Sunday, May 26th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

کالم و تجزیے

اٹلی میں پاکستانی عورت

 

میں اٹلی میں رہنے والی خواتین کو اگر مبحوس عورتیں کہوں تو غلط نہ ہوگا۔میرا اشارہ ان عورتوں کی طرف ہے جو شادی کے بعد یہاں وارد ہوتی ہیں۔ اٹلی میں پائے جانے تارکین وطن کی زیادہ تعداد پاکستان کے دیہی علاقوں سے ہے اور خاص کر پنجاب کے دیہی علاقوں سے ۔صوبہ سرحد اور سندھ کے لوگ تو آپ کو یورپ میں مل جائیں گے لیکن صوبہ بلوچستان کا باشندہ شاید ہی آپ کو کبھی ملے۔بات ہو رہی تھی مبحوس عورتوں کی ۔پاکستانی عورت کو بچپن میں ہی سکھا دیا جاتاہے کہ تم جو بھی شوق پورے کرنے ہوئے شادی کے بعد کرنا اس لیئے انہیں اپنے تمام خوابوں کو دل میں دبا کے رکھنا پڑتا ہے۔شادی ان کے لیئے ایک فینٹیسی بن جاتی ہے۔نہ جانے شادی کے بعد کیا ہوگا یا ہوتا ہے۔ہمیں ہر قسم کی آزادی ہوگی۔ماں باپ کے گھر باپ اور بھائی کی عزت کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔شادی کے بعدخاوند اور بیٹے کی عزت کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔مردوں کی عزت سنبھالتے سنبھالتے یہ عورت اللہ کو پیاری ہوجاتی ہے اور یہی چار مرد (میرا مطلب ہے کوئی بھی چار مذکر اشخاص) اسے قبرستان لے جاتے ہیں اور منوں مٹی کے نیچے دفن کردیتے ہیں۔ 1990  میں اٹلی نے پہلی دفعہ امیگریشن کھولی اور پورے یورپ سے الیگل امیگرنٹس کا ریلہ اٹلی کی طرف آیا۔ان میں زیادہ تر لوگ یورپ کے عادات و اطوار سے واقف تھے۔چند ایک نئے لوگ بھی تھے۔ان امیگرنٹس میں اٹھارہ سال سے لیکر پچاس سال تک کے لوگ تھے۔ان میں غیر شادی شدہ،شادی شدہ اور گم شدہ بھی تھے(گم شدہ وہ لوگ تھے جنھوں نے یورپ آنے کے بعد گھر والوں کی کبھی خبر ہی نہ لی)۔اب جب لوگوں کے کاغذات کا مسئلہ حل ہوا، رہنے کو جگہ ملی اور کام کامسئلہ بھی حل ہوا تو جو لوگ شادی شدہ تھے انھوں نے اپنے بیوی بچوں کو بلانے کا سلسلہ شروع کیا۔اس طرح اٹلی میں پاکستانی عورتوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔اس میں آپ ان لوگوں کو مت شامل کیجئے جو ایمبیسی میں کام کرتے ہیں یا فاؤ میں کام کرتے ہیں۔
میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں کہ اٹلی میں تارکینِ وطن کی زیادہ تعداد دیہات سے تعلق رکھتی ہے۔اس لیئے ان کے بیوی بچے بھی دیہاتی زندگی چھوڑ کر اٹلی وارد ہوئے تھے اور ہوتے ہیں۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ گرِڈ سٹیشن سے بجلی جاری کریں اور بنا کسی ٹرانسفارمر کے سیدھی بلب میں آجائے۔بلب نہ صرف پھٹ جائے گا بلکہ آگ لگنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔میرا اشارہ کلچرل سکزم(cultural schism)کی طرف ہے، حالانکہ اٹلی یورپ کے دیگر ممالک سے بہت مختلف ہے۔یہاں پرانی عمارات بہت ہیں اور گھر بھی پرانے پرانے ہیں اور ان کی تعمیر بھی پاکستان کے گلی محلوں کے مکانوں جیسی ہے۔اس لیئے گھر میں داخل ہوکے یورپ کا کوئی خاص رنگ نہیں ملتا۔ پاکستان میں امیگریشن کے دوران لڑکی کو اٹلی کی ایمبیسی کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔پہلے تو وہاں قطار میں کھڑے ہوکر ٹوکن لے کر کام ہوجایا کرتا تھا لیکن اب یہ کام ایجنٹوں نے سنبھال لیا ہے۔خیر ویزہ لگتے ہی یہ لڑکی جب ایئرپورٹ پے آتی ہے تو اس کے لیئے نئی دنیا ہوتی ہے۔ٹانگے، لاری، گڈے اور رکشہ پے بیٹھنے والی لڑکی جب جہاز میں بیٹھتی ہے تو یہ اس کے لیئے بہت بڑی بات ہوتی ہے۔سیٹ بیلٹ باندھنا،کھانا کھانا یہ تمام عوامل اس کے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں لیکن طوحاًکرحاً وہ ان تما م مراحل سے گزرجاتی ہے۔