Tuesday, Mar 02nd

Last update06:26:21 PM GMT

RSS

جعلی شناخت پر پاکستانی پر کیس

روم۔ 26 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کے شہر لوکا میں ایک 22 سالہ پاکستانی پر جعلی شناخت استعمال کرنے پر پاکستانی پر کیس کر دیا گیا ہے ۔ اصل میں یہ پاکستانی آخری امیگریشن کے کھلنے سے پہلے اٹلی میں آیا تھا اور امیگریشن سے پہلے اسے اٹالین فوڈ کی دکان پر کام مل گیا تھا ۔ وہاں کام کرنے کے لیے اس نے اپنے گھر میں رہنے والے ایک دوسرے پاکستانی کی پرمیسو دی سوجورنو یا ورک پرمٹ استعمال کیا ۔ اس پاکستانی کی عمر اور شکل اس سے ملتی جلتی تھی ۔ دکان والے نے اس سے کام کا کنٹریکٹ کرلیا اور اسکے بعد اس دکان کا دیوالیہ ہو گیا اور اٹالین نے اس پاکستانی کو کام سے نکال دیا ۔ اس پاکستانی نے اس دوران کھلنے والی امیگریشن میں اپنے اصل نام وغیرہ سے درخواست دیدی۔ اسی دوران دکان والے نے اپنے دیوالیے کا کیس مکمل کروانے کے لیے پاکستانی لڑکے کی گواہی حاصل کی اور اسکے بعد پولیس نے دریافت کرلیا کہ اس پاکستانی نے اپنی شناخت بدل لی ہے ۔ اس پاکستانی نے محض کام کرنے کے لیے یا اٹلی میں ریگولر ہونے کے لیے یہ جرم کیا ہے لیکن پولیس والوں نے اسکی امیگریشن کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس پر فراڈ کا کیس کردیا ہے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 26 مارچ 2013 21:54

30 ہزار کا کوٹہ جاری کردیا گیا

روم، 25 مارچ 2013 ۔۔۔ جیسا کہ آزاد اخبار پہلے بھی خبر دے چکا ہے کہ منگل سے کوٹوں کی درخواست دی جا سکتی ہے اور ہماری خبر کے مطابق حکومت نے کوٹوں کا اعلان کردیا ہے ۔ یہ غیر ملکی غیر یورپین ممالک سے تشریف لائیں گے ۔ 26 مارچ سے صبح 00۔8 بجے سے درخواستیں روانہ کی جا سکیں گی ۔ درخواستیں انٹرنیٹ کے زریعے دی جائیں گی ۔ آپ اس گائیڈ کے زریعے درخواست دے سکتے ہیں ۔ (qui una guida per prepararle)یہ غیر ملکی مندرجہ زیل ممالک سے آئيں گے ، ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے ۔ Albania, Algeria, Bosnia-Herzegovina, Croazia, Egitto, Repubblica delle Filippine, Gambia, Ghana, India, Kosovo, Repubblica ex Jugoslava di Macedonia, Marocco, Mauritius, Moldavia, Montenegro, Niger, Nigeria, Pakistan, Senegal, Serbia, Sri Lanka, Ucraina e Tunisia۔ 5 ہزار کا کوٹہ ان ملازمین کے وقف ہے جو کہ مسلسل 2 سالوں سے اٹلی میں موسمی کام کرنے کے لیے آرہے ہیں ۔ ان کے مالک 2 سالوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں ۔ وہ ملازم جو کہ گزشتہ سال موسمی کام کے لیے آچکا ہے ، وہ خواہ اوپر درج کردہ ممالک میں شامل نہیں ہے ، وہ اسکے باوجود اٹلی میں کوٹوں کے زریعے آسکتا ہے ۔ یاد رہے کہ جب موسمی ملازم اٹلی میں آتا ہے تو اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ تھانے کے دفتر Sportello Unicoمیں جا کر سوجورنو کا کنٹریکٹ کرے اور جب ملازم اٹلی میں آتا ہے تو اسے 8 دنوں کے اندر تھانے میں جانا ہوتا ہے ، بعض بے ایمان مالک اس کے ساتھ پہلے 8 دنوں میں نہیں جاتے اور اس طریقے سے وہ لمبی رقم لیتے ہوئے خود بری ہوجاتے ہیں ۔ کوٹوں کا مکمل قانون پڑھنے کے لیے نیچے کلک کریں


