Tuesday, Nov 19th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

پاکستانی ثقافت

وینس کے فلمی فیسٹیول کا پاکستانی فلم سے افتتاح

روم۔ یکم ستمبر 2012 ۔۔۔ دنیا کے مشہور فلمی میلوں میں اٹلی کے شہر وینس کا نام سر فہرست ہے ۔ اس سال وینس کے فلمی فیسٹیول کا پاکستانی فلم سے افتتاح کیا گیا ہے ، اس فلم کا نام Fondamentalista riluttanteیا باغی بنیادپرست ہے ۔ اس فلم کی پروڈیوسر انڈیا کی مشہور ہدائیتکار میرا نیئر ہیں اور یہ فلم پاکستانی مشہور و معروف مصنف محسن مجید کی کتاب کی کہانی کی عکاسی کرتی  ہے ۔ میرا نیئر نے وینس میں اپنی فلم کاا فتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ وینس میں ایک دلچسپ اور حساس معاملے والی فلم کو مدنظر رکھتے  ہوئے سرخ کالین  پر اسکےاافتتاح کو اولیت دی گئی ہے  ۔ میرا نیئر نے کہا کہ بنیاد پرستی صرف مذہبی نہیں بلکہ انسان کے ضمیر کی عکاسی ہے ، دنیا کو دیکھنے اور پرکھنے کا زاویہ ہے ۔امریکہ میں 11 ستمبر کے بعد دنیا بدل گئی ہے اور انسانوں کا دنیا کو پرکھنے کا انداز بدل گیا ہے ۔ مشرقی اور مغربی دنیا میں ایک دراڑپیدا ہو گئی ہے اور ان دونوں میں نفرت اور پراپیگنڈہ کی دیواریں کھڑی ہو رہی ہیں ۔ محسن حمید کی کتاب باغی بنیاد پرست میں چنگیز خان اور امریکی صحافی لاہور کے ایک ٹی روم میں بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں اور جوان چنگیز خان اپنی کہانی سناتا ہے کہ اس نے اپنے خاندان سے روا‏یتی تعلیم حاصل کی اور اسکے بعد امریکہ کی زندگی کا خواب دیکھا، امریکہ کی سب سے اہم یونیورسٹی پرینسٹن سے تعلیم حاصل کی  اور امریکہ کی سٹاک ایکسچینج یعنی وال سٹریٹ میں مینجر کے طور پر کام کرنے لگا ، ایک خوبصورت امریکن لڑکی سے ملاقات ہوئی اور اسے اپنی زندگی بھر کا ساتھی سمجھنے لگا لیکن اس کا یہ خواب اس وقت خاک میں مل گیا ، جب امریکہ میں 11 ستمبر کا دہشت گردی کا واقع پیش آیا ۔ لوگوں کی رائے بدل گئی ، دوست دشمن بن گئے اور ہر شخص اسے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگا ۔ چنگیز خان کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آگئی ۔ میرا نئیر نے کہا کہ میں نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی ہے اور اس ملک سے محبت اور نفرت بھی کی ہے ۔ میں بھی نیویارک میں رہتی ہوں اور مجھے خود اس تجربے سے واسطہ پڑا ہے اور میرے کئی پاکستانی دوست تھے ، انکی زندگی اور حالات پر مجھے بھی خوف آتا تھا اور میں کافی پریشان تھی ۔ اپنے ہمسائے دشمن نظر آتے تھے اور وہ لوگ جو کہ ہم آہنگی اور انٹیگریشن کے گیت گاتے تھے ، وہی خاموشی اختیار کرتے ہوئے دور نظر آتے تھے ۔ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے ، جس میں ہزاروں سالوں کی تہذیب و تمدن اور ماڈرن کلچر اکٹھا سفر کرتے ہیں ، اس ملک میں فیض احمد فیص جیسے شاعر پیدا ہوئے ہیں اور یہاں کے مصنف، دانشور، مصور اور اداکار اعلی کردار کا کلچر پیش کرتے رہتے ہیں ، پاکستان میں ملبوسات کی ماڈلننگ اور دوسری کئی ایسی خصوصیات ہیں ، جنہیں دنیا کے اخبارات و ٹیوی میں جگہ نہیں دی جاتی ۔ اس ملک کو صرف ایک اینگل یا زاویے سے دیکھنے کیوجہ سے دنیا کی منفی رائے میں اضافہ ہوا ہے ۔ میں نے اپنی فلم مین مذہبی بنیاد پرستی کا زکر نہیں کیا اور میں نے کلچرل، معاشی اور فنانس کی بنیاد پرستی کو اجاگر کرتے ہوئے ایک رائے پیش کی ہے ۔ محسن حمید نے کہا کہ امریکہ میں تیس کروڑ انسان آباد ہیں اور سب ایک رائے نہیں رکھتے ، ہم سب انسان ہیں اور سکون و امن سے رہنے کے راستے تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ میرا نیئر نے کہا کہ اب تک عراق اور افغانستان کے مسئلے پر امریکی فلمیں بنتی رہی ہیں لیکن اس فلم سے پاکستانی رائے عامہ کو اجاگر کیا گیا ہے اور امریکہ اور پاکستان کے درمیان ڈائیلاگ کو مدنظر رکھا گیا ہے ۔ عام طور پر امریکی فلموں میں امریکہ کی خالص ترین رائے کو تقویت دی جاتی ہے ۔ تصویر میں میرا نئیر فلم کے اداکاروں کے ہمراہ

