Wednesday, Oct 17th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

پاکستانی نژاد فرح کا حمل ضائع کروانے کے لیے اسکے والدین اسے پاکستان لے گئے

 

 

روم۔ 18 مئی 2018۔۔۔۔۔ آج اٹلی کے تمام بڑے اخبارات اور ٹیوی نے یہ خبر شائع کی ہے کہ اٹالین نژاد لڑکی فرح کا حمل ضائع کروانے کے لیے اسکے والدین اسے پاکستان لے کر چلے گئے ہیں اور فرح پر ظلم و تشدد کرنے کے بعد اسکا حمل ضائع کروایا گیا ہے ۔ فرح اٹلی کے شہر ویرونا میں آباد تھی اور اسکا منگیتر ایک اٹالین لڑکا تھا ۔ فرح ٹیکنیکل کالج کے آخری سال کی طالبہ تھی اور اسکی عمر 18 سال ہے ۔ فرح کے والد اور بھائی ویرونا شہر میں ایک دکان کے مالک ہیں اور انکا تعلق اسلام آباد کے نواح سے ہے ۔ فرح نے اپنے والدین اور منگیتر کو بتا دیا تھا کہ وہ حاملہ ہے اور وہ اس لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے ۔ والدین نے اسکی مرضی کی شادی اور شادی سے قبل حاملہ ہونا پسند نہیں کیا تھا اور اسی خاطر وہ اسے کسی بہانے سے پاکستان لے گئے تھے ۔ وہ جنوری سے پاکستان میں موجود تھی ۔ کل فرح نے اپنی کلاس فیلو اور منگیتر کوایک وٹس اپ کے زریعے باخبر کردیا کہ اسکے والدین نے اسکا حمل ضائع کروانے کے لیے بستر پر 8 گھنٹے تک باندھا رکھا ہے اور ایک ٹیکہ لگا کر حمل ضائع کروا دیا ہے ۔ فرح کے منگیتر اور کالج کے پرنسپل نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیدی ۔ اسکے بعد پولیس نے اٹالین فارن منسٹری کو بتا دیا اور اسکے بعد اسلام آباد میں موجود اٹالین ایمبیسی نے پاکستانی پولیس کو مطلع کر دیا ۔ پولیس نے فرح کو دستیاب کر لیا ہے اور اسے ایک محفوظ جگہ پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔ اٹلی کی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اس حادثے کو سنگین قرار دے رہے ہیں اور سب بیانات دے رہے ہیں کہ اس لڑکی کو فوری طور پر اٹلی لایا جائے۔ یاد رہے کہ ان دنوں اٹلی کے تمام اخبارات اور ٹیوی ثنا چیمہ کے قتل کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ ویرونا رومیو جیولٹ کا شہر ہے اور یہاں لاکھوں سیاح انکے گھر کا وزٹ کرنے کے لیے آتے ہیں ۔ ان دو کیسوں کیوجہ سے پاکستان اور پاکستانی کمونٹی کے بارے میں منفی سوچ کی رائے عامہ عمل میں آرہی ہے ۔

Risultati immagini per farah verona

 

 

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

بریشیا کی صنا چیمہ کو اسکے والد اور بھائی نے قتل کر دیا

 

21 اپریل 18 ۔۔۔۔ آج اٹلی کے شمالی شہر کے اٹالین اخبار بریشیا اوجی نے خبر دی ہے کہ صنا چیمہ کو اسکے والد اور بھائی نے قتل کر دیا ہے ۔ پورے اٹلی کے اخبارات اور ٹیوی اور ریڈیوز نے اس ہولناک خبر کو شائع کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایک بار پھر پاکستانی کمونٹی کے بارے میں منفی بیانات سامنے آرہے ہیں ۔

صنا چمیہ کی عمر 25 سال تھی اور کافی سالوں سے اٹلی کے شمالی شہر بریشیا میں اپنے والدین کے ساتھ آباد تھی ۔ اس نے یہیں سے تعلیم حاصل کی تھی اور اب ایک لائسنس بنانے والی ایجنسی میں کام کر رہی تھی ۔ اسکے والدین نے اٹالین پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد جرمنی جانے کا فیصلہ کیا تھا اور اب وہیں آباد تھے۔ کہا جاتا ہے کہ سنا ایک اٹالین سے شادی کرنا چاہتی تھی اور اسکے گھر والے اس کے فیصلے کے خلاف تھے ۔ صنا کے اٹالین دوستوں اور ایجنسسی والوں نے بتایا کہ وہ ہنس مکھ اور ہمدرد لڑکی تھی اور سب سے اخلاق سے پیش آتی تھی ۔ اس کیس کی تفتیش میں اٹالین ایمبیسی اسلام آباد بھی اپنا کردار ادا کرے گی ۔ 

