Tuesday, Jun 18th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

لیول A2کا کیا مطلب ہے

نئے قانون کے تحت اب کارتا دی سوجورنو حاصل کرنے کے لیے اٹالین زبان کا ٹیسٹ لازمی قرار دیدیا گیا ہے اور اس ٹیسٹ کا نام Livello A2ہے ۔ یہ ٹیسٹ یورپین کمونٹی کے لیول کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل میں آیا ہے ۔ اس ٹیسٹ کے مطابق زبان سیکھنے والے کو مندرجہ زیل اصولوں پر عمل کر نا ہو گا

سننا۔ اس اصول کے مطابق زبان سیکھنے والے کو ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ اپنے بارے میں ، اپنے خاندان کے بارے میں ، اپنے کام کے بارے میں ، اپنے ماحول کے بارے میں ، اپنی خریداری کے بارے میں اٹالین زبان میں سمجھ جاتا ہے ، اسکے علاوہ چھوٹی موٹی پبلسٹی بھی سمجھ جاتا ہے ۔ یعنی یہ ظاہر کرنا ہو گا کہ وہ لوگوں کے چہرے کو پڑہ لیتا ہے اور انکی اس بات کو سمجھ جاتا ہے جو کہ وہ بار بار یا معمول سے کرتے ہیں ۔

پڑھنا۔ اس اصول کے مطابق زبان سیکھنے والے کو ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ روزمرہ کی زندگی میں سادہ اور کم ستروں میں لکھے ہوئے بیانات ، پبلسٹی اور ٹائم ٹیبل وغیرہ پڑہ لیتا ہے اور انہیں سمجھ جاتا ہے ۔ اسکے علاوہ اے بی سی کو پڑہ لیتا ہے ۔ ٹرین ٹائم اور وہ تمام بورڈ پڑہ لیتا ہے جو کہ اسکی ضرورت بھی بنتے ہیں

بات چیت کرنا ۔ اس اصول کے مطابق زبان سیکھنے والے کو ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ آسانی سے اپنی بات چیت کرتے ہوئے دوسروں کو اپنی روزمرہ کی مصروفیات کے بارے میں سمجھا سکتا ہے اور دوسروں کی بات بھی سمجھ جاتا ہے ۔ یا بات چیت انتہائی آسان زبان میں کی جاتی ہے جسے ہم کام چلانے والی زبان بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اسے ظاہر کرنا ہوگا کہ یہ کسی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کافی بات سمجھ جاتا ہے لیکن دوسروں کو پوری طرح سے اپنی بات بعض اوقات نہیں سمجھا پاتا ۔

بولنا۔ اس اصول کے مطابق زبان سیکھنے والے کو ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ چند آسان الفاظ کے زریعے اور کم بات کرتے ہوئے اٹالین زبان بول لیتا ہے اور اپنے خاندان، اپنے ماضی، اپنے بچوں کے بارے میں ، اپنے کام اور اپنی مصروفیات کے بارے میں یا پھر اپنی زندگی کے بارے میں دوسروں کو بول کر سمجھا لیتا ہے ۔

لکھنا۔ اس اصول کے مطابق زبان سیکھنے والے کو ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ انتہائی سادہ الفاظ میں کسی بات چیت کے بارے میں پوائنٹس حاصل کر سکتا ہے اور ایک سادہ سا خط بھی لکھ سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ اگر اس نے کسی کا شکریہ ادا کرنا ہے تو اسے ظاہر کرنا ہوگا کہ یہ لکھ کر شکریہ ادا کر سکتا ہے اور اپنے کام کے بارے میں بھی چھوٹے پیغام لکھ لیتا ہے ۔ تحریر، ایلویو پاسکا

