی پارلیمنٹ میں ہفتہ کشمیرکی تقریبات چوبیس ستمبرسے شروع ہوںگی

alt

برسلز(پ۔ر) یہاں یورپی پارلیمنٹ میں ہفتہ کشمیرکی تقریبات کے دوران مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھایاجائے گا۔ یہ چارروزہ تقریبات چوبیس ستمبرکو شروع ہوں گی۔ یہاں برسلزمیں اخباری نمائندوں کو پروگرام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کا اہتمام انٹرنیشنل کونسل فارہیومن ڈیوپلمنٹ (آئی سی ایچ ڈی) اور کشمیرکونسل ای یو نے کہاتھا۔ بریفنگ میں ہالینڈ کی انسانی حقوق کی علمبردارماریان لوکس، رکن برسلزپارلیمنٹ ڈینیل کارون، انسانی حقوق اور موسمیاتی تبدیلیوں کی کشمیری ماہرسعدیہ میر اور کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے شرکت کی۔ انھوں نے کہاکہ نمائش سمیت ان تقریبات کا مقصد مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنا اور مقبوضہ کشمیر میں عوام کی مشکلات کے بارے میں یورپ کے ذمہ دارلوگوں اور پالیسی ساز اداروں کو آگاہ کرناہے۔ ماریان لوکس نے حالیہ سالوں کے دوران مقبوضہ وادی میں دریافت ہونے والی ہزاروں بے نام اجتماعی قبروں کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دی۔ انھوں  نے کہاکہ یورپی پارلیمنٹ نے ان قبروں کے بارے میں ایک قرارداد بھی منظور کی ہے جس پر عمل درآمد ہوناچاہیے۔

سعدیہ میرنے خطے میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا ذکرکرتے کہاکہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے سے خطے میں ماحول کو بھی خطرہ ہے۔ اگر مسئلہ پرامن طورپر حل نہیں ہوگا تو اس سے ماحول کا لاحق خطرات بڑھیں گے۔ مسئلے کے حل کے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کوبھی روکنا ضروری ہے۔

رکن برسلزپارلیمنٹ ڈینیل کارون نے کہاکہ ہم نے زلزلے کے دوران کشمیریوں کی مدد کی اور آئندہ بھی ان کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے۔ اگر امن ہوگا تو اس سے عوام کو فائدہ ہوگا۔

کشمیرپر ایک ملین دستخطی مہم کے بارے میں چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضاسید نے بتایاکہ ایک ملین دستخطی مہم کے ذریعے ہم یورپ میں مسئلہ کشمیر پر آگاہی پیدا کرناچاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ  یورپی رہنماء اور عوام اس مسئلے کے حل کی مہم میں شریک ہوں۔ علی رضاسید نے کہاکہ اس وقت مقبوضہ کشمیرمیں ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ گم شدہ افراد کا مسئلہ جلد از جلد حل ہو۔ ان کے لواحقین جن میں مائیں، بہنیں، بیویاں اور بچے بھی شامل ہیں، کی پریشانی دور ہو۔ انھوں نے زوردے کرکہاکہ بے نام قبروں میں دفن افرادکا ڈی این اے ٹیسٹ ہوناچاہیے تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان قبروں میں کون لوگ دفن ہیں۔ سرب فوجوں کے ہاتھوں مارے جانے والے دس ہزار افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوسکتاہے تو مقبوضہ کشمیرں میں گم نام قبروں میں دفن افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کیوں نہیں ہوسکتاہے۔

علی رضاسید نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ پورے خطے میں امن قائم ہولیکن امن اس وقت ہوگا جب مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کے خواہشات کے مطابق حل ہوگا۔پاک۔ بھارت مذاکرات کے بارے میں انھوں نے کہاکہ مذاکرات ہونے چاہیےلیکن کشمیریوں کے بغیرنہیں۔ ابتک لاہور، تاشقند، و شملا معاہدوں نے ثابت کیاہے جب تک کشمیریوں کو شامل نہ کیاگیاتو اس وقت پائیدار حل نہیں ہوگا۔

پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے علی رضاسید نے کہاکہ انٹرنیشنل کونسل فار ہیومن ڈیوپلمنٹ (آئی سی ایچ ڈی) اور رکن یورپی پارلیمنٹ سجاد کریم مل کر 24سے 27ستمبر2012ء تک یورپی پارلیمنٹ برسلزمیں ہفتہ کشمیرمنانے کا اہتمام کررہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت کشمیرپر ایک سیمیناراورتصویری، مصوری ، دستکاری اشیاء اور کتب کی نمائش منعقدہوگی اور ایک دستاویزی فلم دکھائی جائے گی۔ ان تقریبات میں بین الاقوامی سکالرز اور امن کے لیے کام کرنے والی اہم شخصیات، اراکین پارلیمنٹ، سیاستدان اورہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دوسری انسانی حقوق کی تنظیمیں  شریک ہوں گی۔

پروگرام کا عنوان: ''کشمیرکی خوبصورتی، محفوظ ماضی اور زخمی حال '' ہے۔ ذیلی عنوان ''گمنام قبروں میں مدفون بے نام کشمیری'' ہے۔ تقریبات کے دوران ''جنوبی ایشیاء میں امن۔ایک ملین دستخطی مہم'' کے عنوان سے کشمیرپرسیمینار25 ستمبردن اڑھائی بجے منعقد ہوگا۔سیمینارکے دوران تنازعہ کشمیرکی وجوعات اور علاقے میں امن کی کوششوں اورخاص طورپردنیامیں ایک پرخطر ایٹمی جنگ کے امکانات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ سیمینارکے دوران مسئلہ کشمیرکو اجاگرکرنے کے لیے یورپ میں جاری ''ایک ملین دستخطی مہم '' پر مبنی امن کوشش کو بھی زیربحث لایاجائے گا۔ 
اراکین یورپی پارلیمنٹ کی موجودگی میں اس سیمینار کے دوران انسانی حقوق کے مسئلے پر یورپی یونین کے آئین اور قواعدکی روشنی میں غورکیاجائے گا۔ اس سیمیناراورنمائش کے مقررین اور معززشرکاء میں پروگرام کے میزبان اوررکن یورپی پارلیمنٹ سجادحیدرکریم، دیگراراکین یورپی پارلیمنٹ جین لامبرت، ایووفگل اور ٹیموتھی کرکھوپ، انڈونیشیاء سے تنازعہ کشمیرپر ری سرچ سکالر لورا سچورمانس، ہالینڈ سے کشمیرپر ماہرماریان لوکس، برسلز پارلیمنٹ کی رکن کارون ڈینیل، ورلڈ کشمیرڈائس پوراکینیڈاکے فاروق صدیقی، پاکستانی آرٹسٹ اور پینٹرجمیلہ ساغری، برطانیہ سے انسانی حقوق اورماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں پالیسی ایڈوائزر سعدیہ میر، کشمیرانسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹڈیز سری نگرکے خالد جہانگیر اور آئی سی ایچ ڈی کے چیئرمین علی رضاسیدشامل ہیں۔

بیجنگ یونیورسٹی کی خاتون ری سرچ سکالر لورا سچورمانس مقبوضہ کشمیرمیں دریافت ہونے والی بے نام قبروں میں ہزاروں مدفون لوگوں کے بارے میں اپنی گذارشات پیش کریں گی جنھیں بھارتی سیکورٹی فورسز نے مارکر ان بغیرنام کی قبروں میں دفن کیا۔ بھارتی فوجیوں کی طرف سے یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایک ٹھوس ثبوت ہے اوراس مسئلے کو یورپی پارلیمنٹ سمیت عالمی فورموں کی طرف سے اس کی مذمت کے تناظرمیں دیکھاجائے گا ۔ کشمیر پر پنٹنگ، فوٹوگرافی، ہینڈ کراف اور کتب کی نمائش کی شام ساڑھے چھ بجے شروع ہوگی جس کی افتتاحی تقریب میں اراکین یورپی پارلیمنٹ، سفارتکار، بیوروکریٹس، ری سرچ سکالرز، ماہرین اور امن کے کارکن شریک ہوں گے۔ اس تقریب سے پاکستانی آرٹسٹ اورپینٹرجمیلہ ساغری جنھوں نے اپنی پنٹنگ میں کشمیرمیں زندگی کے مصائب کو دکھایاہے، بھی خطاب کریں گے۔ اس تقریب کی ایک اور سپیکر سعدیہ میر خطے میں موسمی تبدیلیوں کے بارے میں بتائیں گی اورزوردیں گی کہ مسئلہ کشمیرکاجلد حل کیوں ضروری ہے۔ اہم شخصیات اورسکالرز چائے کے وقفے کے دوران میڈیا سے غیررسمی بات چیت کرنے کےلئے موجودہوں گے۔ 26ستمبرکو دن دوبجے اجتماعی قبروں کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی جائے گی اور فلم کے اختتام پر شرکاء کے مابین بحث ہوگی اور شام چاربجے کشمیرمیں گم شدہ افراد کے والدین و دیگر لواحقین کے ساتھ اوپن بحث و گفتگو ہوگی۔ سٹلائیٹ رابطے کے ذریعے مقبوضہ کشمیرمیں متعدد گم شدہ افراد کے والدین اور لواحقین بات کریں گے۔ اختتامی تقریب 27ستمبرکو شام چاربجے منعقدہوگی۔ 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 21 ستمبر 2012 19:30

