Thursday, May 28th

Last update06:26:21 PM GMT

RSS

ڈرائیونگ سکول میں داخلہ لیے بغیر لائسنس (بی) کا امتحان پاس کرنا

1) وزارت ٹرانسپورٹ کی برانچ موتو ریساسیونے سول(Motorizzazione civile) کے علاقاںی دفتر سے معلومات اور فارم 2112TTلے کر پر کر لیا جاے اور درخواست دھندہ اس پر اپنے دستخط کرے-

 2) ڈاکخانہ میں اکاؤنٹ نمبر 901 میں بھیجے گئے  24 یورو کی رسید اور اکاؤنٹ نمبر 4028 میں بھیجے گئے  14,62 یورو کی دو رسیدیں درخواست کے ساتھ منسلک کریں-

3) اپنے فیملی ڈاکٹرسے میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوانا ھوگا جس کی فیس کم و بیش 50 یورو ھے- یہ سرٹیفکیٹ محکمہ صحت کے مقرر کردہ ڈاکٹر جو کہ عام طور پر آزل (ASL ) کا ڈاکٹر ھوتا ھے کو پیش کیا جائے  گا تو وہ اسے اپنے پاس رکھ لے گا اور میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جس پر درخواست دہندہ کی فوٹو اور  14,62کی ٹکٹ لگی ہو گی- 40 یورو علاوہ ازیں ادا کرنے ھوں گے- اس سرٹیفکیٹ کو 3 ماہ کے اندر استعمال کرنا ضروری ھے- ڈاکٹر کے ساتھ آزل کے علاقائی دفتر کے علاوہ ضلعی دفتر میں بھی ملاقات کا وقت مقرر کیا جا سکتا ھے- یہ سرٹیفکیٹ بمع فوٹو کاپی درخواست کے ساتھ منسلک کرنا ھوتا ھے-

4) علاوہ ازیں 2 عدد فوٹو، اطالوی شناختی کارڈ (Carta d identità ) کی 2 فوٹو کاپیاں، کو دیچے فیسکالے اور پرمیسو دی سجورنو کی ایک ایک فوٹو کاپی بھی منسلک کریں- اگر تھیوری کی تیاری ھے تو درخواست جمع کرواتے وقت ھی امتحان کی تاریخ لے سکتے ہیں ورنہ بعد میں لے لیں- یاد رھے امتحان پاس کرنے کے لیے حسب ضرورت اطالوی زبان کا جاننا ضروری ھے- تیاری کے لیے کتاب۔ انٹر نیٹ کے علاوہ ایسے اشخاص سے مدد لی جا سکتی ھےجو امتحان پاس کر کے لاہیسینس لے چکے ھوں-اگر بغیر سکول میں داخلہ لیے پہلی دفعہ امتحان پاس ھو جاے تو اخراجات کم ھو کر تقریبا“ نصف رہ جائیں گے-

5) تھیوری کا امتحان پاس کرنے کے بعد فولیو روزا (Foglio Rosa ) جاری کیا جاے گا جو کہ 6 ماہ کے لیے کار آمد ھوتا ھے - یہ ڈرائیونگ کی مشق کرنے کا اجازت نامہ ھے- اگر ذاتی گاڑی میں پریکٹس کرنی ھے تو ایک ایسا شخص جس کے پاس کم از کم10 سال پرانا لائیسنس ہو اور اس کی عمر 65 سال سے زیادہ نہ ھو لازمی ساتھ ھونا چاھیے -علاوہ ازیں گاڑی میں واضح طور پر ایک کاغز آویزاں کیا جاے گا جس پر پی (P ) یعنی