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی کی سیاست

روم۔ 14 دسمبر 2012 ۔۔۔ پیارے دوستو ، اٹلی کی سیاست بھی عجیب سیاست ہے ، یہاں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن اٹلی اور پاکستان کی سیاست میں فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں مارشل لاء نہیں لگایا جاتا ۔ عارضی حکومتیں جمہوری حکومتوں کی جگہ لے لیتی ہیں اور ان کا کام چل جاتا ہے ۔ عام طور پر وہ تمام قوانین اور ٹیکس جو کہ ایک جمہوری حکومت نہیں رائج کر سکتی کیونکہ انہیں اپنے ووٹ کھونے کا خطرہ ہوتا ہے ، ایسے کام عارضی حکومت سے کروائے جاتے ہیں ۔ موجودہ حکومت جس کے وزیر اعظم مونتی تھے ، انہوں نے عوام پر بے شمار ٹیکس لگا کر اٹلی کو دیوالیہ ہونے سے تو بچا لیا ہے لیکن عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے ۔ اٹلی میں معاشی بحران کافی شدید ہے اور اس پر ٹیکسوں کی برمار سے عوام میں مزید غم و غصے کی لہر دوڑ رہی ہے ۔ مونتی سے قبل برلسکونی اٹلی کے وزیر اعظم تھےجو کہ دائیں بازو کی سیاسی پارٹی کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ برلسکونی اٹلی کے تین بڑے ٹیلی ویژن اسٹیشنوں کے مالک ہیں اور انکے ہاتھ میں اٹلی کا 80 فیصد پبلسٹی کاروبار موجود  ہے ۔ برلسکونی دنیا کے امیر آدمیوں میں بھی شامل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ گزشتہ 17 سالوں میں 3 بار اٹلی کے وزیر اعظم بن چکے ہیں ۔ ان پر کئی کیس عدالت میں چل رہے ہیں لیکن اسکے باوجود بھی برلسکونی نہ صرف اٹلی کے لیے بلکہ پورے یورپ کے لیے مسئلہ دکھائی دیتے ہیں ۔ اب عارضی حکومت نے بھی استعفی دیدیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ 2013 کے شروع یعنی فروری یا مارچ میں عام الکیشن کروائے جائیں گے ۔ یونان، اسپین اور پرتگال کے بعد اٹلی کے دیوالیہ کا ڈر تھا لیکن لگتا ہے کہ اٹلی اس زلزلے سے بچ جائے گا کیونکہ اٹلی دنیا کی آٹھویں بڑی انڈسٹریل پاور ہے ۔ گو اسکی انڈسٹری پرانی ہو چکی ہے لیکن پھر میڈ ان اٹلی دنیا میں کافی مقبول ہے ۔ اٹلی میں پارلیمانی نظام موجود ہے اور صدر کی پاور محدود ہے ۔ اٹلی کی آبادی 6 کروڑ کے قریب ہے اور اس ملک میں 50 لاکھ غیر ملکی آباد ہیں ۔ اٹلی یورپ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے کیونکہ سلطنت روم نے پورے یورپ کو آباد کیا تھا اور یورپین کلچر ، سیاست اور معاشرے کی بنیاد رکھی تھی ۔ اس ملک میں یورپ کا سب سے خوبصورت شہر وینس موجود ہے جو کہ دنیا کا عجوبہ سمجھا جاتا ہے ۔ اسی ملک میں رومیو جیولٹ کی پیار کی کہانی نے جنم لیا تھا ، جسے بعد میں شیکسپئر نے کہانی کے طور پر پیش کیا تھا ۔ 2 ہزار سال پہلے روم شہر دنیا کا سب سے ترقی یافتہ شہر تھا ، جہاں عوام کے لیے کلوسیم اور پانی کے تالاب بنائے گئے تھے اور جمہوری قوتوں نے جنم لیا تھا ۔ اسی ملکی کے جزیرے سسلی کی مافیا پوری دنیا میں مشہور ہے ۔ یاد رہے کہ سسلی میں 1 ہزار قبل مسلمانوں کا دور تھا اور لفظ مافیا بھی محفل سے حاصل کیا گیا تھا ۔ اٹلی کے کلچر میں عرب کلچر کا کافی اثر دکھائی دیتا ہے ۔ خیر  اب نئی امیگریشن کے لیے نئی حکومت کا انتظار کرنا ہو گا ۔ تحریر، اعجاز احمد

