Sunday, Jan 20th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

کالم و تجزیے

2009 کی امیگریشن بند ہو چکی ہے

روم۔ 25 ستمبر 2012 ۔۔۔ چند دوستوں نے پورے اٹلی سے فون کرتے ہوئے مجھے پوچھا ہے کہ کیا 2009 کی امیگریشن میں چند ایسے لوگوں کو دوبارہ بلایا جا رہا ہے ، جن کی درخواست مسترد کردی گئی تھی یا پھر کسی دوسری وجہ سے انہیں پرمیسو دی سوجورنو جاری نہیں کی گئی تھی ۔ یہ صرف ایک افواہ ہے ، اسکا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ۔ چند دوستوں نے کہا ہے کہ تھانے کے کمپیوٹر میں ان کا نام آگیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ کام تلاش کرنے کی سوجورنو altحاصل کرلیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ 2009 کی امیگریشن کو پولیس نے مکمل کرتے ہوئے اس کا باب بند کر دیا تھا اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایسی کوئی خوشخبری ہوتی تو ہم اپنی اٹالین اور اردو کی انٹرنیٹ کی سائٹ میں ضرور یہ خبر شائع کر دیتے ۔ اسکے علاوہ اب نئی 2012 کی امیگریشن کھل چکی ہے اور پرانی امیگریشن کو بند ہوئے 3 سال گزر چکے ہیں ۔ 2009 والی امیگریشن میں بہت کم مواقع تھے لیکن اس امیگریشن میں سوجورنو حاصل کرنے کے زیادہ مواقع ہیں ۔ آپ کسی بھی چھوٹے موٹے ثبوت کے ساتھ درخواست جمع کروا دیں اور بچت کرنے کی نہ سوچیں ۔ افواہ اس وقت پھیلتی ہے جب لوگ پریشان ہوتے ہیں اور امید کا سہارا تلاش کرتے ہیں ۔ افواہوں سے دور رہیں ، یہاں مفت سوجورنو کا خواب ترک کردیں اور موجودہ امیگریشن میں درخواست دینے کی کوشش کریں ۔ موجودہ حکومت انسانیت پر یقین رکھتی ہے ۔ 2009 کی امیگریشن والی حکومت غیر ملکیوں کی امیدوں کی پرواہ بہت کم کرتی تھی ۔ اعجاز احمد

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پارلیمنٹ کی بالادستی کہاں؟

 