Il testo del decreto flussi stagionali 2013
la circolare dei ministeri dell’Interno e del Lavoro

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

غیر ملکیوں سے امتیازی سلوک ختم کیا جائے ، مزدور یونین

روم۔ 25 مارچ 2013۔۔۔ اٹلی کی مزدور یونین چزل کے حکام نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ غیر ملکیوں سے امتیازی سلوک ختم کیا جائے۔ اٹلی کی مختلف نوکریوں میں غیر ملکیوں سے بے انصافی کی جاتی ہے اور انکے حقوق پامال کیے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر کنسٹرکشن، زراعت اور کمرشل کاموں میں غیر ملکیوں کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے ، یعنی ان سے کنٹریکٹ نہیں کیا جاتا اور ان سے غیر قانونی طور پر کام لیا جاتا ہے ۔ یہ غیر ملکی اٹالین قوانین سے واقفیت نہ رکھتے ہوئے اور غیر ملکی ہونے کی صورت میں اپنی آواز نہیں اٹھاتے اور اس امتیازی سلوک کو برداشت کرتے ہیں ۔ دوسرا حلقہ جس میں غیر ملکی اکثریت میں کام کرتے ہیں وہ ڈومیسٹک کام ہے اور اس کام میں بھی ان سے عام طور پر کنٹریکٹ نہیں کیا جاتا اور قومی کنٹریکٹ سے کم تنخواہ دیتے ہوئے ان سے دن رات کام لیا جاتا ہے ۔ غیر قانونی کام اٹلی کی سب سے بڑی بیماری بن چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اٹلی کی تمام بڑی مزدور یونینوں کے ساتھ ملکر امتیازی سلوک کو ختم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں ۔ اگر غیر ملکی خوشی سے کام نہیں کرے گا تو وہ خوش نہیں ہو گا اور اگر خوش نہیں ہو گا تو وہ انٹیگریٹ بھی نہیں ہو سکے گا ۔ اٹلی میں امتیازی سلوک کے خلاف سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم میں بولی ووڈ ڈانس کے آپسرا سکول کا قیام

روم، 23 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کی مشہور بولی ڈانس یا بھنگڑا کی ایکسپرٹ والینتینا مندوقی نے روم میں بولی ووڈ ڈانس کے آپسرا سکول کا قیام کیا ہے ۔ اگر آپ انڈین پاکستانی ڈانس سیکھنے کے خواہشمند ہیں تو آپ ہم سے جلد رابطہ کریں ۔ اسکے علاوہ پاکستانیوں کے فنگشنوں کی رونق دوبالا کرنے کے لیے آپسرا سکول آپکو ڈانس گروپ مہیا کرسکتا ہے ۔ ہم پورے اٹلی کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں ڈانس شو کرتے ہوئے شہرت حاصل کر چکے ہیں ۔ ڈانس ماسٹروں میں انڈین اور اٹالین شامل ہیں ۔ ہم سے جلد رابطہ کریں ۔

Phone

320 293 0720

Email

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Website

http://www.apsarasdance.com

Press Contact

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Booking Agent

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے ; یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 23 مارچ 2013 19:21