آٹھ گھنٹے کا یہ تھکادینے والا سفرجب ختم ہوتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتی چلو اس سیٹ بیلٹ سے تو جان چھوٹی۔جیسے ہی جہاز سے نکل کر ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہوتی ہے، اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ یورپ میں نہیں کسی چنگڑوں یا جانگلیوں کے ملک میں آگئی ہے۔ہر طرف شور سنائی دیتا ہے۔اٹالین لوگ بہت اونچا بولتے ہیں اور ہاتھوں کو بھی ساتھ ساتھ ہلاتے رہتے ہیں۔جب یہ محترمہ ٹرالی پے اپنا سامان رکھے، پلاسٹک کے تھیلوں مٹھائی اور دیگچے اٹھائے باہر آتی ہیں تو سامنے ان کاشوہر کھڑا ہوتا ہے۔جو یا تو کسی کی گاڑی مانگ کر لایا ہوتا ہے یا کسی کی منت سماجت کرکے ساتھ لایا ہوتا ہے یا پھر ٹرین کا سہارا لیا جاتا ہے۔اس طرح اِن محترمہ نے جس بھی شہر میں ان کا شوہر رہتا ہے وہاں جانا ہوتا ہے۔یہ کہانی کسی ایک لڑکی کی نہیں بلکہ اٹلی میں آنے والی زیادہتر لڑکیوں کی کہانی ایسی ہی ہوتی ہے۔جب گھر پہنچتی ہے تو اسے پتا چلتا ہے کہ یہاں دو دو ،تین تین فیملیاں مل کر رہتی ہیں۔بہانہ یہ کیا جاتا ہے کہ یہاں غیر ملکیوں کو گھر کرائے پر نہیں ملتے اس لیئے گزارہ کرنا پڑتا ہے۔حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ سب کی تنخواہ لگی بندھی ہوتی ہے اور اس میں سے بچت کرکے سب نے اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنی ہوتی ہے حالانکہ یہ بہت مشکل کام ہے لیکن ایسا ہی ہوتا ہے۔جیسے ہی لوگوں کو پتا چلتا ہے ، سب لوگ ایک ایک کر کے دعوت کرتے ہیں۔دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔دوستی بڑھتے بڑھتے گھریلوں تعلقات تک آپہنچتی ہے۔پھر اِدھر کی باتیں ا’دھر اور ا’دھر کی باتیں اِدھر ہونے لگتی ہیں۔پھر اس لڑکی کو پتا چلتا ہے کہ یہاں کا ماحول تو بہت خراب ہے۔یہاں کی عورتیں تو غیبت جیسے برے فعل میں ملوث ہیں۔بعد میں وہ خود بھی ان کا حصہ بن جاتی ہے۔
اٹلی میں رہنے والی پاکستانی عورتوں کی زیادہ تعداد گھر پے ہی رہتی ہے کیونکہ انہیں ان کے مردوں یا شوہروں کی طرف سے زبان سیکھنے کے لیئے سکول جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔نہ کام کی پے اجازت ہوتی ہے۔حتیٰ کہ وہ خود بازار سے جا کر خرید و فروخت بھی نہیں کرسکتیں۔ماں با پ کے گھر میں لاڈ و پیار میں پلنے والی یہ لڑکی جب اٹلی آتی ہے تواس کا سردیوں کا موسم بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔رات کو تو کمبل اور رضائی کی مدد سے جسم کو گرم کرلیتی ہے لیکن صبح ہوتے ہی تکلیف مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔یہاں لوگ ہیٹر دن میں دو دفعہ چلاتے ہیں۔صبح دو گھنٹے اور شام کو دو گھنٹے۔ کچھ گھروں میں صرف شام کو دو گھنٹے ہیٹر چلائے جاتے ہیں۔اس کی وجہ گیس کا بل ہے جو بہت زیادہ آتا ہے۔اس لیئے تین تین فیملیاں مل کر بھی رہتی ہیں پھر بھی گیس کا بل ادا کرنا مشکل ہوتا ہے۔اس لیئے یہ پاکستان کی بیٹی سارا دن گرم کپڑے پہن کر ،جرابیں اور ٹوپی پہنے گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہے۔شام کو جب ہیٹر چلتے ہیں تو وہ اس ہیٹر کے لوہے کے پائپوں کے ساتھ چپک کے بیٹھ جاتی ہے اور ا’ف تک نہیں کرتی۔کبھی ماں باپ پوچھیں تو کہتی ہے، یہاں بڑی ’پرسکوں زندگی ہے لیکن آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں گرتے ہیں۔گھر والوں کے لیئے یہی بہت ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے اور وہ بھی یورپ میں، اس سے بڑی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔سردیوں کا یہ چھ سات مہینے کا دور جب گزر جاتا ہے تو تب یہ ’سکھ کا سانس لیتی ہے۔
