Tuesday, Mar 02nd

Last update06:26:21 PM GMT

RSS

اٹلی کے پاکستانیوں کی دکھ بھری پنجابی نظم

 

ہاں کسی لحاظ سے یہ سچ بھی ہے لیکن ہماری کہانی کچھ اس دورے سے ملتی جلتی ہے ۔ ایک شخص پاگل خانے کا دورہ کرنے گیا تو ایک کمرے میں ایک پاگل اس لیے رو رہا تھا کہ اس کی شادی شبنم سے ہوئی تھی ۔ جب یہ شخص دوسرے کمرے کا وزٹ کرنے گیا تو وہاں بھی ایک شخص رو رہا تھا ۔ اس نے سوال کیا تم کیوں رو رہے ہو ۔ اس پاگل نے جواب دیاکہ میں شبنم سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ اس لیے دوستو ، جو یورپ کی طرف بھاگتا ہے ، وہ بھی روتا ہے اور جو پاکستان میں رہ جاتا ہے ، وہ بھی یہی سمجھ کر روتا رہتا ہے کہ شاید یورپ شبنم ہے ۔ خیر یہ نظم ضرور سنیں ۔

نظم سننے کے لیے      

یہاں کلک کریں

     

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم ایمبیسی میں شام سوگ کا اہتمام

18 دسمبر 2014 ۔۔۔۔۔ آج شام روم ایمبیسی میں شام سوگ کا اہتمام کیا گیا ۔ 16 دسمبر کی صبح کو پشاور میں ہونے والے المناک دہشت گردی کے واقع کی مذمت کرنے کے لیے روم میں موجود ہمارے سفارت خانے میں شام سوگ منایا گیا ۔ شام چار بجے کے قریب قرآن خوانی کروائی گئی اور اسکے بعد سفارت خانے کے صحن میں 145 شہیدوں کی یاد میں 145 شمعیں روشن کی گئیں ۔ ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ کی آنکھیں نم تھیں اور ہر پاکستانی اور غیر ملکی جو وہاں موجود تھا ، انتہائی غم و صدمے کا اظہار کر رہا تھا ۔ ایمبیسی کے سیکنڈ سیکرٹری  عامر سعید نے مائیک تھامتے ہوئے سب سے پہلے کرسچن کمونٹی کے صدر سرور بھٹی کے دعوت دی کہ وہ المناک سانحہ پشاور پر اپنا اظہار خیال کریں ۔ اسکے بعد مسیحی پادری پاسچر اعظم خان نے اپنے مذہب کے مطابق شہید ہونے والے بچوں کی یاد میں اور انکے خاندان والوں کے لیے دعا کی ۔ اسکے بعد پاکستان فیڈریشن کے صدر چوہدری بشیر امرے والا نے غم و دکھ اور غصے کا اظہار کیا ۔ ڈپٹی ہائی کمشنر اشتیاق عاقل نے شہید ہونے والے بچوں کے لیے دعا کی ۔ آخر میں ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ نے غیر ملکی مہمانان گرامی کے احترام کے لیے اردو کی بجائے انگریزی میں تقریر کی اور کہا کہ میں عورت ہوں اور ان ماؤں کے بارے میں جانتی ہوں جنکے بچے شہید ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تین دنوں سے پورے اٹلی سے لوگ افسوس کرنے کے لیے ایمبیسی میں آرہے ہیں ۔ یاد رہے کہ پشاور کے واقع نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور پاکستان کے ہر علاقے میں سوگ منایا جا رہا ہے ۔ موم بتیاں جلائی جا رہی ہیں اور مسجدوں میں دعائے مغفرت کروائی جا رہی ہے ۔ سفارت خانے میں سینکڑوں پاکستانیوں نے شرکت کی ۔ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم میں محمد شہزاد کو وحشیانہ طور پر قتل کردیا گیا

