Friday, Sep 22nd

Last update08:57:59 PM GMT

RSS

کالم و تجزیے

روس میں آباد پاکستانیوں کا شکریہ

روم، 27 دسمبر 2013 ۔۔۔۔ میں روس میں آباد تمام پاکستانی اور اردو پڑھنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، جنہوں نے چند دنوں میں ہمارے اخبار کے ہزاروں صفحات پڑھتے ہوئے ہماری صحافت کو خوش آمدید کہا ہے ۔ آزاد اٹلی میں آباد پاکستانیوں کا واحد اخبار ہونے کے علاوہ علاقائیت ، نسل پرستی، غلامیت اور چاپلوسی کے سخت خلاف ہے ۔ ہم کوشش کریں گے کہ ہم دنیا کے دوسرے ممالک میں آباد اردو پڑھنے والے قارئین کی خدمت کرسکیں ۔ تحریر، ایڈیٹر اعجاز احمد

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سیر

آج خلافِ توقع لندن کا موسم بہت اچھا تھا۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ لندن میں ایک دو دن کے لیئے دھوپ نکلے اور بارش نہ ہو۔ ورنہ لندن کے موسم کے لیئے مشہور ہے کہ اسے سلیٹی موسم کہتے ہیں۔یعنی گرے ویدھر۔ آج موسم اچھا ہونے کے ساتھ ساتھ لندن میں بینک ہالیڈے بھی تھا۔عطا ء سخی کالے رنگ کے چمڑے کے صوفے بیٹھے بیٹھے اچھل پڑے۔ وہ ابھی ابھی کام سے واپس آئے تھے۔ انہوں نے جرابیں اتار کے اپنے جوتوں میں گھسیڑدی تھیں۔ ان جرابوں کی بدبو کے بھبھوکے ان کی ناک میں گُھس رہے تھے۔ اس کی وجہ ان کا جرابوں کا نہ دھونا تھا۔ ان کے خیال میں جرابیں دھونے کے لیئے واشنگ مشین چلانی پڑتی ہے جو کہ بجلی سے چلتی ہے اور اس طرح بجلی کا بل زیادہ آتا ہے۔ پانی کا استعمال ہوتا ہے اور اس کا بل بھی آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کپڑے دھونے والا پاوڈر بھی استعمال ہوتا ہے۔ جو کہ ان کی مرضی کے بغیر کوئی نہیں استعمال کرسکتا تھا۔ انہوں نے ایک خاص قسم کا چمچہ رکھا ہوا تھا جس سے واشنگ مشین کے اس خاص ڈبے میں پاؤڈر ڈالنے سے باہر نہیں گرتا تھا۔ عطاء سخی کنجوسوں کے امام تھے۔ انہیں لندن میں رہتے ہوئے چالیس سال ہوچلے تھے۔ ان کے دو مکان تھے جو کہ خاص انگلستان میں بسے پاکستانیوں کی زبان میں فری ہولڈ تھے۔یعنی ان کی مورگیج ادا کی جاچکی تھی۔ انہوں نے مالیت بھی لگا رکھی تھی۔ پاکستانی روپوں میں دونوں مکانوں کی قیمت تقریباً پندرہ کروڑ تھی۔ اس کے علاوہ ان کے پاس کئی دوکانیں اور پاکستان میں بھی بے شمار جائیداد تھی۔ جس کا حساب کرنے کو آئیں تو سات نسلیں بیٹھ کے کھاسکتی ہیں لیکن نہ جانے انہیں کنجوسی کرنے میں کیا مزہ آتا تھا۔ دو جگہوں سے پنشن بھی آتی تھی اس کے علاوہ سوشل سیکورٹی (بیروزگاری الاؤنس) بھی وصول کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک دوکان پے غیرقانونی طور پہ کام بھی کرتے تھے۔وہ وہاں سے ہزار سے لے کر پندرہ سو پاؤنڈ تک کما لیا کرتے۔پیسے سے وہ اتنا پیا ر کرتے تھے جتنا کسی شخص کو زندگی سے پیار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہ جرابوں کی تعفن زدہ بو برداشت کرسکتے تھے کیونکہ تعفن زدہ بو سے انہیں بچت کی بھینی بھینی خوشبوء آتی تھی۔ یعنی پونڈوں کی۔ وہ ہفتے میں ایک دفعہ نہاتے کیونکہ صابن ،پانی، گیزراور بجلی کا نقصان وہ کبھی بھی برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ میں کہانی کہاں سے کہا لے گیا۔ صوفے پے بیٹھے بیٹھے وہ اس لیئے اچھل پڑے تھے کیونکہ انہیں بھی ایک عدد چھٹی تھی اور موسم کا حال سنتے اور دیکھتے ہی وہ اچھل پڑے تھے کیونکہ کل پورا دن سورج نکلنا تھا۔ موسم تو آج بھی اچھا تھا اور بینک ہالیڈے بھی تھا لیکن انہیں دُگنی دِھاڑی کا لالچ تھا اس لیئے کام پے چلے گئے تھے۔ انہوں نے صوفے پے بیٹھے بیٹھے اپنی بیگم کو آواز دی، ’’بیگم صاحبہ کل ہم سیر کو چلیں گے‘‘۔ بیگم کو بڑی حیرت ہوئی کہ ان کے شوہرِ نامدار نے خرچے کی بات کی ہے۔ انہوں نے اپنی بیگم سے کہا، ’’کھانا کھا کر میں اپنی اسی پٹرول پم پر جاؤں گا کیونکہ وہاں پٹرول بنا ملاوٹ کے ملتا ہے اور بازار سے پانچ پینی سستا بھی ملتا ہے‘‘۔ بیگم نے باورچی خانے سے ہی جواب دیا، ’’لیکن وہ پٹرول پمپ تو پینتیس کلومیٹر دور ہے۔ آپ کا پٹرول بھی خرچ ہوگا‘‘۔ انہوں نے جواب دیا، ’’اسسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ خالص پٹرول سے گاڑی خراب نہیں ہوتی‘‘۔ بیگم نے مزید پوچھا، ’’لیکن اس پٹرول پمپ میں ایسی کون سی خاص بات ہے‘‘۔ تو انہوں نے کہا، ’’بیگم! وہاں سے اسمبلی کے ممبران پٹرول بھرواتے ہیں۔ اس لیئے وہاں پے ملاوٹ کی گنجائش نہیں‘‘۔ ’’لیکن یہاں لندن میں کون ملاوٹ کرتا ہے‘‘بیگم نے مستعجب ہوکر پوچھا۔ سخی صاحب نے مزید پکا کرنے کے لیئے کہا، ’’ دنیا میں ہر جگہ ملاوٹ ہوتی ہے۔لندن کوئی زیادہ نرالا نہیں‘‘۔ اس کے بعد میز پر کھانا چن دیا گیا۔ سخی صاحب سرسری سے ہاتھ دھو کر کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔ جب کھانے کی میز پر ان کی نظر کوکا کولا پر پڑی تو بیوی پر برس پڑے،’’بیگم اتنی مہنگی کوکا کولا لانے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ ڈیڑھ پاؤنڈ کی دو لیٹر والی بوتل۔ تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے وہ سستی والی کوکا کولا لایا کرو۔وہ دو لیٹر کی کوکا کولا سترہ پینی کی آتی ہے اور اب تو انہوں نے سپیشل آفر بھی لگا دی ہے، تیرہ پینی‘‘۔ بیگم نے کہا، ’’میں گئی تھی لیکن دوکاندار کہنے لگا، پورا کنٹینر منگوایا تھا ۔ آج ہی ختم ہوا ہے‘‘۔ ’’سٹور میں بھی تو پڑی ہوئی ہے ۔ وہ نکال لیتیں‘‘۔ ’’وہ تو کب کی خراب ہوچکی ہے۔اس کی تہہ میں چینی صاف نظر آتی ہے اور اوپر کالا کالا پانی۔‘‘’’اری بیوقوف ! اس کو شیک کرکے پیا جاسکتا ہے۔ یہ چیزیں جب تک کھلیں نہ ، خراب نہیں ہوتیں۔ ارے ہاں یاد آیا ۔حاتم کدھر ہے اور باطن بھی نظر نہیں آرہا‘‘۔ وہ دونوں عشاء کی نماز پڑھنے گئے ہوئے ہیں‘‘۔ وہ کھانا کب کھائیں گے‘‘۔ ’’وہ دونوں کہہ رہے تھے، ہم لوگ یا تو ڈونر کھا لیں گے یا فش اینڈ چپس‘‘۔ بیگم تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے ان باتوں کا خیال رکھا کرو۔ یہ فضول خرچی ہے۔ گھر میں ہر چیز موجود ہے۔ آٹا، چینی حتیٰ کہ کوک بھی‘‘۔ ’’اچھا اب چھوڑیں بھی ،اتنی بھی کیا بچت کرنی‘‘۔ بیگم تم نہیں جانتی۔اس طرح فضول خرچی کرنے لگے تو قارون کا خزانہ بھی ختم ہوجائے گا‘‘۔ ’’ آپ تو خواہ مخواہ بچوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔اب تو وہ دونوں شادی شدہ ہیں‘‘۔ ’’اچھا خیر جب وہ آئیں تو انہیں کہہ دینا کہ کل ہم لوگ سیر کو جائیں گے‘‘۔ سخی صاحب نے جلدی جلدی کھانا کھایا اور باہر جاکے گاڑی کی حالت دیکھنے لگے۔ اچانک ان کانوں کو بیوی کی بلند و بالاآواز سنائی دی، ’’آپ کا ٹیلی فون آیا ہے‘‘۔ انہوں نے باہر سے ہی جواب دیا، ’’کہہ دو گھر پے نہیں ہوں‘‘۔ ’’آپ کے بڑے بھائی صاحب کا فون ہے‘‘۔ سخی صاحب جھٹ سے گھر میں داخل ہوئے اور رسیور ہاتھ میں لے کر بات چیت کرنے لگے۔ ان کی عادت تھی اگر کوئی دوسرا شخص فون کرے تو لمبی بات کیا کرتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کا بل نہیں آئے گا۔بات ختم کر کے رسیور چونگے پے رکھتے ہی کہنے لگے، ’’ارے بھئی کل بھائی جان بھی اپنے بچوں کے ساتھ سیر کو چلیں گے۔انہوں نے اسی لیئے فون کیا تھا۔اور ہاں وہ پکوڑے ، سموسے اور روٹیاں بنارہے ہیں۔ تم بھی ایسا کرو ، پراٹھے اور اس ساتھ کوئی چیزیں بنا لوں۔ فنگر چپس اور شامی کباب ضرور بنانا۔اتنا کچھ ہو کہ اگر دوپہر میں ہم لوگوں کو بھوک لگے تو پیٹ بھر کے کھا سکیں۔جو بچ جائے گا وہ ہم لوگ شام کو کھا لیں گے۔تمہیں تو پتا ہے راستے میں کھانے پینے کی چیزیں کتنی مہنگی ہوتی ہیں۔ ایک بڑا کارٹن دو لیٹر والی پانی کی بوتلوں کا بھی رکھ لینا۔ ہاں یاد آیاساتھ تین چار تینتیس لیٹر (چھوٹی پانی کی بوتل) والی خالی پانی کی بوتلیں بھی رکھ لینا۔ اب ہر جگہ بندہ بڑی بوتل تو اٹھاکے نہیں جاسکتا نا۔اب میں چلتا ہوں۔ باطن اور حاتم جب آئیں انہیں کہنا تیار رہیں۔ ان سے کہنا ایسے کپڑے پہن کر جائیں جو استری نہ کرنے پڑیں۔ تمہیں تو پتا ہے استری سے بجلی کا کتنا نقصان ہوتا ہے۔ میٹر بہت تیز گھومتا ہے۔ خواہ مخواہ بل میں اضافہ ہوتا ہے‘‘۔ ’’اب جائیں گے بھی یا باتیں ہی بناتے رہیں گے‘‘۔ اچھا بھئی جاتا ہوں۔ پہلے تم مجھ سے بات کرنے کو ترسا کرتی تھی اب جان چھڑاتی ہو‘‘۔ ’’پہلے کی بات اور تھی‘‘۔ ’’اور اب ‘‘۔’’اب خدا حافظ‘‘۔ دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔

