Sunday, Apr 22nd

Last update07:39:43 PM GMT

RSS

بریشیا کی صنا چیمہ کو اسکے والد اور بھائی نے قتل کر دیا

 

21 اپریل 18 ۔۔۔۔ آج اٹلی کے شمالی شہر کے اٹالین اخبار بریشیا اوجی نے خبر دی ہے کہ صنا چیمہ کو اسکے والد اور بھائی نے قتل کر دیا ہے ۔ پورے اٹلی کے اخبارات اور ٹیوی اور ریڈیوز نے اس ہولناک خبر کو شائع کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایک بار پھر پاکستانی کمونٹی کے بارے میں منفی بیانات سامنے آرہے ہیں ۔

صنا چمیہ کی عمر 25 سال تھی اور کافی سالوں سے اٹلی کے شمالی شہر بریشیا میں اپنے والدین کے ساتھ آباد تھی ۔ اس نے یہیں سے تعلیم حاصل کی تھی اور اب ایک لائسنس بنانے والی ایجنسی میں کام کر رہی تھی ۔ اسکے والدین نے اٹالین پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد جرمنی جانے کا فیصلہ کیا تھا اور اب وہیں آباد تھے۔ کہا جاتا ہے کہ سنا ایک اٹالین سے شادی کرنا چاہتی تھی اور اسکے گھر والے اس کے فیصلے کے خلاف تھے ۔ صنا کے اٹالین دوستوں اور ایجنسسی والوں نے بتایا کہ وہ ہنس مکھ اور ہمدرد لڑکی تھی اور سب سے اخلاق سے پیش آتی تھی ۔ اس کیس کی تفتیش میں اٹالین ایمبیسی اسلام آباد بھی اپنا کردار ادا کرے گی ۔ 

alt

صنا چیمہ گزشتہ 2 ماہ سے پاکستان کے شہر گجرات گئی ہوئی تھی ، جیسا کہ وہ اکثر جایا کرتی تھی لیکن اس بار اسکا آخری سفر تھا ۔ اسی عرصے میں اسکا والد اور بھائی بھی جو کہ جرمنی میں آباد تھے، گجرات آئے ہوئے تھے ۔ انہوں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنی عزت کے نام پر سنا کو قتل کر دیا ۔ گجرات پولیس نے ان دونوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔ یاد رہے کہ صنا کے پاس اٹالین پاسپورٹ تھا اور جرمنی جانے کے لیے تیار نہیں تھی۔ 

alt

یاد رہے کہ 2006 میں اسی شہر کی ایک پاکستانی لڑکی حنا سلیم کو اسکے والد اور بہنوئی نے قتل کردیا تھا ۔ اسی طرح بلونیا کے قریبی گاؤں میں چند سال قبل شہناز بیگم کو اسکے خاوند اور بھائی نے قتل کر دیا تھا اور اسی کیس میں نوشین بٹ یعنی شہناز بیگم کی بیٹی بھی بری طرح زخمی ہوگئی تھی اور کئی دن بیہوش رہنے کے بعد حوش میں آئی تھی ۔ اب اسی سال مچیراتا شہر کے ایک گاؤں میں ایک پاکستانی نے اپنی 19 سالہ بیٹی کو ازکا ریاض کو قتل کر دیا ہے ، جسکی تفتیش ابھی ہو رہی ہے کیونکہ ازکا کے والد نے کہا ہے کہ یہ کار ایکسیڈنٹ میں مری تھی ۔

تصویر میں صنا اور اسکا والد 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 21 اپریل 2018 17:22

لیبیا سے اٹلی آنے والی کشتی ڈوب گئی، 90 پاکستانی ہلاک

 

 

2 فروری ۔۔۔۔ تارکین وطن کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن اوئم کی ڈائریکٹر ہوئیدن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لیبیا کے شہر زوارا سے اٹلی کی طرف سفر کرنے والی کشتی ڈوب گئی ہے اور اس میں 90 غیر ملکی ہلاک ہوئے ہیں اور چند جو تیر کر ساحل پر پہنچے ہیں ، انہوں نے بتایا ہے کہ کشتی میں تمام تارکین وطن پاکستانی تھے ۔ ساحل پر آنے والی 10 لاشوں میں سے 8 پاکسانیوں کی ہیں اور 2 لیبیا کے شہری ہیں ۔ اوئم کے عملے نے بتایا کہ لیبیا سے 2018 میں کافی پاکستانی غیر قانونی طور پراٹلی آنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جنوری 2017 میں صرف 9 پاکستانی لیبیا سے اٹلی آئے تھے اور جنوری 2018 میں 246 پاکستانی لیبیا سے اٹلی پہنچے ہیں ۔ سردیوں میں موسم کافی خراب ہو جاتا ہے اور کشتی کے الٹنے کے مواقع بھی بڑہ جاتے ہیں ۔ ڈوبنے والی کشتی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ایجنٹوں نے کمائی کی خاطر اس کی گنجائش سے زیادہ غیر ملکی بٹھا دیے تھے، اس لیے یہ الٹ کرڈوب گئی ہے ۔ 2017 میں لیبیا سے 3138 پاکستانی غیر قانونی طور پر سسلی کے سمندر سے اٹلی پہنچے تھے ۔ بقلم اعجاز احمد