Participante  لکھا ھو گا- اس سے سڑک پر موجود دیگر لوگوں کو معلوم ھوتا ھے کہ ڈرائیور سیکھنے کے عمل سے گزر رھا ھے- نیا شخص15  سے 20 گھنٹوں کی مشق سے امتحان دینے کے قابل ہو جاتا ھے- تیاری ہونے پر تاریخ تہہ کر کے امتحان دیا جا سکتا ھے -یاد رھے امتحان صرف ڈبل کمانڈ والی گاڑی سے ھی دیا جا سکتا ھے جو کہ سکول کے پاس ھوتی ھے- اگر زاتی گاڑی کی سہولت نھیں ھے تو سکول کے زریعے تیاری کر کے امتحان دیا جا سکتا ہے-اپنی رھائیش کے نزدیک ایسے سکول کا انتخاب کریں جس کا ریٹ مناسب ہو اور شہرت اچھی ہو- ماہرین کا مشورہ ہے کہ سکول کے انسٹرکٹر کے ساتھ چند گھنٹے کی مشق ہر حال میں کرنی چا ہیئے کیونکہ وہ ایک کوالیفائڈ شخص ھوتا ہے-جب سکول میں جائیں گے تو سب سے پہلے وہ کوڈ تبدیل کروانے کے لیے9 یورو وزارت ٹرانسپورٹ کو ادا کریں گے اس کے بعد مشق اور امتحان کے مرحلے آئیں گے- (حاجی وحید پرویز- بریشیا)-