فیس بْک

یہ میری پہلی تحریر ہے۔ میں نے آج سے پہلے کوئی افسانہ ، مضمون یا کہانی کچھ نہیں لکھا۔ بس ایک عجیب و غریب واقعے نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ یہ کہانی فیس بْک سے جڑی ہوئی ہے(فیس بْک آج کے دور کا سب سے بڑا مشغلہ ہے۔ ضرورت، مجبوری، یا اپنوں سے قربت یا کچھ اور پتا نہیں کیا۔ اس بات کا فیصلہ ہر پڑھنے والا اپنے حساب سے کرے گا)۔یہ کہانی میری سہیلی کی بہن کی ہے جس کی شادی کو پانچ ماہ ہوئے تھے۔ گھر میں نندیں، دیور، ساس، سْسر تقریباً سب ہی رشتے موجود تھے۔ ایک چھوٹی سی جنت جہاں سب ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے اور بہت پیار سے رہتے تھے۔ندیم کی شادی سے سب ہی بہت خوش تھے کیونکہ اس نے شادی بہت دیر سے کی تھی (پروفیسر بننے کے بعد شاید اْسے اپنے لیئے وقت ہی نہ ملا تھا)۔ ندیم اور اریبہ کی عمر میں تقریباً ۱۲ (بارہ ) سال کا فرق تھا لیکن ان کی باتوں،مشغلوں اور پیار سے لگتا تھا کہ وہ دونوں ہم عمر ہیں۔ ندیم میں بس ایک ہی برائی تھی کہ بیوی سے زیادہ فیس بْک کو وقت دیا کرتا۔ رات گئے فیس بْک پے اپنے دوستوں سے چَیٹ کرتا رہتا۔ ایک دن کسی خوبصورت لڑکی نے اْسے فرینڈ ریکویسٹ بھیجی جو اس نے فوراً کنفرم کردی۔بس اب کیا تھا۔ اب تو ندیم کی آئی ڈی اور بھی کلر فل ہوگئی تھی۔ اب وہ رات تین چار بجے تک نازش (فیس بْک کی فرینڈ) سے باتیں کرتا رہتا ۔ اریبہ نے محسوس کرنا شروع کردیا کہ پچھلے تقریباً دو ہفتوں سے ندیم اسے اِگنور کررہا ہے۔ جب اریبہ کو یہ پتا چلا کہ ندیم اور نازش کی دوستی فیس بْک سے کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئی ہے اور دوستی پیار کا رنگ اختیار کرتی جارہی ہے۔ اسے یہ جان کر بہت دْکھ ہوا۔ اس نے اپنے اس شک جسے وہ شک یا اپنی غلط فہمی سمجھتی تھی کا ذکر کیا تو ندیم کو بہت غصہ آیا۔ اس نے اریبہ کو جاہل ، بیوقوف، کم عقل اور کْند ذہن اور نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازا۔ بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک آپہنچی۔ ندیم کے پاس تو اولاد نہ ہوئے کا بہانہ بھی موجود تھا حالانکہ ان کی شادی کو ابھی پانچ ماہ ہی گزرے تھے۔ اس کے نزدیک اریبہ کا سب سے بڑا جرم یہی تھا۔ خیر دونوں طرف سے بزرگوں نے بڑی کوشش کی کہ ندیم اور اریبہ کی جوڑی بنی رہے لیکن شاید ندیم اب کچھ اور ہی سوچ رہا تھا (شاید نازش کے بارے میں)۔ اور بہت کوششوں کے باوجودندیم اور اریبہ میں طلاق ہوگئی۔ اس بات کو ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دکھ کا مداوا بھی کردیا اور اریبہ کو ماں بننے کی خوشخبری بھی دے دی۔ دوسری طرف جب ندیم نے نازش سے شادی کی بات کی تو اس نے صاف انکار کردیاکہ اس سے شادی نہیں کرسکتی کیونکہ اس کی شادی اس سے ہو ہی نہیں سکتی تھی ۔اگر ان دونوں کی شادی ہوجاتی تو جس معاشرے میں وہ رہتے تھے اس معاشرے نے اس رشتے کو کبھی تسلیم ہی نہیں کرنا تھا۔ کیونکہ نازش اصل میں ایک لڑکا تھا جو محض تفریح کے لیئے فیک آئی ڈی سے لڑکی بنا ہوا تھا اور اس نے اپنی فوٹو کی جگہ کسی خوبصورت لڑکی کی تصویر لگائی ہوئی تھی۔ جب ندیم کو یہ پتا چلا کہ نازش ایک لڑکا ہے اور دوسری طرف اربیہ ماں بھی بننے والی ہے تو اسے اپنے کیئے پر بڑی شرمندگی ہوئی لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ ایک لڑکے کے چھوٹے سے مذاق سے ایک گھر تباہ ہوگیا ۔ایک فیک آئی ڈی نے دوانسانوں کی زندگی میں زہر گھول دیا۔

یہ کہانی لکھنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ پلیز فیس بْک پے سوچ سمجھ کر دوستی کریں اور اس کی وجہ سے اپنے پیار کرنے والے رشتوں کو مت ٹھکرائیں۔ کہیں کسی اور کا بھی ندیم اور اریبہ جیسا حال نہ ہو۔

اللہ تعالی ہمیں سوچنے سمجھنے کی طاقت دے۔آمین

رْوما بیگ ، اریزو

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com