Sunday, Jan 20th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

اٹالین ثقافت

ہم جنس رشتہ دار کو کارتا دی سوجورنو دیا جائے ، عدالت

روم ۔ 17 اکتوبر 2012 ۔۔۔ ایدن کا تعلق اسرائیل سے ہے اور اس نے اپنے ایک ہم جنس دوست سے ڈینمارک کے شہر اوسلو مین شادی کی ہے ۔ ڈینمارک کے قانون کے مطابق دو ہم جنس آپس میں شادی کرسکتے ہیں ۔ یہ دونوں روم میں 10 سال سے آباد ہیں ۔ 2 دن قبل روم کے تھانے نے ایدن کو فیملی رشتہ قبول کرتے ہوئے کارتا دی سوجورنو جاری کیا ہے ۔ یورپین قانون decreto legislativo 30/2007کے مطابق یورپ کے شہری اپنے رشتہ داروں کے لیے جو کہ غیر یورپین ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ، ان کے لیے کارتا دی سوجورنو حاصل کرسکتے ہیں ، چونکہ اٹلی نے یہ قانون قبول رکھا ہے ، اس لیے تھانے نے ایک ہم جنس کو سوجورنو جاری کردی ہے ۔ اٹلی میں یہ چھٹی مثال ہے ، اس سے پہلے میلانو، رمنی اور ریجو امیلیا میں بھی غیر یورپین ہم جنس کو کارتا دی سوجورنو جاری کیا جا چکا ہے ۔ اٹلی کی ہم جنسوں کی مدد کرنے والی ایسوسی ایش ’associazione radicale Certi Dirittifiنے روم میں بھی عدالت سے یہ کیس جیت لیا ہے ۔ یاد رہے کہ یہ ایسوسی ایشن اٹلی کے ہم جنسوں کی مدد کے لیے کافی کام کر رہی ہے ۔ گزشتہ سال ریجو امیلیا کی عدالت نے بھی یورپین قانون کے مطابق ایک غیر یورپی ہم جنس کو اس لیے کارتا دی سوجورنو جاری کیا تھا کیونکہ اس نے کسی دوسرے یورپین ملک میں یورپین شہری سے شادی کی تھی ۔ یاد رہے کہ اٹلی میں ہم جنسوں کوآپس میں شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ ہم جنسوں کی مدد کرنے والی ایسوسی ایشن نے کہا کہ اٹلی میں ایک قانون کے زریعے تمام کمونوں کو ایک سرکولر روانہ کیا گیا تھا ، جس کے مطابق وہ یورپین ہم جنس شہری جنہوں نے کسی دوسرے ملک میں کسی دوسرے ہم جنس سے شادی کر رکھی ہے ، ان کی اس شادی کو قبول نہ کیا جائے ۔ ایسوسی ایشن نے اٹلی کی وزیر داخلہ کنچیلیری سے اپیل کی ہے وہ اس قانون کو ختم کرتے ہوئے ہم جنسوں کی شادی کو قبول کرنے کی اجازت فراہم کرے کیونکہ یہ ان کہ یورپین حق ہے ۔

