Sunday, Jan 20th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

کالم و تجزیے

نرگسی سیاست اور بھینس چارہ


اپنے ملک پاکستان کی سیاست بھی بڑی عجیب چیز ہے۔ اس کے کئی روپ ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پچھلی دفعہ اس پر بات کی تو اُمید نہیں تھی کہ فوراَ ہی پھر سے  اسی موضوع پر بات کرنا پڑ جائے گی۔ مگر واقعات کہتے ہیں کہ نئے رنگوں کی بھی پہچان کی جائے۔ بنیادی رنگ تو وہی پرانے ہیں مگر اِن کا امتزاج کبھی کوئی نیا رنگ بھی سامنے لے آتا ہے۔ آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ نرگسی کوفتے تو سنے تھے یہ نرگسی سیاست کیا؟ موضوع کی دونوں اصطلاحات موجودہ ملکی سیاست کے روپ دیکھ کر ہی میرے ذہن میں آئی ہیں۔ فلم سٹار نرگس کے نام سے شاید ہی کوئی پاکستانی شناسا نہ ہو۔ وہ اپنی فنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کی وجہ سے کافی ہر دل عزیز رہی ہیں ۔ اُس کے ساتھ کسی دور میں ایک سانحہ رونما ہوا تھا جس میں اُس کے ایک پرستار نے (جو کہ قانون کے رکھوالوں میں سے تھا) اُس کے خلاف مردانہ برتری کے بل پر اپنی طاقت کے گھونسوں کا استعمال کیا اور اُس کی ایسی تذلیل کی جس کی حقدار ایک عورت نہیں ہونی چاہیے تھی، چاہے وہ اپنے کردار میں جیسی بھی ہو۔ کیونکہ کسی کی بے کرداری سے ہمیں دلیل نہیں ملتی کہ ہم انسانیت کے مرتبے سے نیچے اُتر آئیں۔ شاید اُس واقعے کا ردِعمل تھا کہ پھر نرگس نے سرعام اخلاقیات کی کافی حدیں عبور کیں اور یاروں نے بھی اُن پرفارمسز کوکافی سراہا اور بھیگی کُرتی سے کافی عرصے تک لطف اندوز ہوتے رہے۔ نرگس نے شاید اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بعد وہ محاورہ سن لیا ہو کہ اگر ناچنا ہی ہے تو گھونگھٹ کیا نکالنا۔ پھر کچھ عرصے بعد خبر آئی کہ وہ حج کر آئی ہے اور اُس نے گھر بھی بسا لیا ہے۔ ہم اُس کے ایمان کو جانچنے والے تو نہیں بن سکتے کیونکہ یہ بندے اور رب کے مابین کی بات ہے، نو سو چوہے کھا کر ہی سہی اُس نے اپنے لیے کچھ تو اچھا کرنے کاسوچا اور اب اُس کی فنکارانہ زندگی میں بھی تھوڑا ٹھہراؤ ضرور نظر آتا ہے۔ پس منظر سے نکل کر اصل کی طرف آئیں تو گذشتہ دنوں پاکستان میں ضمنی انتخابات ہوئے جن میں ہمیشہ کی طرح جارحیت اور غنڈہ گردی کے کافی واقعات رونما ہوئے۔ ان میں سب سے مشہور پولنگ بوتھ پر ایک خاتون امیدوار کی طرف سے چند دوسری عورتوں کو تھپڑ رسید کرنے کا واقعہ تھا۔ جسے الیکٹرانک میڈیا نے کافی اُچھالا کیونکہ جن خواتین کو تھپڑ پڑے اُن میں سے ایک الیکشن کمیشن کی نمائندہ سکول ٹیچر بھی تھیں۔ خاتون امیدوار نے پہلے تو واقع سے انکار کیا مگر جب بات بگڑتی نظر آئی تواُنھوں نے پنترا بدل کر معافی کی چال چلی اور پتہ چلا کہ اُس ٹیچر نے میڈیا کے سامنے مس شاہ کو اُن کے معافی مانگنے پر معاف کر دیا ہے۔ جو خاتون میڈیا کے سامنے تشدد ذدہ ٹیچر کے روپ میں پیش ہوئیں اُن کی پہچان اپنی جگہ مشکوک سہی مگر ایک لمحے کو ہم فرض کر بھی لیں کہ یہ وہی خاتون تھیں تو بھی اُن کی طرف سے معافی دے دینا بڑی قدرتی سی بات ہے۔ ایک اُستانی کی کیا مجال جو ایک صوبائی اسمبلی کی امیدوار کو معاف نہ کرے۔میرے خیال میں حقیقی معافی تو وہ ہے جہاں کوئی بدلہ لینے کی بھرپور طاقت رکھنے کے باوجود اپنے حق سے دستبردار ہو جائے۔ یہ تو معافی کی ویسی ہی شکل نظر آتی ہے جس میں امریکہ ریمنڈ ڈیوس کو چھڑاکر لے گیا تھا۔ کچھ دنوں بعد اسی واقعے کا ایک اور وڈیو بھی منظر عام آیا جس میں مس شاہ ایک پولیس عہدہ دار کے سامنے دوسری بار پھر اُسی ٹیچر کو تھپڑ مارتے دیکھائی گئیں۔ تھوڑا غور کریں تو پہلے تھپڑ میں غیظ و غضب اور غصہ تھا جبکہ دوسری بار والے میں ایک واضع شخصی تذلیل۔ آج کل پاکستانی عدلیہ کافی فعال ہے تو اُس نے واقعے کا نوٹس لے کر مس شاہ کو سزا سنا دی اور موقعہ پر موجود پولیس اہلکار وں کے خلاف بھی کاروائی کرنے کا حکم دے دیا۔ بات کرنے کا مقصد اس واقعہ پر بحث کرنا نہیں کیونکہ طاقت کے بل پر ایسے احتصال چاہے وہ انفرادی سطح پر ہوں یا اقوامی حیثیت میں، ہوتے رہے ہیں اور نہ جانے کب تک ہوتے رہیں گے۔ میں جو نقطہ اُجاگر کرنا چاہتا ہوں وہ اس واقعے کے دفاع کا ہے۔ ایک غلط حرکت کی مذمت کرنے کی بجائے ہمارے کئی سیاسی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کے ترجمانوں نے ایسا کہا کہ ’’کون سی بڑی بات ہے، کیا ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے، ایسا تو ہوتا رہا ہے، صرف ایک تھپڑ ہی تو تھا وغیرہ، وغیرہ...‘‘ یہ ہے وہ موجودہ سیاسی رنگ جس میں برے کو برا کہنا بری بات بنتی جارہی ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد اب کچھ سیاستدان اس پر بات کرتے ہوئے تھوڑی احتیاط برت رہے ہیں کہ مبادہ وہ بھی وزیراعظم کی طرح توہین عدالت میں نہ دھر لیے جائیں۔ غلطی ہو جانا کوئی انہونی بات نہیں مگر اب تو اُن کا زبردست دفاع کرنے کا رواج ڈالا جا رہا ہے۔ دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ ہر کوئی اپنی شخصیت سے دوسرں پر کچھ نہ کچھ ضرور اثرانداز ہوتا ہے۔ معاشروں میں تبدیلی کے اثرات عموماََ اوپری طبقعے سے نیچے کی طرف اثر کرتے ہیں۔ یہ ابلیسی رویے اب عوام میں بھی عام ہوتے جارہے ہیں اور ہم بڑی آسانی کے ساتھ اپنی بے کرداریوں کودرست ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ آج کل ایک سیاسی تحریکی جماعت اپنا اثر بڑھاتی نظر آ رہی ہے اور بشرطِ حکومت ملک میں بڑی تبدیلی لے آنے کی دعویدار ہے، وہ تو جب ہو گا تب ہو گا مگر اُنھوں نے ایک کام ضرور کر دیا ہے، اپنے ایک جلسے میں میوزیکل ٹچ دے کر کھوکھلے نعروں والے سیاسی جلسوں کو تھوڑا رنگیں بنا دیا ہے اور کئی ایک سیاسی جماعتوں نے اُن کے اس عمل کو اپنا بھی لیا ہے اور اب تو سیاست دن جلسوں میں حقیقتاََ ناچتے بھی نظر آئے ہیں۔ اِن کی ساری سیاسی ہٹ دھرمیاں دیکھ کر لگتا یہی ہے کہ اس طبقے نے بھی یہ محاورہ سن لیا ہے کہ جب ناچنا ہے تو گھونگھٹ کیسا. اپنوں کی غلطیوں کو بُرا کون کہتا ہے مگر موجودہ پارلیمانی نمائندہ جماعتوں سے جب ملکی حالات پر بات کی جاتی ہے تو وہ حکمران طبقے کو کوسنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھتے۔ لیکن جب کہا جاتا ہے کہ چلیں اُٹھیں، اِس حکمرانی ٹولے کو ہٹانے کے لئے کچھ کریں تو ادھر اُدھر کی ہانکنے میں لگ جاتے ہیں اور کچھ وقت گزار کر پھر سے حکومت کو بُرا کہنا شروع ہو جاتے ہیں۔ دیکھتے ہیں اس نرگسی سیاست کے بعد کون سا نیا رنگ سامنے آتا ہے۔ بچپن سے ہم بعض باتیں سنتے چلے آتے ہیں مگر اُن کے اصل مفہوم وقت کے ساتھ ساتھ ہی سمجھ میں آتے ہیں۔ ہمارے پنجاب کی زندگی میں بھینس ایک اہم جانور کی حیثیت رکھتی ہے اور کئی محاوروں میں اس کاذکر بھی آیا ہے۔ جن میں سے ایک ہے کہ ’’مجاں مجاں دیاں پہنڑاں ہوندیاں نے‘‘ (بھینسیں بھینسوں کی بہنیں ہوتی ہیں) یعنی طاقتور طاقتور کا ساتھی اور خیرخواہ ہوتا ہے، کمزور کا ان کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں ہوتا۔ جب بھینسیں اکٹھا چارہ کھا رہی ہوں تو اپنے چارے پر دوسری کو منہ نہیں مارنے دیتیں اور اپنی ہم جھولیوں کو پونچھ سے ہلکی سی تھپکی مار کر دور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہاں اگر اُنھیں کسی دوسری قوت سے خطرہ محسوس ہو تو پھر جارحانہ انداز میں سینگھوں کا استعمال کر کے اپنا اور اُن کا دفاع کرتی ہیں۔ موضوع میں بھینس اور چارے کا جو جوڑ آپ سوچ رہے ہیں وہ ویسا نہیں، یہ چارہ جانوروں کے کھانے والا نہیں بلکہ بھائی چارے کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔ جس طرح اچھے انسانی تعلقات کو بھائی چارہ کہا جاتا ہے تو ایسے ہی بھینسوں کے آپسی رویے کو میں نے بھینس چارے کا نام دیا گیا ہے۔ وقت کے ساتھ ہمارے ایوانوں میں بھی بھینس چارہ عام ہوتا جارہا ہے۔ جس کی حالیہ مثال ایوانِ بالا کی سیٹوں کو نہایت اتفاق اور خوش اسلوبی سے بانٹ لینا ہے۔ عام آدمی کا المیہ یہ ہے کہ اُسے اِن بھینسوں کا دودھ یا گوشت کیا میسر ہوتا وہ تو اُن کے گوبر سے بھی استفعادہ نہیں کر سکتا۔بھینسوں کو ڈر ہے کہ کہیں غریب اُس کے اُپلے بنا کر اپنے چولہے نہ گرم کر لیں جو کہ توانائی کے بحران کی وجہ سے دن بدن ٹھنڈے پڑتے جارہے ہیں۔ کبھی پاکستان کا مطلب تھا ’’لا الہ الا اللہ‘‘ جو انھوں نے بدل کر ’’جو کچھ لبے جیب وچ پا‘‘بنا کے رکھ دیاہے۔ ان کی حکمتِ عملی بڑی سادہ سی ہے، کیونکہ ایک بھوکے کی حسابی سمجھ میں دو اور دو چار نہیں ہوتے وہ چار روٹیاں بن کر رہ جاتے ہیں، اس لیے عوام کو بنیادی ضرورتوں کے حصول میں اُلجھائے رکھو، اگر عوام کی روٹی کی ضرورت پوری ہونا شروع ہو گئی تو وہ پھر آگے کی سوچے گی۔ ایک دن یقیناًظالم کو تو اپنے ظلم کا حساب دینا ہو گا لیکن مظلوم کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خدا کے حضور اُس کی بھی جوابدہی ہونی ہے کہ کیا وہ طاغوت کے سامنے سر کو خم کر کے عمر گزار آیا ہے یا کسی شکل میں اُس کے خلاف جہاد کیا تھا۔