یہ نہ مسلمانوں کے تہوار بھرپور طریقے سے منا سکتی ہے اور نہ ہی جس ملک میں رہتی ہے اس کے تہوار مناسکتی ہے۔عید الفطر اور عید الضحیٰ ،ان دونوں تہواروں پے اگر ہفتے یا اتوار کا دن نہ ہو تو اس کے شوہر کو کا م پے جانا پڑتا ہے۔ چھٹی کرے تو کام کے چھوٹ جانے کاڈر ہوتا ہے اس لیئے شام کو ہی ملاقات ہوتی ہے۔
خرید و فروخت کے لیئے میرا مطلب ہے کپڑا لتا اول تو پاکستان سے ہی منگوا لیا جاتا ہے کیونکہ یہاں بنے ہوئے کپڑے تو پاکستانی عورت نہیں پہن سکتی ناں۔اس لیئے سخت سردی میں بھی جاپانی ،ریشمی کپڑے (جو کہ اب جاپان میں نہیں پاکستان میں ہی بنتا ہے)کی بنی ہوئی شلوار قمیص پہنتی ہے۔جس کی شلوار ذرا سی ہوا چلے تو ٹانگوں کے ساتھ چپک جاتی ہے اور سردیوں میں تو ٹانگیں بھی اکڑ جاتی ہیں۔لیکن کیا کریں لوگوں کا خیال ہے کہ شلوار قمیص یقیناًکوئی اسلامی لباس ہے جس کا زیب تن کرنا ہر مسلمان عورت پر فرض ہے۔گھر کے استعمال کی دیگر چیزیں سٹالوں سے خریدی جاتی ہے۔اس میں جوتے ،بچوں کے کپڑے، گھریلوچیزیں، ساری کی ساری سٹالوں سے خریدی جاتی ہیں جسے اطالوی زبان میں مرکاتوکہتے ہیں۔چیز کی قیمت کم سے کم جتنی بھی ہو لیکن زیادہ سے زیادہ پانچ یورو ہونی چاہیئے۔کھانے میں بھی بڑی کفایت شعاری برتی جاتی ہے۔سالن روٹی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔یہاں کے پھل ،بقول ان کے ذائقہ دار نہیں ہوتے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ یورپیئن ملکوں میں پھلوں کا وہ ذائقہ نہیں ہوتا جو پاکستان یا دوسرے ایشیائی ملکوں کے پھلوں کا ہوتا ہے لیکن ان میں توانائی اتنی ہی ہوتی ہے اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق ہوتے ہیں۔اب ذائقہ کیوں نہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پھلوں کی نشوء نماں کے لیئے کیمیکل (کھاد) استعمال کیئے جاتے ہیں۔جس سے نہ صرف یہ جلدی بڑے ہوجاتے ہیں بلکہ عام وزن سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔جس طرح گائے یا بھینس کا زیادہ دودھ حاصل کرنے کے لیئے مختلف چیزیں استعمال کی جاتی ہیں اور اجناس کی زیادہ پیداوار کے لیئے کیمیکل سے بنی ہوئی ادویات استعمال کی جاتی ہیں اور کھلاڑی نشہ آور ادویاء استعمال کرکے اپنا سٹیمنا بڑھاتے ہیں۔اس لیئے اب یورپ میں بائیلوجیکل چیزیں چل پڑی ہیں۔بائیلوجیکل سٹورز کھل گئے ہیں۔ دودھ بھی بائیلوجیکل آنے لگا ہے۔
اٹلی میں پاکستانی عورت کو رہتے ہوئے جب کچھ عرصہ گزر جاتا ہے تو اسے ایک ایسے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ اس کے لیئے کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا۔وہ مرحلہ حمل کا ہے۔جب یہاں عورت حاملہ ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس کا خون اور پیشاب ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔پیشاب ٹیسٹ کرنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ آیا کے یہ عورت امید سے ہے یا نہیں۔اس کی ریپورٹ اگر پوزیٹیو ہو تو امید سے ہے۔اس کام کے لیئے پہلے اپنی لیڈی ڈاکٹر یا ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔لیکن بغیر شوہر کے وہ کہیں
نہیں جاسکتی۔شوہر کو کام سے دو گھنٹے کی چھٹی لینی پڑتی ہے یا سارے دن کی چھٹی کرنی پڑتی ہے۔فیکٹری میں کام کرنے والے ملازمین کے لیئے چھٹی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔اس پوزیٹیو ریپورٹ کے سے ساتھ ایک نئی کہانی کا آغاز ہوتا ہے جو نو ماہ تک چلتی رہتی ہے۔جس طرح بنیئے کی لال کتاب ہوتی اس طرح یہاں حاملہ عورت کی بھی ایک کتاب ہوتی ہے یا آپ اسے اپنی آسانی کے لیئے کھاتا کہہ لیجئے۔اس میں تمام تواریخ درج ہوتی ہیں کہ کب کب پیشاب ٹیسٹ کروانا ہے، خون ٹیسٹ کروانا ہے،گائینوکولوجسٹ کے پاس کب جانا ہے ،ایکوگرافی کب کروانی ہے،پاپ ٹیسٹ کب ہوگا۔ یہ تمام چیزیں گورنمنٹ کی طرف سے مفت فراہم کی جاتی ہیں بس آپ کا کا م ہے اس کتاب کے مطابق دی گئی تواریخ پے متعلقہ جگہ چلے جائیں۔اس سارے عمل میں اس کے شوہر کا ساتھ ساتھ ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ڈاکٹر اس کے شوہر سے کہتا ہے، "mi capicci" ۔وہ ، "si...si" کرتا رہتا ہے کیونکہ اسے ڈاکٹر کی آدھی بات سمجھ آتی ہے اور آدھی نہیں۔ایکوگرافی سے بچے کا ماں کے پیٹ میں پتا چلتا رہتا ہے کہ اس کی نشوو نماں کیسی ہورہی ہے۔اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی ہے۔اگر لڑکی ہوتو مرد بڑی بے دلی سے کہتا ہے ، ’’جو اللہ کی مرضی‘‘ اور اگر لڑکا ہو تو لوگوں کو روک روک کے کہتا ہے ، ’’جی منڈاوے، ایکوگرافی وچ پتا چل گیا اے‘‘ (لڑکا ہے ،ایکوگرافی میں پتا چل گیا ہے)۔اگر لڑکی ہو تو آخری دن تک یہی کہتا رہے گا ، ہمارے مذھب یہ بات جاننا منع ہے ۔نہ ہی میں نے پوچھنا مناسب سمجھا۔ویسے بھی ابھی کچھ پتا نہیں کہ لڑکا ہے یا لڑکی ہے۔یہ نو ماہ لڑکی کے لیئے بہت مشکل ہوتے ہیں۔پاکستان میں کوئی نا کوئی پوچھنے والا ضرور ہوتا ہے لیکن یہاں نہ صرف اٹلی میں بلکہ پورے یورپ میں سب اپنی اپنی دوڑ میں مصروف ہوتے ہیں۔شوہر کام پے چلا جاتا ہے۔اگر کبھی ٹیسٹ کروانا ہو تو پھر اسے ساتھ جانا پڑتا ہے۔آخری دنوں میں جب بچے کی پیدائش کا وقت قریب آجاتا ہے تو اسے ہسپتال داخل کردیا جاتا ہے۔بڑے بڑے پھنے خان ، جن کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان کی بیوی کی ایک جھلک بھی کوئی نہ دیکھ سکے (حالانکہ وہ دوسروں کی بیویوں بھرپور طریقے سے دیکھتے ہیں) جب اس مرحلے سے ان کی بیوی گزرتی ہے تو خاموش ہوجاتے ہیں۔کیا کریں جی مجبوری ہے۔یہاں گائیناکولوجسٹ نہ صرف عورتیں بلکہ مرد بھی ہوتے ہیں۔لیبر روم میں بھی جس کی ڈیوٹی ہو وہ کام کرتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔چونکہ پاکستانی عورتیں زبان نہیں سیکھتیں۔میدیا تورے کلتورالے کا کورس کرنا توبہت دورکی بات ہے، مرد میدیا تورے کلتورالے پاکستانی خاوندوں کو ناقابلِ قبول ہوتا ہے۔اس لیئے وہ اپنی بیوی کو مڈوائف اور گائیناکولوجسٹ کے حوالے کرکے خود باہر انتظار کرتے رہتے ہیں۔اپنی مردانگی پے اکڑتے رہتے ہیں۔ ان کی بیوی شرم و حیاء اور درد کے مارے تڑپ رہی ہوتی ہے۔بچے کی پیدائش کے وقت ا’سے اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ وہ دل میں یہی سوچتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ اسے دوبارہ یہاں نہ آنا پڑے لیکن اس بیچاری کو کیا پتا کہ سال دو سال بعد دوبارہ یہیں آنا ہے۔
اب جب ماں بن جاتی ہے تو اس کی تنہائی کسی حد تک دور ہوجاتی ہے۔سارا دن بچے کے کاموں میں مصروف رہتی ہے۔دن میں کئی بار اپنے گھر والوں کو یاد کرکے روتی ہے کیونکہ ایسی کئی باتیں ہوتی ہیں جو عورت اپنے شوہر کے ساتھ بھی نہیں کرسکتی نہ ہی وہ کسی اور کے ساتھ کر سکتی ہے۔وہ باتیں یا تو وہ اپنی ماں سے کرسکتی ہے یا اپنی بہن سے۔جب اسے یہاں آئے دوسال کا عرصہ گزرجاتا ہے پھر اس کی گھر والوں سے ملنے کی تڑپ شدت اختیار کرجاتی ہے۔اس کا شوہر کسی ٹریول ایجنسی سے قسطوں پے اپنی اور اپنے بچے یا بچوں کی اور بیوی کی ٹکٹیں خریدتا ہے ۔کچھ اپنے دوستوں سے ادھار لیتا ہے۔جس میں وہ
