Sunday, May 26th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

خبریں

روم میں یوم سیاہ کے موقع پر اجلاس کا انعقاد

روم۔ 26 اکتوبر 2014 ۔۔۔۔  بروز اتوار شام 6 بجے کے قریب مسئلہ کشیمر کے سلسلے میں یوم سیاہ پر اجلاس کا انعقاد کیاگیا ۔ اس اجلاس کے میزبان چوہدری بشیر امرے والا تھے ۔ اجلاس میں دو سو کے قریب پاکستانی اور کشمیری بھائیوں نے شرکت کی ۔ تلاوت کلام پاک کے بعد اسٹیج سیکرٹری محمد سرور بھٹی نے شرکا کا شکریہ ادا کیا اور مقررین کو تقاریر کے لیے دعوت دی۔  مقررین نے کہا کہ ان 67 سالوں میں 93 ہزار کشمیری شہید کیے گئے ہیں اور ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب جیلوں میں بند ہیں ۔  اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت میسر کی تھی لیکن اس پر کوئی عمل نہیں کیا گیا اور بھارتی فوجیں کشمیر میں جارحیت کر رہی ہیں ۔ مقررین میں محمد نجیب، خالد محمود خان، نصیر احمد، فاروق تبسم، فاروق راجپوت، راؤف خان، اعجاز سندھو، عبدالرحمان، چوہدری عامر بسرا، منظور شاہ، محمد کاشف کے علاوہ میزبان چوہدری بشیر امرے والا موجود تھے ۔ اجلاس کا اہتمام ایک ریسٹورنٹ میں کیا گیا تھا ۔ اجلاس کے بعد تمام حاضرین کو کھانا پیش کیا گیا ۔ انتظامیہ میں ثقلین علی سر فہرست تھے ۔ تقاریر کے موقع پر  کشمیر بنے گا پاکستان ، کشمیر زندہ باد اور پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجتے رہے ۔ یاد رہے کہ یوم سیاہ کے موقع پر اسی روز لندن میں ایک ملین لوگوں کا جلوس منعقد کیا جا رہا تھا ۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اب تک کشمیر کی آزادی کے لیے بھارت سے تین جنگیں لڑ چکے ہیں ۔ جب تک کشیمر آزاد نہیں ہو گا ہم سکھ کی نیند نہیں سوئیں گے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سستی ترین ہوائی ٹکٹ خریدنے کا مرکز

اگر آپ پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک میں جانے کے خواہشمند ہیں تو فوری طورپر شیخ محمد صدیق سے رابطہ کرتے ہوئے سستی ترین ٹکٹ حاصل کریں ۔

اٹلی کے کسی بھی شہر یا جگہ سے فون کرتے ہوئے ٹکٹ خریدیں ۔ شیخ محمد صدیق ٹکٹنگ کے کاروبار میں تجربہ کار اور ماہر ہونے کے علاوہ کمونٹی کی

مشہور شخصیت ہیں اور ان کا نعرہ ہے کہ وہ ٹکٹ کی گارنٹی اور کوالٹی کا خیال رکھتے ہیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 11 جون 2013 18:43