حکومت نے ناٹو رسد کو 221 روز تک بند رکھنے کےبعد بالآخر گھٹنے ٹیک دیے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بحالی کا اعلان پاکستانیوزیرخارجہ سے پہلے واشنگٹن میں ان کی امریکی ہم منصب نے کیا۔ حکومتی حلقےڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ امریکا نے پاکستان سے معافی مانگ لی ہے جب کہامریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے اس معافی کا پول کھولتےہوئے واضح کیا کہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنی پاکستانی ہم منصبکو فون کرکے صرف ’’سوری‘‘ کہا ہے اوریہ بھی دونوں ملکوں کے نقصان پر اظہارافسوس ہے۔ ایک امریکی اخبار نے بھی اس پر تبصرہ کرتےہوئے کہا کہ ’’سوری‘‘ کا مطلب معافی نہیں، پاکستان غلط فہمی کا شکارہوگیا۔ پاکستان نے گزشتہ سال نومبر میں سلالہ چیک پوسٹ پر ناٹو کے ایک حملےکے بعد اس کی رسد کے راستے بند کردئے تھے، پاکستانی حکومت یہ معاملہپارلیمنٹ میں لے گئی۔ تفصیلی بحث کے بعد پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ صادر کیا کہڈرون حملوںکی بندش اور سلالہ واقعے پر واشنگٹن کی غیر مشروط معافی کے بغیرپاکستان نیٹو سپلائی لائن بحال نہ کرے۔ حکومت پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہتو لگاتی ہے، لیکن جب بھی قومی سلامتی اور عوامی مفاد کے فیصلوں کا وقتآتا ہے وہ خود ہی پارلیمنٹ کو بائی پاس کرتیہے۔ قومی زندگی کے لیے اہم فیصلے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کی منظوری سے بھیحتمی قرار نہیں پاتے، بلکہ انہیں پارلیمنٹ سے بھی منظور کرانا ضروری ہوتاہے۔ دنیا جانتی ہے کہ ناٹو رسدکی بندش کا معاملہ پاکستان کے اس اصولی موقفکی وجہ سے لٹکا ہوا تھا کہ امریکاسلالہ چیک پوسٹ پر حملے کی غیر مشروط اوراعلانیہ معافی مانگے۔ حکومت نے پارلیمنٹ سے منظوری تو دور کی بات ،اپنیکابینہ کو بھی اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اگر یہی تماشالگانا تھا تو پھر 7 ماہ تک یہ ڈراما کیوں رچایا گیا؟ امریکا نے واضح طور پرکہا ہے کہ نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے کوئینیا معاہدہ نہیںہوا۔ گویا پاکستانی حکومت پرانی تنخواہ پر ہی راضی ہوگئیہے ۔ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان سے سپلائیبندش کے باعث گزشتہ 6 ماہ کے دوران امریکا کو مجموعی طور پر 2 ارب 10 کروڑڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ واضح رہے کہ نیٹو سپلائی پاکستان کے راستےافغانستان بھیجنے کے لیے 2 روٹ ہیں۔ پہلا روٹ کراچی سے حیدرآباد، مورو،سکھر، شکارپور، جیک آباد، سبی، کوئٹہ، چمن سے ہوتا ہوا قندھار کی طرف جاتاہے۔ دوسرا راستہ کراچی سے حیدرآباد، سکھر، صادق آباد،ترنڈہ، میانوالی،راولپنڈی، اٹک، پشاور سے ہوتا ہوا طور خم بارڈر سےجلال آباد اور کابل تک ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے طور خم بارڈر پرسیکورٹی خدشات کا اظہارکیا گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کےقائد الطاف حسین نے لندن میں حالیہ ملاقات کے دوران صدر زرداری کو یقیندلایا تھا کہ کراچی بندرگاہ آنے والے نیٹو کنٹینروں کی ایم کیو ایم کے رضاکار حفاظت کریں گے۔ حکومت کی دوسری اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی بھیخاصی پر جوش دکھائی دیتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے نیٹو کارگو کی حفاظت کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کا اعلان کردیاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی سے ملنے والیامداد میں خیبر پختونخوا کا بھی حصہ ہوگا۔ جہاں تک پارلیمنٹ کی شرائط کیبات ہے تو معافی کے متعلق ہم ذکر کرچکے کہ جلد بازی میں کیے گئے حکومتیفیصلے نے پوری قوم کے سرشرم اور ندامت سے جھکادیے ہیں۔ دوسری شرط ڈرونحملوںکی تھی تو اس بابت وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمرزمان کائرہ کا کہناتھا کہ ہم امریکا کو قائل کریں گے کہ ڈرون حملے ملکی سلامتی کے خلاف ہیں۔امریکا نے 6 جولائی کو وزیرستان کے علاقہ دتہ خیل میں میزائلوں کی بارش کرکے 22 پاکستانیوں کی شہادت کے ذریعے اپنے عزائم کا اظہار کردیا ہے کہ وہآیندہ بھی پاکستان کی سلامتی و خود مختاری کیدھجیاں اڑاتا رہے گا۔ پالیمنٹ کی بالادستی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اب چُپکیوںہیں؟ امریکی غلامی کا طوق پہننے والے حکمرانوں کو سانپ کیوں سونگھ گیاہے؟ برطانوی ادارے نے خود اعتراف کیا ہے کہ 2004ء سے اب تک ڈرون حملوں میں 3ہزار کے قریب افراد مارے جاچکے ہیں، جن میں 200 بچے بھی امریکی درندگی کیبھینٹ چڑھے۔ تسلیم کہ ناٹوسپلائی کی بحالی کے لیے پاکستان پر پوری دنیا کادبائو تھا لیکن اگر بحال کرنی ہی تھی تو ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کے اصول کےتحت کرتے۔ کم ازکم ڈرون حملوں پر تو معاہدہ کرسکتے تھے۔ لیکن یہاں تو اسسلسلے میں سرے سے کوئی باقاعدہ اور تحریریدستاویز ہی سامنے نہیں لائی گئی۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمنیہ کہہ کر خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے کہ پارلیمنٹ کے اندر اپناکردار ادا کرچکے، اب دفاع پاکستان کونسل سپلائی بحالی کی مزاحمت کرے۔مولانا فضل الرحمن صاحب کون سی پارلیمنٹ کی بات کررہے ہیں، جسے اس حوالے سےاعتماد میں ہی نہیں لیا گیا؟ کیا ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ

alt

کے اندر کردار اداکرنے سے جے یو آئی بری الذمہ ہوگئی؟ دفاع پاکستان کونسل کا بھی اب امتحانشروع ہوگیا ہے۔ ناٹو سپلائی کی بندش کے دوران دفاع کونسل کے قائدین نے جودعوے کیے تھے اب قوم ان کی تکمیل کی منتظر ہے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ جے یو آئی، اہل سنت والجماعت سمیت تمام دینی و مذہبیجماعتیں اس موقع پر متحد ہوکر طاغوتی طاقتوں کی سازشوںکا ڈٹ کر مقابلہکرتیں۔ یہاں ہم مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کا بھی ذکر کرتے چلیںکہ جب بھی ملک و قوم پر نازک وقت آتا ہے تو میاں صاحب باہر چلے جاتے ہیں۔جس روز ناٹو سپلائی کی بحالی کا اعلان ہونا تھا عین اس روز میاں نواز شریفلندن چلے گئے۔ صرف لندن سے مذمتی بیان جاری کرکے کوئی بری الذمہ نہیںہوجاتا۔ اس سے قبل 3 پاکستانیوں کے امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے وقتبھی وہ ملک سے چلے گئے تھے، اس کے علاوہ بھی ایسےکئی مواقع آئے جب انہوں نے بیرون ملک راہ فرار ڈھونڈی۔ ان کے اس طرح کےاقدامات اور رویے سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہورہا ہے۔ پھر لوگ ’’فرینڈلیاپوزیشن‘‘ کے طعنے نہیں دیں گے تو اور کیا کہیں گے؟ نئے وزیراعظم راجاپرویز اشرف فرما رہے ہیں کہ ناٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ خطہ میں امن اورقومی مفاد میں کیا۔ یعنی حکومت نے 8 ماہ تک خطہ میں امن کو خطرے میں ڈالےرکھا اور قومی مفاد کو نقصان پہنچایا! عجیب بات ہے کہ ناٹو سپلائی پرپابندی بھی قومی مفاد میں تھی اور بحالی بھی۔ یہ کیسا عجیب قومی مفاد ہے جوصرف حکمران ہی سمجھتےہیں۔ تحریرو تصویر ، ندیم یوسف ایڈووکیٹ