 

alt

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 04 فروری 2018 20:35

میلان میں ہومانیتاس یونیورسٹی کا افتتاح اور ایک پاکستانی لڑکی کی کامیابی

 

14 نومبر 2017 ۔۔۔۔ آج بروز منگل میلان میں ہومانیتاس یونیورسٹی کے کیمپس کا افتتاح اٹلی کے صدر سیرجو متاریلا نے کیا ۔ اس موقع پر ملک کے وزرا ، علاقائی سیاسی لیڈران اور سول سوسائٹی کی مشہور و معروف شخصیات موجود تھیں ۔ صدر مملکت عام طور پر کسی پرا‏‏ئیویٹ یونیورسٹی کا افتتاح کرنے کے لیے تشریف نہیں لاتے ، اس لیے یہ ایک اہم موقع تھا ۔ اسی یونیورسٹی میں ایک پاکستانی لڑکی جویرا علی بھی سال چہارم کی طالبہ ہیں۔ میلانو کے میئر جوزپے سالا نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہومانیتاس یونیورسٹی صرف ایک عام یونیورسٹی نہیں ہے بلکہ ایک اہم ریسرچ سنٹر، ہسپتال اور بین الاقوامی درس گاہ کے طور پر ابھر رہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسکے افتتاح کے لیے صدر مملکت خود تشریف لائے ہیں ۔ میئر نے کہا کہ ہمارے شہر میں 13 ہزار غیر ملکی اسٹوڈنٹس تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ غیر ملکی اس شہر کو اپنا شہر سمجھتے ہیں ۔

صدر مملکت نے اپنی تقریر میں کہا کہ ریسرچ دنیا کی تقدیر بدل رہی ہے ۔ آپ میری عمر ہی دیکھ لیں، یہ سب سا‏ئنس کی ترقی کی بدولت ہے ورنہ میری عمر کے لوگ پہلے اتنے صحت مند نہیں ہوتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میلانو اٹلی کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس شہر میں ترقی یافتہ ، جدید اور ڈیجیٹل انڈسٹری فروغ پا رہی ہے ۔ صدر کی تقریر کے بعد مختلف مقررین نے اس جدید یونیورسٹی کے بارے میں روشنی ڈالی۔ یونیورسٹی کی تقریب کے دوران صرف ایک اسٹوڈنٹ نے صدر مملکت اٹلی کے سامنے تقریر کی اور وہ ہماری پاکستانی لڑکی جویرا علی تھیں ۔ جویرا نے کہا کہ میرے دادا چاہتے تھے کہ میں ڈاکٹر بنو ۔ میں نے سکول اور کالج میں اچھی پوزیشن حاصل کی اور اسکے بعد اس یونیورسٹی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی ۔ یہاں تمام پروفیسر اور سٹاف ہم سے محبت کرتے ہیں ، میں چوتھے سال میں ہوں اور جلد تعلیم مکمل کرنے کے بعد عورتوں کی اسپیشلسٹ بننے کا خواب دیکھتی ہوں ۔ میں امید پرست ہوں اور اپنا اور اپنے یونیورسٹی فیلو کا مستقبل روشن تصورکرتی ہوں ۔ جویرا علی کے والد نعمت علی کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور وہ ریجو امیلیا شہر میں بزنس کرتے ہیں ۔ دونوں والدین اس عظیم الشان تقریب میں موجود تھے اور اپنی بیٹی پر فخر کرتے نظر آرہے تھے ۔  اسکے بعد ہومانیتاس یونیورسٹی کے پروفیسروں نے حاضرین کو بتایا کہ دنیا کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اسکے شہری بھی صحت مند ہوں ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم کینسر کا علاج تلاش کریں ۔ دنیا میں موٹاپاپن بڑہ رہا ہے، دنیا کے کافی ملکوں میں شہری اچھی خوراک نہیں کھا پاتے اور کمزور ہوتے جا رہے ہیں ۔ ہم نے دل کی کافی بیماریوں پر عبور حاصل کر لیا ہے ۔ ہمارے ہسپتال میں 80 فیصد مریض سرکاری سسٹم کے زریعے علاج کروانے کے لیے آتے ہیں ۔ پورے اٹلی اور دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ ہمارے پاس اس لیے آتے ہیں کیونکہ ہمارے علاج کا سسٹم انتہائی جدید اور میسر ہے ۔ ہماری یونیورسٹی میں 12 سو زائد اسٹوڈنٹس ہیں اور ان ميں سے 44 فیصد غیر ملکی ہیں ۔ ہم نے ایک لا‏ئبریری، ریسرچ سنٹر اور کانفرنس ہال تعمیر کیا ہے اور اب ایک نیا کیمپس بھی بنا رہے ہیں ۔ ہمارے ہاں میڈیکل تعلیم کے علاوہ ریسرچر بھی دنیا کے مختلف ممالک سے آتے ہیں ۔ ہماری یونیورسٹی میں انگلش زبان میں تعلیم فراہم کی جاتی ہے اور اسکے علاوہ اٹالین بھی سکھائی جاتی ہے ۔ میلانو شہر اٹلی کا انتہائی خوبصورت شہر ہے ، جس میں جھیلیں، قدیم عمارات، ڈیزائن اور فیشن کی فرمیں موجود ہیں ۔ غیر ملکی اسٹوڈنٹس یہاں بہت خوش رہتے ہیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمارے کلچر سے بھی متعارف ہوتے ہیں ۔ اگر آپ اٹلی میں میڈیکل تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنا چاہتے ہیں تو ہومانیتاس یونیورسٹی آپکے لیے آ‏‏ئیڈیل ثابت ہو سکتی ہے ، اسکی سالانہ فیس 20 ہزار یورو کے لگ بھگ ہے لیکن اسکے وظیفے 6 سے 12 ہزار یورو تک دیے جاتے ہیں ، اس یونیورسٹی کے پروفیسر اٹلی کے مشہور پروفیسر ۔ ان میں سے دو پروفیسر نوبل پرائز ہیں ۔ یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے آپ انکی انٹرنیٹ کی سا‏ئٹ سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔

 

Humanitas University

Via Rita Levi Montalcini, 4, 20090 Pieve Emanuele Milano, Italy

www.hunimed.eu, Telephone: 0039-0282243777, یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

 

 

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 27 جنوری 2018 13:04

خواتین و حضرات

 

کافی مدت بعد ہم آزاد کو دوبارہ شروع کر رہے ہیں ۔ ہماری کوشش ہو گی کہ آپ کو وہ تمام معلومات فراہم کی جائیں جو کہ کسی طرح آپکے لیے سود مند ثابت ہو سکتی ہیں ۔ اعجاز احمد 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

محمد شہزاد خان کے قاتل کو 21 سال کی قیدکا فیصلہ

‎‎‎

7 دسمبر 15 ۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ گزشتہ 18 ستمبر کی رات کو نہتے محمد شہزاد اٹلی کے دارالخلافہ روم کے ایک علاقے تور پنیاتارا میں اٹالین باپ بیٹے نے وحشیانہ طور پر قتل کردیا گیا تھا ۔ یہ واقع تورپنیا تارے کی گلی Via Ludovico Pavoni  میں رات پونے بارہ بجے کے قریب پیش آیا ۔ جائے وقوع پر پولیس پہنچ گئی اور انہوں نے قاتلوں کو گرفتار کرلیا ۔ بقلم خود نے  اس محلے کا وزٹ کیا اور لوگوں سے بات چیت کی ۔ محمد شہزاد خان کا تعلق آزاد کشیمر کے گاؤں باغ سے تھا اور اسکی عمر 28 سال تھی ۔ محمد شہزاد روم کی مشہور و معروف شخصیت  ممحمد عزیز خان کا کزن تھا اور اٹلی میں گزشتہ 4 سالوں سے مقیم تھا ۔ محمد شہزاد کے پاس پرمیسو دی سوجورنو تھی اور کبھی کبھار پاکستانی ریسٹورنٹوں میں کام بھی کرتا رہا تھا ۔ اب چند ماہ سے شہزاد بے روزگار تھا اور پریشان حال تھا ۔ اس نے کچھ عرصہ قبل پاکستان میں جا کر شادی کی تھی اور اسکا کا بیٹا بھی تھا ۔ 18 ستمبر کی رات وہ اس خونی گلی میں گاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ  پاکستانی ہے اور مسلمان ہے ۔ اسی اثنا میں ایک سترہ سالہ اٹالین اسکے پاس آیا اور اس نے کہا تم کیا گا رہے ہو ۔ شہزاد نے دوبارہ یہی گانا شروع کردیا کہ وہ پاکستانی ہے اور مسلمان ہے ۔ اس بات پر یہ اٹالین ناراض ہو گیا اور اس نے اسے مارنا پیٹنا شروع کردیا ۔ اسکے بعد اس اٹالین لڑکے کا والد بھی آگیا اور اس نے بھی اسے مارنے کے لیے کہا ۔ گلی کی دوسری منزل سے ایک اٹالین نے آواز دی کہ اس غریب کو مت مارو تو لڑکے کے والد نے اسکے دروازے پر لات مارتے ہوئے کہا کہ اگر تم خاموش نہیں رہو گے تو ہم تمہیں بھی مار دیں گے ۔ دور سے بنگالی لڑکے دوڑتے ہوئے آئے لیکن بہت دیر ہو چکی تھی ۔ محمد شہزاد اس وحشی دنیا کو چھوڑ کر اپنے  محبوب سے جا ملا تھا ۔ اسکے بعد بنگالی لڑکوں نے ثقلین علی کے کباب پر جا کر اطلاع دی تو فوری طور پر ثقلین ، چوہدردی شبیر امرے والا، راؤف خان جائے وقوع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ایمبیسی آف پاکستان روم کے افسر احمد فاروق کو بھی بلا لیا ۔ ساری رات لاش وہاں پڑی رہی اور باپ بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اٹالین اخبارات اور ٹیوی نے یہ خبر دی ہے کہ یہ کیس نسل پرستی کا نہیں ہے اور محمد شہزاد کو اٹالین کمسن  لڑکے نے اس لیے قتل کیا ہے کیونکہ اس نے اسکے منہ پر تھوک پھینکی تھی اور یہ نشے میں تھا ۔ حقیقت کو چھپا دیا گیا ہے اورمحمد شہزاد کو ایک پاگل اور ظالم انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔

اب ایک سال کی تاریخوں کے بعد عدالت اعلی نے 12 ججوں کی موجودگی میں قاتل کے باپ کو 21 سال کی قید کا فیصلہ سنا دیا ہے ۔ محمد شہزاد خان کے قتل کی پیروائی اسکے کزن محمد عزیز خان نے کی ہے ۔ محمد عزیز خان شہزاد کو اٹلی لیکر آئے تھے اور انہوں نے اسکی سوجورنو وغیرہ بنوائی تھی ۔ محمد عزیز اب انگلینڈ میں آباد ہیں لیکن وہ شہزاد کے کیس کے لیے اکثر اٹلی آتے رہے ہیں ۔ محمد عزیز خان نے بتایا کہ شہزاد کے قتل کے بعد انکے خاندان والے سخت پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں اور انکے مالی حالات بھی کافی خراب ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اٹالین انصاف کے اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، جنہوں نے شہزاد کے قاتل کو اصل سزا سنائی ہے ۔ محمد عزیز نے کہا کہ انہوں نے انگلینڈ میں اپنا کاروبار خراب کرنے کے باوجود کیس کی پیروائی کی ہے اور انصاف حاصل کیا ہے ۔ آج جب عدالت نے قاتل کے والد ماسی ملیانو کو 21 سال کی سزا سنائی تو اس بدمعاش خاندان نے عدالت کی کرسیاں توڑنی شروع کردیں اور ججوں گالیاں دیں ۔ انہوں نے مجھے بھی مارنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مجھے عدالت کے پچھلے دروازے سے نکال کر اپنی گاڑی میں بٹھا کر وہاں سے باحفاظت نکال لیا ۔

عدالت نے گزشتہ دنوں قاتل دانیل کو بھی 8 سال کی قید سنائی تھی لیکن بعد میں اسے ایک ایسے سنٹر میں روانہ کر دیا تھا ، جہاں اسے تعلیم و تربیت دی جائے گی ۔ یاد رہے کہ اٹلی میں کم سن کو جیل کی قید نہیں دی جاتی ۔ اصل قاتل اسکا والد ہے کیونکہ اس نے بیٹے کو اکسایا تھا اور ثبوت چھپانے کے لیے اسکے کپڑے اور جوتے بھی پولیس کے پہنچنے سے قبل تبدیل کروا دیے تھے ۔ تصویر میں مرحوم محمد شہزاد اور اسکے کزن محمد عزیزخان اپنے دوستوں کے ہمراہ 

 

 

 

                                                                                                                

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 15 دسمبر 2015 20:33