اٹلی میں حلال سرٹیفیکٹ جاری کرنے کا ادارہ قائم

روم۔ 21 ستمبر 2012 ۔۔۔۔ اٹلی میں حلال سرٹیفیکٹ جاری کرنے کا ادارہ قائم کر دیا گیا ہے ۔ کھانے پینے کی کئی ایسی مصنوعات ہیں ، جنہیں فروخت کرنے کے لیے حلال سرٹیفیکٹ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ گوشت، پنیر، کوسمیٹکس، بیوریج، ایسی ہیں ، جنہیں پیک کرنے کے لیے حلال سرٹیفیکٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوڈ کی انڈسٹری اور ہوٹلوں میں مسلمان مسافروں کا موجود ہونا اور اسکے علاوہ سپرمارکیٹ اور دوسری عام دکانوں میں اشیا کی خرید و فروخت کے لیے حلال سرٹیفیکٹ کا ہونا لازمی ہو گیا ہے ۔ اٹلی کی مصنوعات کو Halal Italyکہتے ہیں اور جس ادارے نے حلال سرٹیفیکٹ جاری کیا ہے ، اس کا نام Halal International Authorityہے ۔ اب تک اس ادارے نے 120 کارخانوں کو حلال سرٹیفیکٹ جاری کر دیا ہے اور 20 کے قریب نجی ادارے سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں ۔ اس ادارے کے صدر کا نام شریف لورینسی ہے ، انہوں نے آزاد کی اٹالین سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کچی اور پکی مصنوعات کے لیے ہم حلال سرٹیفیکٹ جاری کرتے ہیں ۔ اسکے علاوہ ہوٹل بھی ہم سے حلال سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے ہوٹل میں اگر مسلمان کلائنٹس آئیں تو انہیں نماز کے لیے مکہ کی سمت کی ضرورت ہوتی ہے ، اسکے علاوہ ہوٹل کے پانی کے تالاب میں نہانے کے لیے عورتوں اور مردوں کے لیے علیحدہ علیحدہ اوقات رکھے جا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹورزم کے محکمے میں حلال سرٹیفیکٹ سے اسلامی ٹورزم کو دعوت دی جا سکتی ہے ، اب تک اٹلی میں مسلمانوں کی ضروریات کی صرف بہت کم توجہ دی گئی ہے ۔ اٹلی میں made in  Italy halalمصنوعات سال میں 7 عرب یورو سے زیادہ پیدا کی جاتی ہیں ۔ اسکے علاوہ ملک کی اندرونی مارکیٹ بھی کافی اہمیت کی حامل ہے ، یعنی اٹلی میں رہنے والے مسلمان حلال مصنوعات استعمال کرتے ہیں اور انکی تعداد ہر سال 10 سے 15 فیصد بڑھ رہی ہے ۔ 15 لاکھ سے زائد مسلمان اٹلی میں آباد ہیں اور اسکے علاوہ کافی مسلمان یہاں سے گزرتے ہیں ۔ صرف اٹلی کی حلال مارکیٹ 5 عرب یورو سے زیادہ تصور کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حلال پروڈکٹس سے سماجی تعلقات میں بھی اضافہ ہوتا ہے ، زیادہ سے زیادہ حلال مصنوعات ہونگی اور زیادہ سے زیادہ مسلمان اٹلی کو اپنا گھر تصور کریں گے ۔ اسکے علاوہ حلال مصنوعات ان اٹالین کے لیے بھی ضروری ہوگئی ہیں ، جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے ۔ تصویر میں شریف لورینسی

