Sunday, Jan 20th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

اٹالین ثقافت

مس اطالیہ کے مقابلے میں غیر ملکی لڑکیاں حصہ لیں گی

روم۔ تحریر، ایلویو پاسکا 27 مئی 2012 ۔۔۔۔ اٹلی کی مس اطالیہ کے مقابلے کی ڈائریکٹر پتریسیا میرالیانی نے اعلان کیا ہے کہ اس سال غیر ملکی لڑکیاں بھی مس اطالیہ کےمقابلے میں حصہ لے سکیں گی ۔ ان لڑکیوں کے لیے ضروری ہے کہ انکے پاس پرمیسو دی سوجورنو ہو اور یہ ایک سال سے زیادہ مدت سے اٹلی میں آباد ہوں ۔ انکی عمر 18 سال سے 26 سال تک ہو ۔ جیتنے والی لڑکی کو مس اطالیہ کے ساتھ ستمبر کے مہینے میں Montecatini Termeمیں تاج پہنایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ عورتیں امیگریشن میں اہم کردار کرتی ہیں اور اس کے علاوہ انٹیگریشن کے لیے ضروری ہے کہ ان غیر ملکیوں کو بھی موقع دیا جائے جو کہ اٹلی میں اپنا گھر بنا چکے ہیں اور اس ملک کو اپنا ملک سمجھتے ہیں ۔ اٹلی میں 5 ملین کے قریب غیر ملکی آباد ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ انہیں مختلف مواقع فراہم کیے جائیں ۔ یاد رہے کہ اس مقابلے کیوجہ سے وہ ہزاروں جوان نسل کی لڑکیاں اس مقابلے میں حصہ نہیں لے سکیں گی جو کہ اٹلی میں پیدا ہوئی ہیں اور یہیں جوان ہوئی ہیں ، یہ لڑکیاں اپنے آپ کو غیر ملکی تصور نہیں کرتیں لیکن موجودہ شہریت کے قانون کیوجہ سے انہیں قومی مقابلوں سے اس لیے باہر رکھا جا رہا ہے کیونکہ انکے پاس اٹالین پاسپورٹ کی بجائے کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ ہوتا ہے ۔ اٹلی میں غیر ملکیوں کی انٹیگریشن اور جوان نسل کی انٹیگریشن کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ قانون میں تبدیلی واقع کی جائے کیونکہ اٹلی کی خوبصورتی اب وہ روائیتی اٹالین لڑکی نہیں بلکہ کالے رنگ والی لڑکی یا پھر چینی شکل والی لڑکی بھی ہو سکتی ہے ۔

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 09 جولائی 2012 10:09

Girolamo Savonarola

 

 