***************

صبح سویرے عطا سخی صاحب کے باورچی خانے میں کھڑ کھڑ شروع ہوگئی۔ سیر پر جانے کے لیئے چند چیزیں تو تیار ہوچکی تھیں اور باقی ان کی بیگم تیار کررہی تھیں۔ عطا سخی صاحب کوکا کولا کی سستی بوتلیں لینے گئے ہوئے تھے۔وہ دوکان پے کنٹینر کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جس دوکان سے یہ سستی تیرہ پینی والی دو لیٹر کی کوکا کولا ملتی تھی۔ نہ وہ دوکان کھلی تھی نہ ہی کنٹینر آیا تھا۔ سخی صاحب کو چار گھنٹے کے انتظار کے بعد ان کی مطلوبہ کوکا کولا ملی۔ اب تک دس بج چکے تھے اور سارے گھر والے ان کا انتظار کررہے تھے۔ ان کے بیٹے، بہوئیں،ان کے بچے۔ سخی صاحب کی گاڑی کے انجن کے بند ہونے کی آواز آئی۔جیسے ہی سخی صاحب وارد ہوئے سب نے جلدی جلدی اشیاءِ خورد و نوش گاڑی میں رکھنی شروع کردیں۔ گھر سے ان کے قافلے کو نکلتے نکلتے گیارہ بج چکے تھے۔ اب تک کوئی نہیں جانتا تھا کہاں جانا ہے۔ اس لیئے سخی صاحب نے نکلنے سے پہلے سب کو بتا دیا تھا کہ ہم لوگ برائیٹن جارہے ہیں ۔ اس لیئے جانے کے لیئے ایک ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جہاں روڈ ٹیکس نہیں دینا پڑے گا۔ راستہ تھوڑا لمبا ہے لیکن چار گاڑیوں کا روڈ ٹیکس ،آنے جانے کا قریباً چالیس پاؤنڈ بنتا ہے۔ اس لیئے جو راستہ میں اختیار کرو ۔تم مجھے فالو کرتے جانا۔ لندن سے برائیٹن جانے کے لیئے ایک گھنٹہ لگتا ہے لیکن جو راستہ انہوں نے اختیار کیا تھا وہ لمبا بھی تھا اور یہاں بہت زیادہ ٹریفک بھی تھی۔ برائیٹن پہنچتے پہنچتے انہیں تین بج چکے تھے۔ جب یہ لوگ برائیٹن پہنچے تو سب کا تھکن سے برا حال تھا۔لیکن سخی صاحب نے ایک فضیحتا اور کھڑا کردیا کہ وہ ایک ایسی جگہ جانتے ہیں جہاں فری پارکنگ کی جاتی ہے۔اب سب نے گاڑیاں سٹارٹ کیں اور لگے فری پارکنگ ڈوھونڈنے۔ قریباً ڈیڑھ گھنٹے کی تگ و دو کے بعد انہیں فری پارکنگ مل گئی۔ اب انہیں یہاں سے پیدل چل کے بیچ (سمندر کا کنارہ)کی طرف آنا تھا۔تقریباً دو کلومیٹر کا راستہ تھا۔ سب لوگ پانی کی بوتلیں ، پکوڑے ،سموسے، جو کچھ بھی کھانے کو تھا اور چٹائیاں ، ان ساری چیزوں کے ساتھ لدے پھندے چلتے رہے۔ ٹھیک ایک گھنٹہ یہ لوگ اس تکلیف دہ حالت میں چلتے رہے اور بلاآخر بیچ پر پہنچ گئے۔ چٹائیں بچھائیں اور روٹیاں، پراٹھے، سستی کوکا کولا، ان ساری چیزوں کو دسترخوان پے چن دیا گیا۔ روٹیاں اور پراٹھے ہاٹ پوٹ میں پڑے پڑے نمی کی وجہ سے گیلے ہوچکے تھے۔ فنگر چپس شامی کباب ، سموسے اور پکوڑے بھی خراب ہوچکے تھے۔کوکا کولا شکر کولا بن چکی تھی۔ سب کو بھوک اتنی سخت لگی ہوئی تھی۔