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سبرینا لئی اردو ادب کا ترجمہ کرنے میں اول

روم۔ 13 اگست 2012 ۔۔۔ روم میں آباد جوان سکالر سبرینا لئی نے اردو ادب کا ترجمہ کرنے میں اولیت حاصل کر لی ہے ۔ یوں تو چند پبلشرز اردو کی کتابوں کا ترجمہ اٹالین میں کر چکے ہیں لیکن سبرینا لئی نے تو کمال ہی کر دیا ہے ۔ انہوں نے اب تک علامہ اقبال، پروین شاکر، مظہر الاسلام اور اور کئی دوسرے مصنفوں کا ترجمہ کرتے ہوئے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ادب کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خاوند عبدالطیف ایک انڈین مسلمان ہیں اور ان کا تعلق کیرالا اسٹیٹ سے ہے ۔ سبرینا لئی نے اسلام قبول کر لیا ہے اور وہ حجاب پہنتی  ہیں ۔ سبرینا ایک اچھی مسلمان ہونے کے علاوہ اردو ادب سے بھی گہری دلچسپی رکھتی ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت اردو لکھاریوں کی کتابوں کے لیے صرف کرتی ہیں ۔ سبرینا نے روزے کی حالت میں انڈین ریسٹورنٹ میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا اور وہاں ان پبلشروں کو بلایا گیا جو کہ اردو ادب اور بر صفیر کی ثقافت کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ فرانکو سپوزیتو نے اپنے کتب خانے سے منٹو کی کتاب کا ترجمہ کیا ہے اور مارا روم یونیورسٹی میں بر صفیر کی علاقائی زبانوں کے لیے کام کر رہی ہیں ، اعجاز احمد روم یونیورسٹی میں اردو زبان کا کورس کرواتے ہیں اور آزد اخبار کے ایڈیٹر ہیں ۔ میٹنگ میں موجود ان افراد نے عہد کیا کہ وہ اکتوبر میں روم میں اردو ادب پر ایک کانفرنس کروائیں گے اور اٹلی کے ان تمام دانشوروں کو بھی دعوت دیں گے جو کہ اردو سے منسلک ہیں ۔ پاکستان سے بھی سکالروں کو بلایا جائے گا ، اس سلسلے میں ہماری سفارتکارہ تہمینہ جنجوعہ نے بھرپور تعاون کا عہد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ اٹلی میں اردو کے بارے میں زیادہ سے زیادہ پرچار کیا جائے ۔ سبرینا لئی کی سائٹ نوٹ فرمائیں 

 

www.jayeditore.com

altalt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اہل وطن کو عید مبارک ، محمد شفیق

سویٹ اینڈ سالٹ ریسٹورنٹ کے مالک محمد شفیق نے تمام اہل وطن کو چند دنوں بعد آنے والیalt عید مبارک پیش کی ہے اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ عید کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ ہمیں ان پاکستانیوں کی مدد بھی کرنی چاہئے جو کہ اس مبارک موقع پر عید کے کپڑے اور کھانے پینے کی اشیا نہیں خرید پاتے ۔ انہوں نے کہا کہ بلونیا شہر میں اگر کوئی پاکستانی کھانے اور مٹھائی کھانے کی خواہش کرتا ہے تو وہ ہمارے پاس تشریف لائے ۔ ہماری کوالٹی اور صفائی سے ہر بندہ واقف ہے ۔ ہم آپکا انتظار کریں گے ۔