Girolamo Savonarola

21 september 1452 Ferrara, 23 may 1498 Florence

جیرولامو سوونارولا اٹلی کے شہر فرارا میں 1452 میں پیدا ہوا اور 23 مئی 1498 میں اسے ساری دنیا کے سامنے لکڑی کے ٹال کے اوپر اٹلی کے شہر فلورنس میں پیاتزا دالا سنیوریہ پے زندہ جلا دیا گیا۔   سوونارولا نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں بائیبل کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے ارسطو اور تھامس ایکویناس کی کتابیں پڑھیں۔ اس کی پہلی شاعری کی کتاب ’’دی روئینا مندی‘‘ یعنی دنیا کا زوال جب منظرِ عام پے آئی تو اس وقت اس کی عمر بیس سال تھی۔ اس نے دوسری کتاب رومن چرچ کے خلاف لکھی۔ جس میں اس نے رومن چرچ اور ویٹیکن سٹی اور پوپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔    جس طرح مسلمانوں میں مختلف سلسلے ہوتے ہیں جیسے نقشبندی، سہروردی وغیرہ بالکل اسی طرح عیسائیوں میں بھی مذہبی سلسلے ہوئے ہیں جنھیں یہ آرڈرز سا اوردنی کہتے ہیں۔ دوسلسلے بہت مشہور ہیں۔ ایک تو فرانچسکن آرڈر ہے اور دوسرا ڈومینیکن آرڈر۔ ایک دو شاعری کی کتابیں لکھنے کے بعد سوونارولا نے ڈومینیکن آرڈر سے ناطہ جوڑ لیا اور اس طرح اس نے بلونیاں کے چرچ سنتا ماریہ دل آنجلی میں مذہب کے حوالے سے مزید تعلیم حاصل کرنی شروع کردی۔ سوونارولا کو مذہبی تعلیم دینے کے لیئے فلورنس بھیجا گیا لیکن اسے کوئی کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ یہ واپس بلونیاں آگیا اور اس نے مذہب کے حوالے سے مزید تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ کچھ عرصے بعد سوونارولا کو دوبارہ فلورنس بھیج دیا گیا تانکہ وہ لوگوں ڈومینیکن آرڈر کے حوالے تعلیم دے۔ اس دفعہ اسے کامیابی ہوئی اور وہ بہت سے لوگوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ عیسائیت کی اصل تعلیمات کیا ہیں۔ اس کے پیروکاروں میں بارہ سے اٹھارہ سال کے نوجوان ہوتے۔ اس کے خیال چرچ اور پادریوں کا سادہ زندگی گزارنے چاہیئے بلکہ عام لوگوں کو عیش و نشاط کی زندگی نہیں گزارنی چاہیئے۔ اس نے اپنے پیروکار کو گھر گھر بھیجنا شروع کردیا کہ جس کے پاس کوئی بھی قیمتی چیز ہیں وہ خدا کی نظر کردے۔ آخر اس نے فلورنس کے شہر پیتسا دالا سیئیوریہ میں آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ جلایا اور اس میں ایسی تمام کتابیں جلا دی جس سے انسان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا تھا۔ اٹلی مشہور پینٹر مائیکل آنجلوں نے یہ آگ اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اس نے مشہور مصوروں کے تصاویر اس آگ میں جلتے دیکھیں۔ اس آگ میں ساندرو بوتیچیلی نے بھی اپنی کئی تصاویر جلا دیں کیوں اسے ڈر تھا کہیں اس کو ساوونارولا کے بندے جان سے نہ ماردیں۔ لورینزو دی میڈشی کی پلوٹونک اکیڈمی کے سارے فلاسفر بھاگ گئے۔ ان میں سے ایک پولزسیانو بائیس زبانوں کا ماہرتھا۔ آہستہ آہستہ ساوونارولا کی دہشت بڑھنے لگی۔ لوگوں نے ڈر کے مارے گھر سے نکلنا بند کردیا۔ ایک دن ایسا آیا کہ ساوونارولا نے خود کو پیغمبر کہنا شروع کردیا۔ وہ کہنے لگا میں خدا سے بات چیت کرتا ہوں۔ شروع میں اس کی تعلیمات سچی تھیں اور لوگ اس کے فلسفے کے قائل ہوگئے تھے۔ بعد میں جب اس نے ویٹیکن سٹی پے اٹیک کرنا شروع کیا تو اس کے بہت سے مخالفین نے جنم لیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ساوونارولا کی پشت پناہی فرانس کا بادشاہ اس لیئے کررہا تھا کیونکہ فلورنس کے بادشاہ لورنزوں دی میڈشی کو بھگانا چاہتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ویٹیکن سٹی کے بھی خلا ف تھا کیوںکہ اس نے چرچ سے مختلف جنگوں کے لیئے بہت زیادہ ادھار لے رکھا تھا۔     آخر کار 23 مئی سن چودہ سو اٹھانویں میں جیرولامو کو ساری دنیا کے سامنے ویٹیکن کی مخالفت کے جرم میں زندہ جلا دیا۔ اس وقت اس کی عمر پینتالیس سال تھی۔ تحریر، سرفراز بیگ از اریزو . تصویر میں جیرولامو کا بت فرارا شہر کے چوک میں دکھائی دے رہا ہے ۔

alt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

جیرولامو سوونارولا

 

 