alt

صنا چیمہ گزشتہ 2 ماہ سے پاکستان کے شہر گجرات گئی ہوئی تھی ، جیسا کہ وہ اکثر جایا کرتی تھی لیکن اس بار اسکا آخری سفر تھا ۔ اسی عرصے میں اسکا والد اور بھائی بھی جو کہ جرمنی میں آباد تھے، گجرات آئے ہوئے تھے ۔ انہوں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنی عزت کے نام پر سنا کو قتل کر دیا ۔ گجرات پولیس نے ان دونوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔ یاد رہے کہ صنا کے پاس اٹالین پاسپورٹ تھا اور جرمنی جانے کے لیے تیار نہیں تھی۔ 

alt

یاد رہے کہ 2006 میں اسی شہر کی ایک پاکستانی لڑکی حنا سلیم کو اسکے والد اور بہنوئی نے قتل کردیا تھا ۔ اسی طرح بلونیا کے قریبی گاؤں میں چند سال قبل شہناز بیگم کو اسکے خاوند اور بھائی نے قتل کر دیا تھا اور اسی کیس میں نوشین بٹ یعنی شہناز بیگم کی بیٹی بھی بری طرح زخمی ہوگئی تھی اور کئی دن بیہوش رہنے کے بعد حوش میں آئی تھی ۔ اب اسی سال مچیراتا شہر کے ایک گاؤں میں ایک پاکستانی نے اپنی 19 سالہ بیٹی کو ازکا ریاض کو قتل کر دیا ہے ، جسکی تفتیش ابھی ہو رہی ہے کیونکہ ازکا کے والد نے کہا ہے کہ یہ کار ایکسیڈنٹ میں مری تھی ۔

تصویر میں صنا اور اسکا والد 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 21 اپریل 2018 17:22

لیبیا سے اٹلی آنے والی کشتی ڈوب گئی، 90 پاکستانی ہلاک

 

 

2 فروری ۔۔۔۔ تارکین وطن کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن اوئم کی ڈائریکٹر ہوئیدن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لیبیا کے شہر زوارا سے اٹلی کی طرف سفر کرنے والی کشتی ڈوب گئی ہے اور اس میں 90 غیر ملکی ہلاک ہوئے ہیں اور چند جو تیر کر ساحل پر پہنچے ہیں ، انہوں نے بتایا ہے کہ کشتی میں تمام تارکین وطن پاکستانی تھے ۔ ساحل پر آنے والی 10 لاشوں میں سے 8 پاکسانیوں کی ہیں اور 2 لیبیا کے شہری ہیں ۔ اوئم کے عملے نے بتایا کہ لیبیا سے 2018 میں کافی پاکستانی غیر قانونی طور پراٹلی آنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جنوری 2017 میں صرف 9 پاکستانی لیبیا سے اٹلی آئے تھے اور جنوری 2018 میں 246 پاکستانی لیبیا سے اٹلی پہنچے ہیں ۔ سردیوں میں موسم کافی خراب ہو جاتا ہے اور کشتی کے الٹنے کے مواقع بھی بڑہ جاتے ہیں ۔ ڈوبنے والی کشتی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ایجنٹوں نے کمائی کی خاطر اس کی گنجائش سے زیادہ غیر ملکی بٹھا دیے تھے، اس لیے یہ الٹ کرڈوب گئی ہے ۔ 2017 میں لیبیا سے 3138 پاکستانی غیر قانونی طور پر سسلی کے سمندر سے اٹلی پہنچے تھے ۔ بقلم اعجاز احمد

 

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 04 فروری 2018 20:35

میلان میں ہومانیتاس یونیورسٹی کا افتتاح اور ایک پاکستانی لڑکی کی کامیابی

 

14 نومبر 2017 ۔۔۔۔ آج بروز منگل میلان میں ہومانیتاس یونیورسٹی کے کیمپس کا افتتاح اٹلی کے صدر سیرجو متاریلا نے کیا ۔ اس موقع پر ملک کے وزرا ، علاقائی سیاسی لیڈران اور سول سوسائٹی کی مشہور و معروف شخصیات موجود تھیں ۔ صدر مملکت عام طور پر کسی پرا‏‏ئیویٹ یونیورسٹی کا افتتاح کرنے کے لیے تشریف نہیں لاتے ، اس لیے یہ ایک اہم موقع تھا ۔ اسی یونیورسٹی میں ایک پاکستانی لڑکی جویرا علی بھی سال چہارم کی طالبہ ہیں۔ میلانو کے میئر جوزپے سالا نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہومانیتاس یونیورسٹی صرف ایک عام یونیورسٹی نہیں ہے بلکہ ایک اہم ریسرچ سنٹر، ہسپتال اور بین الاقوامی درس گاہ کے طور پر ابھر رہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسکے افتتاح کے لیے صدر مملکت خود تشریف لائے ہیں ۔ میئر نے کہا کہ ہمارے شہر میں 13 ہزار غیر ملکی اسٹوڈنٹس تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ غیر ملکی اس شہر کو اپنا شہر سمجھتے ہیں ۔

