Tuesday, Mar 02nd

Last update06:26:21 PM GMT

RSS

سماجی مدد کے لیے غیر ملکیوں کے برابر کے حقوق

alt
روم، تحریر، ایلویو پاسکا ۔۔۔ اٹلی میں سماجی مدد یا Assistenza sociale حاصل کرنے کے لیے اٹالین اور غیر ملکیوں کے برابر کے حقوق ہیں ۔ اس کے باوجود کئی کمونے اور ریجن اس معاملے میں غیر ملکیوں سے غیر امتیازی سلوک کرتے ہوئے انکے حقوق سلب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ غیر ملکیوں کو سماجی حقوق دینا غیر قانونی ہے ۔ اٹلی میں موجود کئی غیر ملکی قانونی طور پر رہائش پزیر ہونے کے باوجود اپنے حقوق حاصل کرنے سے قاصر ہیں ۔ اٹلی کے برابر کے حقوق کے ادارے UNAR یعنی نسل پرستی کے خلاف ادارہ نے اعلان کیا ہے کہ بعض کمونے اپنی مرضی سے ان غیر ملکیوں کو سماجی مدد میسر نہیں کر رہے جنہیں اس مدد کی اشد ضرورت ہے ۔ اٹلی کے امیگریشن کے قانون کے آرٹیکل 41 کے مطابق وہ غیر ملکی جن کے پاس ایک سال کی مدت سے زیادہ کی پر میسو دی سوجورنو موجود ہے ، وہ اٹلی کے تمام سرکاری اور نجی اداروں سے اٹالین شہریوں کی طرح سروس یا مدد حاصل کرسکتے ہیں ۔ بعض ایسے کمونے ہیں جو کہ غیر ملکیوں پر ریزیڈنس کی شک لگاتے ہوئے انہیں سماجی مدد فراہم نہیں کرتے ۔ اونار دفتر کے ڈائریکٹر مونانی نے کہا کہ ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے ۔ ہم نے ایک تمام سرکاری اداروں کو واضع کر دیا ہے کہ وہ نسلی امتیاز سے ہوشیار رہیں اور کسی کو اسکی قومیت اور مختلف ہونے کی بنیاد پر تنگ نہ کریں ۔ تمام غیر ملکیوں کو یہ باور کیا جاتا ہے کہ وہ سماجی مدد حاصل کر سکتے ہیں ۔ اٹلی میں غیر ملکی سمجھ کر بعض اوقات منفی سلوک کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اٹلی کے کمونے، صوبے اور ریجن کے دفاتر میں کنٹرول گروپ بنا دیے ہیں ۔ ہم پہ در پہ ان دفاتر کا معائنہ کریں گے اوراگر کسی قسم کا غیر مساوی سلوک نظر آیا تو اسے فوری طور پر دور کرنے کی کوشش کریں گے ۔ یاد رہے کہ یہ دفتر یورپ کے تمام ممالک میں غیر مساوی سلوک کے خلاف بنایا گیا ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

عدن فرحاج کوآنولف کا صدر منتخب کر لیا گیا

alt
روم ، مارکے ریجن کی مشہور و معروف شخصیت اور ثقافتی ترجمان عدن فرحاج کوآسکولی اور فیرمو دونوں صوبوں کا آنولف کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ عدن فرحاج نے آزاد کو بتایا کہ یہ ایک پاکستانی کے لیے بڑی فخر کی بات ہے ۔ آنولف مزدور یونین چیزل کی شاخ ہے جو کہ غیر ملکیوں کی مدد اور گائیڈ کے لیے 1989 میں بنائی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے زون میں غیر ملکیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کروں گا اور خاص طور پر پاکستانیوں کی مدد کے لیے کوشش کروں گا ۔ آنولف غیر ملکیوں کی پرمیسو دی سوجورنو، فیملی ویزے، انٹیگریشن اور ترجمانی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی ہے ۔ اٹلی کی تاریخ میں پہلی دفع کسی پاکستانی کو یہ شرف حاصل ہوا ہے کہ اسے آنولف کا صدر منتخب کیا جائے ۔ میری خواہش ہو گی کہ میں اس عہدے کی پاسداری کر سکوں اور اہل وطن کی مدد کے لیے سود مند ثابت ہو سکوں ۔ یاد رہے کہ عدن فرحاج اٹلی میں موجود پاکستانی کرسچن کمونٹی کی سرپرستی کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ محب وطنی کا جذبہ بھی بلند کر رہے ہیں ۔
 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 02 جنوری 2012 20:55