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

ڈاکٹر جاوید کنول اور تحریک انصاف اٹلی

تحریر، وسیم رضا ۔۔۔۔ اٹلی کے سینئر صحافی ڈاکٹر جاوید کنول کے کالم " اٹلی میں پاکستان کے انتخابات کی گہما گہمی " کی اشاعت پر تحریک انصاف اٹلی کی قیادت اور بالخصوص بلزانو کے نوجوانوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ یہ کالم روزنامہ جنگ کے 15 اپریل کے شمارے میں شائع ہوا ہے ۔ مذکورہ بالا کالم پر دو طرح کے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ۔ پہلا اعتراض تحریک انصاف اٹلی کے کوارڈینیٹر ندیم یوسف ایڈووکیٹ کی زاتی شخصیت اور سیاسی کردار کی دہجیاں اڑانا جبکہ دوسرا اعتراض قلم کے زور پر تین افراد کو تحریک انصاف اٹلی کی محوزہ اور حقیقی قیادت بنا کر پیش کرنے کی کوشش سے متعلق ہے ۔ آئیے ڈاکٹر جاوید کنول کی تحریک انصاف اٹلی کے متعلق معلومات اور تبصرے کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ ڈاکٹر جاوید کنول کون ہیں ؟ سینئر صحافی ڈاکٹر جاوید کنول جیو ٹیوی کے اٹلی کے نمائندے ہیں ۔ صاحب طرز شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ پختہ سیاسی شعور کے مالک ہیں ۔ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں ۔ تحفظ ختم نبوت ۖ کے حوالے سے ان کا کام سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے مذکورہ تحریر میں رائے قائم کی ہے کہ کوارڈینیٹر ندیم یوسف ایڈووکیٹ کی اس عہدے کے لیے نامزدگی تنقید کی زد میں ہے ۔ اپنی رائے کے حق میں دلیل یوں پیش کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کی اکثریت بلونیا اور بریشیا میں آباد ہے جبکہ کوارڈینٹر موصوف اٹلی کے دوسرے کونے وینس میں آباد ہیں ۔ اس وجہ سے اپنی کمونٹی سے رابطہ نہیں رکھ سکتے جو کہ انتخابات کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر جاوید کنول کی رائے کا نہایت معذرت کے ساتھ تجزیہ کرتے ہوئے عرض ہے کہ آج سے پانچ سال قبل تحریک انصاف کی انتخابات میں عبرت ناک شکست کے بعد تحریک میں صرف اتنے لوگ رہ گئے تھے ، جنہیں بامشکل انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا ۔ اس حقیقت کا اعتراف عمران خان نے اپنی کتاب " میرا پاکستان " میں بھی برملا کیا ہے ، اس دور میں جب تحریک انصاف کے بخیے ادھڑ چکے تھے ، خان صاحب پارٹی کی ناکامی اور مخالفوں کے تعنوں سے تنگ آکر گھر میں قید ہو کر رہ گئے تھے ۔ تب عمران خان نے مکمل خاموشی  اختیار کرلی اور کچھ عرصے کے بعد عوام کے سامنے نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ نمودار ہوئے ۔ ندیم یوسف کو کوارڈینٹر بنانے کا فیصلہ اسی دور میں ہوا ۔ ندیم یوسف کو یہ ذمہداری پارٹی سے ہر حال میں پیوستہ رہنے کیوجہ سے ملی ۔ ڈاکٹر جاوید کنول نے کئی مواقعوں پر اعتراف کیا کہ اگر میں اٹلی میں تحریک انصاف کے کسی حقیقی لیڈر یا کارکن کو جانتا ہوں تو وہ ندیم یوسف ہے یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے ۔ کسی بھی تعلق یا وابستگی سے قطع نظر فوزیہ قصوری کی میزبانی ندیم یوسف کی نامزدگی کی پوریشن کو براہ راست واضع کردیتی ہے ۔ کالم نگار خود بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ایڈووکیٹ صاحب تحریک انصاف پاکستان کی مرکزی لیڈر فوزیہ قصوری کی میزبانی کا شرف حاصل کرچکے ہیں ۔ یوسف ندیم کی بطور کوارڈینیٹر نامزدگی کو چیلنج کرتے ہوئے معزز کالم نگار نے نقطہ اٹھایا ہے کہ بلونیا اور بریشیا اٹلی کی ایک جانب اور وینس دوسری جانب ہے حالانکہ جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اٹلی کے ایک کونے پر پلیرمو اور دوسرے کونے پربلزانو ہے ۔ تاہم اٹلی کی علاقائی حدبندیوں کی بحث میں الجھے بغیر ہمیں دیکھنا چاہئے کہ یورپ کے گیٹ وے اٹلی جسکا رقبہ پاکستان سے کئی گنا کم ہے ۔ یہاں پاکستانی کمونٹی کا ایک دوسرے سے رابطہ رکھنا ممکن ہے یا نہیں ۔ اس سادے سے سوال کا جواب تحریک انصاف کی آفیشل ویب سائٹ سے مل جاتا ہے ۔ ندیم یوسف گزشتہ کئی سالوں سے اٹلی کے مختلف شہروں میں ہنگامی دوروں میں مصروف ہیں ۔ وہ دن رات جگہ جگہ تحریک انصاف کا پرچار کرنے میں متحرک نظر آتے ہیں ۔ ڈاکٹر جاوید کنول کے کالم پر اعتراض کرتے ہوئے تحریک انصاف کے پرجوش کارکن نے مجھ سے کہا کہ تحریک انصاف کو پاکستان میں لوگ عمران خان کیوجہ سے جانتے ہیں اور اٹلی میں ندیم یوسف کیوجہ سے جانتے ہیں ۔ ندیم یوسف اٹلی کی پاکستانی کمونٹی سے مکمل رابطے میں رہتے ہیں ۔ ڈاکٹر جاوید کنول تحریک انصاف اٹلی کی ریڑہ کی ہڈی ندیم یوسف کی زات کے متعلق اپنی رائے دیتے ہوئے لکھتے ہیں " دوسری وجہ جو بظاہر معمولی نظر آتی ہے لیکن زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ، اسے بڑی وجہ کہا جا سکتا ہے ، وہ یہ کہ ندیم یوسف کا تعلق پاکستان کے اس خطے سے نہیں جسکی اکثریت اٹلی میں آباد ہے ۔ " سبحان اللہ ڈاکٹر صاحب ان سطور سے آپکے مذکورہ کالم لکھنے کا مقصد واضع ہو گیا لیکن اگر آپ از راہ کرم اس مخصوص خطے کے نام کا بھی اعلان فرما دیتے تو قارئین کو اس خطے کے سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں آسانی ہوتی اور ان بے علموں اور بے خبروں کو معلوم ہوجاتا کہ کامیابی یا ناکامی ، اہلیت و نااہلیت کا دارومدار اس خطے سے تعلق پر منحصر ہے ۔ اگر آپ تحریک انصاف کے منشور کا جائزہ لیں تو یہ پارٹی علاقائیت پرستی کے سخت خلاف ہے اور تحریک انصاف ان لوگوں کو الیکشنوں میں ٹکٹ فراہم کررہی ہے جو کہ میرٹ پر اترتے ہیں ۔ اب آئیے تحریک انصاف بلزانو کے لیڈران اور قومی کنونشن بلزانو کی تیاریوں کی جانب ۔ مذکورہ بالا کالم میں تین رکنی کمیٹی کے قیام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر کسی تنظیمی تبدیلی کے آغاز کا عندیہ کیا گيا ہے ۔ کمیٹی کی تشکیل اور قومی کنونشن کی تیاریوں کی خبر کے لیے ڈاکٹر جاوید کنول کا خبری منبہ کیا ہے ؟ ان کاروائیوں کے لیے کسی کو کہاں سے احکامات ملے ہیں ؟ مقصد صرف ندیم یوسف ایڈووکیٹ کو ہٹانے کے لیے فضا ہموار کرنا ہے یا حقیقی معنوں میں اٹلی کے مختلف شہروں میں زیلی کمیٹیاں بنا کر ان زیلی کمیٹیوں کے زریعے ملکی سطح کی ایک تنظیمی باڈی کا تشکیل سازی کرنا ہے ۔ ندیم یوسف کے عہدے کے حوالے سے تکنیکی اعتبار سے اتنا جان لینا لازمی طور پر ضروری ہے کوارڈینیٹر کا عہدہ کوئی انتظامی و مرکزی عہدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ خالص ایک مشاورتی ذمہداری ہے ۔ جس کا مقصد کسی باقاعدہ و باضابطہ انتخابی باڈی کے قیام میں آنے تک تمام کارکنان و وابستگانی کے مابین روابط قائم رکھنے اور انہیں بڑھانا ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر جاوید کنول اٹلی کے سکہ بند صحافی ہیں اور انکے مذکورہ کالم سے تحریک انصاف اٹلی اور بالخصوص تحریک انصاف بلزانو میں مسلسل چہہ مگوئیاں جاری ہیں ۔ ڈاکٹر جاوید کنول کے اندرونی راز اشارہ دے رہے ہیں کہ ندیم یوسف ایڈووکیٹ کے خلاف کوئی لابی میدان میں آنے کے لیے پر تول رہی ہے ، ان حالات میں یا تو ان کو اٹلی میں تحریک انصاف کے انتخابات کروانے پڑیں گے ، جیسا کہ عمران خان نے پاکستان میں کروائے اور ون مین شو کا تاثر ختم کیا ، ورنہ اپنا بلا شراکت غیرت اقتدار چھوڑ کر خالی ہاتھ گھر روانہ ہونے پڑے گا ۔ تصویر میں وسیم رضا

