Thursday, May 23rd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

پاکستانی ثقافت

آزادی کی قیمت

ہمیں یہی بتایا گیا

اِک قائد نے ملک بنایا تھا

جب قائد روٹھ کے چلا گیا

اْس کو پھر منایا تھا

لیکن یہ ہے کس کو پتا

فرنگی نے فرمایا تھا

جو میری خاطر جان گنواؤں گے

تو پھر آزادی پاؤ گے

جہاں گرے گا ہمارا پسینہ

وہاں ہندوستانی خون بہاؤ گے

انگلستان کی فوج میں آکر

چَین کی بنسی بجاؤ گے

یہ جان کے

کتنی ماؤں کے لال

کتنی بہنوں کے بھائی

کتنی سہاگنوں کے سہاگ

فوج میں بھرتی ہونے آئے

کہ چَین کی بنسی بجائیں گے

گورے کے لیئے خون بہائیں گے

اور ایسے آزادی پائیں گے

جہاں جہاں تھے گوروں کے پنجے

وہا ں وہاں فوجوں کو بھجوایا گیا

جِس نے کی حکم عدولی

اْس کو کالے پانی بھجوایا گیا

یورپ کی آزادی کی خاطر

ہندوستانیو ں کا خون بہایا گیا

آکے یورپ کے قبرستانوں میں دیکھو

چَین کی بنسی کی خاطر

مدفون ہوئے اغیاروں سے

آزاد ی کی قیمت دے کر

بچھڑے اپنے پیاروں اور یاروں سے

کیسی نمازِ جنازہ

اور کیسی رام نام ستے

کِس نے ان کی قبروں کا سجایا

پھولوں اور ہاروں سے

جِن نے اپنا خون پلاکر

یورپ کو آزاد کرایا

اْن سے اب بھی ہمارے رشتے ناتے ہیں

انہوں نے اپنی جانیں دے کر

آزادی کی قیمت چکائی تھی

یورپ میں جنگیں کرتے کرتے

کیا چَین کی بنسی بجائی تھی

کیا قائد نے ملک بنایا تھا

یاگورے نے جان چھڑائی تھی

ہمیں یہی بتایاگیا

اِک قائد نے ملک بنایا تھا

سرفراز بیگ

 

20/06/ 2001 arezzo

AREZZO WAR CEMETRY

کو دیکھنے کے بعد اِن لوگوں کی یاد میں لکھی گئی نظم جنھوں نے دوسری جنگِ عظیم میں انگریزوں کی خاطر لڑتے ہوئے دیارِ غیر میں اپنی جانیں گنوائیں جن کی مکمل تعداد 161249 یعنی ایک لاکھ اکسٹھ ہزار دو سو اننچاس ہے   

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم میں تاج محل ریسٹورنٹ کا افتتاح

روم۔ یکم جنوری 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے دارالخلافہ روم میں ایک شاندار برصغیر کے کھانوں کا ریسٹورنٹ وجود میں آگیا ہے ۔ تاج محل کے مالک فرحاد مرشد روبل کا تعلق بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ سے ہے ۔ انہوں نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سفارتکارہ تہمینہ جنجوعہ ہمارے ریسٹورنٹ کا وزٹ کر چکی ہیں اور ہم دعوہ کرتے ہیں کہ ہمارا کھانا اصل ہندوستانی کھانا ہے ۔ ہمارے باورچی پاکستان اور انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں اور ہماری حلیم بے مثال ہے ۔ ریسٹورنٹ کافی کشیدہ، خوبصورت  اور ہوادار ہے ، یہاں 400 کے قریب مہمان کھانا کھا سکتے ہیں اور ہم نے 200 کاروں کی پارکنگ کا بھی انتظام کررکھا ہے ۔ شادی بیاہ، برتھ ڈے ، عید رمضان اور دوسرے خوشی کے موقعوں پر ہمارے پاس تشریف لاتے ہوئے خدمت کا موقع فراہم کریں ۔ ہم نے ریسٹورنٹ کی ڈیکوریشن تاج محل کی طرح کی ہے اور ہمارا سٹاف اردو، پنجابی، اٹالین اور بنگالی زبان بولتا ہے ۔ ہمارے ریسٹورنٹ پر حلال کھانا دستیاب ہے اور گزشتہ 5 مہینوں سے اب تک بنگالی، انڈین اور پاکستانی خاندان ہمارے پاس پارٹیوں کے سلسلے میں سینکڑوں کی تعداد میں تشریف لاچکے ہیں ۔ ہم نے تمام ایمبیسیوں کی پارٹیوں کے لیے بھی انتظامات کر رکھے ہیں اور ہم چند ڈپلومیٹس کی پارٹیاں بھی عمل میں لا چکے ہیں ۔ تمام پاکستانیوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ہمیں خدمت کا موقع دیں ۔

Tajmahal la vera cucina indiana, Via Casilina, 565a/b ( Torpignattara ) Tel. 06. 2411209/ Cell. 3343746690

