Sunday, Jan 20th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

پاکستانی ثقافت

تماشہ

ہم میں سے اکثر نے زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا ضرور دیکھا ہے کہ گلی میں یکایک بچوں کی ٹولی بھاگتی ہوئی نمودار ہوتی ہے اور اُس کے ساتھ ہی ڈفلی کی ڈگ ڈگ سنائی دیتی ہے۔ پھر ایک دُبلا سا شخص ایک ریچھ یا بندر کے ساتھ نظر آتا ہے جسے عرفِ عام میں مداری کہتے ہیں۔ یوں تو مداری نے اُس جانور کی بڑی اچھی تربیت کی ہوتی ہے مگر پھر بھی ایک رسی سے اُسے ضرور باندھا ہوتا ہے تاکہ وہ قابو میں رہے۔ جو بچے کچھ کم فعال ہوتے ہیں وہ اُس شخص کے پیچھے ہوتے ہیں۔ جانور کا مالک مناسب سی جگہ دیکھ کر مجمع لگا لیتا ہے۔ ڈفلی کی ڈگ ڈگ جاری رہتی ہے مگر اُس کے رِدھم میں تبدیلی آتی ہے جس پر وہ بندر یا ریچھ اپنی تیاری کا اظہار کرتا ہے اور تماشہ شروع ہوجاتا ہے جسے مداری مجمع کی دلچسپی تک جاری رکھتا ہے۔ اختتامِ تماشہ پر مالک اور اُس کے پا لتو حاضرین سے اپنے فنِ کمال کا معاوضہ لیتے ہیں اور اگلے پنڈال کی تلاش میں چل پڑتے ہیں۔ اُس شخص کے بچے اپنے مستقبل کی فکر سے آزاد سارا دن آوارہ گردی کرتے کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں کی چھان بین میں مصروف رہتے ہیں۔ کچھ مل جائے تو شام کو گھر لوٹنے سے پہلے ردی کا کاروبار کرنے والوں کو بیچ کر پیسے بنا لیتے ہیں۔ اس طبقے کی عورتیں عموماَ اپنی جھگیوں میں ہی دن گزارتی ہیں یا پھر گڈویاں ہاتھوں میں لیے بھیک مانگتی ہیں۔ یہ اُن کا کسب ہے۔ شام تک سارا خاندان اتنا ضرور اکٹھا کر لیتا ہے کہ سارے اپنے پیٹ کا ایندھن بھر لیتے ہیں اور آنے والے کل کی تیاری کرتے ہیں۔ جانوروں کا مالک اپنے پالتوؤں سے کبھی غافل نہیں رہتا۔ وہ اُن کے کھانے، آرام اور تفریح کا مکمل خیال رکھتا ہے۔ مداری جس نے صرف زندگی سے ہی سبق سیکھا ہوتا ہے وہ اپنے ذریعہِ معاش سے حد ممکن انصاف کرتا ہے ورنہ احتمال ہے کہ اُن کا چولہ نہ ٹھنڈا ہو جائے۔ یہ ہمارے معاشرے کا ایک پست ترین طبقہ شمار ہوتا ہے۔ چند دہائیوں سے یہ تماشہ بہت عام ہو گیا ہے اور اِس کے اصول بھی اب ویسے نہیں رہے۔ ڈفلی اب بھی بجتی ہے مگر اس میں سے ڈگ ڈگ ڈگی کی آواز نہیں نکلتی۔ اِس آواز نے اب باقاعدہ الفاظ کا روپ ڈھال لیا ہے۔ مجمع آج بھی لگا ہے اور ڈفلی بھی بج اُٹھی ہے۔روٹی، بجلی، کپڑا، نوکری، گیس، مکان، انصاف‘‘روٹی، بجلی، کپڑا، نوکری...‘‘مگر آج تماشہ دکھانے والے صرف دو نہیں ہیں، آج تو ہزاروں نہیں لاکھوں ہیں جو ڈفلی کی اِس آواز کو سُن کر ناچتے ہیں۔ مداری کی طرف آس و اُمید سے دیکھتے ہیں کہ تماشے کے بعد اُن کو یہ سب مل جائے گا۔ آج وہ مداری کے ساتھ بغیر کسی رسی کے بندھے ہوئے رہتے ہیں۔ مگر آج کے تماشہ گر نے نئے سبق سیکھ لیے ہیں۔ وہ اپنے پالتوؤں کی ضروریات ایک حد تک بھی پوری کرنا ضروری نہیں سمجھتا کہ کہیں وہ کچھ حاصل کر لینے کے بعد فرار ہی نہ ہو جائیں۔اِن تماشہ گروں کی اولادکو اپنے کل کی فکر نہیں۔ اُن کا مستقبل تو آج سے ہی محفوظ کیا جا رہا ہے۔ اور اِن کی عورتیں جب فراغت سے اُکتا جاتی ہیں تورفاعِ عامہ کے نام پر کوئی این جی او کھول کر کشکول پکڑ لیتی ہیں اور غیر ملکی امداد کو اکٹھا کرنے کا بیڑا اُٹھا لیتی ہیں۔ آج کا مداری اُس لاغر شخص سے کہیں زیادہ اُچھی حرکات پر اُتر آیا ہے، اُسے اپنے پالتووں سے بہت پیار ہے جس کا اظہار وہ کھلے عام چیخ چیخ کر کرتا ہے مگر تماشے کے بعد وہ اُن کو گھر کے باہر ہی کسی کونٹھے سے باندھ دیتا ہےاُن کا کسب ہے اور یہ ہمارے معاشرے کا ایک اعلیٰ ترین طبقہ شمار ہوتا ہے۔ کسی سیانے کا قول ہے کہ دنیا میں جب تک بیوقوف موجود ہیں عقلمند کبھی بھوکا نہیں مرے گا۔ خیر اِس تماشہ گر کو عقلمند کہنا تو خود ایک بیوقوفانہ سی بات ہوگی مگر تماشے کے دوسرے کرداروں کو یقیناَ عقلمندوں کی صند نہیں دی جانی چاہیے۔ آج ہماری زندگی نہیں بدل رہی اور بدل بھی نہیں سکتی کیونکہ ہم میں سے شاید شعور ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ قرآنِ پاک میں انسانوں کے ایک گروہ کا بیان ہے جو اللہ کا نافرمان تھا اور پھر سزا کے طور پراُن کی شکلیں بندروں اور سؤروں جیسی کر دی گئیں۔آج ہماری شکلیں تو خوبصورت ہیں مگر ہمارے کردار؟فردِواحد معاشرے کی اکائی ہے۔ ہر کوئی اپنی جگہ اہم ہے۔ ہمارے کردار ہمارے معاملات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ہم میں سے جسے جہاں موقع ملتا ہے وہ صرف وقتی ذاتی مفاد کو مدِنظر رکھ کر معاملات طے کر لیتا ہے۔ آج معاشرے کا کون سا فرد ہے جو دوسرے سے مطمئن ہے۔ ہر کسی کے ہاتھ میں ایک ایسا آئنیہ ہے جس میں صرف اپنی ہستی ہی کامل نظر آتی ہے! کیا عزابِ الہی میں صرف انسانی ظاہر ہی بدلا جاتا ہے۔ ہم اپنی خوبصورت شکلیں دیکھ کرمطمعن ہیں اور خود کو اعلیٰ و عرفا سمجھ رہے ہیں مگرہو سکتا ہے حقیقتاَہم اعتابِ الہی کے ذیرِ اثر ہوں۔ ہم میں کچھ سمجھنے کا شعور ہوتا تو ہم پستیوں سے اُبھر کے اشرف مخلوقات نہ بن جاتے۔ کوئی تو یہ سوچنے کی کوشش کرے...۔

محمد شاہد مشتاق چیمہ ۔ اریزو، اٹلی

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 12 فروری 2012 20:15