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 26 اپریل 2013 20:32

یورپ میں سیاسی پناہ کی درخواستوں میں اضافہ

روم۔ 26 اپریل 2013 ۔۔۔۔ اسٹاٹ کی رپورٹ کے مطابق 2012 میں پورے یورپ میں سیاسی پناہ کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ پورے یورپ میں 331.975درخواستیں دی گئی ہیں ۔ یاد رہے کہ 2011 میں 3 لاکھ 2 ہزار درخواستیں جمع کروائی گئی تھیں ۔ 70 فیصد درخواستیں جرمنی میں جمع کروائی گئی ہیں ، جن کی تعداد 77 ہزار پانچ سو بتائی گئی ہے ۔ اسکے بعد فرانس 60600 ، سویڈن 43900، انگلینڈ 28200، بیلجئم 28100 اور اسکے بعد اٹلی میں 15 ہزار 715 درخواستیں دی گئی ہیں ۔ 2012 میں جرمنی میں جن غیر ملکیوں کی درخواست قبول کی گئی ہے ، انکی تعداد 17.140ہے ، جبکہ کل درخواستیں 58.645تھیں ۔ یعنی در دہائی درخواستیں مسترد کری دی گئی ہیں ۔ سویڈن میں 31 ہزار سے زائد درخواستوں پر پڑتال کی گئی ہے اور ان میں سے صرف 12 ہزار 400 قبول کی گئی ہیں ۔ فرانس میں 60 ہزار کے قریب درخواستیں جمع کروائی گئی ہیں اور ان میں سے صرف ساڑھے آٹھ ہزار قبول کی گئی ہیں ۔ اٹلی میں 22 ہزار سے زائد درخواستیں جمع ہوئی ہیں اور ان میں سے 8 ہزار 260 قبول کی گئی ہیں ۔ انگلینڈ میں 22 ہزار کے قریب درخواستوں میں سے صرف 7 ہزار 735 قبول ہوئی ہیں ۔ بیلجئم میں 24 ہزار سے زائد درخواستوں پر صرف 5 ہزار 555 قبول ہوئی ہیں ۔ 2012 میں پورے یورپ میں فوری طور پر قابل غور ہونے والی سیاسی پناہ کی درخواستوں کی تعداد 268.495ہے ۔ ان میں سے 71 ہزار سے زائد درخواستیں قبول کی گئی ہیں اور 1 لاکھ 96 ہزار سے زائد مسترد کردی گئی ہیں ۔ قبول ہونے والی درخواستوں میں سے 37 ہزار غیر ملکیوں کو سیاسی پناہ کا اسٹیٹس دے دیا گیا ہے جبکہ 30 ہزار کے قریب غیر ملکیوں کو اضافی حفاظت کی سوجورنو یا اجازت نامہ جاری کیا گیا ہے ۔ 6 ہزار 415 غیر ملکیوں کو انسانی ہمدردی کا کارڈ جاری کیا گیا ہے ۔ سب سے زیادہ درخواستیں افغانستان کے غیر ملکیوں نے جمع کروائی ہیں ، جن کی تعداد 26 ہزار 250 ہے ، اسکے بعد شام کے شہریوں نے 23 ہزار 510 درخواستیں جمع کروائی ہیں ۔ روسی 23360، اور اسکے بعد پاکستانی اور سیربیا کے غیر ملکیوں کا نام آتا ہے ۔ اٹلی میں سب سے زیادہ درخواستیں پاکستانی شہریوں نے جمع کروائی ہیں ، جنکی تعداد 2 ہزار 365 بتائی گئی ہے ۔ اسکے بعد نائجیریا 15 سو اور اسکے بعد افغانستان کے شہریوں نے 1365 درخواستیں جمع کروائی ہیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