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ڈنکی یا جہاز

میں اپنے کسی کام سے روم گیا ہوا تھا ۔ کام سے فارغ ہوکر مجھے اریزو واپس آنا تھا۔ میں ٹرین کا انتظار کررہا تھا اور آس پاس کا جائزہ بھی لے رہا تھا۔ اسی اثنا ایک شخص مجھے اس تصور کی دنیا سے باہر لے آیا جو میں یہاں کھڑے کھڑے تخلیق کرلی تھی۔ ‘‘جناب یہ ٹرین فیرینزےجائے گی’’۔ میں نے پوچھا، ‘‘آپ کو فیرنزے جانا ہے یا کہیں اور اترنا ہے’’ تو اس نے جواب دیا، ‘‘ جی مجھے بلونیاں جانا ہے وہاں ہفتے کا کام ہے’’۔  یہ شخص کسی شہر کا رہنے والا تھا ۔ میں شہر کا نام نہیں لکھوں گا لیکن بہت ہی مصیبت زدہ اور مفلوک الحال دکھائی دے رہا تھا۔ عمر کوئی لگ بھگ پچیس سال ہوگی لیکن چہرے مہرے سے پچاس سا ل کا لگ رہا تھا۔ اس کی وجہ صرف اتنی تھی کہ وہ جب سے اٹلی آیا تھا اس نے اتنی تکالیف دیکھیں جن کا لفظوں میں احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے، ‘‘اس گھر کو لگ گئی آگ گھر کے چراغ سے’’۔ یہ شخص آج سے دوسال پہلے ایجنٹ کے ذریعے پندرہ لاکھ روپے دے کر اٹلی آیا۔ کیش کی صورت میں نہیں بلکہ اپنی خاندانی اراضی جس کی مالیت پندرہ لاکھ سے بھی زیادہ تھی، باہر کے لالچ میں ایجنٹ کے نام لکھ دی اور جہاز میں بیٹھ کر اٹلی آیا۔ کیونکہ ایجنٹ نے اس کی ماں کو کہا تھا تم اپنے بیٹے کو ڈنکی کے ذریعے بھیجنا چاہو گی یا جہاز کے ذریعے، تو اس کی ماں نے کہا تھا، میرے پتر کو تتی ہوا نہ لگے یہ جہاز میں بیٹھ کر جاے۔ پیسوں کی کوئی پرواہ نئی۔  روم کے پاس ایک جگہ ہے لاتینا۔ وہاں کے کمونے میں کھیتی باڑی کے کیس جمع ہوتے ہیں۔ اس فلسی کے لیئے جسے ستاجیونالے سجورنو کہتے ہیں جو کہ چھ مہینے سے نو مہینے تک ہوتی ہے۔ اس کانٹریکٹ پے لوگ بنگلہ دیش، پاکستان، انڈیا سے دس سے پندرہ لاکھ روپیہ لیتے ہیں۔ اور اس کام کے لیئے ناپولی میں کوئی پاکستانی ایجنٹ ہے جو کافی بندو کو لاتا ہے۔ یعنی وہ ڈنکی کے بدلے جہاز میں لاتا اور لوگ روم ایئر پورٹ کی امیگریشن سے فارغ ہوکر اٹلی میں گم ہوجاتے ہیں۔ نہ یہ ایجنٹ ان کو سجورنے دلواتے ہیں نہ ہی کام کیونکہ اس نے طے کرتے ہیں کہ وہ انہیں جہاز کے ذریعے لے کر جائیں گے نہ کہ ڈنکی کے ذریعے۔ باہر آنے کے شوق میں لوگ ایجنٹ سے کبھی نہیں پوچھتے کہ پندرہ لاکھ میں کیا کیا شامل ہے۔ لاتینا کمونے میں نہ ہی پولیس سٹیشن میں کبھی کسی شخص نے اس طرح کے ایجنٹ کے خلاف کوئی درخواست دی ہے کیونکہ اتنی بڑی رقم ادا کرنے کے بعد وہ اللیگل زندگی گزارتے رہتے ہیں اور چند ماہ میں ان لوگوں کو پتا چلتا ہے کہ ایجنٹ کو کام دینا چاہیئے تھا اور سجورنو بھی دلوانی چاہیئے تھی۔ پورے اٹلی میں بے شمار لوگ ہیں اور وہ کھیتی باڑی کے کام کے لیئے آتے ہیں اور غائب ہوجاتےہیں۔ وہ ایجنٹ کتنے ظالم ہیں جو ہیں تو مسلمان اور ایک دو حج بھی کرلیتے ہیںلیکن ان کے اندر خوف خدا نہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قران میں آیا ہے۔ ‘‘مال و متاع لالچ نے انہیں اندھا کردیا حتیٰ کہ وہ قبروں تک جا پہنچے’’۔ ایسے ایجنٹوں کو یا دل کا دورہ پڑتا ہے، شگر کی بیماری ہوتی ہے، گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر تقریبا سبھی کو ہوتا ہے لیکن کسی مذہبی تقریب میں ہزار یا پانچ سو یورو دے کر اگلی صفوں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ دل میں چور اور منہ پے اللہ اللہ ہوتی ہے۔

 

سرفراز بیگ  اریزوalt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اعجاز احمد کا تعارف