alt

محمد شاہد مشتاق چیمہ
اریزو ۔ اٹلی

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

328-8211420

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پاکستان کی سیاست اور بے چارے عوام

تحریر، اعجاز احمد ۔ دوستو آئیے ہم پاکستان کی سیاست پر تھوڑی بہت بحث کر لیں ۔ یہاں سے 8 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بیچارہ ملک پایا جاتا ہے ، جسے پاکستان کہتے ہیں ۔ آج کل اس ملک کی فوج اور حکومت میں جنگ ہو رہی ہے ۔ پہلے اس جنگ کا منصف امریکہ تھا اور اب پاکستان کی اعلی عدالت بن گئی ہے ۔ ہوا یوں ہے کہ موجودہ حکومت کو ڈر پڑ گیا ہے کہ فوج اس کا تختہ الٹنے کی سوچ رہی ہے اور اسی سلسلے میں فوج اور موجودہ حکومت میں توں توں میں میں ہو رہی ہے ۔ پوری دنیا میں ہماری سیاست کا مذاق اڑایا جا رہا ہے ۔ ملک کی معیشت کا بیڑا غرق ہو چکا ہے اور عوام میں بھوک و افلاس پھیل رہی ہے ۔ گیس، بجلی اور پٹرول کی کمی ہے اور اسکے علاوہ ایسی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں جو کہ کمزور ملکوں میں پھیلا کرتی ہیں ، جن میں عام طور پر افریقہ کے فیل ممالک شامل ہوتے ہیں ۔ موجودہ حکومت کوئی ایسا منصوبہ پیش نہیں کر سکی جس سے معاشی ترقی کی کرن پیدا ہوتی ہو ، اس لیے ہماری پیاری حکومت اب قصور وار نہ بننے کے لیے دوسروں پر الزام لگا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ ہماری فوج کے اعلی افسران اور خفیہ تنظیم آئی ایس آئی کے پاس بھی کھیلنے کے لیے کھلونے نہیں رہے ، اس لیے وہ اپنے ہی گھر کو آگ لگاتے ہوئے خوش ہو رہی ہے ۔ آج سرحدوں کی جنگ کی اہمیت ختم ہو چکی ہے ۔ دنیا کی سب سے بڑی روس کی خفیہ تنظیم کے جی بی بھی اپنی ساخت بدل چکی ہے ۔ آج کسی ملک پر قبضہ کرنے سے اور کسی جنگ میں حصہ لینے سے کوئی فائدہ باقی نہیں رہا ۔ ہمیں اپنا زہن بدلنا ہو گا ۔ آج ہماری فوج اور حکومت کو چاہئے کہ وہ دنیا کی نئی معاشی تبدیلی پر غور و فکر کریں اور ان قوانین کو بحث میں لائیں جو کہ انگریز ہمیں سکھا کر گیا تھا ۔ اب تو انگریز بھی اپنی پالیسی کو تبدیل کر رہا ہے ۔ ملک کے 18 کروڑ عوام اگر خوشحال ہونگے تو ہماری عزت ہو گی ۔ ملک کی تعلیم کا سسٹم ماڈرن ہونا ضروری ہے ،اگر عوام پڑہ لکھ جائیں گے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے ۔ ملک میں شخصی آزادی ہو گی ، صحت ہوگی ، صحافت آزاد ہو گی ، شعور پیدا ہو گا ، لوگ اچھے خواب دیکھنا شروع کر دیں گے اور ہمارا ملک انڈیا اور چین کی طرح ترقی کرے گا ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سستی بجلی اور گیس