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

مذہبی اور سیکولر حکومتیں

پاکستان سے اور دیگر مسلم ممالک سے روازنہ ہی قتل و غارت گری، اقلیتوں پر تشدد، فرقہ وارانہ نفرت، اور ایسی ہی دیگر  دل شکن خبروں کا آنا معمول کی بات ہے۔ اسی طرح کی خبریں افغانستان، سعودی عرب ، اور انڈونیشیا سے بھی آتی رہی ہیں۔ ہمیں  یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ بدقسمتی سے  ان میں اکثر  وہ ممالک ہیں جو خود کو ''اسلامی  ریاست ''قرار دیتے ہیں۔دنیا کے تقریباً چھیایسی اسلامی ملکوں میں سے صرف چھ ایسے ہیں جنہوں نے ریاست کے انتظامات میں اسلام کو باقاعدہ آئین میں شامل کیا ہے۔ ان میں پاکستان، ایران، افغانستان، سعودی عرب، یمن ، او ر صومالیہ شامل ہیں۔ سولہ اسلامی ملک ایسے ہیں جنہوں نے آئینی طورپر سیکولر طرز حکومت کو اختیا ر کیا ہے۔ ان میں کثیر مسلمان آبادی والا ملک بنگلہ دیش شامل ہے۔ بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے ماضی قریب میں ایک آئینی فیصلہ کے تحت بنگلہ دیش کے اس سیکولر طرز حکومت کو بحال کیا جو بنگلہ دیش کی آزادی کے فوراً بعد آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ پانچ معروف اسلامی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ریاست کی شناخت میں مذہب کو شامل نہیں کیا ہے، ان میں انڈونیشیا، شام، اور لبنان شامل ہیں۔ اب سے پہلے عراق بھی ایک سیکولر طرز کی ریاست سمجھا جاتا تھا، لیکن صدام حسین کے زوال کے بعد وہاں ایسے قوانین نافذ کیئے گئے جن میں کوئی بھی قانون اسلام کی روح سے متصادم نہیں ہو سکتا۔ یوں لگتا ہے کہ اب شام میں بھی اسی طرح کی صورت حال پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔ انیس اسلامی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے اسلام کو اپنا ریاستی مذہب قرار دیا ہے لیکن ان کے نظامِ حکومت مختلف طرز کے ہیں جن میں بادشاہت، جمہوریت، یا آمریت شامل ہیں، ان میں سے بھی بعض میں مذہبی فرقوں کے ساتھ ظلم اور شدت پرستی روا رکھی جاتی ہیں جس میں بحرین کی مثال سب کے سامنے ہے۔ عام طور پر اسلامی ممالک میں' اور خصوصاً  پاکستان میں 'سیکولرزم' ایک بدی، اور قابلِ نفرت نظام کے طور پر بدنام کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے ساتھ سیکولر طرزِ حکومت کو  دانستہ طور پر لا دینیت، مذہب دشمنی، اور مذہب کے خلاف ایک ایسے نظام کے طور پر پیش کیا جاتا رہا جسے شاید دہریوں، لامذہبوں ، یا جہنمی لوگوں نے مذہب کے خلاف کسی سازش کے طور پر قائم کر دیا ہو۔ اس طرح کی فکر کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام ان لوگوں نے قائم کیا جو خود مذہبی تو تھے لیکن مذہب کے نام پر تشدد کے شکار ہونے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ مذہب کے نام پر جو بھی نظام حکومت قائم کیا جائے گا وہاں اکژیتی  مذہبی فرقہ والے، اقلیتوں پر نسلی، معاشی اور معاشرتی ظلم کرتے رہیں گے۔ لوگ شاید یہ جان کر حیران ہوں کہ سیکولر طرزِحکومت کی بنیاد سب سے پہلے امریکہ میں ڈالی گئی اور امریکہ کی آئین سازی کے کئی سال کے بعد اس سے ملتا جلتا نظام فرانس میں اور دیگر یورپی ممالک میں اختیار کیا گیا جو رفتہ رفتہ دنیا کے دیگر ممالک میں پھیل گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیکولرزم کی تعریف کیا ہے، اور سیکولر طرز حکومت کیا ہوتا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیئے امریکہ کے آیئن کی بنیادی روح کو جاننا ضروری ہے جس  میں ریاست اور مذہب کو ایک دوسرے سے قانونی طور پر علیحدہ کر دیا گیا۔ امریکہ کے آئین کی ایک اہم ترمیم میں طے کیا گیا کہ، ''امریکی کانگریس کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو کسی مذہب کو قائم کرے، یا کسی بھی مذہب کے آزادانہ پرچار کو روک سکے، یا تقریراور صحافت کی آزادی، اور عوام کے آزادانہ پر امن اجتماع پر پابندی لگا سکے، یا شہریوں پر کوئی ایسی قدغن لگا سکے جو انہیں اپنے ساتھ کی گئی زیادتی پر حکومت سے درخواست کو روک سکے''۔ان سطروں کو پڑھ کر آپ کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ سیکولر طرز، حکومت سابقہ سوویت یونین کے لا دین حکمرانوں نے یا لا مذہب دہریوں نے نہیں قائم کیا تھا بلکہ انہوں نے قائم کیا تھا جو کسی خالقِ کائنات پر یقین رکھتے تھے لیکن یورپ میں عیسایئت کے مختلف فرقوں کے درمیان صدیوں کے کشت و خون  کے شاہد بھی تھے اور خود برطانیہ میں انگلستانی گرجہ اور حکومتی گٹھ جوڑ کے ظلم کا شکار رہے تھے۔ امریکہ ، شمالی امریکہ ، اور یورپ میں رہنے والے مسلمان شہری اس حقیقت سے آگاہ بھی ہیں اور گواہ بھی کہ یہاںہر شخص اپنا مذہب آزادانہ طور پر اختیار کرتا ہے اور اس  پر آزادنہ عمل بھی کر سکتا ہے، اور چاہے تو اس کی تبلیغ بھی۔ یہاں وہ اپنی مسجدیں بھی بنا سکتا ہے، مصلےٰ بھی، اور اس پر اپنی مرضی کے مذہبی طریقہ پر عمل کرنے پر کوئی عمومی پابندی یا رکاوٹ نہیں ہے۔ اس کے برخلاف ان اسلامی ممالک میں جنہوں نے ریاست میں مذہبی قانون لاگو کیئے ہیں، وہاں مختلف  فرقوں اور مذہبوں کی عبادات گاہیں مسمار کی جاتی ہیں، اقلیتوں پر تشدد کیا جاتا ہے، ان کا خون ارزاں کیا جاتا ہے ، اور ان پر ذرایع معاش بند کیے جاتے ہیں۔  یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ سعودی عرب میں غیر مسلم اقلیتیں نہ صرف یہ کہ اپنی عبادت گاہیں نہیں بنا سکتیں بلکہ آزادانہ اپنے مذہب کے طریقوں پر عبادت بھی نہیں کر سکتیں۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ امریکہ ، شمالی امریکہ ، اور یورپ میں رہنے والے مسلمان اس نظامِ حکومت کے اعتراف اور  پرچار میں بخل سے کام لیتے ہیں، جس کے فوائد سے وہ ہر روز مستفید ہوتے ہیں۔ کیا  آپ امریکہ ، شمالی امریکہ ، اور یورپ میں فرقہ وارانہ فسادات دیکھتے ہیں؟ کیا یہاں سنی مسلمان ، شیعہ مسلمانوں  کو اور شیعہ مسلمان سنی مسلمان کو قتل کرتے یا ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلاتے  نظر آتے ہیں؟ کیا یہاں کوئی بھی شخص جو خود کو مسلمان کہتا ہو کسی احمدی  سے دست درازی کر سکتا ہے، یا کسی احمدی عبادت گاہ پر لکھے کلمہ یا اسمِ محمدۖ کو مٹانے کی جرات کر سکتا ہے؟ اگر آپ امین، صادق، اور اصول پرست ہیں تو آپ ظاہراً نہ صحیح ، دل میں تو اقرار کرتے ہوں گے کہ سیکولر نظام ِ حکومت ہی وہ نظامِ حکومت ہے جو انسانی بقائے باہمی کی ضمانت دیتا ہے، اور حق ، انصاف ، اور مذہبی رواداری کا یہ نظام جو امریکہ میں نمو پا کر ساری دنیا میں پھیل گیا، دنیا کے لوگوں میں امن، آشتی، اور ایک دوسرے کے انسانی حقوق کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