اعجاز احمد سندھو گوجرانوالہ میں 1962 میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم شہر کے پبلک سکولوں سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ سے بی اے کی ڈگری حاصل کی ۔ اسکے بعد ایم اے صحافت کرنے کے لیے لاہور آگئے ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پیپلز پارٹی کے اخبار مساوات میں رپورٹر کے طور پر کام کرنے لگے ۔ بدعنوانی اور بے انصافیوں کو دیکھ کر انہوں نے مساوات چھوڑ کر جنگ کے ہیڈ آفس ڈیویس روڈ میں رپورٹر کی نوکری کر لی ۔ اسکے بعد اس وقت کے میئر میاں اظہر کے پریس سیکرٹری بن گئے ۔ اعجاز احمد نے بتایا کہ ملکی حالات اور سیاست دانوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد انہوں نے اپنے بہت سارے دوستوں کی طرح ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ وہ دہائی تھی ، جب پاکستان افغانستان میں اپنی خودکشی کرنے کے لیے جا رہا تھا ۔ اعجاز احمد یکم مئی 1989 میں اٹلی آگئے ۔ دس دن کا ویزہ ختم ہوا تو یہ اٹلی میں غیر قانونی شہری بن گئے ۔ ایک سال گزر جانے کے بعد اٹلی کے وزیر مرتیلی کے نام سے امیگریشن کھلی تو انہوں نے سوجورنو یا ورک پرمٹ حاصل کیا ۔ روم میں پنتی نیلا بلڈنگ میں سینکڑوں پاکستانیوں کے ہمراہ چند دن رہے اور اسکے بعد روزگار کے لیے بلونیا شہر کا رخ کیا ۔ وہاں ایک پرائیویٹ فرم میں 9 سال تک ملازمت کرتے رہے اور وہیں انہوں نے اٹالین زبان میں ایک کتاب لکھی ، جس کا نام پاکستان ہے اور اس کا پبلشر Pendragonہے ۔ اعجاز احمد نے اٹالین لڑکی سے شادی کرلی اور اب انکے دو چاند جیسے بیٹے ہیں ۔ 1999 میں روم میں آباد ہوگئے اور یہاں سے انہوں نے اردو کا ماہنامہ " آزاد " نکالا ۔ آزاد کی 9 ہزار کی اشاعت ہے اور یہ فری پریس اخبار ہے ۔ اس میں اٹلی کے پاکستانیوں کی خبریں اور کہانیاں چھپتی ہیں ۔ 2004 سے اعجاز احمد اٹلی کی وزارت داخلہ کی اسلامی کونسل کے ممبر ہیں اور اٹلی کے 14 لاکھ مسلمانوں کی انٹیگریشن کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ اس سال انہوں نے اٹلی کے 11 غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ ملکر ایک اور کتاب شائع کی ہے ، جس کا نام Le Nuove Lettere Persianeہے ۔ اردو میں ہم اسے نئے فارسی کے خطوط کہیں گے ۔ اعجاز احمد اٹالین اخبارات اور اٹالین ٹیوی میں بھی پاکستان ، اسلام اور امیگریشن پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے شمولیت کیا کرتے ہیں ۔ اعجاز احمد روم یونیورسٹی کے شعبہ اورنٹیئل سٹڈیز میں اردو کے لیکچرار بھی ہیں اور اردو زبان کے پرائیویٹ لیکچر بھی دیتے ہیں ۔ یاد رہے کہ یورپین کو اردو پڑھانے کے لیے اسپیشل کتابیں اور ٹیکنیکس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ اعجاز احمد اٹالین سکولوں اور سرکاری اداروں میں پاکستان اور اسلام کے کورس بھی کرواتے ہیں ۔ یاد رہے کہ ان تمام کاموں کو مکمل کرنے کے لیے وقت کی قلت ضرور محسوس ہوتی ہے اور ان میں سے بیشتر کام صرف عارضی کنٹریکٹ پر ایک محدود عرصے کے لیے کیے جاتے ہیں ۔ تحریر، پروفیسر وسیم رضاalt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

جووانی بوکاچو کی ڈیکیمرون

alt(1313----1375)

