Tuesday, Mar 02nd

Last update06:26:21 PM GMT

RSS

شہباز حسین کھوکھر کی الوداعی پارٹی

روم۔ 3 جون 2013 ۔۔۔ کل شام روم میں موجود پاکستانی ایمبیسی میں سابق ہیڈ آف چانسری شہباز حسین کھوکھر کی الوداعی پارٹی دی گئی ۔ اس محفل میں روم کے علاوہ پورے اٹلی کی مشہور پاکستانی شخصیات تشریف لائیں اور انہوں نے شہباز کھوکھر کے ان چار سالوں کی بہت تعریف کی ۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا ۔ اسکے بعد دردانہ ارسلان شاہ نے کمنٹری کے فرائض انجام دیتے ہوئے مقررین کو دعوت دی ۔ اٹلی کی مشہورو معروف شخصیت چوہدری بشیر امرہ نے کہا ہے کہ شہباز حسین کھوکھر جیسی شخصیت کبھی کبھی پیدا ہوتی ہے ۔ انہوں نے اپنے دور میں رشوت ستانی اور سفارش جیسی لعنتوں کو ختم کرتے ہوئے کمونٹی کے لیے ایمبیسی کے دروازے کھول دیے۔ انہوں نے کمونٹی کو متحد کیا اور سالانہ میلہ، بسنت اور دوسرے تہواروں میں تمام پاکستانیوں کی شمولیت کے لیے دن رات کاوش کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ میلان کونصلیٹ میں شہباز حسین کھوکھر جیسا افسر نہیں آیا اور وہاں کمونٹی سے غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہاں بھی روم کی طرح مہمان نوازی اور بھائی چارے جیسا سلوک عمل میں آئے ۔ چوہدری بشیر نے کہا کہ میلان سے پی آئی اے کی تیسری فلائٹ شروع کی جارہی ہے لیکن روم سے ایک فلائٹ بھی نہیں ہے ۔ ان کی تقریر کے بعد کرسچن کمونٹی کے صدر سرور بھٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شہباز حسین کھوکھر کے ان چار سالوں کی طرف روشنی ڈالی ۔ بعد میں عارف شاہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شعر سناتے ہوئے شہباز حسین کھوکھر کی جدائی کا دکھ بیان کیا ۔ ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو‏ئے کہا کہ شہباز حسین کھوکھر کمونٹی کے ہر دلعزیز تھے اور ہم کوشش کریں گے کہ انکے منصوبوں کو جاری رکھا جائے ۔ یاد رہے کہ غالب اقبال کے بعد شہباز حسین کا نام کمونٹی میں مقبول ہوا ہے ۔ اس محفل میں ناپولی کے مشہور بزنس مین چوہدری شبیر بھی موجود تھے۔ آل اٹلی فیڈریشن کے صدر چوہدری ساجد بھی اسپیشل طور پر اریزو سے تشریف لائے تھے ۔ شہباز حسین کھوکھر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کمونٹی سے کوئی شکا‏یت نہیں ۔ یہ پاکستان میں ایک کنبہ چھوڑ کر آئے تھے اور اٹلی میں آکر انہیں بڑا کنبہ مل گیا جسے پاکستانی کمونٹی کہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کمونٹی کے ایڈریس مکمل طور پر ہمارے پاس موجود نہیں ہیں ، اس وجہ سے ہمیں کافی مشکلات پیدا ہوتی ہیں ، اگر ہم تمام کمونٹی کے ایڈریس ایک جگہ لکھ لیں تو اس سے کافی مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ آکو‏یلہ اور مودینا میں زلزلہ کے دوران جب مجھے وہاں جانا پڑا تو ایڈریس نہ ہونے کیوجہ سے کافی مسائل پیدا ہوئے ۔ سفاتکارہ تہمینہ جنجوعہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہباز حسین کھوکھر تین آدمی تھے ، یعنی شہباز، حسین اور کھوکھر۔ یہ تین آدمیوں کا کام کرتے تھے ۔ ہم انکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔ تقاریر کے بعد علی بابا گروپ کی جانب سے کھانا پیش گیا اور کمونٹی کے خواتین و حضرات اور بچوں نے خوب لطف اٹھایا ۔ شہباز حسین کھوکھر کی جگہ اقوام متحدہ کے دفتر نیویارک سے ایک نئے افسر آرہے ہیں اور شہباز کھوکھر اپنے بیمار والد کے قریب رہنے کے لیے  اسلام آباد فارن آفس میں شفٹ ہو رہے ہیں  تحریر، اعجاز احمد از روم