طارق حسین کے خیالات

اسلام و علیکم اعجاز صاحب ،جناب آپ کی اور آپ کے اخبار کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ھے وہ بھی اس نفسانفسی کے موجودہ دور میں جہاں کسی کے پاس بھی اتنا وقت نہیں ھوتا کہ مخلصانہ اور بےلوث راہنمائی یا ترجمانی کر سکے وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب انسان مجبوریوں کے ساتھ اپنا دیس چھوڑ کے ایک ایسے معاشرے اور قوم کے نظام کا حصہ بنتا ھے جہاں ھر چیز کا رنگ ھی الگ ھے اور ھر چیز کی ایک قیمت ھے جہاں تک میں سجھا ھوں یا اسی طرح میرے دوسرے بھائی ،دوست جو یہاں تک پتہ نہیں کس طرح اور کسیے سفر طے کر کےپہنچتے ھیں اور جو ان کو یہاں تک لاتے ھیں یا جن کی امیدوں پہ انسان سب کچھ بھلا کر اپنا سفر طے کر کے آتا ھے توابتدا میں ان کے ساتھ بڑی اپنائیت اور ھمدردی کے بول بولے جاتے ھیں پھر آآہستہ آہستہ ھر چیز کا رنگ اترنا شروع ھو جاتا ھے اور سب اپنے اصلی روپ میں نظر آنا شروع ھوتے ھیں تب ھم جیسے لوگوں کو احساس ھوتا ھے کہ ھم جو خواب لے کے اور اپنی کل متاع زندگی گروی رکھ کے ادھر آئے ھیں وہ تو سب ایک سیراب سے زیادہ یا خواب سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھا تب اور اصل زندگی تو اب نظرآئے گی جس کے ساتھ ھم نے زندہ رہنا ھے تو اللہ پاک ھی جانتا ھے کہ اس وقت انسان پہ یا اس کے دل پہ کیا گزرتی ھے ایسے میں اگر کوئی بتاتا ھے کہ پریشان نہ ھوں بلکہ آپ کو جو معلومات یا بہتر راہنمائی چاہئے وہ بھی بے لوث تو ایک دفعہ آزاد اخبار کا مطالعہ کریں یا پھر اعجاز بھائی سے رابطہ کریں ممکن ھے کہ وہ آپ کی بہتر خدمت کر سکیں اور آپ کی آواز کو کسی نہ کسی طرح قلم بند کریں گے تو تب جا کے احساس ھوتا ھے کہ آج بھی آپ جیسے مخلص اور فرشتہ صفت لوگ زندہ و جاوید ھیں جو صحیح معنوں میں انسانیت کی خدمت کر رہے ھیں جس کو آئندہ کبھی قلم بند کریں گے آخر میں ھماری دعا ھے کہ اللہ پاک آپ کو اور آپ کے تمام چاہنے والوں کو اور خصوصی طور پہ آزاد کا مطالعہ کرنے والوں کو ھمیشہ سلامت رکھے اور زندگی کے ھر راستے پہ کامیابی ان کا مقدر ھو اللہ سب کا حامی و ناصر ھو آمین آپ سب کی دعاؤں اور چاہتو ں کا طلبگار طارق حسین ۔ تمام بھائی اور بہنیں آزاد کا انٹرینٹ کا ایڈریس یاد رکھیں www.azad.it

