Thursday, May 23rd

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

پاکستانی ثقافت

میلان کے مشہور ماڈل ذیشان ملک کے خیالات

ذوالقرنین کے قلم سے ۔۔۔ پاکستان نژاد اٹالین ماڈل ذیشان ملک اٹالین اور پاکستانی کمونٹی میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں ۔ ذیشان ملک ماڈلنگ کے شعبے میں ایک ابھرتا ہوا ستارہ ہے ، نیلی اور جھیل جیسی آنکھوں والا ذیشان ملک جہاں بھی جاتا ہے لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بن جاتا ہے ۔ ذیشان ملک کی عمر صرف 17 سال ہے اور ڈریس ڈیزائننگ سکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہے ۔ راولپنڈی کی اعوان فیملی سے تعلق رکھنے والے ملک خالد اقبال کا یہ ہونہار فرزند بہت ساری خداداد صلاحیتوں کا مالک ہے ۔ آزاد کے خصوصی نمائندے ذوالقرنین خان سے ملاقات کے دوران ذیشان ملک نے بتایا کہ وہ اپنی کلاس میں ہونہار طالبعلم ہے ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ماڈلننگ کرنا اس کا شوق ہے  اور وہ مستقبل میں ماڈلننگ میں اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرنا چاہتا ہے ۔ ذیشان ملک نے بتایا کہ وہ فٹبال کا بھی اچھا کھلاڑی ہے اور اپنے سکول کی ٹیم سے کئی ٹورنامنٹس کھیل چکا ہے ۔ اپنی فٹنس قائم رکھنے کے لیے ذیشان ملک کو باڈی بلڈنگ کلب میں جانا پڑتا ہے ۔ اس نے بتایا کہ اسے اپنے والدین اور بڑے بھائی ذوہیب سے بہت محبت ہے ۔ ذیشان ملک نے کہا کہ اسے اپنی والدہ کے ہاتھ سے بنا ہوا کھانا بہت پسند ہے ۔ کبھی کبھار اپنے والد سے مار کھانے کو جی کرتا ہے لیکن میرے والد کو کبھی غصہ ہی نہیں آتا ۔ ذیشان ملک نے کہا کہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ میں قرآن پاک بھی altپڑہ رہا ہوں ۔altalt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