خواجہ محمد آصف کی والدہ مرحومہ کے لیے قرآن خوانی

 

بلزانو سے ۔۔۔۔ سابق وزیر اور ایم این اے سیالکوٹ خواجہ محمد آصف کی والدہ مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے بلزانو میں قرآن خوانی کروائی گئی۔ مسجد میں پاکستان مسلم لیگ نون یوتھ ونگ کی جانب سے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا ۔ سوگ کی اس تقریب میں پاکستان مسلم لیگ نون یوتھ ونگ کے علاوہ پاکستانی کمونٹی کے افراد نے بھی شرکت کی اور مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی ۔ تمام حاضرین نے خواجہ محمد آصف کی والدہ کے لیے دعا کرتے ہوئے یہ کہا کہ اللہ تعالی مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔ تقریب میں ظہیر الدین ظفر، عابد باجوہ، وسیم رضا، رضوان احمد، ظہیر احمد ہمایوں اور دیگر افراد موجود تھے ۔ تقریب کے آخر میں شرکا کی تواضع کی گئی ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

برطانیہ کے انتخابات میں تین مسلم خواتین پارلیمان کی رکن منتخب

2010alt کے عام انتخابات میں اکیس ایشیائی خواتین نے برطانیہ کی تینوں بڑی جماعتوں کی جانب سے حصہ لیا تھا اور یہ برطانوی پارلیمان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کوئی مسلم خاتون رکنِ پارلیمان بنی ہے۔ منتخب ہونے والی خواتین میں برمنگھم سے تعلق رکھنے والی بیرسٹر شبانہ محمود، مشرقی بولٹن کی یاسمین قریشی اور لندن کے علاقے بیتھنل گرین کی روشن آراء علی شامل ہیں اور ان تینوں خواتین نے لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ پاکستان سے نو سال کی عمر میں برطانیہ آنے والی ایڈوکیٹ یاسمین قریشی نے اس الیکشن میں اٹھارہ ہزار سات سو بیاسی ووٹ حاصل کر کے اپنے مدِ مقابل کنزرویٹو امیدوار اینڈی مورگن کو ساڑھے آٹھ ہزار ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی۔ اس حلقے میں گزشتہ الیکشن کے برعکس کنزرویٹو امیدوار نے قریباً تین فیصد زیادہ ووٹ حاصل کیے اور لیبر کو آٹھ فیصد ووٹوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس کے باوجود لیبر نے یہ سیٹ جیت لی۔ لندن کے بیتھنل گرین حلقے سے انتخاب جیتنے والی روشن آراء علی پہلی بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہری ہیں جو رکنِ پارلیمان بننے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ انہوں نے لبرل ڈیموکریٹ امیدوار اجمل مسرور کو دس ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ خیال رہے کہ بیتھنل گرین میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت آباد ہے اور یہاں ہونے والے انتخاب میں تمام بڑی جماعتوں کی امیدوار بنگلہ دیشی نژاد ہی تھے۔ منتخب ہونے والی تیسری مسلم خاتون شبانہ محمود نے برمنگھم کے لیڈی ووڈ حلقے سے 19950 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ شبانہ کے مدِ مقابل لبرل ڈیموکریٹ امیدوار ایوب خان کو 9845 ووٹ ملے جبکہ اسی حلقے سے کنزرویٹو پارٹی کی خاتون امیدوار نصرت غنی نے چار ہزار دو سو ستتر ووٹ حاصل کیے۔ شبانہ کے برعکس برمنگھم میں جس مسلم خاتون امیدوار کی فتح کی پیشنگوئیاں کی جا رہی تھیں وہ یہ معرکہ سر نہیں کر سکیں۔ انتخابات سے قبل برمنگھم کے ہال گرین حلقے میں جارج گیلووے کی رسپیکٹ پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی سلمٰی یعقوب کی فتح کے واضح امکانات ظاہر کیے جا رہے تھے تاہم انتخابی نتائج کے مطابق یہاں سے لیبر پارٹی کے راجر گوڈسف 16039 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ سلمٰی نے 12240 ووٹ لیے ہیں۔ شکست کے باوجود رسپیکٹ پارٹی کا اتحاد اس نشست پر گزشتہ انتخابات کی نسبت قریباً چودہ فیصد زائد ووٹ لینے میں کامیاب رہا ہے۔ خیال رہے کہ سنہ 2000 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق برمنگھم کےگرین ہال حلقے میں مسلم ووٹرز کی تعداد برطانیہ کے کسی بھی حلقے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس حلقے میں مسلمان ووٹرز کا تناسب اڑتالیس فیصد ہے۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 11 دسمبر 2011 11:30