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

امیگریشن فیل قرار دیدی گئی ، اٹالین مزدور یونینیں

روم۔ 16 اکتوبر 2012 ۔۔۔ اٹلی کی تمام مزدور یونینیں اور ایسوسی ایشنوں نے موجودہ امیگریشن کو فیل قرار دیدیا ہے ۔ استرانیری ان اطالیہ نے مختلف نقطہ نظر کے لیڈران اور ایکسپرٹوں سے بات چیت کرتے ہوئے موجودہ امیگریشن کے بارے میں رائے حاصل کی ہے ۔ ویل مزدور یونین کے حکام نے کہا ہے کہ موجودہ امیگریشن اس لیے فیل ہوئی ہے کیونکہ یہ غیر ملکیوں کے لیے بہت مہنگی تھی ۔ اس میں ثبوت کی شرط بالکل غلط تھی اور اسکے بعد کنٹریکٹ کی شرط بھی کافی مشکلات پیش کرتی تھی ۔ چزل کے حکام نے کہا کہ اس امیگریشن میں 1 لاکھ سے زیادہ درخواستیں ڈومیسٹک ورک میں اس لیے دی گئی ہیں کیونکہ اس شعبے میں پارٹ ٹائم کنٹریکٹ کی اجازت تھی اور یہ سب سے سستی امیگریشن تھی ۔ ڈومیسٹک ورک میں مراکش ، بنگلہ دیش اور پاکستان جیسے ممالک کے ورکروں نے درخواست جمع کروائی ہے ، ہم جانتے ہیں کہ یہ قومیں ڈومیسٹک کام نہیں کرتیں ۔ اس لیے ہم اس امیگریشن کو فیل سمجھتے ہیں ۔ اگر زراعت اور انڈسٹری میں بھی پارٹ ٹائم کنٹریکٹ کی اجازت ہوتی اور 31 دسبمر 2011 کے ثبوت کی شرط موجود نہ ہوتی تو کافی غیر ملکی اس امیگریشن میں درخواست جمع کرواتے ۔ altسی جی ای ایل مزدور یونین کے حکام نے کہا کہ اٹلی میں 5 سے 8 لاکھ کے قریب غیر قانونی امیگرنٹس موجود ہیں ، اگر امیگریشن آسان ہوتی تو ان کی بیشتر تعداد درخواست دینے میں کامیاب ہوجاتی ۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ امیگریشن کھولنے سے پہلے ہمارے ساتھ تعاون کرتی اور ہمارا مشورہ حاصل کرتی ۔ اگر 5 لاکھ غیر ملکی لیگل کردیے جاتے تو حکومت کے خزانے میں بے شمار رقم پہنچتی اور اٹلی میں غیر قانونی کام کو ختم کرنے کا دعوہ کیا جاسکتا تھا ۔ ایک لاکھ سے زائد درخواستیں جمع ہونے سے غیر قانونی کام کو ختم نہیں کیا جا سکے گا ۔ کاریتاس کے حکام نے کہا کہ اٹلی میں غیر قانونی کام کو ختم کرنے کے لیے دوبارہ کوٹہ سسٹم کی طرف توجہ دینی ہوگی ۔ اگر ہم یونہی امیگریشن کھولتے رہے تو غیر ملکی اٹلی کی طرف غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی جرات کرتے رہیں گے ۔ کوٹہ سسٹم سے صرف ان غیر ملکیوں کو امیگریشن دی جاتی ہے جو کہ اٹلی کی معیشت کے لیے سازگار ہیں ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com