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

منہاج القرآن پیرس کا اجلاس


۳۱مئی ۲۰۱۳جمعے کی شام ، آٹھ بجے پیرس کے مضافاتی علاقے لا کورنیو میںمنہاج القران پیرس ،فرانس کے زیرِ اہتمام ایک خوبصورت شام حضورﷺکی شان میںہدیہ عقیدت پیش کرنے کے لیئے مختص کی گئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی صاحبزادہتسلیم احمد صابری تھے اور اس تقریب میں دو مشہور ومعروف اور عالمی شہرتیافتہ نعت خواں بھی تشریف لائے شہباز قمر فریدی پاک پتنوی اور محمد قدیراحمد خان جو بارسلونا سپین سے تشریف لائے۔
استقریب کا اہتمام پیرس میں منہاج القران کے لا کورنیو سیٹر ریو پریویتے لاکورنیو میں کیا گیا۔ ہال کی دونوں منازل کو بڑی خوبصورتی سجایا گیا۔ نچلیمنزل مردوں اور میڈیاء کے لیئے مختص تھی اور اوپر والی منزل عورتوں اوربچوں کے لیئے تھی اور اسی ہال کے ایک کونے میں راؤ خلیل احمد نے جو کہمنہاج القران فرانس کے میڈیاء کورڈینیٹر اور صدر بھی ہیں پریس والوں کےلیئے مختص کی ہوئی تھی جہاں انہیں انتہائی عزت و تکریم سے بٹھایا گیاتھا۔جن میں راؤ خلیل احمد، زاہد مصطفی ، بابر مغل ، سرفراز بیگ اور دیگرشرکاء موجود تھے۔
تقریبکا آغاز تلاوت کلامِ پاک سے ہوا ۔ اس کے بعد عاشقانِ رسول نے حضور ﷺکیعقیدت میں نعت کی صورت میں تعریف و توصیف کا سلسلہ شروع کیا۔ سب سے پہلےتصور ساغر نے ہدیہ عقیدت پیش کیا جو سارسل سے تشریف لائے تھے۔ حاضرین مجلسنے ان کی نعت کو بہت توجہ سے سنا اور اس کے بعد سٹیج سیکریٹری سفیان اسلمنے چنداشعار کے ساتھ ایک ننھے مجاہد کو دعوت دی کہ وہ آکرکے حضور ﷺکی شانمیں نعت رسولِ مقبو ل پیش کریں۔ ننھے نعت خواں کی نعت سن کر حاضرینِ مجلسنے دل کھول کر داد دی اور سبحان اللہ کے آوازوں سے دونوں ہال گونج اٹھے۔ اسکے بعد سفیان اسلم نے جو کہ منہاج القران کے جوائنٹ سیکریٹری بھی ہے دعوتکلام منصور علی بٹ کو دی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ جاری رہا۔ اسرار نعتپڑھنے آئے۔ جب زاہد محمود چشتی حضور ﷺکی شان میں ہدیہ عقیدت پیش کرنے آئےتو سارے ہال میں خاموشی طاری ہوگئی۔ ان کی آواز میں اتنا درد تھا بالکلایسا لگتا تھا ان کی آواز لا کورنیو کی گلیوں سے ہوتی ہوئی مدینے تلک پہنچرہی ہے۔ انہوں اس خوبصورتی سے نعت پیش کی سب لوگوں کا دل یہی چاہ رہا تھایہ مزید عقیدت کے پھول نچھاور کریں لیکن وقت کی کمی کے باعث وہ
مزیدکچھ نہ پیش نہ کرسکے لیکن کافی دیر تک ان نعت لوگوں کے دماغ میں گونجتیرہی اور سننے والوں کے دل و دماغ پے ایک ایسا گہرا عکس چھوڑ گئی کہ وہ بعدمیں کبھی خاموش بیٹھے گیں اور اس کی یاد آئے گی تو اس کو یاد کرکے لطفاندوز ہوں گے ۔ اس کے بعد اسلم ، سید شبیر حسین شاہ، علامہ رازق حسین(جو کہسارسل سے تشریف لائے) نے حضور ﷺکی شان میں عقیدت کے پھول نچھاور کیئے۔قاری محمد نعیم ، محمد نعیم اور عامر نعیم نے بہت خوبصورت اور سادہ اندازمیں نعت رسولِ مقبول پیش کیں۔
نعتخوانی کے دوران مہمانِ گرامی تشریف لائے جن میں مہمانِ خصوصی صاحبزادہتسلیم احمد صابری جن کا تعلق کیو ٹی وی سے ہے، شہاز قمر فریدی جو کہپاکستان کے صفِ اول کے نعت خوانوں میں شمار کیئے جاتے ہیں۔ جنھوں نے ۲۳دسمبر کو علامہ طاہر القادری کی شان میں ایک ترانہ بھی پیش کیا تھا اورپوری دنیا میں اپنی آواز کا لوہا منوایا تھا، عبدالقدیر خان جن کا تعلقسپین کے شہر باسلونا ہے تشریف لائے۔ اس کے علاوہ شبیر احمد اعوان صدر منہاجالقران، قاضی محمد ہارون جنرل سیکریٹری،
