Friday, Sep 22nd

Last update08:57:59 PM GMT

RSS

کھیل

مارادونا کی ناپولی میں واپسی

 

روم، 26 فروری 2013 ۔۔۔ دنیا کے مشہور فٹبالر مارادونا اٹلی کے شہر ناپولی میں واپس آگئے ہیں ۔ مارادونا اٹلی سے 8 سال قبل چلے گئے تھے اور ان پر ٹیکس چوری کرنے کا جرم عائد ہے ، اب سود کو ملا کر انہیں 8 ملین یورو کا ٹیکس ادا کرنا ہو گا ۔ مارادونا ناپولی کی ٹیم کے کپتان رہے ہیں اور انکی موجودگی میں ناپولی نے چیمپئن لیگ اور یورپین لیگ جیتی تھی ۔ مارادونا دنیا کے عظیم ترین فٹبالر تصور کیے جاتے ہیں ، انکے بعد پیلے کی باری آتی ہے جو کہ برازیل کے کھلاڑی تھے اور اٹلی کی ٹیموں میں کھیلتے رہے ہیں ۔ مارادونا نے ناپولی میں ایک شاندار ہوٹل پیلس میں سٹے کیا ہے اور انکے کمرے میں پاکستان کا سنگ مر مر لگا ہوا ہے ۔ اس کمرے کی قیمت 400 یورو پر نائٹ ہے اور یہ کمرے عام طور پر سیاسی لیڈران یا وی آئی پی لوگوں کے لیے مختص ہے ۔ مارادونا نے ناپولی شہر کا دورہ کیا ہے اور اس دوران انکے شیدائیوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ مارادونا نے ناپولی کا مشہور پیزا کھایا اور اسکے بعد یہاں کی روائیتی مصنوعات خریدی ہیں ۔ اب وہ دوبئی روانہ ہورہے ہیں ، انکی اس آمد سے لگتا ہے کہ وہ ناپولی میں واپس آنے کے خواہشمند ہیں ۔

 تصویر میں مارادونا اپنے شا‏‏ئقینوں کو سلام کررہے ہیں

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

وسیم اصغر کو فیڈرل کونصلر منتخب کر لیا گیا

روم۔ 28 اکتوبر 2012 ۔۔۔ اٹلی کے شہر ترینتینو میں آباد ہمارے ایک نوجوان پاکستانی وسیم اصغر کو فیڈرل کونصلر منتخب کر لیا گیا ہے ۔ محمد وسیم اصغر کرکٹ کے کھلاڑی ہیں اور Trentino Cricket Clubمیں کھیلتے ہیں ۔ وسیم اصغر نے کہا کہ میں کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ غیر ملکیوں کی انٹیگریشن کے لیے بھی جدوجہد کررہا ہوں ۔ انہوں نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں اٹلی میں جوان ہوا، یہیں پر تعلیم حاصل کی اور اسکے بعد مجھے یہاں کی یونیورسٹی نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا ڈپلومہ جاری کیا ، اب میں ترینتو کی یونیورسٹی سے Software Technologiesکا کورس کررہا ہوں ۔ انہوں نے کرکٹ کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے روویریتوکی گلیوں میں کرکٹ کھیلنی شروع کی اور اسکے بعد اعلی کرکٹ کھیلنے کے لیے کوشاں رہا ۔ میں نے بڑی محنت کی لیکن نتائج دور رہے اور سخت محنت اور ٹریننگ کے بعد میری ٹیم نے 2011 میں اٹلی کی چیمپئن شپ جیت لی اور اسکے بعد 2012 میں بھی ہم نے اٹالین چیمپئن بننے کا اعزاز جاری رکھا ۔ اس دوران مجھے کرکٹ کلب کے اچھے کھلاڑی کے علاوہ کلب کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا گیا ۔ میں کرکٹ کی ٹیم کا انتخاب ، عوامی تعلقات اور کلب کے حساب و کتاب کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے انتہائی محنت کر رہا ہوں ۔ ہم نے ترینتینو کے سکولوں میں کرکٹ کے کھیل کو متعارف کروایا ہے اور بیشتر سکولوں کے اساتذہ اس کھیل کے بارے میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ کرکٹ صرف ایشین کھلاڑیوں تک محدود نہ رہے اور اس کھیل کو انٹیگریشن کا آلہ استعمال کرتے ہوئے ، اسے قومی کھیل کا اعزاز دیا جائے ۔ وسیم اصغر نے کہا کہ مجھے 27 اکتوبر کے روز بلونیا شہر میں فیڈرل کونصلر منتخب کر لیا گیا ہے ، اب میری کوشش ہوگی کہ میں کرکٹ کو چھوٹے لیول سے نکال کر قومی سطح کے کھیلوں میں شامل کرنے کے لیے اپنی خدمات سرانجام دے سکوں ۔ تصویر میں وسیم اصغر کرکٹ کلب کے صدر Simone Gambinoکے ساتھ ۔ تحریر، اعجاز احمد