عورت نے جنم دیا مردوں کو

اپریل 2008 کو آسٹریا کی حکومت نے جوزف فرٹزل کو گرفتار کیا۔ یہ شخص 24 سال تک اپنی بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا اور اس کے اپنی بیٹی سے سات بچے پیدا ہوئے۔ ایک تو پیدائش کے فورا بعد فوت ہوگیا اور باقی چھ بچے اپنی ماں کے ساتھ ایک قلعے میں رہتے ہیں۔ اس شخص نے چوبیس سال تک اپنی بیٹی کو تحہ خانے میں قید رکھا۔ اٹلی کے شہر بریشیا میں ایک پاکستانی باپ نے اپنی بیٹی حنا سلیم کو اس لیئے قتل کردیا کیونکہ وہ کسی اطالوی لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ اس کے علاوہ اس کے باپ کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان میں اپنے باپ کی مرضی سے شادی کرے۔ گزشتہ دنوں اٹلی کے شہر تارانتو میں ایک پندرہ سالہ لڑکی سارا سکاتزی کی لاش ایک کنوئیں سے ملی۔ اس کے چچا نے لڑکی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانا چاہا۔ جب وہ نہ مانی تو اس کو قتل کردیا اور اس کے بعد اس کے مردہ جسم کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ پچھلے دنوں اٹلی کے ایک چھوٹے سے شہر جو کہ مودینا کے پاس ہے۔ایک پاکستانی شخص احمد بٹ نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کے اپنی بیوی کو قتل کردیا۔ وہ اپنی بیٹی نوشین بٹ کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کسی لڑکے سے پاکستان میں کرنا چاہتا تھا۔ لڑکی اور اس کی ماں نے مخالفت کی تو باپ بیٹے نے مل کے لڑکی کی ماں کو قتل کیا اور اس کے بعد ان کا ارادہ تھا کہ نوشین کو بھی قتل کردیں گے لیکن وہ ان کی چنگل سے بچ گئی۔ انسان کی بنیادی ضروریات میں جہاں روٹی ،کپڑا اور مکان ہیں وہاں جنس بھی زندگی کا ضروری جز ہے۔ مندرجہ بالہ واقعات میں جہاں انسانی بربریت نظر آتی ہے وہاں ان میں نفسیاتی پہلو بھی نظر آتے ہیں۔ مرد عورت پے حکومت کرنا چاہتا ہے جب وہ اپنے حقوق کے لیئے جنگ کرتی ہے تو وہ اسے ہر طریقے سے دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ آج سے دو ہزار سال پہلے افریقہ کے تقریبا سارے ممالک میں عورتوں کی حکومت تھی۔ مرد نے یہ حکومت ان سے چھینی اور اس کے بعد اس نے  عورت کے حقوق سلب کرنے شروع کیئے۔ جب حضرت محمد صلہ للہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو عربوں میں عورت کو زندہ درگور کرنے کا رواج تھا۔ آپ نے عورت کے حقوق رائج کیئے۔ قران میں عورتوں کے بارے میں سورت نسائ میں عورت کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ علم کا حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں پر لازم ہے۔ اسلام میں عورت کو اپنی مرضی کی شادی کی اجازت ہے۔ میں نا چیز یہ لکھنے میں عار محسوس نہیں کرتا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خود پسند کیا تھا۔ آپ عرب ممالک اور پاک و ہند کے ممالک کے عشقیہ قصے لے لیجئے۔ جیسا کہ لیلی مجنوں، ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی ماہیوال۔ سب میں عورتوں کے نام پہلے آتے ہیں اس کے برعکس یورپیئن عشقیہ قصوں میں رومیو جولیٹ، سیمسن اینڈ ڈیلائیلا دونوں میں مردوں کا نام پہلے آتا ہے۔ اس کے علاوہ انسانیت لفظ مونث ہے جبکہ مین کائینڈ مذکر ہے۔ یورپیئن زبان میں عورتوں کے لیئے ایک لفظ ہے جو کہ یونانی زبان کا لفظ ہے ,,گائینی,, جس کا مطلب ہے عورت۔ پاکستان میں عورت کو ووٹ کا حق 1947 میں ملا سوئس میں عورت کو ووٹ کا حق 1970  میں ملا۔ ہماری غزلیں، نظمیں، شاعری، ڈرامے ،افسانے، ناول ،کہانیاں عورتوں کے وجود کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتیں۔ جس میں کالی داس کا شاکنتلا سب سے قدیم ہے۔ اس حوالاجات کو لکھنے کا مقصد ہے کسی کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ اس بات کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ عورت بھی انسان ہے اس کے ساتھ نہ صرف مسلمان بلکہ یورپیئن بھی زیادتی کرتے ہیں۔ عورت بھی انسان ہے اور اسے بھی اس دنیا میں جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مردوں کو۔ اگر عورت اور مرد اپنی حدود میں رہ کے اپنے حقوق و فرائض کو پہچانے تو اس طرح کے مسائل جو کہ ہمیں درپیش ہیں ان کا ہمیں کبھی سامنا نہ کرنا پڑے۔

سرفراز بیگ اریزو 3200129522

alt

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 05 اپریل 2012 19:20

لامحدود جزیرے

کچھ ان کہی باتوں کا

سراغ مل گیا ہو جیسے

دل پہ لگے زخموں کو

قرار مل گیا ہو جیسے

تنہائیوں کے خوف سے

شہر چھوڑنے کا تصور

من کی اداسیوں کا

انداز بن گیا ہو جیسے

ان کہی خواہشوں کے

لامحدود جزیروں کا

چپکے چپکے تنہائی میں

جواب مل گیا ہو جیسے

نگہت شفیق،روم

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پاکستانی مصورہ روبینہ کوثر کا تعارف