حافظاقبال عظیم ڈائیریکٹرمنہاج القران یورپ سٹیج پر تشریف لائے اور ہال میںموجود سب لوگوں نے اس کا پر زور خیر مقدم کیا۔ ہال میں موجود احمد نے جو کہڈائی ہارڈ قسم کے جیالے ہیں گاہے گاہے کھڑے ہوکر حاضرین مجلس میں اپنی جگہپے کھڑے ہوکر شہادت کی اٹھا کر لوگوں کے جذبات کو گرمانے کے اپنی پرزورآواز میں نعرہ بلند کرتے اور کھڑے کھڑے ایک چکر سالگاتے اور ان کے نعرے کیگونج اس طرح ہوتی جیسے گھمسان کا رن پڑا ہے اور عساکر کی حوصلہ افزائی کےلیئے کوئی نعرہ بلند کرتا اور اس کی گونج میمنا و میسرہ تلک جاتی ہے بالکلاسی طرح ان کے نعرے کی گونج پورے ہال میں گونجتی اور اس کے جواب میں لوگبھرپور انداز میں جواب دیتے ۔ تھوڑی دیر کے لیئے ایسا لگتا کہ انسان مدینےکی گلیوں میں گھو م رہا ہے۔ مہمان گرامی کے مسند نشین ہوتے ہی اس سلسلے کومزید تقویت ملی اور اس کے بعد مائیک حافظ محمد اقبال اعظم نے سنبھال لیا ۔
انہوںنے مہناج القران کے حوالے سے چند باتیں بتائیں اور اس کے بعد قاری محمدصدیق نے اپنی خوبصورت آواز میں تلاوت کلام پیش کی اور اس کا ترجمہ اس تقریبکے مہمانِ خصوصی صاحبزادہ تسلیم احمد صابری نے اپنی خوبصورت آواز میں پیشکیا۔ لوگ ان کو ٹی وی پے تو سنتے ہی رہتے ہیں لیکن لوگوں کی محفل اور وہبھی عاشقانِ رسول کی محفل میں کلام پاک کا ترجمہ سنانا اس کا الگ ہی لطفتھا۔ صابزادہ تسلیم صابری نے جو ترجمہ پیش کیا وہ علامہ طاہر القادری کاترجمہ ءِ قران ہے جو انہوں پورے قران کا ترجمہ ریکارڈ کروایا ہے جبکہ یہاںاس محفل میں اس کے کچھ اقتباس سنائے۔ قاری تسلیم اورصاحبزادہ تسلیم صابریکو انتہائی عقیدت سے سنتے رہے اور اس دوران احمد اپنی بھرپور نعروں سےلوگوں کے جذبات کے گرماتے رہے ۔
استقریب کی کوریج چینل نائینٹی ٹو اور اے آر وائی کے ذریعے لائیو دکھائیجارہی تھی اور طاہر القادری کینیڈا میں اسے بالکل ایسے ہی دیکھ رہے تھےجیسے وہ اس تقریب میں موجود ہوں۔ اس کے بعد انہوں ٹیلی فونک رابطہ قائم کیا۔ہال میں موجود مہمانِ خصوصی اور دیگر افراد کا شکریہ ادا کیا۔
اسکے بعد نعتِ رسولِ مقبول پیش کرنے کے لیئے مشہور عالم نعت خواں تشریف لائےجن کو اس محفل کے لیئے خاص طور پر دعوت دی گئی تھی۔ شہباز قمر فریدی نے اسنداز میں حضور ﷺکی شان میں عقیدت کے پھول نچھاور کیئے کہ ہال میں موجودتمام لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ سب کا دل چاہتا تھا کہ قمر فریدی نعتوںکا یہ سلسلہ جاری رکھیں لیکن ایسا ممکن نہیں تھا ۔اس کے بعد سپین سے تشریفلائے ہوئے نعت خواں عبدل قدیر خان کو دعوت دی گئی ۔ انہوں نے اپنے مخصوصانداز میں نعت پیش کی ۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عاشقانِ رسول کی کمی نہیںتھی اور ایک سے بڑھ کے ایک تھا۔ اصل مقصد حضورﷺکی شان میں ہدیہ عقیدت پیشکرناتھا جس میں سب نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حصہ پیش کیا۔تقریب کا سلسلہرات گئے تک جاری رہا اور آخر میں طعام کا انتظام تھا۔
آخرمیں میں ان لوگوں کا ذکرکرنا ضروری سمجھتا ہوں اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو یہاتنی کامیاب تقریب کبھی بھی منعقد نہ ہوپاتی ۔ جن میں صوفی نیاز احمد جو کہدیارِ غیرمیں تارکین وطن کی تجہیز و تدفین میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں اوربے لوث خدمت کرتے ہیں، چوھدری محمد اشرف جو کہ منہاج القران کے وائسپریڈینٹ ہیں، چوھدری ظفر اقبال، بابر بٹ، تیمور رزاق اور حافظ اقبال اعظم ۔اس طرح یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی اور عاشقان رسول پیرس میں مقیم لاکورنیو، مہناج القران کے سینٹر میں یہ بات ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہدیارِ غیر میں رہ کر بھی ان کے دلوں میں حضور ﷺکی عزت و تکریم بالکل اسیطرح قائم ہے جو کسی بھی مسلمان کے دل میں ہونی چاہیئے خواہ وہ دنیا کے کسیبھی کونے میں ہوِ خواہ وہ یورپ ہو افریقہ ہو، امریکہ یا جاپان ۔
سرفراز بیگ ، پیرس
0753250877





