Thursday, May 23rd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

پاکستانی ثقافت

مری بروری شراب امریکہ میں بیچی جائے گی

پاکستان میں شراب بنانے والی کمپنی مری بروری نے امریکہ میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے ایک کمپنی سے معاہدہ کیا ہے۔مری بروری کے ترجمان کرنل صبیح شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی کمپنی کے لیے یہ شراب چیک ریپبلک میں بنائی جائے گی اور ’مری بروری‘ کے نام سے امریکہ میں فروخت ہو گی۔انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک امریکی کمپنی کے ساتھ مری بروری کی بیئر کی برآمد کا معاہدہ ہو چکا ہے۔مری بروری پاکستان کی سب سے پرانی شراب بنانے اور دیگر مشروبات بنانے والی کمپنی ہے جو 1860 میں قائم ہوئی تھی۔ ملک میں عدم استحکام رہا، مذہبی انتہا پسندی اور سکیورٹی کے خدشات رہے مگر اس کے باوجود مری بروری شراب کشید کرنے کا کام کرتی رہی۔مری بروری کے چیف ایگزیکٹو افسر کے اسسٹنٹ کرنل صبیح شاہ نے بتایا کہ اس کمپنی کا قیام تقسیم ہند سے قبل ہوا تھا۔ کمپنی کے بانی کا کچھ عرصہ قبل ایک ٹریفک حادثے میں انتقال ہو گیا۔ تاہم ان دنوں ان کے صاحبزادے اسفندیار بھنڈارا کمپنی کے چیف ایگزیکیٹو افسر ہیں۔صبیح شاہ نے کہا ’وہ چاہتے تھے کہ مری بروری کی مصنوعات دنیا بھر میں فروخت کی جائیں۔ ہم نے حال ہی میں چیک ریپبلک کی ایک بروری سے معاہدہ کیا ہے اور جلد ہی امریکا میں بھی ہماری مصنوعات فروخت کی جائیں گی۔پاکستان کی سب سے پرانی بروری ہونے کے باوجود مری بروری بہت آہستگی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ اسفندیار بھنڈارا کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے تعاون کی بجائے انہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔افغانستان میں بیئر کی خاصی بڑی مانگ ہے لیکن حکومت ہمیں مسلمان ممالک میں شراب کی فروخت کی اجازت نہیں دیتی، جب کہ یہ مانگ پوری کرنے کے لیے دبئی سے بیئر درآمد کی جاتی ہے جو کہ پاکستانی حکومت کا ہی نقصان ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر جو شراب بنائی جاتی ہے ، وہ صحت کے لیے کافی خطرناک ہوتی ہے کیونکہ اس میں ہائی جینک اصولوں پر عمل نہیں کیا جاتا ۔ مری بروری کی شراب اصل مصنوعات سے صفائی اور صحت کے قوانین کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سوات میں بدھ مت قبرستان کا انکشاف

روم۔ 19 نومبر  2012 ۔۔۔۔ اٹالین آرکیالوجی یا کھدائی کے ماہرین نے سوات میں بدھ مت قبرستان تلاش کرلیا ہے ۔ وادی سوات کے علاقے اودیگرام میں اٹالین آرکیالوجسٹ 1954 سے کام کر رہے ہیں ۔ پروفیسر Luca Olivieriاٹالین ٹیم کے سربراہ ہیں اور یہ ٹیم Act- Fieldschoolکے تحت کھدائی کرتے ہوئے قدیم ثقافتوں کا انکشاف کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔ اصل میں یہ ٹیم پاکستان میں سقندر اعظم کی فوجوں کی موجودگی کو تلاش کرنے کے لیے کام کر رہی تھی کیونکہ انکے مطابق اگر ہماری انڈویورپین زبان موجود ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سقندر اعظم نے ایشیا کے اس علاقے کا وزٹ کیا تھا ۔ حال ہی میں اس ٹیم نے بدہ مت قبرستان تلاش کیا ہے ، جو کہ 25 سو سال سے لیکر 35 سو سال تک پرانا ہے ۔ کھدائی کے اس منصوبے کے لیے اٹالین حکومت نے 20 لاکھ یورو کا خرچہ نسب کر رکھا ہے اور یہ رقم پاکستان کے قرضوں سے حاصل کی جاتی ہے جو کہ پاکستان نے اٹالین حکومت کو واپس کرنے ہیں ۔ یعنی اٹالین حکومت قرضہ واپس لینے کی بجائے پاکستان کی ترقی کی خاطر صرف کرتی ہے ۔ یہ کھدائی مختلف علاقوں میں کی جاتی ہے لیکن زیادہ تر دلچسپی باری کوٹ کے علاقے میں لی جاتی ہے کیونکہ قدیم دور میں یہ شہر بازیرا کا شہر تھا اور اسے سقندر اعظم نے 23 سو سال پہلے فتح کیا تھا ۔ یہاں اودیگرام میں 23 قبریں تلاش کی گئی ہیں ۔ یہ قبریں کمروں میں موجود ہیں ، ان کمروں میں صراحیاں، دوسری اشیا اور انسانی اعضا تلاش کرلیے گئے ہیں ۔ ان قبروں سے یہ پتا چل سکتا ہے کہ اس وقت کے سوات کے لوگ کفن و دفن کیسے کرتے تھے اور انکی کیا رسومات تھیں اور انکی رسومات سے یہ بھی پتا چل سکتا ہے کہ اس وقت کی زبان کونسی تھی اور اس کا تعلق یورپین زبانوں سے کیوں منسوب کیا جاتا ہے ۔ اٹالین ٹیم اس عجوبے کی تلاش کے علاوہ سوات میں پاکستان کی سب سے قدیم مسجد کی مرمت بھی کر رہی ہے جو کہ افغان فاتح محمود غزنوی نے بنائی تھی ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پہلی پاکستانی عورت خلا میں جائے گی