پاکستان کے لیئے خرچہ علیحدہ رکھتا ہے۔کچھ خرید و فروخت کے لیئے رقم رکھ چھوڑتا ہے۔اٹلی میں لوگ مختلف گروپوں میں تقسیم ہیں۔جیسا کہ لاہور گروپ،منڈی بہاوالدین گروپ، گجرات گروپ،فیصل آباد گروپ، سیالکوٹ گروپ ، شہر کے حساب سے گروپوں کی تقسیم ہوتی ہے۔اس کے علاوہ چودھری،ملک،گجر،بھٹی، راجے اس طرح کے بھی گروپ ہیں۔یہی قانون اٹلی میں رہنے والی لڑکی پر بھی لاگوں ہوتا ہے۔ادھار گروپ کے حساب سے دیا جاتا ہے۔جیسے ہی دوسال کے بنواس کے بعد پاکستان کی یہ بیٹی اپنے ملک پہنچتی ہے تو اس کی آواز بدل چکی ہوتی ہے۔اس کی وجہ سرد ملک میں رہنا ہے کیونکہ ٹھنڈے ملکوں میں رہنے والوں کی آوازتھوڑی مختلف ہوتی ہے۔موسم کا اثر ووکل کورڈ(vocal chord) پے پڑتا ہے جس کی وجہ سے آواز تھوڑی بھاری ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پہ انڈیا کی اداکارہ رانی مکرجی کی آواز بھدی اور بھاری ہے اس کی وجہ اس کا ووئس بوکس(voice box)ہے جو زیادہ سگرٹ پینے کی وجہ سے بھاری ہوگیا ہے۔جیسے ہی لوگ باہر سے آنے والوں سے بات کرتے ہیں وہ فوراً اس بات کو جان لیتے ہیں کہ یہ لوگ کسی یورپیئن ملک سے آئے ہیں۔ایئر پورٹ پے پہنچتے ہی انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔لڑکی اپنے ماں باپ سے مل کر دھاڑے دھاڑے مار مار کے روتی ہے۔ وہ یہی سمجھتے ہیں دوسال بعد مل رہی ہے اس لیئے بیچاری رو رہی ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔وہ تو انہیں یہ سمجھانا چاہ رہی ہوتی کہ مجھے کس گناہ کی سزادی ہے جو میری شادی اٹلی کردی ۔
جیسے ہی اپنے شہر یا گاؤں پہنچتی ہے تو اسے سارے لوگ بیمار بیمار لگتے ہیں۔اگر وہ بچوں کے ساتھ جائے تو سب سے پہلے اس کے بچے بیمار ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہوتی ہے بچوں کی قوتِ مدافعت میں تبدیلی آجاتی ہے۔اب سارے گھر والے اِدھر ادھر بھاگ رہے ہوتے ہیں کوئی منرل واٹر لارہا ہے کوئی امریکہ یا انگلینڈ سے پڑھے ہوئے ڈاکٹر کو لارہا ہے۔ایک دو دنوں میں حالات معمول پے آجاتے ہیں۔لڑکی جب تمام تحائف تقسیم کرچکتی ہے، جو اس نے سٹالوں اور سستی مارکیٹوں سے خریدے ہوتے ہیں جن کی مالیت کم سے کم جتنی بھی ہو لیکن زیادہ زیادہ پانچ یورو ہوتی ہے۔سب کو بڑے پسند آتے ہیں کیونکہ اٹلی سے جو خریدے گئے ہوتے ہیں حالانکہ ان سب پے مہر میڈ ان چائینہ کی ہوتی ہے۔شروع میں چند دن سارے لوگ دعوت کرتے ہیں۔اچھے اچھے کھانے پکتے ہیں۔اٹلی کے قصے سنائے جاتے ہیں، ’’وہاں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی،پانی صاف ہوتا ہے،میڈیکل کی
سہولتیں ہیں، تعلیم مفت ہے‘‘ ۔سب لوگ یورپ کے نظام سے بڑے متاثر ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس بیچاری نے پاکستان سے اٹلی اور اٹلی سے جہاں وہ رہتی ہے بس وہاں تک کا سفر کیا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں جانتی۔جب گھر والوں کے ساتھ خرید و فروخت کرنے جاتی ہے تو دوکاندار یہ بات جان لیتا ہے کہ یہ محترمہ کسی غیر ملک سے آئی ہے۔وہ بڑی کوشش کرتی ہے کہ دوکاندار کو نہ پتا چلے لیکن وہ جان لیتے ہیں۔وہ یہی سمجھتی ہے شاید اس کے لباس ،تراش خراش اور زبان سے انہیں پتا چل جاتا ہے حالانکہ وہ اسے اس کی کنجوسی کی وجہ سے پہچانتے ہیں۔یورپ میں رہنے وا لے پاکستانی بہت کنجوس ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ کنجوس انگلینڈ میں رہنے والی پاکستانی خواتیں ہیں۔اس طرح یہ پاکستانی لڑکی ، جب اس کے یورو ختم ہوجاتے ہیں(جو اس نے ٹکا ٹکا کر کے جوڑے ہوتے ہیں)تو واپسی کی راہ لیتی ہے۔نہ وہ پاکستانی لڑکی رہتی ہے نہ ہی وہ اٹالین ہوتی ہے۔کیونکہ پاکستان میں قیام کے دوران اسے سب لوگ یہی کہتے ہیں ،’’یہ باہر سے آئی ہے‘‘ اور اٹلی میں اٹالین اسے کہتے ہیں ،’’یہ غیرملکی ہے‘‘۔جب وہ پاکستان کا چکر لگا کے واپس اٹلی آتی ہے تو سکھ کا سانس لیتی ہے۔شکر خدا کا اپنے گھر پہنچ گئی ہوں۔ وہ سوچتی ہے میں یہاں جیسی بھی ہوں پاکستان میں کسی کو کیا پتا کہ میں کس حال میں ہوں۔میری سفید پوشی کا بھرم قائم رہتا ہے۔
22/12/2006 to 28/12/2006
سرفراز بیگ(SARFRAZ BAIG)
AREZZO 52100
3200127522
یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