 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 03 جون 2013 17:53

ریجو امیلیا کی کاروباری شخصیت چوہدری ذوالفقار علی کے خیالات

3 جون 2013 ۔۔۔ چوہدری ذوالفقار علی کا تعلق بھمبر کوٹلہ ( گجرات ) کے نواحی گاؤں بنگیال سے ہے ۔ آپ ریجو امیلیا کی سماجی اور کاروباری شخصیت کے نام سے مشہور ہیں ۔ ضلع بھمبر آزاد کشمیر ڈگری کالج سے 1988 میں گریجوایشن کی اور اسی سال بہتر روزگار کی تلاش میں یورپ آگئے ۔ مختلف ممالک میں قسمت آزمائی کی اور آخرکار قسمت 1990 میں انہیں اٹلی لے آئی اور پھر یہیں مستقل ڈیرے ڈال لیے اور آج اٹلی کی مشہور و معروف شخصیت بن چکے ہیں ۔ شروع شروع میں فیکٹریوں میں کام کیا لیکن ساتھ ساتھ اپنا کاروبار کرنے کے لیے بھی گراؤنڈ تعمیر کرتے رہے ۔ یوں انہوں نے 1999 میں ریجو امیلیا کی پہلی گروسری سٹور کی بنیاد رکھی اور اللہ تعالی کے فضل سے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی ۔ چوہدری ذوالفقار علی علاقہ میں ایک سرگرم شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ پاکستانی کمونٹی کی ترقی اور مسائل کے حل کے لیے خصوصی دلچسپی لیتے ہیں ۔ کمونٹی اور انکی زاتی کاوشوں کی بدولت 2005 میں پاک محمدیہ اسلامک سنٹر گواستالہ ریجو امیلیا کا قیام وجود میں آیا ، جس کا بنیادی مقصد علاقہ میں مقیم کمونٹی کے بچوں کو دینی تعلیم سے روشناس کرانا ہے اور آج سینکڑوں کی تعداد میں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ یہ اسلامک سنٹر کمونٹی کا مرکز بن چکا ہے ، جس میں اٹالین اور پاکستانی اداروں کے سرکردہ افراد وزٹ کرتے رہتے ہیں ۔ چوہدری ذوالفقار علی نے کہا کہ وہ زاتی کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں ۔ نوجوان نسل کی کھیلوں کے لیے بھی انکی خدمات قابل زکر ہیں اور کھیلوں کے انتظامی امور میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اور مالی معاونت میں بڑہ چڑہ کر حصہ لیتے ہیں ۔ چوہدری ذوالفقار علی نے پاکستانی کمونٹی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دیار غیر میں مثبت سوچ کے ساتھ ساتھ محنت اور دیانتداری سے اپنا اور ملک کا نام روشن کریں۔ تصویر میں چوہدری ذوالفقار علی  ۔ تحریر و انٹرویو سید مسعود شیرازی از ریجو امیلیا