Sweet and Salt Via Romolo Amaseo 5/B Bologna Tel. 051.516885 Mob.389.1140714Proprietario Mohammad Shafiq

 website . www.sweetandsalt.net

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

شہنشاہ ِغزل مہدی حسن انتقال کر گئے

14 جون 2012 ۔۔۔ دنیائے غزل کےعظیم ترین گائیکوں میں سے ایک مہدی حسن طویل علالت کے بعد بدھ کو کراچی میں انتقال کر گئے، ان کی عمر 84سال تھی۔مہدی حسن کافی عرصے سے فالج کا شکار تھے اور آغا خان ہسپتال میں داخل تھے۔آغا خان ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ان کی طبیعت اچانک بگڑنا شروع ہوگئی اور بارہ بج کر پندرہ منٹ پر ان کا انتقال ہوگیا۔چوراسی سالہ مہدی حسن جنھیں شہنشاہ غزل کا خطاب دیا گیا تھا، وہ بھارتی ریاست راجھستان کے ایک گاؤں لونا میں پیدا ہوئے تھے۔وہ پاکستان کے قیام کے بعد راجستھان سے کراچی منتقل ہوگئے تھے جہاں ابتدا میں انہوں نے زندگی کے دشوار ترین دن گزارے، انہوں نے سائیکل پنکچر لگانے کی دکان پر کام کیا جس کے بعد ایک موٹر میکنیک ورکشاپ سے منسلک ہوگئے۔وہ بچپن سے ہی گلوکاری سے آشنا تھے اور اس عرصے میں انہوں نے ریاضت کو جاری رکھا۔ موسیقی کی دنیا میں ان کے سفر کا باقاعدہ آغاز 1952میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے ہوا اور انہوں نے اپنے کیریئر میں پچیس ہزار سے زیادہ فلمی اور غیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں۔1960 اور ستر کی دہائی میں ان کا شمار عوام کے پسندیدہ ترین فلمی گلوکاروں میں ہوتا تھا۔حکومت پاکستان ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ امتیازاور تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نواز چکی ہے۔مہدی حسن کی گائیگی بھارت اور پاکستان میں یکساں مقبول ہے اور بھارت کی ممتاز گلوکارہ لتا منگیشکر نے ایک بار مہدی حسن کی گائیگی کو ’بھگوان کی آواز‘ سے منسوب کیا تھا۔بھارتی ریاست راجستھان کی حکومت نے مہدی حسن کو بھارت میں علاج معالجے کی پیشکش بھی کی تھی ۔ مہدی حسن اور ملکہ نور جہاں پاکستان کے سب سے بڑے گلوکار شمار ہوتے ہیں ۔