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

بابر کی خودنوشت کا نیا ترجمہ

 تحریر ، سرفراز بیگ از آریزو۔۔۔ برصغیر ہندوستان مشرق، شمال اور شمال مغرب میں پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے اور باقی حصہ خلیج بنگال اور بحیرہ عرب پر مشتمل ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ریلوے انجن اور دخانی جہاز کے آنے تک ہندوستان دو بین الاقوامی تجارتی راستوں کے درمیان واقع تھا: شمال میں چین سے مغربی ایشیا تک ریشم کی تجارت کا راستہ اور جنوب میں جنوب مشرقی ایشیا سے بحیرہ روم کے ملکوں تک مصالوں کی تجارت کا راستہ۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس سرزمین کا واسطہ جن حملہ آور فاتحین سے پڑا وہ پہلے شمال مغرب کے پہاڑوں سے اور پھر مغرب، مشرق اور جنوب کے ساحلوں سے وہاں پہنچے تھے۔ 1483میں وسط ایشیا کے مقام فرغنہ میں پیدا ہونے والے بابر نے اپنے ازبک دشمنوں سے فرار حاصل کرتے ہوئے پہلے کابل میں اپنی حکمرانی قائم کی اور پھر ہندوستان پر یکے بعد دیگرے پانچ حملے کر کے آخرکار دہلی کی سلطنت کا قبضہ حاصل کیا۔ پچاس برس سے بھی کم عمر میں آگرہ میں وفات پانے سے پہلے بابر نے ہندوستان میں اس سلطنت کی بنیاد رکھی جو رسمی طور پر 1857میں اس سلسلے کے آخری تاجدار بہادر شاہ کی معزولی پر ختم ہوئی۔ اس سلطنت کی کہانی بے حد مسحورکن اور عبرت ناک  ہے  لیکن ہندوستان کے انگریزی ادیب امیتابھ گھوش نے ایک اور اہم حقیقت کی طرف یوں توجہ دلائی ہے: ’تاریخ کے طویل تناظر میں دیکھیں تو مغل دورِحکومت دراصل خوش نصیبی کے ایک نادر وقفے کے سوا  کچھ نہ تھا۔ ایک عظیم الشان فریب نظر جس کا انجام اس کے آغاز سے بھی پہلے متصور کیا جا چکا تھا۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ جس وقت بابر گنگا اور سندھ کے دوآبے میں اپنی عظیم جنگیں لڑ رہا تھا، اس وقت برصغیر کی قسمت کا فیصلہ اس سے بہت کم شدت کی ان لڑائیوں میں ہو رہا تھا جن میں ہندوستان کے مغربی ساحل پر حکران دیسی راجہ حملہ آور پرتگیزیوں سے نبردآزما تھے۔ ... جس وقت بابر دہلی کے تخت پر بیٹھا اس وقت تک پرتگیزی مغربی ساحل پر گوا میں ایک بڑی نوآبادی قائم کر چکے تھے‘۔ امیتابھ گھوش کو یہ بات تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ بابر کی خودنوشت سوانح (’بابرنامہ‘) میں پرتگیزیوں کا ذکر تک نہیں ملتا۔ چونکہ بابر نے اپنی زندگی میں کبھی سمندر نہ دیکھا تھا، اس سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ بحری طاقت کی اہمیت کا اندازہ کر سکتا ہو گا جو جدید ہندوستان کی تقدیر رقم کرنے والی تھی۔ بابر نے اپنی زندگی کے ان واقعات کو،جب جب وقت ملا، اپنے زمانے کی علمی زبان فارسی میں نہیں بلکہ اپنی گھریلو زبان مشرقی ترکی میں تحریر کیا۔  عبدالرحیم خان خاناں نے اس کا فارسی ترجمہ ’واقعات بابری‘ کے عنوان سے کیا۔ اردو میں اس خودنوشت کے دو ترجمے، مرزا نصیرالدین حیدر اور رشید اختر ندوی کے کیے ہوئے، ’تزک بابری‘ کے عنوان سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ انگریزی زبان میں اسے ’بابرنامہ‘ کے عنوان سے سرے کی رہنے والی ’بڑی بی‘ اینیٹ بیورج نے ’اپنے قلعے میں بیٹھ کر خود کو ترکی پڑھاتے ہوئے‘ منتقل کیا اور یہ ترجمہ چار حصوں میں 1912سے 1921تک شائع ہوا۔ ’بابرنامہ‘ کا تازہ ترین انگریزی ترجمہ وِیلرایم تھیکسٹن نے 1993میں کیا جسے رومن ترکی متن اور خان خاناں کے فارسی ترجمے کے ساتھ شائع کیا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں، حسن بیگ نے زمانہ حال کے ازبکستان، افغانستان، پاکستان اور ہندوستان کا تفصیلی سفر کر کے نہ صرف وہاں کے کتب خانوں، کتب فروشوں، کتاب داروں اور عالموں سے ملاقاتیں کیں بلکہ ہر اس مقام کا دورہ کیا جس کا ذکر بابر کی یادداشتوں میں ملتا ہے اور جہاں جانا ان کے لیے ممکن ہوا۔ اس سفر کا حاصل نہ صرف ان تمام جگہوں پر کھینچی گئی تصویریں ہیں جو کتاب میں موزوں مقامات پر شامل ہیں بلکہ ’بابر کی تلاش میں‘ کے عنوان سے ضمیموں والے حصے میں شائع کیے جانے والے مضامین بھی ہیں۔ شگفتگی کے انداز میں تحریر کیے گئے یہ مضامین بابرکی زندگی اور یادداشتوں سے متعلق بہت سی مفید معلومات تو فراہم کرتے ہی ہیں، اس کے علاوہ ان میں حسن بیگ نے اپنے مشاہدے میں آنے والی چیزوں کے بارے میں بے تکلفی سے تبصرے بھی کیے ہیں۔ مثلاً اورینٹل انسٹی ٹیوٹ، تاشقند، کے بارے میں کہتے ہیں: ’یہاں کے ڈائرکٹر... صاحب لندن پلٹ ہیں لیکن ابھی ان کو اس حقیقت سے آگاہی نہیں کہ کتب خانوں کی عزت و شہرت مخطوطوں کو طالبوں کو دکھانے میں ہے چھپانے میں نہیں‘۔ کابل کے کتب فروشوں کے ضمن میں ان کا کہنا ہے: ’سب سے مشہور دکان شاہ محمد صاحب کی ہے۔ شاہ صاحب کتاب تو بیچتے ہیں لیکن ساتھ کھال بھی کھینچتے ہیں‘۔ ایک اور اختراع حسن بیگ نے یہ کی ہے کہ ان میں سے ہر مضمون کے شروع میں اپنی ایک پورے قد کی تصویر شائع کی ہے جس میں انہوں نے متعلقہ علاقے کا لباس زیب تن کر رکھا ہے۔ وہ خوش وضع اور جامہ زیب آدمی ہیں، اس لیے یہ اختراع پڑھنے والے کو خوشگوار ہی محسوس ہوتی ہے۔ پھرغالباًحسن بیگ بھی، اپنے ممدوح بابر کی طرح، گورگانی ہیں، چنانچہ پڑھنے والا بابر کی شکل و سراپا کو ان پر قیاس کر سکتا ہے۔ تصویر میں سرفراز بیگ