اٹلی میں ویسے تو بےشمار ممالک کے لوگ رہتے ہیں لیکن میں جب کوئی مضمون لکھتا ہوں تو پاکستانی بھائیوں کو ذہن میں رکھ کر لکھتا ہوں کیونکہ جس طرح کے مسائل کا مجھے سامنا کرنا پڑتا ہے ان کو بھی اسی طرح کے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔آپ یوں کہہ سکتے ہیں ہمارے مسائل یکساں و سانجھے ہوتے ہیں ۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں بجلی، پانی اور گیس کے بلز کی۔ جیسا کہ اٹلی میں رہنےوالے تمام لوگ یا اکثریت جانتی ہے کہ ٹلی میں گیس اور بجلی پرائیویٹ کردی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سرکاری دفاتر بند ہوگئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے بجلی اور گیس حکومتِ اٹلی نے چند کمپنیوں کو ٹھیکے پر دے دی ہے۔ وہ گھر گھر چکر لگاکے اپنے گاہک بناتے ہیں اور سستی بجلی اور گیس فراہم کرتے ہیں۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ سرکاری ادارے سے بجلی یا گیس کی فراہمی لیں یا ان پرائیویٹ اداروں سے جو آپ کو سستی بجلی اور گیس فراہم کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیئے سوچیئے اگر آپ کوئی چیز بیس روپے کی خریدیں تو آپ اسے اٹھارہ روپے میں کیسے بیچ سکتے ہیں ۔ ان پرائیویٹ اداروں کا طریقہ کار اس طرح ہوتا ہے کہ انہوں نے کمشن پے لوگوں کو بھرتی کیا ہوتا ہے۔ وہ مرد یا عورت خوبصورت لباس زیب تن کر کے لوگوں کے گھروں میں جاکر دوکانوں میں جاکر گاہک ڈھونڈتے ہیں اور جب بھی کسی سے ملتے ہیں اس سے گیس یا بجلی کا بل لے کر آپ کا کوڈ لے کر کانٹریکٹ بھر کے آپ سے سائن لے لیتے ہیں۔ اٹلی میں رہنے والے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اس کانٹریکٹ کو سمجھنا تو دور پڑھنے سے بھی قاصر ہوتی ہے۔ گھروں میں  زیادہ عورتیں ہوتی ہیں اور وہ بنا سمجھے ، گھبراہٹ کے عالم میں ان کو بل فراہم کردیتی ہیں۔ اگر کبھی خاوند کی موجودگی میں ان میں سے کوئی حاضر ہوجائے تو وہ بھی کئی دفعہ بد حواسی میں بچت کے چکر اپنا شناختی کارڈ اور بل ان کو دے دیتا ہے اور اس طرح اس کمپنی سے آپ کا کانٹریکٹ ہوجاتا ہے اور آپ کو پتا بھی نہیں چلتا۔ ایک دو بلز بہت کم آتے ہیں اور آپ خوشی سے پھولے نہیں سماتے لیکن کچھ عرصے بعد وہ سود سمیت باقی بچت شدہ بلز بھی وصول کرلیتے ہیں اور آپ کو پتا بھی نہیں چلتا ۔اب آتے ہیں انٹرنیٹ کی طرف ۔