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

فخر زمان


پاکستان اکیڈمی آف لیٹر کی بنیاد زوالفقار علی بھٹونے رکھی تھی۔ بھٹو نے فرانس کی اکیڈمی فرانسیز کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں اس طرح کی اکیڈمی کا آغاز کیا۔ آجکل اس کے ڈائیریکٹر اردو و پنجابی کے درخشندہ ستارے فخر زمان ہیں۔ فخر زمان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کا تعلق پاکستان بلکہ پنجاب کے مشہور شہر گجرات سے ہے۔ عام طور پے دیارِ غیر میں رہنے والے گجرات شہر کو کئی اور حوالوں سے جانتے ہیں جن کا ذکر کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا۔ گجرات شہر میں روحی کنجاہی اور انور مسعود جیسے مہان استاد لوگ پیدا ہوئے ہیں۔ فخر زمان نے نہ صرف پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ انہوں نے ہالینڈسے بھی قانون کی ڈگری حاصل کی۔ فخرزمان نے ادبی زندگی کا آغاز بہت پہلے کیا اور ان کا پہلا شعری مجموعہ اردومیں  زہراب میں منظرِ عام پے آیا۔ اس کے بعد تو کتابوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان کی کتاب ہر سال بازار میں آنے لگی۔ ان کی دوسری ادبی تحریر پنجابی زبان میں ایک ریڈیوں کا ڈرامہ تھا ’’چڑیاں دا چنباں‘‘ جو کہ منظرِ عام پے آیا ۔ اس کے بعد ’’واں ڑ دا بوٹا ‘‘ بھی ریڈیوکا ڈرامہ تھا 1981میں منظرِ عام پے آیا۔ دیگر تصنیفات درج ذیل ہیں۔اس کے علاوہ ان کی بیشمار تحریریں دیگر زبانوں میںآچکی ہیں۔ انہوں نے بینظیر بھٹو اور زوالفقار علی بھٹو کی زندگی پے لکھی جانے والی مختلف دستاویزات اور تحریروں کو بھی اکھٹا کیا جو کہ ایک مشکل اور محنت طلب کام تھا۔حال ہی میں ان کی زیرِ سرپرستی ایک کتاب جاری ہوئی ہے جس میں اردو ادب کے ساٹھ سالہ افسانوں میں سے چنے گئے افسانوں کی کتاب مرتب کی گئی ہے۔ ہر دہائی کے اچھے افسانے چن کر اس کتاب کی زینت بنائے گئے ہیں ۔فخر زمان کی پانچ پنجابی کتابوں پر مارشل لاء دور میں پابندی لگائی گئی ۔ اس پابندی کو لاہور ہائیکورٹ نے اٹھارہ سال بعد ختم کیا۔ ادب کی تاریخ میں کسی بھی مصنف کی پانچ کتابوں پر پابندی لگنا گنیز بکس آف ریکارڈ میں آنا چاہیئے۔ فخرزمان کی کتابیں پنجابی ادب کے ماسٹرز کے نصاب میں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ ان کی ادبی خدمات پر کئی ایک لوگوں نے پی ایچ ڈی بھی کی ہے۔ فخر زمان کی زیرِ سرپرستی تین مجلے بھی نکلتے ہیں ’’وائس‘‘ انگریزی میں ماہوار، ’’بازگشت‘‘ اردو میں ماہوار اور ’’ونگار‘‘ پنجابی میں ہفتہ وار یہ تینوں ماشل لاء دور میں بند کردیئے گئے تھے۔ فخرزمان نہ صرف ادبی خدمات انجام دیتے رہے بلکہ وہ اہم سرکاری عہدوں پر میں کارہائے نمایا ں انجام دیتے رہے ہیں۔ جس میں آپ بیگم نصرت بھٹو کے سیاسی مشیر رہے۔ 1988میں آپ سینٹ کے ممبر رہے۔ پریذیڈنٹ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب۔ دو دفعہ اکیڈمی ادبیات کے چیئرمین بنے جو کہ اب بھی ہیں۔ اس کے علاوہ یونیسکو کے ورلڈ کلچرل ڈیکیڈ کے بھی چیئرمین ہیں  .حکومت پاکستان نے فخرزمان کو آپ کی ادبی خدمات صلے میں کئی اعزازات سے نوازاجن میں حکومت پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز ’’ستارہ ءِ امتیاز ‘‘ آپ کی ادبی خدمات کے سلسلے میں  آپ کو دیا گیا۔ اس کے علاوہ ملینیم ایوارڈ اور 2008میں آپ کو ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ فخر زمان واحد پاکستانی ادیب ہیں جنھیں ہندوستان کا مشہور اعزاز ملا ’’شرومانی ساہیتک‘‘۔  فخر زمان نے نہ صرف پاکستان میں ادب کی خدمت کی بلکہ انہوں نے غیر ممالک میں ادبی کانفرنسسز کا انعقاد کیا ہے جن میں امریکہ، فرانس، انگلستان، سویڈن، چیکریپبلک،چین،نورتھ کوریا، مصر،انڈیا، ازبکستان،روس، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ڈنمارک، ناروے،ہنگری،اٹلی، آسٹریاء، ہالینڈ، بیلجیئم، فن لینڈ، ایستونیاء، جرمنی، یونان، کازکستان،ترکمانستان اور کرگستان شامل ہیں۔ 

alt
PAKISTAN ACEDEMY OF LETTERS
SECTOR H-8/1ISLAMABAD
PAKISTAN
سرفراز بیگ از اریزو
baigsarfrazhotmail.com

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com