طاہر القادری، سمندرپار پاکستانی اور انقلاب

انقلاب راتوں رات نہیں آیا کرتا۔ قوموں کی عشروں تربیت کرنی پڑتی ہے ۔ دیہاتوں سے شہروں تک اور سبزہ زاروں سے صحراؤں تک چپے چپے کی خاک چھاننا پڑتی ہے ۔ آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر سیاست پر پنجہ آزمائی کرنے والے انقلاب کے لیے جانیں نہیں دیا کرتے ۔ تپتی دھوپ میں جھلسنے والے کسان اور فیکٹریوں کے دھوئیں میں سلگنے والے مزدور ہی سینوں پر گولیاں کھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ انقلاب پاکستان کے لیے بہت زیادہ محنت اور قربانیاں درکار ہیں ۔ سندہ کے افریقی نژاد شہریوں سے لیکر وزیرستان کے قبائلوں تک کو  اپنے حقوق کی اجتماعی جدوجہد کے لیے منظم کرنا ہو گا ۔ چین کے عظیم انقلابی لیڈر ماؤزے تنگ نے کہا تھا " انقلاب کوئی ڈنر پارٹی نہیں ہے " ۔ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کے لانگ مارچ کی کامیابی یا ناکامی سے قطع نظر اہم ترین نقطہ جسے نظر انداز کیا گيا ہے ، وہ یہ ہے کہ اس لانگ مارچ اور اس سے پہلے ہونے والے جلسہ میں بیرون ملک پاکستانیوں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے  اور یہ اوورسیز پاکستانیوں کا وطن عزیز میں اپنی سیاسی قوت کا پہلا بھرپور اور منظم مظاہرہ تھا ۔ علامہ صاحب نے خود کئی بار اس امر کی تصدیق کی کہ انکی سیاسی سرگرمیوں کے لیے فنڈز سمندر پار پاکستانیوں نے فراہم کیے ہیں ۔ حقیقت انتہائی قابل غور ہے ۔ بیرون ملک پاکستانی جن کے پاس سرمایہ بھی ہے ، تجربہ بھی اور اپنے وطن پر سب کچھ لٹا دینے کا جذبہ بھی ، پاکستان کے کرپٹ نظام کے خاتمہ کے لیے فیصلہ کن جنگ لڑنے کے لیے نظر آرہے ہیں ۔ اگرچہ یہ ایک نسبتا چھوٹی جماعت کی سیاسی تحریک تھی ، اگر تارکین وطن کو وسیع پلیٹ فارم میسر آگیا تو بدعنوان اشرافیہ کو چھپنے کی جگہ نہ ملے گی ۔ جو لوگ باہر بیٹھ کر ملک کی معیشت چلا سکتے ہیں ، وہ سیاست کا رخ بھی موڑ سکتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر بیرون ملک پاکستانی کچھ عرصہ کےلیےزرمبادلہ روانہ بند کردیں تو پاکستان کی معیشت جامد ہو جائے ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ سیاست دان اور میڈیا طاہر القادری کو بیرون ملک قیام کا طعنہ دیتے ہیں ۔ کیا وہ بھول گئے ہیں کہ قائد اعظم انگلستان اور گاندھی جنوبی افریقہ سے تشریف لائے تھے ، کیا پاکستان کے تمام بڑے سیاست دانوں کی اولادیں ، اثاثے اور کاروبار بیرون ملک نہیں ہیں ؟ پاکستان کو اتنا نقصان دوہری شہریت والوں نے نہیں پہنچایا ، جتنا اکلوتی والوں نے پہنچایا ہے ۔ تارکین وطن محنت مزدوری اور خون پسینے کی کمائی سے زرمبادلہ پاکستان روانہ کرتے ہیں اور ہمارے سیاست دان اسی سرمایہ کو لوٹ کر دوبارہ بیرون ملک یا سویٹزرلینڈ کے بنکوں میں روانہ کردیتے ہیں ۔ دولت کی یہ کیسی منحوس گردش ہے ۔ پاکستان کی مردہ معیشت میں روح پھونکنے والے ان تارکین وطن کو بدلے میں کیا ملتا ہے ؟ ائر پورٹوں پر تذلیل، جائیدادوں پر قبضے، خاندان اور کاروبار غیر محفوظ۔۔۔۔۔۔ وقت آگیا ہے کہ تمام سمندر پار پاکستانی ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر اپنے حقوق کی جدوجہد کریں بلکہ اپنے مظلوم فرسودہ استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ دیں۔  رات طویل ضرور ہے مگر روشن صبح ضرور آئے گی ۔ تحریر، خرم شریف از بلونیا ۔ موبائل 3201178275