امیگریشن کی تازہ خبر

روم۔ 17 اپریل 2013 ۔۔۔ کافی دنوں سے آزاد کے قارئین یہ سوال کررہے تھے کہ موجودہ امیگریشن کے بارے میں کیا رپورٹ ہے اور ہماری درخواست کی کیا نوعیت ہے ؟ ان تمام سوالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا ہے اور انہوں نے 9 اپریل 2013 تک کی رپورٹ جاری کردی ہے ۔ موجودہ امیگریشن میں 1 لاکھ 34 ہزار درخواستیں جمع ہوئی تھیں اور انہیں جمع کروانے کے لیے گزشتہ سال 15 ستمبر سے لیکر 15 اکتوبر کا وقت دیا گیا تھا ۔ وزیر اعظم مونتی کے موجودہ قانون کے مطابق وہ غیر ملکی اس قانون کے بعد غیر قانونی کام کریں گا یا پھر اٹلی میں غیر قانونی طور پر رہیں گے ، انہیں اور انکے مالکان کو سخت جرمانے اور سزائیں دی جائیں گی ۔ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اب تک 82190 درخواستوں کی پڑتال کی گئی ہے اور ان پر مختلف دفاتر کام کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ غیر ملکی کی درخواست پر تھانے کا امیگریشن کا دفتر اسکے بعد روزگار کا دفتر اور علاقے کا تھانہ کام کرتے ہیں ، یعنی تین دفاتر جب رپورٹ جاری کرتے ہیں تو اسکے بعد غیر ملکی اور مالک کو بلا کر سوجورنو کا کنٹریکٹ کیا جاتا ہے اور پرمیسو دی سوجورنو جاری کی جاتی ہے ۔ ان درخواستوں میں سے 23 ہزار پر مثبت رائے قائم کرتے ہوئے سوجورنو جاری کردی گئی ہے اور 13 ہزار درخواستیں لوازمات پورے نہ ہونے کیوجہ سے مسترد کردی گئی ہیں ۔ یاد رہے کہ مسترد ہونے والی درخواستوں میں مالک کی سالانہ بچت، غیر ملکی کا اٹلی میں 2011 سے موجود ہونے کا ثبوت اور ٹیکسوں کی ادائیگی وغیرہ ۔ 10 ہزار ایسی درخواستیں ہیں ، جن میں مالکان کو اطلاع کی گئی ہے کہ وہ لوازمات پورا کریں ۔ چند مالکان تھانے میں جا کر لوازمات نہیں دے رہے ، اس صورت میں غیر ملکی کی درخواست مسترد کردی جائے گی ۔ باقی تمام غیر ملکی جن کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے ، وہ انتظار کریں اور حوصلہ نہ ہاریں ۔ میلانو میں 15 ستمبر سے لیکر 30 ستمبر تک کی درخواستوں پر کام ہورہا ہے ۔ یاد رہے کہ زیادہ درخواستیں اکتوبر کے مہینے میں جمع کروائی گئی تھیں ۔ اٹلی کی مزدور یونین کے ڈائریکٹر Maurizio Boveنے کہا کہ امیگریشن پر کام ہورہا ہے لیکن اس کا سسٹم سست ہے ۔ وہ کام کے مالکان جو کہ فوت ہو جائیں گے یا پھر کام والا ادارہ معاشی بحران کیوجہ سے بند ہو جائے گا ، اس صورت میں غیر ملکی کو کام تلاش کرنے کی پرمیسو دی سوجورنو جاری کردی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چند پریفی تورے یا تھانے غیر ملکیوں کا معمولی ثبوت مان لیتے ہیں اور بعض اسے مسترد کردیتے ہیں ، اس وجہ سے بھی درخواستیں مسترد کی جا رہی ہیں ۔ نیچے امیگریشن کی درخواستوں کی نوعیت کی رپورٹ۔ ( پیارے بھائیو ، جب آپ لوگ مجھے اپنی درخواست کے بارے میں سوال کرتے ہو ، تو میرے لیے ہر بندے کو جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے ، میں اخبار کے علاوہ نجی ادارے میں کام کرتا ہوں ، اس لیے وہ لوگ جو میرے جواب سے قاصر رہتے ہیں ، میں ان سے معافی مانگتا ہوں )