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

امیگریشن کے لیے بہت کم درخواستیں جمع کروائی جا رہی ہیں

روم۔ 18 ستمبر 2012 ۔۔۔۔ آج 2 دن گزرنے کے بعد بھی امیگریشن کے لیے بہت کم درخواستیں جمع کروائی جا رہی ہیں ۔ اب تک جن مالکان کی اکثریت نے درخواست روانہ کی ہے ، وہ ڈومیسٹک ملازمین کے مالک ہیں ، نجی ادارے اب تک غائب نظر آتے ہیں ۔ وزارت داخلہ نے بتایا کہ 17 ستمبر کی شام 6 بجے تک صرف 7500 مالکان نے درخواست ٹیلی میٹک طریقے سے روانہ کی ہے ۔ صرف ہفتے کے روز زیادہ درخواستیں روانہ کی گئی تھیں ۔ اس دن 4500 درخواستیں روانہ ہوئی تھیں ۔ اسکے بعد سوموار کے دن تقریبا" بریک لگ گئی ہے ، حالانکہ اس روز وہ تمام دفاتر کھلے ہوئے تھے ، جو کہ امیگریشن کے سلسلے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ سوموار کو مالکانوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی ۔ پرائیویٹ لوگوں کی درخواستوں کی تعداد 5327 ہے اور اسکے بعد کیٹاگری کی ایسوسی ایشنوں کی درخواستیں 1885 ہیں اور اسکے بعد ورک کے کنسلٹنٹ کی درخواستیں 236 جمع ہوئی ہیں ۔ اٹلی کے بڑے شہر روم ، میلانو اور ناپولی درخواستیں جمع کروانے میں سب سے اول ہیں ۔ ان شہروں میں سے ہر شہر نے 1 ہزار سے زائد درخواستیں روانہ کی ہیں ۔ غیر ملکیوں میں انڈیا کے غیر ملکیوں کی درخواستیں 1307 ، بنگلہ دیش کی درخواستیں 1107 اور اسکے بعد مصر کے غیر ملکیوں کی درخواستیں 827 روانہ کی گئی ہیں ۔ درخواست دینے میں سب سے آگے ڈومیسٹک ملازمین کے مالکان ہیں اور انہوں نے اب تک 6758 درخواستیں روانہ کی ہیں ۔ صرف 690 درخواستیں دوسرے سیکٹروں سے روانہ کی altگئی ہیں ، جن میں زراعت، انڈسٹری اور کمرشل سیکٹر شامل ہیں ۔ ڈومیسٹک ملازمین کی درخواستیں اس لیے زیادہ جمع کروائی گئی ہیں کیونکہ یہ درخواست زیادہ آسان اور کم قیمت والی ہے ۔ اسکے علاوہ ان درخواستوں میں وہ مالکان بھی شامل ہیں جو کہ اپنے کسی عزیز یا جاننے والی کی پرمیسو دی سوجورنو بنوانے کے لیے درخواست دے چکے ہیں ۔ ہماری ریسرچ کے مطابق مالکان کے لیے اور غیر ملکی کے لیے یہ امیگریشن بہت مہنگی ہے ۔ ایک ہزار یورو فوری طور پر جمع کروانا اور اسکے بعد 6 ماہ ٹیکس جمع کروانا اور اسکے بعد پراویڈنٹ فنڈ جمع کروانا ۔ اٹلی کے نجی ادارے امیگریشن کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ درخواست نہیں دے رہے ۔ اسکے علاوہ یہ امید کرتے ہیں کہ اگر ہم درخواست جمع کروائیں تو یہ قبول کی جائے ۔ ان مسائل کے بعد موجودہ حکومت نے جو شرط ثبوت کی رکھی ہے کہ غیر ملکی 31 دسمبر 2011 سے پہلے اٹلی میں آباد ہو اور اسکی رجسٹریشن کسی سرکاری ادارے میں ہو ، یہ بھی کافی مشکل ہے ۔ اگر وزارت داخلہ نے کچھ نرمی نہ کی تو اس امیگریشن میں بہت کم درخواستیں جمع کروائی جائیں گی ۔ تحریر، ایلویو پاسکا

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت بدھ, 19 ستمبر 2012 12:52