اریزو میں قیصرہ گلناز کی کتاب شائع

روم۔ 28 مئی 2013 ۔۔۔۔ اریزو کی پاکستانی شاعرہ قیصرہ گلناز کی کتاب شائع کردی گئی ہے اور اب اسکی رونمائی یکم جون بروز ہفتہ کمونے کی لائبریری میں کی جا رہی ہے ۔ قیصرہ گلناز کی عمر 10 سال تھی ، جب وہ اٹلی میں آئی تھیں ۔ اب انہوں نے ثقاافتی ترجمان کا کورس کیا ہے اور اب وہ منصوبہ "Straniero, non estraneo"میں کام کررہی ہیں ۔ قیصرہ 1984 میں پیدا ہوئی تھیں اور اب انہوں نے " کچھ خواب کچھ چاہتوں " کے نام سے کتاب شائع کی ہے جو کہ اٹالین زبان میں ہے ۔ اس کتاب کی رونمائی ساڑھے چار بجے شام کی جائے گی ۔ قیصرہ ہسپتال میں بھی ثقافتی ترجمانی کا کام کرتی ہیں اور انٹیگریشن کے لیے اہم کردار ادا کررہی ہیں ۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ میری کتاب کی شاعری میں غم اورخوشی دونوں شامل ہیں۔ کتاب کی رونمائی میں Massimo Zanoccoliمیزبان کا کردار ادا کریں گے اور اسکی نظمیں سدرہ امجد اور Laura Poggiپڑہ کر سنائیں گی ۔ یاد رہے کہ اٹلی کا معاشرہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملٹی کلچرل ہوتا جا رہا ہے اور دوسرے معاشروں کے لوگ کام کرنے کے علاوہ اسکی ثقافت کا بھی حصہ بن رہے ہیں ۔ تصاویر میں کتاب اورقیصرہ گلناز

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم میں شہزاد روئے کا پروگرام کامیاب رہا

روم۔ 18 مئی 2013 ۔۔۔۔ آج شام اٹلی کے دارالخلافہ روم کے باغ بورگیزے میں شہزاد روئے کا پروگرام کامیاب رہا ۔ انہوں نے اپنے مشہور نغمے پیش کرتے ہوئے عوام کے دل جیت لیے اور لوگوں نے خوب ناچ کیا ۔ شہزاد روئے اپنے اٹلی کے دورے پر اپنے گروپ کے ساتھ تشریف لائے ہیں ۔ پاکستان ایمبیسی روم کی جانب سے میزبانی کرتے ہوئے ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ نے مہمانان گرامی کو دعوت دی اور کنسرٹ باغ میں کھلے آسمان تلے وجود میں آیا ۔ روم کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی پاکستانی شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے محفل کو چار چاند لگادیے ۔ باغ میں تین سو کے قریب لوگ موجود تھے ، جن میں اٹالین کی تعداد بھی قابل زکر تھی ۔ شہزاد روئے نے اپنے بینڈ کے ساتھ ملکر کافی گانے پیش کیے اور خوب بھنگڑا ڈالا گيا ۔ ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور قومی ترانے کے ساتھ محفل کا اختتام کیا گیا ۔ یاد رہے کہ شہزاد روئے کو انسانی ہمدردی اور سوشل ورکر کے طور پر کئی تغمے مل چکے ہیں ۔ یہ زندگی ٹرسٹ کے بانی بھی ہیں اور غریب بچوں کی تعلیم کے لیے بھی مدد کر رہے ہیں ۔ 2004 میں انہیں تغمہ امتیاز دیا گیا تھا جو کہ پاکستان میں اعلی انسانی ہمدردی کے عوض جاری کیا جاتا ہے ۔ اسکے بعد کشمیر میں زلزلے کے دوران شہزاد روئے نے دن رات محنت کرتے ہوئے زلزلہ زدگان کی مدد کی تھی اور انہیں ستارہ امتیاز کا تغمہ سونپا گیا تھا ۔ آجکل شہزاد جیو ٹیوی میں چل پڑا کے نام سے ریالٹی شو کر رہے ہیں ۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 18 مئی 2013 22:47

نقل مکانی

 