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

دنیا میں شاہد نذیر مچھلی فروش کی مقبولیت

27 دسمبر 2012 ۔۔۔ برطانیہ اور دیگر ممالک میں ’ون پاؤنڈ فش‘ نامی نغمے سے مقبولیت حاصل کرنے والے پاکستانی شاہد نذیر کا گانا کرسمس چارٹس میں تو سرِفہرست نہیں آ سکا لیکن وہ اپنے مستقبل کے بارے میں مایوس نہیں ہیں۔صحافیوں سے  بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کا گانا کرسمس چارٹس میں شامل دو سو نغموں میں انتیسویں نمبر پر رہا ہے لیکن یہ بات ان کے لیے باعثِ فخر ہے کہ وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا گانا صرف دو ہفتے قبل ہی ریلیز ہوا ہے اور اس عرصے میں جتنی مقبولیت اسے ملی ہے وہ ناقابلِ یقین ہے۔انہوں نے کہا کہ ویڈیو ڈاؤن لوڈنگ کے معاملے میں ان کی ویڈیو مقبول ترین ویڈیوز میں چوتھے نمبر پر ہے۔انہوں نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ انہیں برطانوی امیگریشن حکام نے ویزے کی معیاد ختم ہونے پر ملک چھوڑنے کو کہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پچیس دسمبر کو اپنے ویزے کی نوعیت میں تبدیلی کے لیے پاکستان آ رہے ہیں اور واپس لندن یا پیرس  جا کر گلوکاری کا سلسلہ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔  پاکستان کے شہر لاہور کے قریبی قصبے پتوکی کے محمد شاہد نذیر حصولِ تعلیم کے لیے برطانیہ گئے تھے۔وہاں انہوں نے گزر بسر کے لیے مشرقی لندن میں کی ایک مارکیٹ میں مچھلی کی فروخت کا کام شروع کیا اورگاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیےگلوکاری کا سہارا لیا۔بازار میں آنے والے افراد کی جانب سے پسند کیے جانے پر شاہد نذیر نے ٹی وی پروگرام ایکس فیکٹر میں قسمت آزمائی کی۔ وہاں تو انہیں کامیابی نہ مل سکی لیکن انٹرنیٹ پر ان کےگانا گا کر مچھلی فروخت کرنے کی ویڈیو کو خوب مقبولیت حاصل ہوئی۔اس مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی میوزک کمپنی وارنر نے رواں برس ان کے اس گانے کو باقاعدہ میوزک ویڈیو کی شکل دینے کے لیے ان سے معاہدہ کیا تھا۔تقریباً دو ہفتے قبل ان کی یہ ویڈیو منظرِ عام پر آئی اور اب تک پینسٹھ لاکھ سے زائد افراد یہ ویڈیو یو ٹیوب پر دیکھ چکے ہیں۔یاد رہے کہ انکی طرح کوریا کے ایک گلوکار کی ویڈیو گم گم سٹائل کافی مقبول ہوئی ہے۔ شاہد کے گیت سننے کے لیے نیچے کلک کریں ۔

http://youtu.be/G_miGclPFGs

 

http://youtu.be/tuL1AWo_zgQ

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 27 دسمبر 2012 21:33

چین میں آباد پاکستانی آزاد پڑھنے میں اولیت لے گئے

روم۔ 12 دسمبر 2012 ۔۔۔ یاد رہے کا چند ماہ قبل آزاد کی انٹرنیٹ کی سائٹ پڑھنے میں کینڈا کے پاکستانی اول تھے لیکن اب سکیل کے مطابق چین میں آباد پاکستانی اٹلی کے بعد آزاد پڑھتے ہیں ۔ ہم چین والوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں اور یہ بتائیں کہ وہ اٹلی میں کیوں دلچسپی لیتے ہیں اور وہ آزاد کی طرف سے کونسی مزید خبروں کی توقع رکھتے ہیں ۔ یاد رہے کہ اٹلی میں ایک لاکھ کے قریب پاکستانی آباد ہیں اور ہماری کمونٹی فیکٹریوں میں ملازمت کے علاوہ چھوٹا کاروبار یعنی سٹال، حلال فوڈ شاپ، انٹرنیٹ پوائنٹ اور ڈونر کباب میں مقام بنا رہی ہے ۔ اس سال اٹلی میں 7 ہزار سے زائد پاکستانی بچے پیدا ہوئے ہیں اور 15 ہزار بچے اٹالین سکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ انگلینڈ کے بعد اٹلی میں پاکستانیوں کی تعداد اہم قرار دی گئی ہے ۔ انگلینڈ میں 10 لاکھ کے قریب پاکستانی آباد ہیں لیکن ان میں 8 لاکھ سے زیادہ انگلش پاسپورٹ کے مالک ہیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