؂دسترخوان پے کوئی چیز نہ بچی۔جیسے ہی سب نے کھانے سے فراغت حاصل کی سخی صاحب نے فرمان جاری کیا ، واپس چلنا ہوگا، کیونکہ گاڑیں دور کھڑی کی ہیں اور ان تک پہنچتے پہنچتے ایک گھنٹہ لگے گا۔ طوحاً کرحاً سب نے اس نادر شاہی حکم پے عمل کیا اور خالی کاغذ ، بوتلیں، ڈبے انہوں نے بِن کی نظر کیئے اور چٹائیں لپیٹ کے انہوں نے بغل میں داب لیں۔ اس طرح یہ قافلہ دوبارہ گاڑیوں کی طرف روانہ ہوا۔ جیسے ہی گاڑیوں کے پاس پہنچے ، سب نے خدا کا شکر ادا کیا کیونکہ اب یہ لوگ ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچے تھے۔ گاڑیاں سٹارٹ کیں اور گھر کی راہ لی۔ جب گھر پہنچے تو رات کے گیارہ بج چکے تھے ۔باطن اور حاتم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گھر کو ہولیئے اور عطا سخی کے بھائی جان بھی اپنے بچوں کے ہمراہ اپنے گھر کو روانہ ہوئے۔

sarfraz baig ( یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے )

start 11/04/2006 completed 12/04/2006

arezzo

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کمی کازے

میرے ناول ’’پسِ آئینہ‘‘ سے اقتباس

 

آنسن کیوشی اوگاوا نے۱۱مئی ۱۹۴۵کو یو ایس ایس بنکر ہل پے جان بوجھ کے اپنا جہاز گرایا اور ۳۷۲انسانوں کی جان لی۔ جب اس کو اس مشن پے بھیجا گیا تو وہ بہت خوش دکھائی دے رہا تھا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس کام میں اس کی اپنی جان بھی چلی جائے گی۔

انسانی عقل سوچتی ہے کہ وہ کون سے عوامل ہوتے ہیں جو انسان کو ایسے کاموں کی طرف راغب کرتے ہیں یا مائل کرتے ہیں۔

کمی کازے جاپانی زبان کا لفظ ہے ۔کمی کا مطلب خدا یا روح اور کازے کا مطلب ہے ہوا یا طوفان ہے یعنی خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی ہوا یا طوفان۔ جب ۱۲۷۴اور ۱۲۸۱میں منگولوں نے جاپان پے حملہ کیا تو قدرتی طور پے اتنا شدید طوفان آیا کہ منگولین فوجیں منتشر ہوگئیں ۔ اسلیئے اس طوفان کا نام

کمیکازے رکھ دیا گیا یعنی خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی مدد۔ دوسری جنگِ عظیم میں جب جاپان کو لگا کہ وہ جنگ ہار رہا ہے تو اس نے اس حکمت عملی پے عمل کرنے کا سوچا اور اس طرح کمی کازوں کی بھرتی شروع ہوئی۔ اس کے لیئے کوئی بنیادی تعلیم نہ تھی بس بندے کے اندر جاپانی بادشاہ کی بقا ء کے لیئے لڑنے کا جذبہ ہونا چاہیئے تھا۔ ان لوگوں کو تربیت دی گئی اور یہ لوگ خوشی خوشی امریکہ ، انگلستان اور آسٹریلیاء کے بحری بیڑوں پے اپنے جہاز تباہ کیا کرتے ۔ اپنی جان بھی لیا کرتے اور ساتھ ساتھ ہزاروں دوسرے لوگ بھی مر جاتے۔کئی ایک پائیلٹ واپس بھی آجاتے جیسا کہ ایک پائیلٹ بارہ دفعہ واپس آیا اور آخری بار اسے جان سے مار دیا گیا لیکن جاپان کی یہ جنگی حکمتِ عملی کامیاب نہ ہوئی کیونکہ امریکہ نے جیسا کہ وہ آجکل کرتا ہے ۔ ساری ملکوں کی رائے لیکر ایک ایٹم بم ہیرو شیما پے گرا یا اور دوسرا ناگاساکی پے۔

 

دوسری جنگِ عظیم کے اعداد شمار کے مطابق کمی کازوں نے کل ملا کے چار ہزار لوگوں کی جان لی کچھ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دس ہزار لوگوں کی جان لی، اس کے برعکس ایٹم بم نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی جان لی اور آج بھی ہیرو شیما اور ناگاساکی میں جو لوگ معذور پیدا ہوتے ہیں۔