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ترینتینو کو دو دفع چیمپئن بننے کا اعزاز

روم، 22 اکتوبر 2012 ۔ تحریر، وسیم اصغر ۔۔۔۔۔۔ ترینتینو کی کرکٹ ٹیم نے اٹلی میں دو دفع چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے ۔ اٹلی کے شمالی پہاڑی علاقے ترینتینو میں ایک ایسی کرکٹ کی ٹیم موجود ہے جو دن رات پچ پر محنت کرنے کے بعد اٹلی کی اور یورپ کی چیمپئن بن کر ابھری ہے ۔ ہماری ٹیم اور کلب کا سب سے بڑا اصول ہے کہ ہم نے جوانوں کو طاقت ور اور توانا بنانا ہے اور کرکٹ کے زریعے انٹیگریشن یا میل و ملاپ کا رشتہ قائم کرنا ہے ۔ ہماری انڈر 19 نے اٹلی کی چیمپئن شپ جیتتے ہوئے پورے اٹلی میں نہ صرف نام پیدا کیا ہے بلکہ اس جیت کے بعد اس ملک میں کرکٹ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی ہے ۔ ہم 2009 میں چوتھی پوزیشن اور 2010 میں تیسری پوزیشن حاصل کر چکے ہیں ۔ ہمارے کھلاڑی ہمارا پیلا اور نیلاٹریک سوٹ پہن کر فخر محسوس کرتے ہیں ۔ ہمارے ہونہار کھلاڑیوں میں دو بھائی سر فہرست ہیں ، جن کا فیملی نام اصغر ہے ۔ چھوٹے کا نام وقاص اصغر ہے ، جس نے تین سال قبل انڈر 15 کی قومی کرکٹ ٹیم میں اپنے کھیل کے جوہر دکھائے تھے اور اٹلی نے اپنی تاریخ کا سب سے پہلا یورپین کرکٹ ٹورنامنٹ جیتا تھا ۔ اٹلی کے تمام سیاست دانوں اور ابلاغ عامہ نے انکی تعریف میں قصیدے پڑھے تھے اور انہیں فوری طور پر اٹالین قومیت دینے کا نعرہ لگایا تھا ۔ اس سال وقاص کو وظیفہ جاری کیا گیا ہے اور اب وہ انگلینڈ میں تعلیم حاصل کر رہا ہے ۔ انگلینڈ کرکٹ کا گھر تصور کیا جاتا ہے ۔ ہمارے کرکٹرزیادہ تر پاکستانی ہیں اور مکس اٹالین اور اردو بولتے ہیں ۔ عام طور پر یہ گجرات، راولپنڈی، لاہور اور سیالکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یاد رہے کہ پاکستان کے ان شہروں میں کرکٹ مقبول ترین کھیل ہے ۔ ہم نے پچھلے سال بریشیا کی ٹیم لائنز سے 28 سالہ کھلاڑی حاصل کیا ہے ، جن کا نام محمد رضوان ہے اور وہ کامیاب بیٹس مین ہیں ۔ اسکے بعد ہمارے اعلی ترین کھلاڑی عطیق انور کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اور انکی عمر 37 سال ہے ، وہ ترینتینو میں 2 سال سے آباد ہیں اور ہمارے عمدہ ترین پلیئر تصور کیے جاتے ہیں۔  قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک کے ساتھ ایک ہی ٹیم میں عطیق اپنے ہنر کا کمال پیش کر چکے ہیں ۔ محمد عمران بھی بریشیا کی ٹیم لائنز سے تشریف لائے ہیں اور فاسٹ بالر ہونے کے باعث ٹیم کا ستون سمجھے جاتے ہیں ۔ علاؤالدین بھی اٹلی کی قومی کرکٹ ٹیم کے لیڈر ہیں اور کچھ عرصہ کی علالت کے بعد اب دوبارہ کھیل کے میدان میں آچکے ہیں ۔ جب ہم نے جینووا کے خلاف ۔ چمیپئن شپ حاصل کی تو ہماری ٹیم کے کھلاڑیوں میں یہ ہیرو موجود تھے ۔