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 06 جون 2013 20:29

غیر ملکیوں کو روکنے سے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے

روم، 2 جون 2013 ۔۔۔ اٹلی کی ایسوسی ایشن لوناریا کے مطابق غیر ملکیوں کو روکنے سے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے چند ادارے کام کررہے ہیں اور انہیں جو اخراجات دیے جاتے ہیں ، ان کا اگر حساب لگایا جائے تو پتا چلتا ہے کہ انہوں نے عربوں یورو خرچ کرنے کے بعد بھی غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے کوئی اعلی کردار ادا نہیں کیا اور اسکے علاوہ انسانی ہمدردی کے ادارے بھی ان کے خلاف رپورٹیں دے رہے ہیں ۔ 2005 سے لیکر 2012 تک اٹلی اور یورپین کمونٹی کے اداروں نے ایک عرب 668 ملین یورو غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے خرچ کیے ہیں ۔ 33 ملین یورو سرحدوں کی حفاظت کے لیے خرچ کیے گئے ہیں ۔ ایک سو گیارہ ملین یورو جنوبی علاقوں میں ماڈرن سسٹم نصب کرنے کے لیے خرچ کیے گئے ہیں ۔ اس سسٹم کے زریعے غیر ملکیوں کو ٹریس کرنا، انکی شناخت کرنی اور انکی رپورٹ دینا وغیرہ شامل ہیں ۔ 60 ملین یورو غیر ملکیوں کے ملک بدر کرنے کے لیے خرچ کیے گئے ہیں ۔ ایک عرب سے زیادہ یورو غیر ملکیوں کو رکھنے کے لیے اداروں CIE, CPSA, CDA e CARAکے لیے خرچ کیے گئے ہیں ۔ 151 ملین یورو ان ممالک کو دیے گئے ہیں جو کہ غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے کردار ادا کررہے ہیں ۔ لوناریا ایسوسی ایشن سے اٹالین قومی اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ امیگریشن کے مسئلے میں یورپین قوانین پر عمل کرے اور غیر ملکیوں کی بھرتی اور ملک بدری کے لیے انسانی ہمدردی کو مدنظر رکھتے ہوئے قوانین بنائے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اعجاز احمد کی میونسپل کمیٹی کے الیکشن میں ناکامی

روم۔ یکم جون 2013 ۔۔۔۔ پیارے دوستو۔ میں ان تمام بہن بھائیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، جنہوں نے میری کمپین کے دوران دعائیں مانگیں اور میری حوصلہ افزائی کی ۔ اٹلی جیسے ملک میں ایک غیر ملکی کا الیکشن میں کھڑا ہونا بڑی ہمت کی بات ہے ۔ میں نے چند دنوں کی کمپین کے دوران 120 ووٹ حاصل کیے ہیں ، جو کہ میونسپل کمیٹی کی اسمبلی میں داخل ہونےکے لیے ناکافی ہیں ۔ مجھے مزید 96 ووٹ اور مل جاتے تو میں کونصلر بن جاتا ۔ خیر ایسا نہیں ہو سکا " گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں " ۔ اب میں کوشش کررہا ہوں کہ بائیں بازو کے میئر اور میری میونسپل کمیٹی کے صدر 10 اور 11 جون کے روز کامیاب ہو جائیں ۔ اگر وہ کامیاب ہو گئے تو ہو سکتا ہے کہ میری میونسپل کمیٹی میں امیگریشن کا دفتر بن سکے ۔ یاد رہے کہ موجودہ دائیں بازو کی پارٹی نے اس دفتر کو ختم کردیا تھا اور یہاں سے ثقافتی ترجمان کی سیٹ کینسل کردی گئی تھی۔ یاد رہے کہ روم کمونے اور میونسپل کمیٹی کے الیکشن میں غیر ملکی اٹالین شہری کامیاب نہیں ہو سکے ۔ دس کے قریب غیر ملکی الیکشن میں کمپین میں موجود تھے لیکن ان میں سے ایک بھی کامیاب نہیں ہو سکا ۔ تریویزو میں مراکش کا ایک دوسری نسل کا غیر ملکی کونصلر بننے میں کامیاب ہوا ہے  ۔ تحریر، اعجاز احمد

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com