روم۔ 15 نومبر 2012 ۔۔۔۔  دنیا کی سپیس ایجنسی ٹورسٹوں کے لیے ایک خلائی پرواز کا بندوبست کر رہی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک پاکستانی خاتون نمیرا سلیم کا نام بھی اس پرواز میں شامل کردیا گیا ہے ۔ Mojave Aerospace Ventureکمپنی نے سیاحوں کی یہ پرواز 2006 میں روانہ کرنی تھی اور اسکے بعد اسے 2011 اور اسکے بعد 2013 میں روانہ کرنے کا سوچا گیا ہے ۔ نمیرا سلیم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسے یہ لفظ بہت پسند ہے کہ میں پہلی پاکستانی خاتون خلا میں جا رہی ہوں ۔ نمیرا کے والد عرب امارات میں کنسٹرکشن فرم کے مالک ہیں اور ان کا تعلق ایک امیر پاکستانی گھرانے سے ہے ۔ نمیرا نے اقوام متحدہ کے ادارے میں عورت کے حقوق پر ایک نمائش بھی لگائی تھی اور وہ اس ایڈوینچر سے قبل نارد پولو اور ساؤتھ پولو کا سفر بھی پہلی پاکستانی عورت کے طور پر کر چکی ہیں ۔ نمیرا نے ایورسٹ کی چوٹی پر بھی پیراشوٹ کے زریعے اترنے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے ۔ نمیرا نے کہا کہ اسکی خواہش ہے کہ وہ اپنے ملک کی تمام عورتوں کے لیے کوئی ایسا کارنامہ کرے ، جس سے انکی مدد ہوسکے ۔ نمیرا دنیا میں انسانی حقوق اور برابری کے لیے بھی اپنی سرگرمیاں سر انجام دے رہی ہیں ۔ اس خلائی سفر کے لیے نمیرا کا نام بڑی مشکلات کے بعد شامل کیا گیا ہے ۔ اس سفر کے لیے 44 ہزار افراد نے درخواست دی تھی اور ان میں سے صرف 529 کو منتخب کیا گيا ہے ۔ نمیرا سلیم اس سفر کے لیے 2 لاکھ ڈالر ادا کریں گی ۔ ان کا گروپ خلا میں اڑھائی گھنٹوں کے لیے جائے گا اور یہ خلا میں زمینی کشش کے بغیر صرف 5 منٹ کے لیے رہیں گے ۔ نمیرا نے کہا کہ اگر دنیا کے سیاست دانوں کو یہ سفر کروایا جائے تو شاید وہ انسانی اقدار کی قدر کرنی شروع کردیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

رات کے ستارے کا کیا اعتبار لکھوں

 

              رات کے ستارے کا کیا اعتبار لکھوں

              نیند میں بہاروں کے قصے بےشمار لکھوں

            خواہش کوئی بھی تیرے بعد نہ ہوگی جاناں

           حیراں نہ ہونا گر تمہیں اپنا پیار لکھوں

           جان کے وہ بے خبر جانے کیا سمجھ بیٹھے

          جسکو باتوں باتوں میں اپنا دشمن جان لکھوں

        خوشیوں کی تمنا میں غم ادھار لے بیٹھے

       بدلتے موسموں کا اکثر خود کو ذمہ دار لکھوں

       زمانے نے سب ہی ہنر سکھا دئیے ہمیں نگہت

      آنسو چھپا کے اپنے خیریت کا احوال لکھوں

       نگہت شفیق،روم

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی میں زندگی کٹھن ہے

روم۔ 29 اکتوبر 2012 ۔۔۔ اٹلی کے جنوبی علاقے میں آباد محمد احسان اٹالین زبان میں اپنے مسائل کے بارے میں ایک لوکل اسلامک ٹیوی میں اپنے انٹرویو دیتے ہوئے ، اس انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ اٹلی میں زندگی سخت ہے ، میں ایک دکاندار ہوں اور اٹلی کی معیشت کو ترقی دینے کے لیے کام کررہاہوں لیکن جب میں اپنا ورک پرمٹ یا پرمیسو دی سوجورنو رینیو کروانے کے لیے تھانے جاتا ہوں تو وہ مجھ سے امتیازی سلوک کرتے ہیں اور اگر کوئی غیر ملکی چاہے وہ جرائم پیشہ ہو لیکن تھانے میں اسکی واقفیت ہو تو اسکے کاغذات فوری طور پر سفارش کی بنا پر رینیو ہوجاتے ہیں ،۔ میں اس ملک میں کئی سالوں سے کام کررہا ہوں لیکن میری یہاں کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ کبھی کبھار میرا دل چاہتا ہے کہ میں سب کچھ بیچ کر پاکستان چلا جاؤں لیکن وہاں بھی سیکورٹی کا مسئلہ ہے ، آئے دن بم چلتے ہیں اور بدامنی ہے ۔ ایک غیر ملکی کے لیے ایسی حالت انتہائی پریشان کن ہے ، جہاں نہ تو وہ اپنے ملک واپس جا سکتا ہے اور نہ ہی اٹلی میں خوش رہ سکتا ہے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com