روح بیتاب ہے میری

 

چند لمحوں کے لیے آپ اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنی سوچوں اور جذبوں کو حقیقت کی دنیا سے نکال کر محسوس کریں ۔ ایک خاوند اپنی بیوی کو اپنے ہاتھوں سےمار سکتا ہے ؟ فرض کریں مری ہوئی عورت میں چند لمحوں کے لیے سانس لوٹ آتی ہے اور اسکی روح زندہ ہوجاتی ہے ۔ یہ عورت اپنے جذبات کا اظہار ہم سے اور اپنے خاوند اور بیٹے سے کرتی ہے  ۔ یاد رہے کہ یہ ان عورتوں میں سے ایک عورت ہے ، جسے خاندان کی عزت کے نام پر قتل کیا گیا ہے ۔ آپ تصور میں کھو جائیں اور اور ڈری و سہمی عورت کی دھڑکنیں محسوس کریں۔ وہ آپ سے سوال کرے گی ، مجھے کس نے مارا ، کس نے میری زندگی چھین لی ؟ پھر مجھے یاد آیا کہ مجھے میرے بیٹے اور میرے سرتاج نے قتل کیا ہے ۔ میں نے اپنے قاتل بیٹے کو اپنا دودہ پلایا تھا اور جب وہ بچہ تھا اور روتا تھا میں راتوں کو جاگ کر اسے نیند کی لوری دیتے ہوئے سلاتی تھی ، جب وہ اداس ہوتا تھا ، میں اسے خوش کرنے کے لیے اسکی پسندیدہ ڈش پکاتی تھی ، جب وہ کہیں دیر سے گھر آتا تھا تو میں دروازے پر کھڑے ہو کر اس کا انتظار کرتی تھی ۔ ہاں یہ وہی بیٹا ہے ، جس نے مجھ پرپہلا وار کیا ۔ اس خاوند کے بارے میں کیا کہوں ، جسے میں نے خوبصورت 5 بچوں کا والد بنایا ، انکی پرورش کے لیے اپنی زندگی اجیرن کر دی ۔ میں نے اپنے والدین کے بعد اپنے خاوند کے گھر کو اپنا گھر بنا لیا ۔ آج اسی خاوند نے مجھے موت کی گھاٹ اتار دیا ۔ جن ہاتھوں نے میرا جنازہ اٹھانا تھا ، مجھے حج کروانا تھا وہی ہاتھ میرے قاتل بن گئے ۔ اب میں دنیا کو کیسے اپنے موقف کے بارے میں بتاؤں ، مری ہوئی عورت کی بات کون سنے گا ، میری روح اس لیے بھی تڑپ رہی ہے کہ میرا خاندان تباہ ہو گیا ہے،  میرے سرتاج اور میرا خوبصورت بیٹا میرے قتل کے جرم میں جیل روانہ کر دیے گئے ہیں ۔ یا اللہ میری مدد کرو اور کہہ دو کہ یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے ۔ عدالت سے کیسے کہوں کہ میرے گھر کے مرد میرے قاتل ہیں ۔ چند دن قبل میرے گھر کے باورچی خانے میں میرے کنبے کے لوگ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے ، ہنسی مذاق کے بعد قہقے لگائے جاتے تھے ، بچوں کو سکول لے جایا جاتا تھا ، پاکستان میں موجود اپنے پیاروں کوفون کیا جاتا تھا ،سرد راتوں میں چائے پکتی تھی ، مہمان آتے تھے ، کبھی کبھار ہم لڑائی بھی کیا کرتے تھے ۔ اب ہم کس سے لڑیں گے، کس سے خوشی کا اظہار کریں گے اور کون ہمارے خاندان کا رکھوالا بنے گا ۔ اے دنیا والو میرا مذاق نہ اڑانا اور میرے بچوں کی دیکھبال کرنا، تصویر میں بلال سپرا  ۔ تحریر، محمد بلال سپرا یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com