روم۔ 19 ستمبر 2014 ۔۔۔۔ تحریر ، اعجاز احمد ۔ کل رات اٹلی کے دارالخلافہ روم کے ایک علاقے تور پنیاتارا میں اٹالین باپ بیٹے نے محمد شہزاد کو وحشیانہ طور پر قتل کردیا گیا ہے ۔ یہ واقع تورپنیا تارے کی گلی Via Ludovico Pavoni  میں رات پونے بارہ بجے کے قریب پیش آیا ۔ جائے وقوع پر پولیس پہنچ گئی اور انہوں نے قاتلوں کو گرفتار کرلیا ۔ بقلم خود نے آج اس محلے کا وزٹ کیا اور لوگوں سے بات چیت کی ۔ محمد شہزاد خان کا تعلق آزاد کشیمر کے گاؤں باغ سے تھا اور اسکی عمر 28 سال تھی ۔ محمد شہزاد روم کے انڈین پاکستانی کھانوں کے مشہور باورچی محمد عزیز کا کزن تھا اور اٹلی میں گزشتہ 4 سالوں سے مقیم تھا ۔ محمد شہزاد کے پاس پرمیسو دی سوجورنو تھا اور کبھی کبھار پاکستانی ریسٹورنٹوں میں کام بھی کرتا رہا تھا ۔ اب چند ماہ سے شہزاد بے روزگار تھا اور پریشان حال تھا ۔ اس نے کچھ عرصہ قبل پاکستان میں جا کر شادی کی تھی اور اسکا 5 ماہ کا بیٹا بھی تھا ۔ دوستوں کی گواہی کے مطابق شہزاد واپس پاکستان جانے کی خواہش ظاہر کرتا تھا لیکن اسکے مالی حالات کافی خراب تھے ۔ ایک سنٹر میں رہتا تھا اور سڑک پر چند چیزیں بیچ کر گزارا کرتا تھا ۔ کل رات وہ اس خونی گلی میں گاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ  پاکستانی ہے اور مسلمان ہے ۔ اسی اثنا میں ایک سترہ سالہ اٹالین اسکے پاس آیا اور اس نے کہا تم کیا گا رہے ہو ۔ شہزاد نے دوبارہ یہی گانا شروع کردیا کہ وہ پاکستانی ہے اور مسلمان ہے ۔ اس بات پر یہ اٹالین ناراض ہو گیا اور اس نے اسے مارنا پیٹنا شروع کردیا ۔ اسکے بعد اس اٹالین لڑکے کا والد بھی آگیا اور اس نے بھی اسے مارنا شروع کردیا ۔ گلی کی دوسری منزل سے ایک اٹالین نے آواز دی کہ اس غریب کو مت مارو تو لڑکے کے والد نے اسکے دروازے پر لات مارتے ہوئے کہا کہ اگر تم خاموش نہیں رہو گے تو ہم تمہیں بھی مار دیں گے ۔ دور سے بنگالی لڑکے دوڑتے ہوئے آئے لیکن بہت دیر ہو چکی تھی ۔ محمد شہزاد اس وحشی دنیا کو چھوڑ کر اپنے پیارے محبوب سے جا ملا تھا ۔ اسکے بعد بنگالی لڑکوں نے ثقلین علی کے کباب پر جا کر اطلاع دی تو فوری طور پر ثقلین ، چوہدردی شبیر امرے والا، راؤف خان جائے وقوع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ایمبیسی آف پاکستان روم کے افسر احمد فاروق کو بھی بلا لیا ۔ ساری رات لاش وہاں پڑی رہی اور باپ بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اٹالین اخبارات اور ٹیوی نے یہ خبر دی ہے کہ یہ کیس نسل پرستی کا نہیں ہے اور محمد شہزاد کو اٹالین کمسن لڑکے نے اس لیے قتل کیا ہے کیونکہ اس نے اسکے منہ پر تھوک پھینکی تھی اور یہ نشے میں تھا ۔ حقیقت کو چھپا دیا گیا ہے اورمحمد شہزاد کو ایک پاگل اور ظالم انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ میں تمام اہل وطن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ محمد شہزاد کو اپنا بیٹا یا بھائی سمجھ کر اسکے کیس کی پیروائی کریں اور سچائی کو سامنے لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔ تصویر میں محمد شہزاد خان