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 27 جنوری 2013 10:52

پاکستانی تیری عظمت کو سلام

22 دسمبر 2012۔۔۔ مسعود شیرازی کے قلم سے ۔۔۔۔ چند دن قبل ریجو امیلیا کے گاؤں گواستالا میں آباد حاجی محمد اسلم اچانک انتقال کرگئے ۔ ان کا تعلق میر پور آزاد کشمیر سے تھا اور وہ سوزی مرض سرطان میں مبتلا تھے ۔ کافی عرصہ سے بے روزگار بھی تھے اور کمونے نے فیملی کے لیے مکان بھی دے رکھا تھا ۔ بیوہ، بیٹی اور دو بیٹے تھے ۔ روزگار کا کوئی دوسرا سلسلہ نہیں تھا ، اس لیے خاندان کے لیے لاش کو پاکستان پہنچانا اور کاغذات وغیرہ کی تیاری کرنا کافی مشکل تھا ۔ گواستالا مسجد کمیٹی اور دیگر پاکستانی کمونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کوششوں سے قلیل وقت میں معقول رقم اکٹھی کرلی گئی اور باقی تمام بندوبست اور میلان کونصلیٹ سے کاغذات کی تیاری ایک دن مین مکمل کرلی گئی ۔ یہ وہ جذبہ ہے جو کہ دنیا کی دوسری قوموں میں کم ہی نظر آتا ہے ، حاجی صاحب سے خونی رشتہ تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا تعلق ۔ صرف مسلم، پاکستانی اور انسانیت کے رشتے سے تمام مشکلات دور ہوگئیں ۔ یاد رہے کہ معاشی بحران کیوجہ سے کافی پاکستانی بے روزگار ہونے کے باوجود اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے محب الوطنی اور انسانی ہمدردی کی مثال قائم کرتے ہوئے پاکستان کا نام روشن کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ ہماری اس تنظیم کو دیکھ کر اٹالین کمونٹی اور خاص طور پر بچوں کے اساتذہ نے بہت تعریف کی ۔ یہی وہ جذبہ تھا ، جب 8 اکتوبر 2005 میں آزاد کشمیر میں آنے والے ہولناک زلزلے کے دوران دیکھنے میں آیا تھا ۔ ہر طرف تباہی تھی ، لاکھوں انسان شہید ہوچکے تھے اور شہروں کے شہر راکھ کی صورت اختیار کرچکے تھے ۔ ایسے حالات میں پاکستان کی قوم کا ہر شخص بے چین نظر آیا اور اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی مدد کے لیے نکل پڑا ۔ ہر طرف مدد کے ٹینٹ لگ گئے ۔ ادوایات، کمبل اورکپڑوں کے ڈھیر لگ گئے اور امداد اتنی زیادہ تھی کہ اسے پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کم پڑگئی ۔ جذبہ، احساس، قربانی ، محب الوطنی اور انسانیت کی مثال قائم کردی گئی اور دنیا حیران ہو گئی ۔ ایسا جذبہ رکھنے والی قوم نہ جانے کیوں جب ملکی سالمیت اور خوشحال مستقبل کا وقت آتا ہے تو بے حس ہو کر دماغ و زہن کے تاک بند کر کے وقت کے فرعاؤنوں اور جلادوں کے ہاتھوں خاموش کیوں ہو جاتی ہے ۔ انکے ہاتھوں میں اپنی ڈور دے کر ایک عرصہ تک ہم اپنے عرصہ حیات کو تنگ کردیتے ہیں ، ایسا عمل کرنے سے سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑتی ہے ۔ بعض اوقات تعلقات، برادری اور علاقائیت پرستی کے نام پر ہم پاکستان کا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔ ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے ہمیں اپنے ضمیر میں جگانا ہوگا ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آج روم میں پاکستانی اور بنگالی سیاسی پناہ گزین نے جلوس کا انعقاد کیا