نوع انسانی کے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام نے ابلیس کے ورغلانے پر شجر ممنوعہ کا پھل کھا لیا تو اس غلطی کی پاداش میں انھیں جنت سے بے دخل ہو کر نقل مکانی کر کے اس دنیا میں آنا پڑا- یہ پہلی انسانی نقل مکانی تھی- یہی نقل مکانی انسانی افزائیش نسل کا سبب بنی-جوں جوں انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا گیا لوگ خدا کی وسیع زمین میں پھیلتے چلے گئے- یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے-تیز رفتار ذرائع آمد و رفت اور کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد یہ دنیا سمٹ کر چھوٹی ہو گئی تو انسان نے چاند اور مریخ کی طرف نقل مکانی کے منصوبے بنا نا شروع کر دیے ہیں- انسان تو انسان جانور بھی وقتا“ فوقتا“ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف نقل مکانی کرتے رہتے ہیں- ان کے ایسا کرنے کی وجہ خوراک کی عدم دستیابی، موسمی شدت ، قدرتی آفات یا ڈر و خوف ہوتی یے- البتہ اس سلسلے میں جانوروں کو یہ سہولت ضرور میسر ہے کہ ان کو کسی ملک کی سرحد عبور کرنے کے لیے اجازت نامہ نہیں لینا پڑتا-سمندر میں مچھلیاں اور دیگر آبی جانور، فضاؤں میں پرندے اور زمین پر خشکی کےجانور آزادانہ ایک ملک سے دوسرے ملک کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں- انسانی نقل مکانی کی وجوہات مزکورہ بالا کے علاوہ معاشی ، سیاسی اور مزہبی بھی ہیں- انبیائے اکرام، اولیائے اکرام اور بزرگان دین لوگوں کو توحید کا درس دینے اور جہالت و گمراہی سے بچانے کے لیے نقل مکانی کرتے ریے- بعض اوقات گمراہ لوگوں کی طرف سے کی گئی سختیوں اور ظلم و ستم کی وجہ سے بھی انھیں نقل مکانی کرنا پڑی جسے عرف عام میں ہجرت کہا جاتا ہے- جب کسی ملک میں سیاسی نظام صحیح طریقے سے نہ چل رہا ہو اور اندھیر نگری چوپٹ راج والا معاملہ ہو، حکومت اپنے عوام کو بنیادی سہولتیں ، انصاف اور جان و مال کا تحفظ دینے میں ناکام ہو رہی ہو تو بھی لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں- بہتر اور کامیاب زندگی گزارنا پرانا انسانی خواب ہے- انسان شروع سے ہی خوب سے خوب تر کی تلاش میں سر گرداں ہے- اپنا معیار زندگی بلند کرنے اور بہتر سہولیات پانے کے لیے معاشی مضبوطی کا حصول بھی نقل مکانی کا سبب بنتا ہے- جب کوئی نیا جانور بھی پہلے سے موجود جانوروں میں شامل کیا جاتا ہے تو وہ بھی اس کی آمد کا برا مناتے ہیں اور اسے تنگ کرتے ہیں کچھ یہی حال انسانوں کا بھی ہے وہ بھی نو وارد کی آمد سے خوش نہیں ہوتے لیکن آہستہ آہستہ اسے برداشت کرنے لگ جاتے ہیں- نقل مکانی کرنے والے انسان کو بھی شروع شروع میں بڑی مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے- اجنبی ماحول اور بیگانے لوگوں میں وہ خود کو تنہا محسوس کرتا ہےاور کچھ عرصہ کے بعد واپسی کے بارے میں سوچتا ہے لیکن آہستہ آہستہ وہ نئے ماحول اور لوگوں سے مانوس ہونا شروع ہو جاتا ہے اور دن بدن اس کی مشکلات میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے- وہ سخت محنت کرتا ہے اور آہستہ آہستہ اس نئے معاشرے میں اپنا مناسب مقام بنا لیتا ہے کئی بار تو مقامی لوگوں سے بھی آگے نکل جاتا ہے اور اپنی کامیابیوں کے نشے میں واپس لوٹنا بھول جاتا ہے- نقل مکانی کبھی تو اپنے ہی وطن میں ایک علاقے سے دوسرے کی طرف اور کبھی وطن عزیز سے باہر کی جاتی ہے اور آخری نقل مکانی اس دنیا فانی کو چھوڑ کر روح کا واپس عالم بالا کی طرف پرواز کر جانا ہے- (تحریر: حاجی وحید پرویز ، اٹلی)-

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com