اٹلی میں بے شمار کمپنیاں ہے جو سستا انٹرنیٹ کنیکشن فراہم کرتی ہیں لیکن بل آنے پے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے اگلی پچھلی ساری کثر نکال لی ہے۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ نے انٹرنیٹ کا کنیکشن لے لیا اور لائن ابھی چالو بھی نہیں ہوئی اور آپ کو بل اجائے گا اور پھر اس کمپنی کے بل ریکوری ڈیپارٹمنٹ کا فون آنے لگے گا کہ آپ نے فلاں بل نہیں جمع کروایا اس کی ادائیگی کریں ورنہ کیس کورٹ میں چلا جائے گا۔ آپ چونکہ کانٹریکٹ سائن کرچکے ہوتے ہیں اور ان کا ایجنٹ آپ سے میٹھے میٹھے بولوں میں بے شمار وعدے کرچکا ہوتا اور آپ کی آنکھوں پے بچت کی پٹی بندھ جاتی ہے اور آپ کانٹریکٹ سائن کردیتے ہیں۔ جب دس بارہ صفحوں کا بل آتا ہے جو آپ کی سمجھ سے بالا ہوتا تو آپ لوگوں سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ ایجنٹ نے تو کہا تھا سترہ یورو مہینے کے لیکن یہ تو دو سو یورو بل آگیا ہے۔ اس میں آپ کو ایجنٹ ایوا کے بارے میں بالکل نہیں بتاتا۔ اٹلی میں رہنے والے غیرملکی انشورنس کے بارے میں بالکل نہیں جانتے اگر جانتے ہیں تو اپنے حقوق کے بارے میں بالکل نہیں جانتے ۔ بے شمار لوگ سستی کار انشورنس ، گھر کی انشورنس اور ایکسیڈینٹ کی انشورنس کمپنیاں انٹر نیٹ کے ذریعے انشورنس کرتے ہیں۔ میں کسی کمپنی کو موردِ الزام تو نہیں ٹھہراتا لیکن بےشمار آن لائن انشورنس کمپنیوں کا سرے سے وجود ہی نہیں ہوتا۔ کوئی حادثہ ہوجائے یا گھر کا کوئی مسئلہ ہوجائے تو ان کمپنیوں سے رابطہ ہی نہیں ہوتا اور آپ کو بے شمار قانونی مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ گاڑی کی انشورنس، گھر کی انشورنس، ایکسیڈینٹ کی انشورنس بھلے تھوڑی مہنگی کروالیں لیکن اس کمپنی کا کوئی نا کوئی دفتر ہونا چاہیئے جہاں آپ جاکے رابطہ کرسکیں۔ اس لیئے میری اپنے تمام ہم وطنوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی ایجنٹ آپ کو کوئی سستی چیز فراہم کرے اس کو نہ تو اپنا بل دیں نہ ہی شناختی کارڈ اور کوئی بھی کانٹریکٹ سائن کرنے سے پہلے اس کی فوٹی کاپی کرکے کسی کو دکھا لیں پھر سائن کریں کیونکہ ایک دفعہ آپ نے کوئی کانٹریکٹ سائن کردیا تو قانون کی رو سے آپ اس کے پابند ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ کانٹریکٹ سے ہٹ کے چلیں گے یا آپ اس کی شقوں کا احترام نہیں کریں گے تو وہ ادارہ قانونی چارہ جوئی  کرے گا۔  
سرفراز بیگ
اریزو