صدر مملکت نے اپنی تقریر میں کہا کہ ریسرچ دنیا کی تقدیر بدل رہی ہے ۔ آپ میری عمر ہی دیکھ لیں، یہ سب سا‏ئنس کی ترقی کی بدولت ہے ورنہ میری عمر کے لوگ پہلے اتنے صحت مند نہیں ہوتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میلانو اٹلی کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس شہر میں ترقی یافتہ ، جدید اور ڈیجیٹل انڈسٹری فروغ پا رہی ہے ۔ صدر کی تقریر کے بعد مختلف مقررین نے اس جدید یونیورسٹی کے بارے میں روشنی ڈالی۔ یونیورسٹی کی تقریب کے دوران صرف ایک اسٹوڈنٹ نے صدر مملکت اٹلی کے سامنے تقریر کی اور وہ ہماری پاکستانی لڑکی جویرا علی تھیں ۔ جویرا نے کہا کہ میرے دادا چاہتے تھے کہ میں ڈاکٹر بنو ۔ میں نے سکول اور کالج میں اچھی پوزیشن حاصل کی اور اسکے بعد اس یونیورسٹی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی ۔ یہاں تمام پروفیسر اور سٹاف ہم سے محبت کرتے ہیں ، میں چوتھے سال میں ہوں اور جلد تعلیم مکمل کرنے کے بعد عورتوں کی اسپیشلسٹ بننے کا خواب دیکھتی ہوں ۔ میں امید پرست ہوں اور اپنا اور اپنے یونیورسٹی فیلو کا مستقبل روشن تصورکرتی ہوں ۔ جویرا علی کے والد نعمت علی کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور وہ ریجو امیلیا شہر میں بزنس کرتے ہیں ۔ دونوں والدین اس عظیم الشان تقریب میں موجود تھے اور اپنی بیٹی پر فخر کرتے نظر آرہے تھے ۔  اسکے بعد ہومانیتاس یونیورسٹی کے پروفیسروں نے حاضرین کو بتایا کہ دنیا کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اسکے شہری بھی صحت مند ہوں ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم کینسر کا علاج تلاش کریں ۔ دنیا میں موٹاپاپن بڑہ رہا ہے، دنیا کے کافی ملکوں میں شہری اچھی خوراک نہیں کھا پاتے اور کمزور ہوتے جا رہے ہیں ۔ ہم نے دل کی کافی بیماریوں پر عبور حاصل کر لیا ہے ۔ ہمارے ہسپتال میں 80 فیصد مریض سرکاری سسٹم کے زریعے علاج کروانے کے لیے آتے ہیں ۔ پورے اٹلی اور دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ ہمارے پاس اس لیے آتے ہیں کیونکہ ہمارے علاج کا سسٹم انتہائی جدید اور میسر ہے ۔ ہماری یونیورسٹی میں 12 سو زائد اسٹوڈنٹس ہیں اور ان ميں سے 44 فیصد غیر ملکی ہیں ۔ ہم نے ایک لا‏ئبریری، ریسرچ سنٹر اور کانفرنس ہال تعمیر کیا ہے اور اب ایک نیا کیمپس بھی بنا رہے ہیں ۔ ہمارے ہاں میڈیکل تعلیم کے علاوہ ریسرچر بھی دنیا کے مختلف ممالک سے آتے ہیں ۔ ہماری یونیورسٹی میں انگلش زبان میں تعلیم فراہم کی جاتی ہے اور اسکے علاوہ اٹالین بھی سکھائی جاتی ہے ۔ میلانو شہر اٹلی کا انتہائی خوبصورت شہر ہے ، جس میں جھیلیں، قدیم عمارات، ڈیزائن اور فیشن کی فرمیں موجود ہیں ۔ غیر ملکی اسٹوڈنٹس یہاں بہت خوش رہتے ہیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمارے کلچر سے بھی متعارف ہوتے ہیں ۔ اگر آپ اٹلی میں میڈیکل تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنا چاہتے ہیں تو ہومانیتاس یونیورسٹی آپکے لیے آ‏‏ئیڈیل ثابت ہو سکتی ہے ، اسکی سالانہ فیس 20 ہزار یورو کے لگ بھگ ہے لیکن اسکے وظیفے 6 سے 12 ہزار یورو تک دیے جاتے ہیں ، اس یونیورسٹی کے پروفیسر اٹلی کے مشہور پروفیسر ۔ ان میں سے دو پروفیسر نوبل پرائز ہیں ۔ یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے آپ انکی انٹرنیٹ کی سا‏ئٹ سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔

 

Humanitas University

Via Rita Levi Montalcini, 4, 20090 Pieve Emanuele Milano, Italy

www.hunimed.eu, Telephone: 0039-0282243777, یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

 

 

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 27 جنوری 2018 13:04

خواتین و حضرات

 

کافی مدت بعد ہم آزاد کو دوبارہ شروع کر رہے ہیں ۔ ہماری کوشش ہو گی کہ آپ کو وہ تمام معلومات فراہم کی جائیں جو کہ کسی طرح آپکے لیے سود مند ثابت ہو سکتی ہیں ۔ اعجاز احمد 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com