تارکین وطن کی خوشیاں

روم۔ 26 نومبر 2012 ۔۔۔ اپنے پیارے وطن سے دور رہ کر ایسے معاشرے میں اپنا مقام بنانا ، جہاں تمہارے نام سے کوئی واقف نہیں ہوتا ، کوئی تمہاری زات کو نہیں جانتا چاہے تم کتنے ہی بڑے چوہدری ، سید، وڈیرے یا خان کیوں نہ ہو ۔ یہاں تمہیں کالا آدمی، پاکستانو، ، رنگدار لڑکا ، غیر ملکی، حبشی، اور دوسرے کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے ، اپنا نام یاد کروانے کے لیے تمہیں کافی وقت لگ جاتا ہے ۔ تمہارے نام ، مذہب، کلچر، عادات اور رہن سہن پر تنقید کے پہلو کھلتے ہیں اور تمہیں ایسے جوابات تلاش کرنے پڑتے ہیں جن کی پاکستان میں کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ پاکستان میں یہ تمام سوالات بے معنی ہوتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا تھا تو ہمیں ڈرانے کے لیے کہا جاتا تھا کہ باہر مت جانا ورنہ تمہیں پٹھان اٹھا کر لے جائے گا ، جب میں اٹلی آیا اور یہاں کے کلجر کے بارے میں علم حاصل کیا تو پتا چلا کہ یہاں ماں بچے کو یہ کہہ کر ڈراتی ہے کہ باہر مت جانا ورنہ کالا آدمی ( یعنی میں ) تمہیں اٹھا کر لے جائے گا ۔ خیر ہم یورپ میں آگئے اور یہاں رہنا شروع کردیا ۔ ہماری خوشیاں بھی عجیب ہیں جو کہ پاکستان میں رہنے والے ہم وطنوں کے لیے عجیت ہونگی ۔ یعنی ہم اس وقت خوش ہو جاتے ہیں ، جب ہم کسی کشتی کے زریعے مہینوں اور سالوں کا سفر کرنے کے بعد اٹلی پہنچ جاتے ہیں اور ہمارے دوست ، بھائی اور ملنے والے ہماری آمد پر خوشی مناتے ہیں ، اسکے بعد ہم اس وقت خوش ہوجاتے ہیں ، جب ہمیں کوئی کام مل جاتا ہے یا پھر کوئی کمائی کا زریعہ شروع ہوجاتا ہے ، اسکے بعد ہماری سب سے بڑی خوشی اس وقت منائی جاتی ہے ، جب ہمیں پرمیسو دی سوجورنو یا اٹلی کا ورک پرمٹ ملتا ہے ۔ مٹھائی منگوائی جاتی ہے اور دوستوں کو دعوت دی جاتی ہے ، ہاں اسکے بعد کافی سال گزرنے کے بعد ہم اس وقت خوشی مناتے ہیں ، جب ہمیں اٹالین پاسپورٹ ملتا ہے ، اسکی خوشی تو ہم مناتے ہیں لیکن اٹالین پاسپورٹ اس وقت دیتے ہیں ، جب ہمارے بال سفید ہو چکے ہوتے ہیں ۔ خیر پاسپورٹ ملنے کے بعد ہماری خوشی ہوتی ہے کہ ہم انگلینڈ ، امریکہ اور کینڈا میں ویزے کے بغیر جائیں  کیونکہ یہ ایسے ممالک ہیں جو ہمارے خوابوں کے ممالک تصور کیے جاتے ہیں ۔ تارکین وطن  اس وقت بھی خوش ہوتے ہیں ، جب اٹلی سے حج کا سفر کرنے کے لیے روانہ ہوتے ہیں یا پھر  کسی مسجد میں جا کر جمعہ کی نماز ادا کرنے جاتے ہیں  ۔ سب سے زیادہ خوشی اس وقت درکار ہوتی ہے ، جب ہمیں چھٹی ملتی ہے اور ہم پاکستان جاتے ہیں ، جیب میں پیسے ہوتے ہیں اور پینٹ کوٹ اور ٹائی لگا کر ملک واپس جانے کی بات ہی کچھ اور ہے ۔ ہمارے انٹرنیٹ کے اخبارات میں کسی کے ہاں بیٹے کی پیدائش کی مبارکباد بھی خوشیوں میں شامل ہے ، حالانکہ اٹلی میں مرد اور عورت کے حقوق برابر ہیں ۔ اتوار کے روز کسی ایک پاکستانی گھر میں اکٹھے ہو کر گپ شپ لگانا بھی ایک خوشی ہے اور اسکے بعد کئی مردوں کے لیے چھپ کر شراب ( وسکی ) پینا بھی خوشی کی مثال ہے ۔ پاکستان فون کرنا بھی خوشی میں شامل ہے اور کسی جگہ یعنی ٹرین، بس اور اسٹیشن  پر پاکستانی کا مل جانا بھی خوشی میں شامل ہوتا ہے ۔ کسی دوست اور پیارے کا پاکستان سے واپس آنا ، کسی دوست کو ائر پورٹ پر چھوڑنے جانا بھی اسی خوشی کا حصہ ہیں ۔ ہماری تنخواہ کا بڑھنا، لیول ملنا اور کنٹریکٹ کا پکا ہونا بھی ایک معقول خوشی میں شامل ہوتے ہیں ۔ کسی پیر، سکالر اور وزیر کے آنے پر بھی خوشی منائی جاتی ہے ، وہ الگ بات ہے کہ اٹلی میں ہمارے سکالر علامہ طاہر القادری اور ڈاکٹر زاکر نائیک پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔  تحریر، اعجاز احمد

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com