روم ، تحریر، اعجاز احمد ۔۔۔ روم میں آباد پاکستانی مصورہ روبینہ کوثر اٹلی میں بھی اپنی مصوری کے جوہر دکھانے میں کامیاب ہو گئی ہیں ۔ روبینہ کوثر گجرات میں پیدا ہوئیں ۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے لاہور کی یونیورسٹی میں فائن آرٹ میں داخلہ لیا اور ایم اے کرنے کے بعد اسی یونیورسٹی سے لٹریچر میں ایک دوسری ڈگری حاصل کی ۔ اسکے بعد روبینہ کوثر اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے روس روانہ ہوگئيں اور وہاں سے انہوں نے 1994 میں ماسکو گورنمنٹ ٹیکسٹائل اکیڈمی یا MGTAسے ڈیزائن اور فیشن میں ڈگری حاصل کی اور ان چار سالوں میں کئی بار اپنے آرٹ کی نمائش کرتی رہیں ۔ روبینہ کوثر اٹالین آرٹ سے بہت متاثر تھیں ، اس لیے انہوں نے 1998 میں اٹلی کے سب سے اہم آرٹ کے شہر فیرینزے میں سکونت اختیار کی ۔ اب کئی سالوں سے روم میں آباد ہیں اور اپنی مصوری کی نمائش کے لیے دنیا کے کئی ممالک کا سفر کر چکی ہیں ۔ پاکستانی کمونٹی کے لیے یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ روبینہ کوثر اٹلی میں پاکستانی آرٹ کی مقبولیت کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہیں ۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آرٹ کی خوبی یہ ہے کہ یہ دنیا کی تمام نفرت کی دیواروں کو گراتے ہوئے حقیقت اور نہ بولنے والی زبان کی عکاسی کرتا ہے ۔ آرٹ سے دنیا کا علم حاصل ہوتا ہے اور ایک آرٹسٹ اپنے برش سے ایک قوم کی خوشی، غم، خوف اور اسکی ثقافت کو پیش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔ روبینہ کوثر کی مصوری پورے اٹلی میں مقبول ہو رہی ہے اور اگر آپ انکے شاہکار خریدنے کے خواہشمند ہیں تو آپ ان سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔ ان کا موبائل نمبر یوں ہے ۔

3396549283 جبکہ ای میل یوں ہے ۔ یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

altalt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

وچنزا میں جشن عیدمیلاد النبیۖ

مورخہ 28 جنوری 2012 میں وچنزا میں جشن عیدمیلاد النبیۖ کے حوالے سے شاندار پروگرام کیا گیا ۔ یہ پروگرام منہاج القرآن کے تعاون سے عمل میں آیا ۔ اس جشن کی اہم شخصیت علامہ شاہد ریاض تھے جو کہ ڈینمارک سے پہلی دفع اٹلی میں خطاب کرنے کے لیے تشریف لائے ۔ اس کے علاوہ ساؤتھ اٹلی کے منہاج کے جنرل سیکرٹری قاری غلام رسول نے محفل میں شرکت کرتے ہوئے اسکی رونق کو دوبالا کر دیا ۔ نقابت کے فرائض ہارون اسماعیل نے ادا کیے ۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے حافظ ولید اعجاز نے کیا اور اسکے بعد حمد و ثنا اور نعت خوانی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ جس میں وچنزا کے نامی و گرامی نعت خواہاں حافظ ولی، حافظ اعجاز، بلال احمد، عدنان آصف، ظہیر حسین، عابد طارق، بلال رشید نے شرکت کی ۔ ظہیر انجم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وچنزا والے نعت خواہاں کا پورے اٹلی میں کوئی ثانی ۔ انہوں نے ان نعت خوانوں کو یورپ کے دوسرے پروگراموں میں شرکت کرنے کی دعوت دی ۔ منہاج القرآن نے اس سال بچوں کی دلچسپی کے لیے علیحدہ خصوصی پروگرام کیا، بچوں میں دینی اور ملی بیداری پیدا کرنے کے لیے ان سے سوال و جواب کیے گئے ۔ بچوں میں انعامات تقسیم کیے گئے اور ان کو دینی معلومات فراہم کی گئیں ۔ آخر میں تنظیم کے صدر مجاہد کبیر شیخ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے تمام مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا اور تنظیم میں بہترین کارکردگی کرنے والوں میں ایوارڈ تقسیم کیے ۔ پہلا ایوارڈ منہاج القرآن وچنزا کے سیکرٹری اطلاعات افتخار احمد کر دیا گیا ، اس کے بعد ہارون اسماعیل کو انعام سے نوازاگیا ۔ خواتین ونگ کی صدر شمیم اعجاز کو انکی خدمات کی روشنی میں ایوارڈ دیا گیا ، تقریب کو یادگار بنانے کے لیے 2012 کے تین میموریل ایوارڈ بھی تقسیم کیے گئے ۔ پہلا ایوارڈ وچنزا کی دیکھبال کے سلسلے میں غلام مصطفے شہدی کو سونپا گیا ، دوسرا ایوارڈ ظہیر انجم کو انکی بہترین کارکردگی کے سلسلے میں دیا گیا ، تیسرا اور آخری انعام علامہ شاہد ریاض کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔

alt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

مزید مضامین...