دوسرا کمیکازے کا مشہور حملہ امریکہ کے ٹون ٹاور پر کیا گیا۔ اس کے بارے میں کئی چیزیں سامنے آئی ہیں۔ یہ حملہ جہازوں کے ذریعے کیا گیا اور کونسپریسی تھیوری کے مطابق یہ عمارتیں جہاز نماں میزائلوں سے گرائی گئی ہیں۔ اس بارے میں ایک فرینچ صحافی نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ہے

9/11 The Big Lie by Thierry Meyssan

۔ اس کے علاوہ ایک جرمن صحافی

Mathias Brocker

نے بھی اس پے ایک مضمون لکھا ہے اور

Andreas von Bulow

کی بھی ایک کتاب منظرِ عام پے آئی ہے۔جس میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے ۔

جاپانیوں میں اپنی جان کا نذرانہ یا تو مذہب کی خاطر یا حاکمِ وقت کے لیئے شنٹو ازم سے جنم لیتا ہے۔ پرانے دور میں سمورائے اور بوشیدوں بھی اس طرح کے عمل کے ماہر تھے۔ شنٹوازم میں ایک فلسفیانہ نظریہ ہے کہ گوشت پوست کے جسم سے روح کو علیحدہ کیا جائے کیونکہ جب کمی کازے یا سوسائیڈ بومبر حملہ کرتا ہے تو اسے کامل یقین ہوتا ہے کہ اس کا جسم تو مر جائے گا لیکن اس کی روح زندہ رہے گی۔بالکل اسی طرح مسلمان کمیکازوں کو جنت کا روح پرور منظر دکھا کر اور حوروں کا لالچ دیکر اس کام کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔

یہ فلسفہ تمام مذاہبِ عالم میں مختلف رنگوں میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی اساس کچھ اور ہے۔ جنت ،دوزخ اور برزخ ۔

دنیا کا کوئی مذہب معصوم اانسانوں کی جانیں لینے کی تعلیم نہیں دیتا۔دیگر مذاہب کی مثال دینے سے پہلے میں اسلام کی مثال دیتا ہوں۔ جو لوگ تاریخِ اسلام سے واقف ہیں وہ اس بات سے بھی واقف ہوں گے کہ جنگِ بدر کا میدان مدینہ منورہ کے پاس ہے، احد کا پہاڑ مدینہ کی حدود میں ہے یعنی مسلمان مکے جنگ کرنے نہیں گئے بلکہ ان لوگوں نے حملہ کیا تھا اور جنگِ خندق میں خندق اسلیئے کھودی گئی تھی کہ انسانی جانوں کے ضیاء نہ ہو۔ میثاقِ مدینہ جیسی مثال دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی جس کی تمام شکیں مسلمانوں کے خلاف تھیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے مکے کے لوگ تھے نہ کہ مسلمان۔ حضرت محمدﷺنے مکہ بغیر جنگ کے فتح کیا۔

ہر مذہب میں ایسے فتنہ پرست قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو مذہب سے اپنے مطلب کی چیز نکال کے اپنے فائدے کے لیئے استعمال کرتے ہیں یا اس کام کے لیئے لوگوں کے ذہن تیار کرتے ہیں۔ اس کام کے لیئے پہلے خارجیوں کو استعمال کیا گیا اس کے بعد معتزلہ وجود میں آئے۔ پھر حسن بن صباح نے اپنی تنظیم بنائی جس کی پشت پناہی مصر کے فاطمی خلیفہ کرتے رہے ۔وہ اپنے پیروکاروں کو حشیش کی لت ڈالا کرتا جب وہ پوری طرح اس کے قابو میں آجاتے پھر وہ انہیں اپنے مقصد کے لیئے استعمال کرتا۔اس نے ارضی جنت بھی بنائی ہوئی تھی۔وہ اپنے پیروکاروں کو اس جنت کی سیر کروایا کرتا اور بعد میں ان سے کہا کرتا اگر اس جنت میں دوبارہ آنا چاہتے ہو تو میرے لیئے کام کرو۔ لیکن ہلاکوں خان نے ایک ہی دن میں خضر الموت فتح کرلیا اور حسن بن صباح نے ہتھیار پھینک دیئے۔

یورپ میں سب سے مشہور دہشت گرد یا انتہا پسند

Inquisitors

تھے جنہوں نے بیشمار بے گناہ انسانوں کی جانیں لیں۔ اس کے بعد

Catechuman

کا وجود آیا یہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو اغوا کرکے ان کو اپنے مقصد کے لیئے استعمال کیاکرتے تھے۔ اس کے علاوہ

Cavallieri Templari

کا وجود عمل میں آیا ۔ یہ سارے عیسائیت کے انتہاپسند تھے۔ بنیادی طور یہ لوگ مذہب کو سامنے رکھ کے ذاتی فائدہ اٹھاتے رہے۔ جس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہے۔ اٹلی کی ایک تنظیم

Brigatte Rosse

نے دہشت گردی کے کافی مظاہرے کیئے اور اس کا مشہور واقع بلونیا کا ریلوے سٹیشن ہے۔

انتہا پسندی کئی بین الاقوامی تنظیموں میں ہے جیسا کہ آئرلیند کی ایرا، سری لنکا کی تامل ٹائیگر، انڈیاء کی بال ٹھاکرے کی تنظیم۔ اس کے علاوہ کئی ملکوں کی خفیاء ایجنسیز ان کاموں میں شامل ہوتی ہیں اور یہ کبھی کبھی انقلاب لانے میں بھی کامیاب ہوجاتی ہیں۔ جیساکہ، آئی ایس آئی(پاکستان)،سی آئی اے(امریکہ)، کے جی بی(روس)، ساوک(ایران)، راء(انڈیاء)،موساد(اسرائیل) وغیرہ۔