Girolamo Savonarola

21 september 1452 Ferrara, 23 may 1498 Florence

جیرولامو سوونارولا اٹلی کے شہر فرارا میں 1452 میں پیدا ہوا اور 23 مئی 1498 میں اسے ساری دنیا کے سامنے لکڑی کے ٹال کے اوپر اٹلی کے شہر فلورنس میں پیاتزا دالا سنیوریہ پے زندہ جلا دیا گیا۔   سوونارولا نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں بائیبل کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے ارسطو اور تھامس ایکویناس کی کتابیں پڑھیں۔ اس کی پہلی شاعری کی کتاب ’’دی روئینا مندی‘‘ یعنی دنیا کا زوال جب منظرِ عام پے آئی تو اس وقت اس کی عمر بیس سال تھی۔ اس نے دوسری کتاب رومن چرچ کے خلاف لکھی۔ جس میں اس نے رومن چرچ اور ویٹیکن سٹی اور پوپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔    جس طرح مسلمانوں میں مختلف سلسلے ہوتے ہیں جیسے نقشبندی، سہروردی وغیرہ بالکل اسی طرح عیسائیوں میں بھی مذہبی سلسلے ہوئے ہیں جنھیں یہ آرڈرز سا اوردنی کہتے ہیں۔ دوسلسلے بہت مشہور ہیں۔ ایک تو فرانچسکن آرڈر ہے اور دوسرا ڈومینیکن آرڈر۔ ایک دو شاعری کی کتابیں لکھنے کے بعد سوونارولا نے ڈومینیکن آرڈر سے ناطہ جوڑ لیا اور اس طرح اس نے بلونیاں کے چرچ سنتا ماریہ دل آنجلی میں مذہب کے حوالے سے مزید تعلیم حاصل کرنی شروع کردی۔ سوونارولا کو مذہبی تعلیم دینے کے لیئے فلورنس بھیجا گیا لیکن اسے کوئی کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ یہ واپس بلونیاں آگیا اور اس نے مذہب کے حوالے سے مزید تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ کچھ عرصے بعد سوونارولا کو دوبارہ فلورنس بھیج دیا گیا تانکہ وہ لوگوں ڈومینیکن آرڈر کے حوالے تعلیم دے۔ اس دفعہ اسے کامیابی ہوئی اور وہ بہت سے لوگوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ عیسائیت کی اصل تعلیمات کیا ہیں۔ اس کے پیروکاروں میں بارہ سے اٹھارہ سال کے نوجوان ہوتے۔ اس کے خیال چرچ اور پادریوں کا سادہ زندگی گزارنے چاہیئے بلکہ عام لوگوں کو عیش و نشاط کی زندگی نہیں گزارنی چاہیئے۔ اس نے اپنے پیروکار کو گھر گھر بھیجنا شروع کردیا کہ جس کے پاس کوئی بھی قیمتی چیز ہیں وہ خدا کی نظر کردے۔ آخر اس نے فلورنس کے شہر پیتسا دالا سیئیوریہ میں آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ جلایا اور اس میں ایسی تمام کتابیں جلا دی جس سے انسان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا تھا۔ اٹلی مشہور پینٹر مائیکل آنجلوں نے یہ آگ اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اس نے مشہور مصوروں کے تصاویر اس آگ میں جلتے دیکھیں۔ اس آگ میں ساندرو بوتیچیلی نے بھی اپنی کئی تصاویر جلا دیں کیوں اسے ڈر تھا کہیں اس کو ساوونارولا کے بندے جان سے نہ ماردیں۔ لورینزو دی میڈشی کی پلوٹونک اکیڈمی کے سارے فلاسفر بھاگ گئے۔ ان میں سے ایک پولزسیانو بائیس زبانوں کا ماہرتھا۔ آہستہ آہستہ ساوونارولا کی دہشت بڑھنے لگی۔ لوگوں نے ڈر کے مارے گھر سے نکلنا بند کردیا۔ ایک دن ایسا آیا کہ ساوونارولا نے خود کو پیغمبر کہنا شروع کردیا۔ وہ کہنے لگا میں خدا سے بات چیت کرتا ہوں۔ شروع میں اس کی تعلیمات سچی تھیں اور لوگ اس کے فلسفے کے قائل ہوگئے تھے۔ بعد میں جب اس نے ویٹیکن سٹی پے اٹیک کرنا شروع کیا تو اس کے بہت سے مخالفین نے جنم لیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ساوونارولا کی پشت پناہی فرانس کا بادشاہ اس لیئے کررہا تھا کیونکہ فلورنس کے بادشاہ لورنزوں دی میڈشی کو بھگانا چاہتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ویٹیکن سٹی کے بھی خلا ف تھا کیوںکہ اس نے چرچ سے مختلف جنگوں کے لیئے بہت زیادہ ادھار لے رکھا تھا۔     آخر کار 23 مئی سن چودہ سو اٹھانویں میں جیرولامو کو ساری دنیا کے سامنے ویٹیکن کی مخالفت کے جرم میں زندہ جلا دیا۔ اس وقت اس کی عمر پینتالیس سال تھی۔تصویر میں سرفراز بیگ

alt

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com