STATO DI AVANZAMENTO PROCEDURE EMERSIONE 2012
fonte: Ministero dell’Interno
"Alla data del 9 aprile 2013, sono state lavorate 82.190 domande così suddivise:
 
-          23.255 definite con la firma del contratto di soggiorno e la richiesta del permesso di soggiorno;
-          10.817 già convocati
-          9.746 in fase di integrazione
-          13.417 rigettate
-          183  rinunce
-          24.772  valutate positivamente dalla DTL e dalla Questura calendarizzate per la convocazione
"

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

منڈی بہاؤالدین

1506عیسوی میں صوفی صاحب بہاؤالدین ، پنڈی شاہ جہانیاں سے اس علاقہ میں آئے تو انہوں نے ایک بستی کی بنیاد رکھی جس کا نام پنڈی بہاؤالدین رکھا گیا جسے اب پرانی پنڈی کے نام سے جانا جاتا ھے-انیسویں صدی میں یہ علاقہ برطانوی حکومت کے زیر تسلط آیا -اس علاقے میں کچھ زمین بنجر اور غیر آباد پڑی تھی-

1902 میں انگریز سرکار نے آبپاشی کے نطامکا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا تو اسی منصوبے کے تحت نہر لویر جھلم بھی کھودی گئی اور اس سے علاقے کو سیراب کیا گیا-علاقے کی چک بندی کی گئی- اکاون چک بنائےگے اور زمین ان لوگوں میں تقسیم کی گئی جنہوں نے سلطنت برطانیہ کے لیے کام کیا تھا-علاقے کو گوندل بار کا نام دیا گیا- چک نمبر51  مرکزی چک قرار پایا جو کہ آج منڈی بہاوالدین کے نام سے مشہور ہے-پلان کے مطابق اس کی تعمیر کی گئی اور یہاں پر غلہ منڈی قائم کی گئی- بیسویں صدی کے اغاز میں مسلمان،ہندو اور سکھ تاجر و زمیندار یہاں آ کر آباد ہونے لگے- 1916ء میں حکومت برطانیہ نے اپنے دفاعی اور تجارتی مفاد میں پنڈی بہاوالدین ریلوے سٹیشن قائم  کیا- 1920ء میں چک نمبر 51 کو منڈی بہاوالدین (مارکیٹ بہاوالدین) کا نام دینے کا اعلان کیا گیا- 1923ء میں قصبہ کی ماسٹر پلان کے مطابق دوبارہ تعمیر کرتے ھوئے گلیوں اور سڑکوں کو سیدھا اور کشادہ کیا گیا- 1924ء میں پنڈی بہاوالدین ریلوے سٹیشن کا نام منڈی بہاوالدین رکھا گیا- 1937ء میں ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دیا گیا اور 1941ء میں میونسپل کمیٹی بنا دیا گیا- 1946ء میں نو دروازے اور چار دیواری تعمیر کی گئ-1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا تو ھندو اور سکھ بھارت چلے گے جبکہ بھارت سے نقل مکانی کر کے پاکستان آنے والے بہت سے مسلمان یہاں آباد ھوئے-1960ء میں سب ڈویژن کا درجہ دیا گیا- 1963ء میں رسول بیراج اور رسول قادرآباد لنک نھر کا منصوبہ شروع کیا گیا - منصوبے سے متعلقہ سرکاری ملازمین اور غیر ملکی ٹھییکیداروں کے لیے منڈی بہاوالدین کے نزدیک ایک بڑی کالونی قائم  کی گئی-1968ء میں یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا- یہ منصوبہ منڈی بہاوالدین کی کاروباری نشوونما میں اضافے کا سبب بنا- 1993ء میں وزیر اعلئ پنجاب میاں منظور احمد وٹو نے منڈی بہاوالدین کو ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کیا- 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم اور راجہ پورس کے درمیان مشھور اور تاریخی لڑائی منڈی بہاوالدین کے مغرب میں دریائے جہلم کے جنوبی کنارے کھیوا کے مقام پر لڑی گئ- اس لڑائی میں راجہ پورس کو شکست ھوئ جس کے نتیجہ میں سکندر اعظم کو دو شہر ملے ایک اس جگہ پر تھا جہاں ان دنوں مونگ ہے اور دوسرا ممکنہ طور پر جہاں پھالیہ ھے- پھالیہ سکندر اعظم کے گھوڑے بیوس پھالس کے نام کی بگڑی ھوئی شکل ھے- کچھ مورخین کے خیال کے مطابق وہ دو شہر جلالپور اور بھیرہ والی جگہ پر تھے- منڈی بہاوالدین سے تھوڑے فاصلے پر چیلیانوالہ کا وہ تاریخی مقام ھے جہاں انگریزوں اور سکھوں کے درمیان 1849ء میں دوسری لڑائی ہوئی تھی-چیلیانوالہ کے نزدیک رکھ مینار میں اس جنگ میں کام آنے والے کئی انگریز افسر اور سپاھی دفن ھیں- منڈی بہاوالدین صوبہ پنجاب کا خوبصورت اور مشہور شہر ھے- اس کے شمال مغرب میں دریائے جھلم اسے ضلع جھلم سے الگ کرتا ھے جبکہ جنوب مشرق سے دریائے چناب اسے گجرات ،گوجرانوالہ اور حافط آباد سے علیحدہ کرتا ھے-مغرب میں ضلع سرگودھا واقع ھے- رقب2673 مربع کلو میٹر اور سطح سمندر سے بلندی 204 میٹر ھے- ضلع میں تین تحصیلیں منڈی بھاوالدین ، پھالیہ اور ملکوال ہیں جبکہ یونین کونسلز کی تعداد 65 ھے- بڑے قصبے چیلیانوالہ،گوجرہ،ھیلاں،کٹھیالہ شیخاں،مانگٹ،مونگ،میانوال رانجھا،پاہڑیانوالا،قادراباد،رسول اور واسو ھیں- سب سے زیادہ آبادی جٹ قبیلہ کی ھے- آرائیں،گجر،کہوٹ،کشمیری،راجپوت،شیخ،مرزا اور سید قبیلوں کے لوگ بھی آباد ھیں-زیادہ بولی جانے والی زبانیں پنجابی اور اردو ہیں- اھم فصلیں گندم،دھان،گنا،آلو،تمباکو ھیں جبکہ چارہ کے لیے جوار،باجرہ،مکئ اور برسیم وغیرہ بھی کاشت کیے جاتے ھیں- صنعتی یونٹوں کی تعداد نو سو کے قریب ھے- شہر کے نزدیک شاہ تاج شوگر مل واقع ہے جس کا رقبہ بیس ایکڑ پر محیط ھے- اس کا شمار علاقے کی بڑی ملوں میں ھوتا ھے معیاری چینی تیار کر کے ملکی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رھی ھے-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ اٹلی میں منڈی بہاوالدین کے تارکین وطن کی تعداد قابل زکر ہے ۔

(حاجی وحید پرویز ،بریشیا، اٹلی- موبایل ونڈ00393398705106)- تصاویر میں منڈی کی تاریخی عمارتیں

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com