alt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پردہ نہ کرنے پر مراکش کی لڑکی کی پٹائی

روم۔ 10 اگست 2012 ۔۔۔ میلانو میں ایک والد نے اپنی بیٹی کو پردہ نہ کرنے پر مارا پیٹا ہے ۔ لڑکی کی عمر 18 سال ہے اور یہ والدین کے کہنے پر اپنی مرضی کے بغیر شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور اسکے علاوہ حجاب کا استعمال کرنے سے بھی انکار کرتی تھی ۔ لڑکی نے تنگ آکر گھر سے باہر کہیں دوسری جگہ پر altرہنا شروع کر دیا تھا ۔ کل اچانک یہ لڑکی ایک کمرشل سنٹر میں سیر کر رہی تھی اور وہیں اسکی ملاقات اسکے والد سے ہوگئی ۔ والد نے اسے مارنا پیٹنا شروع کر دیا ۔ فوری طور پر پولیس اور ایمبولینس بلا لی گئی ۔ لڑکی کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اسے شدید چوٹیں لگی ہیں ۔ والد پر پولیس نے ظالم باپ کا کیس کر دیا ہے اور اب اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کتھک ڈانس کی مشہور اٹالین والنتینا کے خیالات

اگست  2012  ۔۔۔ کتھک ڈانس کی مشہور اٹالین والنتینا ماندوکی نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 5 سال کی عمر میں ڈانس سیکھنا شروع کر دیا تھا ۔ والنتینا نے روم کی یونیورسٹی سے آرٹ میں ایم اے پاس کیا ہے اور انہوں نے تعلیم کا تھیسز بالی ووڈ کے ڈانس پر تیار کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میری عمر 24 سال ہے اور اب میں مختلف کورسوں کے زریعے بچوں اور جوانوں کو بالی ووڈ کے ناچ کے لیکچر اور پریکٹس کرواتی ہوں ۔ میں روم شہر میں آباد ہوں ۔ مجھے بر صغیر کا کلچر بہت اچھا لگتا ہے اور میں اردو سیکھنے کی کوشش بھی کر رہی ہوں ۔ اٹلی میں کتھک ناچ ابھی تک مقبول نہیں ہوا ، اس کے برعکس انگلینڈ اور دوبئی میں کتھک ڈانس اور بالی ووڈ کے ڈانس کافی مقبول ہو چکے ہیں ۔ یاد رہے کہ کتھک ڈانس نہ صرف آرٹ کے لیے کیا جاتا ہے بلکہ اسکی روحانی اہمیت بھی قابل زکر ہے ۔ کتھک نہ صرف ایک ڈانس بلکہ جسمانی زبان کا بھی نام ہے ۔ کتھک سے ورزش بھی ہوتی ہے اور انسان نفسیاتی طور پر بھی صحت مند رہتا ہے ۔ کتھک اور بالی ووڈ کے لیکچر حاصل کرنے کے لیے آپ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب میں بھنگڑا ڈانس بھی پیش کرتی ہوں اور میرا گروپ اس ناچ میں بھی کافی مقبول ہو چکا ہے ۔

Valentina Manduchi Tel. 3202930720 e-mail: یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

altalt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

Galileo Galilei (15 february 1564---8 january 1642)

 