TRENTINO – GENOA

TRENTINO: Alaud; Fida; Bhatti; Anwar; Waqas Asghar; Rizwan; Ilyas; Imran; Ahmed; Naveed; Khan; Waseem Asghar.

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کنگز گروو کرکٹ کلب کی کارکردگی

روم۔ 18 اکتوبر ۔۔۔ میلانو کی سب سے مشہور کرکٹ کلب kingsgroveکنگز گروو 12 سال سے کرکٹ کے میدان میں اپنی کارکردگی پیش کرتے ہوئے 4 دفع اٹلی کی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کرچکی ہے ۔ اس کلب میں ٹین ایجر ، گرلز ٹیم اور بالغ کرکٹ ٹیمیں شامل ہیں ۔ بچوں کو بھی کرکٹ کی طرف راغب کرنے کے لیے تربیت دی جاتی ہے ۔ اس ٹیم کے کوچ کمال بھائی ہیں ، جن کا تعلق سری لنکا سے ہے ۔ کلب کے چیئرمین Fabio Mrabinہیں جن کی کوششوں کی بدولت یہ کلب پورے اٹلی میں اپنا مقام پیدا کرنے مین کامیاب ہوگئی ہے ۔ اس کلب میں 4 پاکستانی کھلاڑی موجود ہیں ۔ جن میں خرم یاسین، سبحان، مظفر اور انڈر 19 کے وائس کپتان مبشرعلی سرفہرست ہیں ۔ کلب میں پاکستانی کھلاڑیوں کے علاوہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور ساؤتھ افریقہ کے کھلاڑی بھی موجود ہیں ۔ کنگز گروو کلب اٹلی کے علاوہ دوسرے یورپین ممالک میں بھی ٹورنامنٹوں میں حصہ لے چکی ہے ۔ یہ کلب اٹلی کی مضبوط کلب سمجھی جاتی ہے اور اس کلب سے قومی لیول کے کھلاڑی بھی ابھر رہے ہیں ۔ کلب کے پاس ٹریننگ کے لیے دو گراؤنڈیں ہیں ، جن میں پچ کا انتظام ہے ، اسکے علاوہ سردیوں میں کھیلنے کے لیے ایک انڈر گراؤنڈ بھی موجود ہے ۔ کلب کی انتظامیہ سپورٹس کا سامان پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے منگواتی ہے ۔ جس فرم سے سامان خریدا جاتا ہے ، اس کا نام Remaxہے ۔ فرم کے مالک محمد سعید گورایہ کلب کو سامان فروخت کرنے کے علاوہ اسپانسر بھی کرتے ہیں اور وہ کرکٹ کے بڑے شوقین ہیں ۔ تمام جوان پاکستانیوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ کرکٹ کھیلنے میں توجہ دیں کیونکہ کرکٹ سے جوان نسل توانا اور خوشنما ہوتی ہے اور ان قباحتوں سے دور رہتی ہے جو کہ وقت ضائع کرنے سے پیدا ہوتی ہیں ۔ تصویر میں کنگز گروو کی انڈر 19 کی ٹیم