سراہنے شہزاد کے آہستہ بولو

ابھی سوگیا ہے روتے روتے

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 19 ستمبر 2014 20:28

پسکارا میں کیلاش تہذیب کی نمائش کا اہتمام

13 جولائی 2014 ۔۔۔۔ اٹلی کے ریجن ابروسو میں پسکارا Pescaraشہر کے نواح Atriمیں کیلاش تہذیب کی نمائش کا اہتمام کیا جا رہا ہے ۔ اس نمائش میں کیلاش کلچر کے علاوہ پاکستانی مصوروں کے شاہکار بھی رکھے گئے ہیں اور 10 جولائی کو اس نمائش کا افتتاح پاکستانی سفارتکارہ تہمینہ جنجوعہ نے کردیا ہے ۔ اس نمائش کے دوران آتری گاؤں میں ہمارے پاکستانی مصور مختلف دنوں میں تشریف لائیں گے اور باہمی ثقافتی تعلقات کو فروغ ملے گا

18 جولائی 2014 کے روز کیلاش تہذیب پرروشنی ڈالنے کے لیے شام 6 بجے آتری گاؤں میں ایک کا نفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے ، جس میں مشہور پروفیسر البیرتو کاکو پاردو اور بقلم خود اعجاز احمد کیلاش قوم کی تاریخ، تمدن، روایات، مذہب اور زبان پر بحث کریں گے ۔ اٹلی میں موجود پاکستانیوں کو عام دعوت دی جاتی ہے اور خاص طور پر مارکے اور پسکارا شہر کے قریب رہنے والے ہم وطنوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ضرور تشریف لائیں اور محفل کو بارونق بنانے میں اہم کردار ادا کریں ۔ نمائش میں تشریف لانے کے لیے آپ ایڈریس نوٹ فرمائیں ۔ پسکارا کے نواح میں گاؤں آتری ہے اور یہاں یہ نمائش اور کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے ۔ Teatro Comunale di Atri

اسی گا‎ؤں میں 6 ستمبر کے روز پروفیسر اولی ویری وادی سوات کی تہذیب پر روشنی ڈالیں گے اور اپنے منصوبے کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے ۔ پروفیسر اولی ویری بلونیا یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں اور پاکستان میں سوات ویلی میں کھدائی کا کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وادی میں سقندر اعظم کے آثار ملے ہیں اور یہاں بدہ مت تہذیب کے علاوہ ایسی قبریں بھی تلاش کی گئی ہیں ، جو کہ دنیا کی تاریخ سمجھنے کے لیے کافی مددگار ثابت ہوں گی ۔

اسی گا‎ؤں میں 10 ستمبر کے روزشام 6 بجے کیلاش تہذیب اور وادی کی تصویری نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے،  جس میں فوٹو گرافر فبریسیو اپنے شاہکار پیش کریں گے اور اپنے منصوبے کے بارے میں اور کیلاش وادی کے بارے میں اپنے خیالات پر روشنی ڈالیں گے ۔ مزید معلومات کے لیے آپ میزبان فاؤنڈیشن کے ایڈریس کو نوٹ فرمائیں ۔ www.stillsofpeace.com

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سوکس ایجوکیشن کی گائیڈ

 

پیارے بہن بھائیو، میں نے وزارت داخلہ کی انٹیگریشن کی گائیڈ کا اردو میں ترجمہ کیا ہے ۔ یہ کتاب 130 صفحوں سے زیادہ ہے اور اسے پڑھنے کے بعد آپ جب اٹالین زبان کا کورس کریں گے تو آپ کو تمام معلومات پہلے ہی سے اردو میں مل چکی ہوں گی ۔ وہ لوگ جو کہ کارتا دی سوجورنو یا پہی سوجورنو کا امتحان دیتے ہیں ان کے لیے یہ گائیڈ کافی مفید ثابت ہو گی ۔ میں نے 3 ماہ تک ترجمہ کرتے ہوئے اٹلی میں رہنے والے پاکستانیوں کی مدد کے لیے یہ کتاب بنائی ہے ۔ اسے پڑھنے کے بعد آپ اٹلی کو جان پائیں گے ۔ آپ لنک پر کلک کرتے ہوئے کتاب پڑہ سکتے ہیں آپ کا دوست اور بھائی اعجاز احمداز روم

یہاں کلک کریں

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 15 اپریل 2014 09:14