اوپر بیان کی گئی جتنی بھی تنظیموں کا ذکر کیا گیا ہے ان سب کے سرغنہ انتہائی قابل اور پڑھے لکھے لوگ تھے اورہیں۔ حسن بن صباح نہ صرف علم و ادب کا ماہر تھا بلکہ وہ ریاضی دان،علمِ فلکیات کا بھی ماہر تھا۔ یہ لوگ انسانی ذہن کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیاء اس کام میں بہت اہم کردار ادا کیا یا یوں کہنا چاہیئے کہ منفی کردار ادا کیا۔

آج لوگ ٹی وی پے دیکھی ہوئی بات پے بغیر تحقیق کے یقین کرتے ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز کے ذریعے جنگ ہورہی ہے۔ جس ملک کے پاس سٹرونگ میڈیاء لوگ اسی کی بات پے یقین کرتے ہیں۔ یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ دنیا کے تمام ٹی وی ایک دن افغانستان کے شہر کابل کے سٹیڈیئم میں فٹبال کا میچ دکھاتے ہیں اور اسی سٹیڈیئم میں دوسرے دن کسی عورت کو طالبان کے ہاتھوں سنگسار ہوتا ہوا دکھاتے ہیں۔ جیسے ہی دنیا کے کسی کونے میں دہشت گردی یا سوسائیڈ بومبنگ کا واقع پیش آتا ہے فورا سارے چینل اسے دکھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور جو بھی اس کام کے پیچھے عمل پیراں ہوتا ہے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

ہم لوگ فلموں اور ٹی وی سے کیسے بیوقوف بنتے ہیں اس کا ذکر کرنا ضروری ہے۔

Ben Hur

کے ڈائیریکٹر نے سارے دنیا کے سامنے چیلنچ رکھا کہ جو بھی میری فلم میں نقص نکالے گا میں اس کو انعام دونگا۔ ایک شخص نے اسے خط لکھا کہ تمھاری فلم میں ٹائروں کے نشان نظر آتے ہیں ۔ فلم کا ڈائیریکٹر اس شخص کی عقل پے حیران رہ گیا اور اسے انعام سے نوازا۔

دنیا کی مشہور فلم

Titanic

کے ڈائیریکٹر اور فلم میکر

James Cameron

نے اس فلم پے بڑی محنت کی اس فلم کے ہیرو جیک کے پاس

Paul Cezanne

کی جو پینٹنگ تھی وہ ۱۹۲۴میں بنائی گئی ہے اور ٹائیٹینک شپ ۱۹۲۰میں ڈوبا تھا اس طرح ڈائیریکٹر سے بہت بڑی غلطی ہوئی۔

انڈیا کی فلم فناء میں اس کا ہیرو بمبئی (ممبئی)کے چھ مختلف مقامات پے بم بلاسٹ کرتا ہے ۔اس فلم کے ریلیز ہونے کے چھ ماہ بعد ٹھیک انہی مقامات پے دھماکے ہوئے۔

ان مثالوں کا مطلب ہے ہم جو بھی فلم یا ٹی وی میں دیکھیں اس پے بغیر تحقیق کے یقین نہیں کرنا چاہیئے۔ فلم اور ٹی وی والے آپ کو وہ دکھاتے ہیں جو وہ دکھانا چاہتے ہیں۔ کئی دفعہ فلموں اورٹی وی کے ذریعے ہم لوگوں کو غلط بات بھی سکھا دیتے ہیں ۔

جہاں تک اسلام کی بات ہے تو قرانِ کریم کی آیت الانعام میں خود کشی کرنے سے منع کیاگیا ہے اور دنیا کے تمام بڑے بڑے مسلمان مفکرین اس طرح کے جہاد کے خلاف ہیں۔اسلام میں جنگ کے دوران بچوں ،عورتوں ،بوڑھوں کی جان بخشی کی جاتی رہی ہے حتیٰ کہ جانوروں اور کھیتوں کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جاتا تھا۔

موت اور زندگی کا فلسفہ یہ ہے کہ ایک دن موت زندگی سے ملنے آئی اور اس نے پوچھا،

موت: زندگی تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا۔

زندگی: نہیں بالکل نہیں

موت: کیوں؟

زندگی: جب میں ہوتی ہوں ، تو تم نہیں ہوتی اور جب تم ہوتی ہو تو میں نہیں ہوتی تو ڈرنا کیسا۔

یہ سن کے موت چلی گئی اور کہنے لگی زندگی بھی کتنی عجیب ہے اسے مجھ سے ڈر ہی نہیں لگتا حالانکہ سب لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں۔