اٹلی کا مشہور سانئسدان اٹلی کے شہر پیسا میں پیداہوا ۔اس کا باپ اپنے دور کا مشہور موسیقار تھا اور اس کے چھ بہن بھائی تھے لیکن ان میں سے صرف دو وندہ بچے۔ ایک تو باپ کے نقشے قدم پے چلتے ہوئے موسیقار بن گیا لیکن گلیلیو گلیلائی نے سائنسدان بننا پسند کیا۔ اس کا پورا نام تھا گلیلیو دی ونچینسو بوناوتی دی گلیلائی۔ جب اس کی عمر آٹھ سا ل تھی تواس کے خاندان والے فلورنس منتقل ہوگئے۔ اس نے زندگی کے چند سال جاکوبو بورگینی کے ساتھ گزارے اس کے بعد اسے فلورنس سے پینتیس کلومیٹر دور کمالدولی مونیسٹری یا خانقاہ میں بھیج دیا گیا۔ اس دور میں گلیلیو ایک راسخ العقیدہ کیتھولک عیسائی تھا۔ اس کی شادی مرینا گامبا سے ہوئی اور اس کے تین بچے پیدا ہوئے۔ گلیلیو کے باپ کی خواہش تھی کہ وہ پادری بنے لیکن اور ابتدامیں اس کا اپنا بھی یہی خیال تھا لیکن بعدمیں اس نے میڈیکل کی ڈگری کے لیئے پیسا یونیورسٹی میں داخلہ لیا جو اس نے مکمل کیئےبغیر ہی چھوڑ دی، اس کے بعد اس نے ریاضی اور حساب کے مضمون پسند کیئے۔ عجیب و غریب آدمی تھا پادری بنتے بنتے ڈاکٹر بنا، ریاضی دان بنا، لیکن پھر فلورنس کی اکیڈمی میں مصوری کا استاد بھرتی ہوگیا۔ اس کے بعد اسے پیسا یونیورسٹی میں ریاضی کے استاد کی نوکری مل گئی۔ پھر اسے پادووا میں جومیٹری، میکینکس اور ایسٹرونومی پڑھانی کی نوکری مل گئی۔ اس دوران اس نے ایجادات کی طرف غور کرنا شروع کیا اور دوربین بنانےکے نئے نئے تجربات کرنے لگا۔ اس نے جب پہلی دفعہ یہ نظریہ پیش کیا کہ زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے تو اس دور کے پادریوں نے اس پر فتوا لگادیا اور کتنی عجیب بات ہے کہ اسے ویٹیکن سٹی نے 2008 میں معاف کیا ہے۔ اس نے پیسا ٹاور پے چڑھ کے اسرائی کے قانون پے تحقیق کی اور ثابت کیا کہ رفتار میں تبدیلی وزن کے مطابق ہو تی ہے۔ جب گلیلیو نے اپنی کتاب ال ساجاتورے میں اپنے نئے نظریات پیش کیئے تو ایک پادری جو کہ ریاضی دان بھی تھا اورازیو گراسی نے اس کے خلاف کتاب لکھی اور اس نے گلیلیو کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں گلیلیو اور اس کے ایک دوست ماریو جودوچی نے اپنی نئی کتاب کے دیباچے میں چرچ کے پرانے انداز کے فلسفوں پر تنقید کی جس کی وجہ سے گلیلیو پر فتوا لگایا گیا۔ بائیبل کے کئی ابواب میں زمین کو ایک مستقل رکی ہوئی چیزلکھا گیا ہے جبکہ گلیلیو نے اسے سورج کے گرد گھومتے ہوئے بتایا جس کی وجہ سے چرچ نے اسے اپنا دشمن اور لادین کہنا شروع کردیا۔ گلیلیو نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا لیکن کسی نے اس کی نہ سنی اور اس کو اس دور کے انتہا پسندوں کی طرف سے سزا سنائی گئی جن کو انکویزیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کو ساری زندگی گھر میں نظر بند رہنے کا حکم سنایا گیا کیونکہ اس کا جرم صرف اتنا تھا کہ اس نے ایک نیا نظریہ پیش کیا تھا جو کہ صحیح تھا کہ زمین سورج کے گرد تین سو پیسنٹھ دنوں میں چکر لگاتی ہے اور چاند زمین کے گرد تیس دنوں میں چکر لگاتا ہے۔ جب گلیلیو کو گھر میں نظر بند کیا گیا تو وہ یہی کہتا تھا کہ زمین سورج کے گرد چکر نہیں لگاتی جبکہ وہ بڑی آہستگی سے کہا کرتا چکرتو لگاتی ہے۔ اس کو سزا کے طور پر تین سال کے لیے  بائیبل کے مختلف باب پڑھنا لازمی قرار دے دیے گئے ۔ آخری دنوں میں اس کی نظر جاتی رہی اور ا س کو ساری نیند نہ آیا کرتی ۔اس کو صرف دوا دارو کے لیئے فلورنس جانے کی اجازت تھی حالانکہ اس کو جدید سائنس کا بانی مانا جاتا ہے۔ اس کے خیالات سے متاثر ہو کر کوپرنیکس، کیپلر نے خاطر خواہ ایجادات کیں۔  77 سال کی عمر میں اس جدید سائنس کے بانی نے دنیا سے پردہ فرمایا اور اس دور کے لوگوں نے اس عظیم اور جدید سائنس کے بانی کو چرچ میں دفن کرنے کا سوچالیکن اسے وہاں نہ دفن کیا جاسکا کیونکہ چرچ کے مطابق وہ گناہگار تھا لیکن اسکے مرنے کے سوسال بعد اس کے تابوت کو چرچ میں دفن کیا گیا۔ گلیلیو نے دس کتابیں لکھیں اور آج تک اس کی کتابوں سے لوگ مستفید ہوتے ہیں جن میں البرٹ آئنسٹائن، سٹیفن ہاکنگز جیسے عظیم لوگ شامل ہیں ہیں۔ گلیلیو نے ریاضی اور علمِ فلکیات میں بہت کام کیا جس سے اس دورکے مشہور ماہر فلکیات کارل ساگا نے بہت فائدہ اٹھایا اور اس کے علاوہ آئیسک ایزیموف نے بہت خوبصورت ناول لکھے۔ گلیلیو کے بارے میں داوا سوبل نے بہت اچھی کتابیں لکھی ہیں۔تحریر سرفراز بیگ از آریزو

alt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com