جووانی بوکاچو فلورنس کے نواحی علاقے چیرتالدو میں 1313 کو پیدا ہوا۔ اس نے ابتدائی تعلیم فلورنس میں حاصل کی۔ اس کے بعد اعلی تعلیم کےلیئے ناپولی چلا گیا۔ اس دور میں سسلی اور ناپولی علم و ادب کے گہوارے تھے۔ بوکاچو کئی شہروں کی سیر کرتا کرتا آخرکار فلورنس واپس آگیا۔ اپنی وفات تک زندگی کے آخری تیرہ سال چیرتالدو میں ہی گزارے۔ اس نے کئی کتابیں لکھی لیکن ڈیکیمرون کو سب سے زیادہ شہرت ملی۔ حالانکہ بوکاچو کے ہم عصر فرانکو ساکیتی نے بھی تین سو افسانے لکھے لیکن وہ بوکاچو جتنی شہرت نہ حاصل کرسکا۔ بوکاچو کہتا ہے، ’’میں مذہب کے خلاف نہیں ہوں میں اس میں پائی جانے والی خامیوں کے خلاف ہوں‘‘ڈیکیمرون اطالوی مصنف جووانی بوکاچو کا افسانوی مجموعہ ہے۔ یہ کتاب پرنس گالیوتی کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ اس کتاب کو بوکاچو نے تین سال کے عرصے میں مکمل کیا۔ اس کتاب میں سوافسانے ہیں۔ ڈیکا یونانی زبان میں دس کو کہتے ہیں یعنی دس دنوں پر مختص کہانیاں۔ چودہویں صدی میں پورا یورپ پلیگ کاشکار ہوا۔ اس کا اثر فلورنس پر بھی ہوا۔ بوکاچو کے کردار جو کہ دس پر مشتمل ہیں۔ فلورنس کے صحت افزائ مقام چیرتالدو چلے جاتے ہیں۔ جن میں سات لڑکیاں ہوتی ہیں اور تین لڑکے۔ شرط یہ ہوتی ہے کہ جس کے سر پے تاج رکھ دیا جائے گا اس کو سب ایک ایک کہانی سنائیں گے اوراخر میں وہ کہانی سنائے گا۔ اس طرح یہ دس افراد دس دنوں میں دس دس کہانیاں سناتے ہیں اور اس افسانوی مجموعے کا اختتام ہوتا ہے۔  اس کتاب کا پہلے مارک موسا اور بعد میں جی ایچ میک ولیم نے ترجمہ کیا۔  اس کتاب کے مرکزی خیال کے ڈانڈے محقق مختلف ادوار سے ملاتے ہیں۔ سب سے پہلی کتاب جو اس انداز میں لکھی گئی وہ تھی پنچ تانترا۔ یہ کتاب سنسکرت میں حضرت عیسی علیہ سلام کی پیدائش سے پانچ سو سال پہلے لکھی گئی۔ اس کے بعد اس کتاب کا ترجمہ پہلوی زبان میں کیا گیا۔ پہلوی میں اس کتاب کو انوار سہیلی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کتاب کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا۔ عربی مین اس کو کلیلہ و دمنہ کا نام دیا گیا۔ کلیلہ و دمنہ کا عربی سے عبرانی میں ترجمہ ہوا اور عبرانی سے اس کا لاطینی میں ترجمہ ہوا۔  پنچ تانترا کو ذہن میں رکھتے ہوئے پہلے مسعودی اور اس کے بعد ابن ندیم نے ہزار داستان لکھی جو کہ انگریزی میں عریبیئن نائیٹس کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تمام ادبی نسخے مختلف مراحل سے گزر کر اٹلی پہنچے۔ بوکاچو نے کچھ لاطینی میں اور کچھ اطالوی میں پڑھا اس نے پنچ تانترا اور کلیلہ و دمنہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کتاب لکھی۔ بوکاچو اور انگریز شاعر جوفرے چوسر دونوں بلونیاں کی ایک ہی یونیورسٹی میں پرھتےتھے۔ اس لیئے جوفرے چوسر نے کینٹ بری ٹیلز اسی کتاب کو ذہن میں رکھتے ہوئے لکھی۔ انوار سہیلی اور پنچ تانترا کا ترجمہ اردو میں میراں من دہلوی نے قصہ چہار درویش کی صورت میں کیا۔ کوئی بھی شخص جب ڈیکیمرون پڑھتا ہے تو اس کے ذہن میں قصہ چہار درویش فلم کی طرح چلنے لگتا ہے۔ ڈیکیروں کو کئی کہانیوں کا فرنچ فلاسفر وولتیر نے ترجمہ کیا۔ انگریز ڈرامہ نگار شیکسپیئر نے اپنے کئی ڈراموں کا مرکزی خیال بوکاچو کی کہانیوں سے لیا ہے۔ اس کےعلاوہ فرنچ ڈارمہ نگارمولیئیر نے بھی چند ڈراموں میں ڈیکیمرون سے مدد لی۔  

سرفراز بیگ اریزو (3200127522) یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com