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

بجلی کا کوندا


میرا تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا کمونے کے دفتر جارہا تھا کیونکہ کمونا بند ہونے میں تھوڑا وقت بچا تھا۔ اریزر شہر کا کمونا ویا پتراراکا میں ہے اور مجھے ویا پترارکا جانے کےلیئے گیدو موناکو سے گزرنا تھا۔ میں نے سڑک پار کرکے جیسے ہی گیدو موناکو میں قدم رکھا بہت زور سے بجلی کوندی اور میرے سر کے بال سفید ہوگئے، جسم بوڑھا ہوگیا اور میرے ہاتھ میں لاٹھی، بدن پے جھریاں اور اور جھکی ہوئی کمر۔ میں بڑا حیران ہوا۔ سامنے شیشے کے بینچوں پے چند گوری گوری لڑکیاں کالے کالے بوڑھے بوڑھے مردوں اور عورتوں کی وہیل چیزر سنبھالے ہوئے تھیں۔ میں اپنی لاٹھی ٹیکتا ہوا ان کے پاس چلا گیا۔ ان بوڑھے انسانوں میں سے ایک بولا ’’کیسا ہے بندو بھائی۔ پاکستان سے کب آیا‘‘۔ میں کہا جوڑوں کا درد  اور بے شمار بیماریاں مجھے یہاں لے آئیں۔ اب تو آخری وقت کا انتظار ہے‘‘۔ میرے سامنے وہیل چیرز پے بیٹھے ہوئے یہ بنگالی اور پاکستانی میری طرح بھرپور جوانی کے ساتھ محنت مزدوری کے لیئے وارد ہوئے تھے۔ انہوں نے دن رات محنت کرکے پاکستان اور بنگلہ دیش میں جائیدادیں بنائیں۔ کم کھایا، سستا کپڑا پہنا ،ایک عجیب و غریب قسم کی زندگی گزاری۔ ایک کا بیٹا ہسپتال میں ڈاکٹر ہے اور اس نے اٹالین لڑکی سے شادی کرلی ہے۔ اس کی اٹالین altبیوی کو اس بنگالی بابو کی ٹوٹی پھوٹی اٹالین اور اس کی غربت کی داستان بالکل نہیں پسند کیونکہ اس کو یہ سب کچھ زبانی یاد ہوچکا ہے۔ اس لیئے یہ بنگالی بابو اپنی پینشن سے اس بادانتے کو پیسے دیتا ہے جو چھ دن اس کا خیال رکھتی ہے اور ساتویں دن یہ اپنے بیٹے اور بہو کے پاس ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک پاکستانی بھائی ہے جس نے اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے لیئے انگلستان بھیج دیا اور وہ وہیں کے ہورہے۔ اب یہ یورپ کو اپنی بھرپور جوانی سے سینچنے والے ان شیشے کے بینچوں پے بیٹھے ان دنوں کو یاد کرتے ہیں جب یہ سات سات دن اور تیرہ تیرہ گھنٹے کام کرتے تھے اور زندگی کی دوڑ میں گم تھے انہوں نے اپنی تمام خواہشات کا گلہ گھونٹ کر اپنے بال بچوں کی پرورش کی ۔ انہوں نے کبھی کسی ملک کی سیر نہ کی، کبھی کوئی صحت افزا مقام دیکھنے نہ  گئے کبھی کوئی اچھا کپڑا نہ پہنا کبھی اچھا کھانا نہ کھایا۔  اگست کی چھٹیوں میں بھی کوئی نا کوئی کام کرتے رہے صرف اور صرف پیسے کی خاطر لیکن آج ان کے پاس نہ تو پیسہ ہے اور نہ ہی بچے۔ بارش کا بالکل امکان نہیں تھا لیکن بہت زوروں سے بارش ہونے لگی میں گیدوں مناکوں کے ان بینچوں کی طرف دیکھنے لگا لیکن اب وہاں کوئی بابے نہیں تھے نہ ہی وہ گوری گوری خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ میں اپنے ہاتھ دیکھنے لگا، جھریاں غائب ہوچکی تھیں، جھکی ہوئی کمر ٹھیک ہوگئی تھی۔ میں بارش سے بچتا ہوا تیز تیز قدم اٹھاتا ویا پترارکا کی طرف چل دیا۔
سرفراز بیگ
اریزو

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com