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 19 اکتوبر 2012 14:49

کرکٹ کے کھلاڑی مبشرعلی کا تعارف

روم۔ 17 اکتوبر 2012 ۔۔۔ اٹلی کی انڈر 19 ٹیم کے کرکٹ کے کھلاڑی مبشرعلی کا تعلق گوجرانوالہ تحصیل نوشہرہ ورکاں سے ہے ۔ مبشر انتہائی ہونہار اور ابھرتے ہوئے کرکٹ کے کھلاڑی ہیں اور  اٹلی کی قومی انڈر 19 میں اپنے کھیل کے جوہر دکھا چکے ہیں ۔ انکی عمر 18 سال ہے ۔ حال ہی میں آزاد اخبار نے ان کا انٹرویو لیا ہے ۔ مبشر علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن ہی سے کرکٹ سے بہت لگن رکھتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں چھوٹی عمر میں ضلح لیول پر ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا ۔ انہوں نے گورنمنٹ سیکنڈری ہائی سکول ونی کی طرف سے  پہلا کرکٹ کا  ٹورنامنٹ کھیلا اور انتہائی دلچسپ بیٹس مین قرار دیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ مڈل سکول کی تعلیم مکمل کیے بغیر مجھے میرے والدین نے اٹلی بلا لیا اور اب میں 2009 سے میلان کے قصبے Treviglioیعنی تریویلیو میں آباد ہوں ۔ میں یہاں سکول سے مکینیکل کورس کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ کرکٹ بھی کھیل رہا ہوں ۔ مجھے میلان کی مشہور کرکٹ کی کلب kingsgrove  کا نائب کیپٹن مقرر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی کلب کی طرف سے انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کھیلے ہیں ۔ میری ٹیم نے انڈر 17 اور انڈر 19 اٹلی کے ٹورنامنٹ جیتتے ہوئے اس ملک کی قومی لیول کی کرکٹ میں اپنا مقام بنایا ہے ۔ میری وائس کپتانی میں ہماری کلب 2 دفع اٹلی کی چیمپیئن بن چکی ہے ۔ گزشتہ سال میں نے وینس کی ٹیم کے خلاف ہاف سنچری بنائی تھی اور ناٹ آؤٹ رہا تھا اور مجھے مین آف دی میچ قرار دیا گیا تھا ۔ مبشر علی نے کہا کہ مجھے کرکٹ کے علاوہ کبڈی اور کشتی بھی اچھی لگتی ہے ۔ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بزنس مین بننا چاہتا ہوں ۔ میں کرکٹ کے میدان میں بیٹس مین کے طور پر اپنے جوہر دکھاتا ہوں لیکن سپن بالننگ کرتے ہوئے بالر کا ہنر بھی رکھتا ہوں ۔ میری کامیابی میں میرے والدین کی دعا اور دوست و احباب کا بڑا احسان ہے ۔ میری خواہش ہے کہ میں کرکٹ کی دنیا میں نام کماتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ بھی کھیلوں اور اپنے ملک پاکستان اور میرے دوسرے ملک اٹلی کا نام روشن کرسکوں ۔ انہوں نے کمونٹی کے نام اپنا پیغام روانہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کمونٹی کو چاہئے کہ وہ اسلامی روایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے ملک پاکستان کا نام روشن کریں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکجہتی اور سخاوت کی مثال قائم کریں ۔ ہماری کمونٹی کو چاہئے کہ وہ ان جوان کھلاڑیوں کی بھی مدد کرے جو کہ کھیل کے زریعے پاکستان کا نام بلند کر رہے ہیں ۔ مبشر علی نے کہا کہ آزاد اخبار تمام پاکستانیوں کی اخبار ہے اور اس میں کوئی علاقائیت پرستی نہیں ہوتی ۔ اس لیے تمام پاکستانیوں کو چاہئے کہ وہ اس اخبار کی پروموشن کے لیے کاوش جاری رکھیں ۔ اس اخبار کی وجہ سے اٹلی میں اردو کو تقویت مل رہی ہے ورنہ جوان نسل اردو بولتی تو ہے لیکن لکھتی نہیں ۔ مبشر علی نے کہا کہ وہ جوان جو کہ کرکٹ کے کھیل میں آنے کے خواہش مند ہیں اور ہماری کلب میں شرکت کرنا چاہتے ہیں وہ مجھ سے رابطہ کرلیں۔ موبائل 3271695550 ۔ تصویر میں مبشر علی ۔ دوسری تصویر میں اپنے دو کلب کے بنگلہ دیشی اور سری لنکن کھلاڑیوں کے ہمراہ ، تصویر میں چیمپیئن شپ کا کپ بھی عیاں ہے ۔

altalt

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت بدھ, 17 اکتوبر 2012 19:09