سرفراز بیگ اریزو

3200127522

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اچھی لگتی ہے


سانولی سندر ناری مجھ کو اچھی لگتی ہے
اِٹھلاتی بل کھاتی ناری اچھی لگتی ہے
ہنستی ہے وہ ایسے،جیسے جلترنگ بجے
ہنستی اور کھلکھلاتی اچھی لگتی ہے
کبھی وہ کھولے کبھی وہ باندھے اپنے بال
لیکن بکھرے بالوں میں اچھی لگتی ہے
جب بولے تو گالوں پے ڈمپل سے پڑیں
چْپ ہوجائے پھر بھی اچھی لگتی ہے
سوال کرتی آنکھیں، چہرہ کھلی کتاب
مجھ کو تو یہ شاہکار غزل اچھی لگتی ہے
کانْوں میں نہ بندے نہ تار ہیں
وہ بن زیور کے بھی اچھی لگتی ہے
پنکھڑی جیسے ہونٹ، موتی جیسے دانت
جب منہ کھولے کتنی اچھی لگتی ہے
صحرا کی ریت میں لہروں جیسی کالر بون
اور اس پے پیاری گردن اچھی لگتی ہے
اْس کے سینے کے زیر و بم متناسب
اْن پے کالی انگیاء اچھی لگتی ہے
گورے گورے بازو اور مہین مہین بال
جب ان کو صاف کرے اچھی لگتی ہے
پیاری پیاری انگلیاں، پیارے پیارے ہاتھ
ہاتھوں سے جب لِکھتی ہے،اچھی لگتی ہے
اْس کو یہ کہنا ہے، ’’کیا کہناہے ؟‘‘
وہ جب یہ کہتی ہے ، اچھی لگتی ہے
گورے پاؤں میں اونچی ایڑھی کی جوتی
وہ تو ننگے پاؤں بھی اچھی لگتی ہے
کل اْس کے پیروں سے کھیل رہا تھا میں
اْس کو میری گدگداہٹ اچھی لگتی ہے
غصے میں جب آئے، تیور بدل سے جائیں
وہ نالاں ہو یا برھم، اچھی لگتی ہے
نت نئے انداز کے پیراہن پہنے
مجھے تو میلے کپڑوں میں بھی اچھی لگتی ہے
ہم دونوں ناراض بھی ہوجاتے ہیں اکثر
لیکن وہ ناراض بھی ہو اچھی لگتی ہے
اْس کے چلنے کا انداز بہت ہی سندر
اور جب رْک جائے ،اچھی لگتی ہے
یہ لڑکی اک لڑکے کو ٹوٹ کے چاہتی ہے
حالانکہ سب لڑکوں بالوں کو اچھی لگتی ہے
ہر محفل کی جان وہ بن جاتی ہے
جانے کیا باتیں کرتی ہے اچھی لگتی ہے
بات کرے وہ ایسے، جیسے پیر و بزرگ
بچوں جیسی باتیں کرے تو اچھی لگتی ہے
میں اس کو اچھا لگتا ہوں،وہ یہ کہتی ہے
جب وہ یہ کہتی ہے،اچھی لگتی ہے
اپنے اندر کتنے راز چھپائے بیٹھی ہے
مجھ کو یہ ہمراز سی لڑکی اچھی لگتی ہے
پیاسی مٹی پے بارش کے پہلے قطرے
تیرے بدن کی سوندھی خوشبو اچھی لگتی ہے
اس کی آنکھوں میں آنسو بھی آجاتے ہیں
اْس کی آنکھوں سے رم جھم، اچھی لگتی ہے
ہونٹوں سے جب ہونٹ مل جاتے ہیں
بڑی دیر تک ان کی مٹھاس اچھی لگتی ہے
جب اْس کو سینے سے لگالوں تو
پھر اْس کے سینے کی دھک دھک اچھی لگتی ہے
قدرت نے یہ شاہکار بنایا فرصت میں
اْس کو بھی اپنی یہ تخلیق اچھی لگتی ہے

سرفراز بیگ

Sarfraz baig

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

1999 Rawalpindi

راولپنڈی

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اوہام پرستی

سورۃ فاتحہ، یہ سورۃ قرآن کی وہ سورۃ ہے جس کے کئی نام ہے۔ اس سورۃ میں سات آیتیں، ستائیس کلمے اور ایک سو چالیس حروف ہیں۔ اس کو سورۃ الحمد بھی کہتے ہیں اور یہ مکہ میں اتری۔  ہم مسلمان ہر کام شروع کرنے سے پہلے بِسمِ اللہِ الرَّحمنِ الرَّحِیمِ پڑھتے ہیں ۔یعنی ب اسم یعنی اللہ کے نام کے ساتھ لیکن عربی میں بسم اللہ لکھتے ہوئے الف کو گرا دیا جاتا ہے اس لیئے بسم اللہ یعنی اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ انشا پردازی کی زبان میں ایک بات کو دو لفظوں سے بیان کرنا جن کا ایک ہی مطلب ہو اسے تکرار لفظی کہتے ہیں۔ یعنی خدا کو رحمن اور رحیم کہا گیا ۔رحیم تو تمام امتِ مسلمہ کے لیئے ہے اور رحمان وہ کل کائنات کےلیے ہے۔ یعنی ہم اس پاک ذات کے نام سے شروع کرتے ہیں جو نہ صرف مسلمانوں کے لیئے رحمان ہے بلکہ دیگر مخلوقات کے لیئے رحیم بھی ہے۔  سب خوبیاں اللہ پاک کے لیئے جو تمام کائنات کا پالنے والا ہے۔ سورۃ میں رب العالمیں لکھا گیا ہے یعنی عالم جمع کے طور پے استعمال ہوا ہے۔ رب پالنے والا، اور ایک عالم کو پالنے والا نہیں بلکہ تمام عالموں کو پالنے والا۔ کائنات ایک نہیں بلکہ کائیناتیں ہیں۔ اس دور کا سب سے بڑٓا ریاضی دان طبیائ دان  اپنی کتاب A BRIEF HISTORY OF TIME(  STEPHEN   HAWKINGS)                                     

