Sunday, Aug 25th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

سوال جواب

انسانی ہمدردی کی سوجورنو والوں کی ڈاک

 

سوال ۔۔۔۔ اسلام و علیکم اعجاز صاحب ،امید کرتا ھوں کہ آپ خیریت سے ھوں گے جیسا کہ آپ جانتے ھیں کہ میں آپ کا اور آپ کے اخبار کا بہت بڑا فین ھوں اور آپ کی تمام نیوز کا بڑی بےصبری سے انتظار رھتا ھے اور جب تک ان نیوز کو مکمل پڑھ نہ لوں تب تک ایک بےچینی سی محسوس ھوتی ھے باقی جیسا کہ آپ ھر موضوع پہ بڑی گہرائی سے اور دور اندیشی سے لکھتے ھیں جس سے ھر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا مستفید ھوتاھے تو اسی چیز کو دیکھتے ھوئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ آج آپ کی ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلاؤں کہ جس نظام سے یا دوسرے لفظوں میں احساس محرومی کا دو چار نہیں بلکہ ھزاروں لوگوں کا واسظہ پڑا ھے اوروہ ایسے لوگ  جو اٹلی کے مختلف کیمپوں میں لیبیا سے آ کے پناہ لیے ھوئے ھیں اور انتظار کی گھڑیوں کا بڑی بے چینی سے انتظار کر رھے ھیں کہ کب گورنمنٹ پیپرز دے اور ھم کہیں جا کے کام کاج کر سکیں اور پیاروں کے لیے خوشیاں خرید سکیں ان کے لیے بھی کوئی ایک معلوماتی کالم یا خبر لکھی جائے تا کہ جو بے چینی ان لوگوں میں  پائی جاتی ھے اس کا کچھ تو تدارک ھو سکے باقی یہ کیمپ 31 دسمر کو ختم ھو رھے ھیں اور اس کا باقاعدہ لیٹر بھی آچکا ھے جہ کہ سول پرٹیکشن والوں کی طرف سے تمام پولیس اسٹیشن کو بیجھا جا چکا ھے اور تما م لوگوں کو ایک سال کی انسانی ھمدردی کی سوجورنو دی جانی ھے جس کے لیے ھمارے دو، تین سوال آپ کی حاضر خدمت ھیں
 نمبر1 کیایہ سوجورنو ایک سال کے بعد رینیو ھو گی یا کہ ا نہیں اگر ھو گی تو کیا طریقہ کار کرنا ھو گا
نمبر 2 اگر کسی کیمپ کسی بندے سے امتیازی سلوک ھو رھا ھے ، اسے  کیسے رابطہ کرنا ھو گا جبکہ پولیس والے بھی کیمپوں سے ملی بھگت کر رھے ھیں
نمبر 3 اگر جو لوگ کسی دوسرے یورپی ملک میں جانا چاھتے ھوں تو کیا وہ اس سوجورنو پہ سفر کر سکیں گے
نمبر 4 کیا 31 دسمبر کے بعد کارتیاس والے رھائش وغیرہ کی سپورٹ کریں گے
برائے مہربانی جہاں تک بھی ممکن ھو سکے جلد از جلد اس حوالےسے کوئی تفصیلی کالم یا خبردیں ۔ طارق حسین

جواب ۔۔۔۔ طارق صاحب آپ کا خط موصول ہوا ۔ مجھے سخت پریشانی اور افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری سیاسی پناہ کینسل اس لیے بھی ہوتی ہے کیونکہ اٹلی میں ہماری کوئی ایسی ایشن نہیں جو کہ نئے پاکستانیوں کی راہنمائی کرسکے اور انکی مدد کرسکے ۔ ہاں ایجنٹ لوگ ہیں جو کہ ہماری ہی نسل ہیں لیکن ہمارے ہی خون چوسنے کے ماہر ہیں ۔ خیر آپکے سوالوں کے جواب یوں ہیں کہ انسانی ہمدردی کی سوجورنو نہ تو سیاسی پناہ کی سوجورنو ہے اور نہ عام کام کرنے کی سوجورنو ہے ۔ یہ سوجورنو صرف اس لیے جاری کی جاتی ہے تا کہ غیر ملکی اپنے ملک نہ جا سکے ، جہاں اسے جان کا خطرہ ہے ۔ سیاسی پناہ کے بین الاقوامی ادارے آکنور کے مطابق پاکستانی سیاسی پناہ کے حقدار نہیں ہیں ۔ ہاں اگر سنٹروں میں ان لوگوں سے برا سلوک کیا جاتا ہے تو وہ مجھے بتا سکتے ہیں ، اسکے بعد میں ایمنسٹی انٹرنیشنل یا دوسری کسی ایسوسی ایشن سے رابطہ کرسکتا ہوں ۔ ہاں انسانی ہمدردی کی سوجورنو صرف ایک دفع جاری کی جاتی ہے لیکن کام تلاش کرنے کی صورت میں اسے رینیو کروایا جا سکتا ہے ۔ انسانی ہمدردی کی سوجورنو بعض اوقات مختلف ہوتی ہے ، اس لیے آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنے شہر کے سنڈیکیٹ یا مزدور یونین کے امیگریشن کے دفتر سے رجوع کریں اور اسکی خصوصیات کے بارے میں علم حاصل کریں ۔ انسانی ہمدردی کی سوجورنو پر آپ شنگن ممالک میں تین ماہ کے لیے جا سکتے ہیں لیکن وہاں کام نہیں کرسکتے ۔ یہ عام پرمیسو دی سوجورنو کی طرح ہوتی ہے ، اس لیے اس سوجورنو کے وقت کے دوران کام تلاش کرتے ہوئے اسکی نوعیت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ جہاں تک مدد کا سوال ہے ، اس کے لیے آپ لوگوں کو تیاری کرنی ہوگی کیونکہ سیاسی پناہ کی دفاتر شام کے سیاسی پناہ گزینوں کے لیے تیاری کر رہے ہیں ، اس لیے یہ لوگ سنٹروں کو خالی کروانے کے خواہشمند ہیں ۔ یاد رہے کہ سنٹر کی زندگی غیر ملکی کو سست کردیتی ہے اور وہ کام تلاش کرنے اور گھر تلاش کرنے میں تاخیر کردیتا ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com