روم۔ 21 دسمبر 2012 ۔۔۔۔ آج روم کے سنٹر کے سکوائر سانتے آپوستلی میں 50 کے قریب پاکستانی اور بنگالی سیاسی پناہ گزینوں نے جلوس کا انعقاد کیا ۔ انہوں نے بینر اٹھا رکھے تھے ، جس پر انگلش اور اٹالین میں یہ لکھا ہوا تھا کہ ہمارے انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں ۔ ہمیں ایک سنٹر میں رکھا گیا ہے لیکن سیاسی پناہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے ، اسکے برعکس دوسرے ممالک کے غیر ملکیوں کو سیاسی پناہ اور انسانی ہمدردی کی سوجورنو جاری کی جا رہی ہے ۔ جلوس کے اراکین نے کہا کہ روم کا سیاسی پناہ کا کمیشن پاکستانی اور بنگلہ دیشی غیر ملکیوں سے امتیازی سلوک کر رہا ہے اور اسی سلسلے میں ہم نے تنگ آکر جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب لیبیا سے فرار ہو کر اٹلی میں داخل ہوئے ہیں اور ہمارا حق ہے کہ ہمیں سیاسی پناہ دی جائے ۔ کمیشن کی طرف سے دو خواتین نے جلوس کے اراکین سے ملاقات کی اور انہیں پہلے تو پولیس کی دھمکی دی اور بعد میں جب انہوں نے یہ دیکھا کہ جلوس میں شرکت کرنے والے پاکستانی اور بنگالی اپنے حقوق کی جنگ کے لیے پولیس سے نہیں ڈرتے تو انہوں نے 27 دسمبر کی ملاقات کا وقت دیدیا ۔ محاجرین نے کہا کہ کمیشن والے ایسی ملاقاتوں کا وقت کئی بار دے چکے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسان ہیں اور ہم بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں ۔ ہم سول سوسائٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کریں ۔ انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والی تمام ایسوسی ایشنوں سے ہماری اپیل ہے کہ وہ ہماری مدد کریں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

لیول A2کا کیا مطلب ہے

نئے قانون کے تحت اب کارتا دی سوجورنو حاصل کرنے کے لیے اٹالین زبان کا ٹیسٹ لازمی قرار دیدیا گیا ہے اور اس ٹیسٹ کا نام Livello A2ہے ۔ یہ ٹیسٹ یورپین کمونٹی کے لیول کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل میں آیا ہے ۔ اس ٹیسٹ کے مطابق زبان سیکھنے والے کو مندرجہ زیل اصولوں پر عمل کر نا ہو گا

سننا۔ اس اصول کے مطابق زبان سیکھنے والے کو ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ اپنے بارے میں ، اپنے خاندان کے بارے میں ، اپنے کام کے بارے میں ، اپنے ماحول کے بارے میں ، اپنی خریداری کے بارے میں اٹالین زبان میں سمجھ جاتا ہے ، اسکے علاوہ چھوٹی موٹی پبلسٹی بھی سمجھ جاتا ہے ۔ یعنی یہ ظاہر کرنا ہو گا کہ وہ لوگوں کے چہرے کو پڑہ لیتا ہے اور انکی اس بات کو سمجھ جاتا ہے جو کہ وہ بار بار یا معمول سے کرتے ہیں ۔

پڑھنا۔ اس اصول کے مطابق زبان سیکھنے والے کو ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ روزمرہ کی زندگی میں سادہ اور کم ستروں میں لکھے ہوئے بیانات ، پبلسٹی اور ٹائم ٹیبل وغیرہ پڑہ لیتا ہے اور انہیں سمجھ جاتا ہے ۔ اسکے علاوہ اے بی سی کو پڑہ لیتا ہے ۔ ٹرین ٹائم اور وہ تمام بورڈ پڑہ لیتا ہے جو کہ اسکی ضرورت بھی بنتے ہیں

بات چیت کرنا ۔ اس اصول کے مطابق زبان سیکھنے والے کو ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ آسانی سے اپنی بات چیت کرتے ہوئے دوسروں کو اپنی روزمرہ کی مصروفیات کے بارے میں سمجھا سکتا ہے اور دوسروں کی بات بھی سمجھ جاتا ہے ۔ یا بات چیت انتہائی آسان زبان میں کی جاتی ہے جسے ہم کام چلانے والی زبان بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اسے ظاہر کرنا ہوگا کہ یہ کسی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کافی بات سمجھ جاتا ہے لیکن دوسروں کو پوری طرح سے اپنی بات بعض اوقات نہیں سمجھا پاتا ۔

بولنا۔ اس اصول کے مطابق زبان سیکھنے والے کو ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ چند آسان الفاظ کے زریعے اور کم بات کرتے ہوئے اٹالین زبان بول لیتا ہے اور اپنے خاندان، اپنے ماضی، اپنے بچوں کے بارے میں ، اپنے کام اور اپنی مصروفیات کے بارے میں یا پھر اپنی زندگی کے بارے میں دوسروں کو بول کر سمجھا لیتا ہے ۔

لکھنا۔ اس اصول کے مطابق زبان سیکھنے والے کو ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ انتہائی سادہ الفاظ میں کسی بات چیت کے بارے میں پوائنٹس حاصل کر سکتا ہے اور ایک سادہ سا خط بھی لکھ سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ اگر اس نے کسی کا شکریہ ادا کرنا ہے تو اسے ظاہر کرنا ہوگا کہ یہ لکھ کر شکریہ ادا کر سکتا ہے اور اپنے کام کے بارے میں بھی چھوٹے پیغام لکھ لیتا ہے ۔ تحریر، ایلویو پاسکا

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com