  میں لکھتا ہے کہ کائناتوں کی تعداد لامتناہی ہے۔ یعنی اللہ تعالی جتنی بھی کائناتیں ہیں ان سب کو پالتا ہے۔ وہ ان سب چیزوں کے لیئے رحمن بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ جو بدلے کے دن کا مالک ہے۔ یعنی ہم زندگی میں جو بھی اچھا برا کرتے ہیں اس کی سزا یا جزا ہمیں وہی دے گا۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگتیں ہیں۔ یعنی ہم یہ دعا کررہے ہیں اور اس بات کو ما ن رہے ہیں کہ ہم اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ایسا راستہ جس پے چل کے ہم بدلے کے دن تیرے سامنے سرخرو ہوسکیں۔ ہمیں اس راستے سے بچا جو بھٹکے ہوئے لوگوں کا راستہ ہے یعنی جن سے تو ناخوش ہوا۔ سورۃ فاتحہ کا ترجمہ پڑھ کے صاف سمجھ آتا ہے کہ اللہ کی ذات کے علاوہ کسی اور سے مانگنا اللہ کے ساتھ اس کو شریک کرنا ہے اور شرک اسلام میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ قرآن کی ساری آئیتوں میں جس چیز سے سختی سے اور زیادہ منع کیا گیا ہے وہ شرک ہے اس کے بعد یتیم کا مال کھانا اور تیسرا کسی باعصمت عورت پے بنا ثبوت کے الزام لگانا لیکن شرک کا ذکر سب سے زیادہ آیا۔ جب انسان کا اللہ کی ذات پے ایمان کمزور ہوجاتا تو وہ راستے سے بھٹک جاتا ہے اور اس  کی زندگی ایک ایسا ریموٹ کنٹرول بن جاتی ہے جس میں سیل نہیں ہوتے یا سیل ہوتے ہیں لیکن وہ ٹھیک طریقے سے ڈلے نہیں ہوتے۔ پھر انسان پیسے کے بل بوتے پے پیروں فقیروں کو یورپ کے ٹؤر کرواکے اللہ کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جو خود اللہ تعالی کے محتاج ہیں ۔یا طاہرالقادری اور ذاکر نائیک جیسے لوگوں کی تقریروں میں پناہ ڈھونڈتا ہے اور ان کا پیروکار بن جاتا ہے جو اپنی سیاست اور شہرت کو چمکانے کے لیے یورپ کے چکر لگاتے ہیں۔ پھر مذہبی تقاریب میں انکے پیروکار یہ کہتے پھرتے ہیں کہ روزِقیامت طاہر القادری یا ذاکر نائیک کے جھنڈے کے نیچے جگہ دینا۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے سورۃ فاتحہ میں کیا پڑھا تھا۔ اگر دعا ہی کرنی ہے تو یہ کہیں کہ ہمیں روزِ قیامت حضرت محمدؑ کے جھنڈے تلے جگہ دینا۔ ایسے لوگ مدد کے لیے منسٹروں کے پاس جاتے ہیں، پیروں کے پاس جاتے ہیں، فقیروں کے پاس جاتے ہیں، ایسے ٹی وی کے پیدا کیئے ہوے مولویوں کے پاس جاتے ہیں لیکن وہ سورۃ فاتحہ کو بھول جاتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی مدد مانگتے ہیں۔ فجر کی نماز میں چار رکعتیں ہوتی ہیں۔ اس کی ہر رکعت میں سورت فاتحہ ہم چار دفعہ پڑھتے ہیں۔ ظہر کی نماز میں بارہ رکعتیں ہوتی ہیں ۔اس میں ہم سورت فاتحہ بارہ دفعہ پڑھتے ہیں۔ عصر کی نماز میں آٹھ رکعتیں ہوتی ہیں لیکن عام طور پے لوگ چار فرض ہی پڑھتے ہیں ۔اس طرح اگر ہم آٹھ رکعتیں پڑھیں تو ہم آٹھ دفعہ سورت فاتحہ پڑھتے ہیں۔ مغرب کی نماز میں سات رکعتیں ہوتی ہیں۔ یعنی ہم سات دفعہ سورت فاتحہ پڑھتے ہیں۔ عشا کی نماز میں سترہ رکعتیں ہوتی ہیں۔ یعنی ہم سترہ بار سورت فاتحہ پڑھتے ہیں ۔ ہم اڑتالیس بار ایک ہی دعا کرتے ہیں کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں ۔ ہمیں وہ راستہ دکھا جن پے تونے اپنا کرم کیا نہ کہ ان لوگوں کا راستہ جن سے تو ناخوش ہوا ۔ اس کا مطلب ہے ہم بغیر سیلوں والا ریموٹ کنٹرول ہیں جو کسی کام کا نہیں ہوتا۔

سرفراز بیگ اریزو

 

By Sarfraz Baig

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Blog: www.baigsarfraz.blogspot.com

Mobile: 3200127522

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com