Friday, Sep 22nd

Last update08:57:59 PM GMT

RSS

محمد شہزاد خان کے قاتل کو 21 سال کی قیدکا فیصلہ

‎‎‎

7 دسمبر 15 ۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ گزشتہ 18 ستمبر کی رات کو نہتے محمد شہزاد اٹلی کے دارالخلافہ روم کے ایک علاقے تور پنیاتارا میں اٹالین باپ بیٹے نے وحشیانہ طور پر قتل کردیا گیا تھا ۔ یہ واقع تورپنیا تارے کی گلی Via Ludovico Pavoni  میں رات پونے بارہ بجے کے قریب پیش آیا ۔ جائے وقوع پر پولیس پہنچ گئی اور انہوں نے قاتلوں کو گرفتار کرلیا ۔ بقلم خود نے  اس محلے کا وزٹ کیا اور لوگوں سے بات چیت کی ۔ محمد شہزاد خان کا تعلق آزاد کشیمر کے گاؤں باغ سے تھا اور اسکی عمر 28 سال تھی ۔ محمد شہزاد روم کی مشہور و معروف شخصیت  ممحمد عزیز خان کا کزن تھا اور اٹلی میں گزشتہ 4 سالوں سے مقیم تھا ۔ محمد شہزاد کے پاس پرمیسو دی سوجورنو تھی اور کبھی کبھار پاکستانی ریسٹورنٹوں میں کام بھی کرتا رہا تھا ۔ اب چند ماہ سے شہزاد بے روزگار تھا اور پریشان حال تھا ۔ اس نے کچھ عرصہ قبل پاکستان میں جا کر شادی کی تھی اور اسکا کا بیٹا بھی تھا ۔ 18 ستمبر کی رات وہ اس خونی گلی میں گاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ  پاکستانی ہے اور مسلمان ہے ۔ اسی اثنا میں ایک سترہ سالہ اٹالین اسکے پاس آیا اور اس نے کہا تم کیا گا رہے ہو ۔ شہزاد نے دوبارہ یہی گانا شروع کردیا کہ وہ پاکستانی ہے اور مسلمان ہے ۔ اس بات پر یہ اٹالین ناراض ہو گیا اور اس نے اسے مارنا پیٹنا شروع کردیا ۔ اسکے بعد اس اٹالین لڑکے کا والد بھی آگیا اور اس نے بھی اسے مارنے کے لیے کہا ۔ گلی کی دوسری منزل سے ایک اٹالین نے آواز دی کہ اس غریب کو مت مارو تو لڑکے کے والد نے اسکے دروازے پر لات مارتے ہوئے کہا کہ اگر تم خاموش نہیں رہو گے تو ہم تمہیں بھی مار دیں گے ۔ دور سے بنگالی لڑکے دوڑتے ہوئے آئے لیکن بہت دیر ہو چکی تھی ۔ محمد شہزاد اس وحشی دنیا کو چھوڑ کر اپنے  محبوب سے جا ملا تھا ۔ اسکے بعد بنگالی لڑکوں نے ثقلین علی کے کباب پر جا کر اطلاع دی تو فوری طور پر ثقلین ، چوہدردی شبیر امرے والا، راؤف خان جائے وقوع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ایمبیسی آف پاکستان روم کے افسر احمد فاروق کو بھی بلا لیا ۔ ساری رات لاش وہاں پڑی رہی اور باپ بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اٹالین اخبارات اور ٹیوی نے یہ خبر دی ہے کہ یہ کیس نسل پرستی کا نہیں ہے اور محمد شہزاد کو اٹالین کمسن  لڑکے نے اس لیے قتل کیا ہے کیونکہ اس نے اسکے منہ پر تھوک پھینکی تھی اور یہ نشے میں تھا ۔ حقیقت کو چھپا دیا گیا ہے اورمحمد شہزاد کو ایک پاگل اور ظالم انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔

اب ایک سال کی تاریخوں کے بعد عدالت اعلی نے 12 ججوں کی موجودگی میں قاتل کے باپ کو 21 سال کی قید کا فیصلہ سنا دیا ہے ۔ محمد شہزاد خان کے قتل کی پیروائی اسکے کزن محمد عزیز خان نے کی ہے ۔ محمد عزیز خان شہزاد کو اٹلی لیکر آئے تھے اور انہوں نے اسکی سوجورنو وغیرہ بنوائی تھی ۔ محمد عزیز اب انگلینڈ میں آباد ہیں لیکن وہ شہزاد کے کیس کے لیے اکثر اٹلی آتے رہے ہیں ۔ محمد عزیز خان نے بتایا کہ شہزاد کے قتل کے بعد انکے خاندان والے سخت پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں اور انکے مالی حالات بھی کافی خراب ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اٹالین انصاف کے اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، جنہوں نے شہزاد کے قاتل کو اصل سزا سنائی ہے ۔ محمد عزیز نے کہا کہ انہوں نے انگلینڈ میں اپنا کاروبار خراب کرنے کے باوجود کیس کی پیروائی کی ہے اور انصاف حاصل کیا ہے ۔ آج جب عدالت نے قاتل کے والد ماسی ملیانو کو 21 سال کی سزا سنائی تو اس بدمعاش خاندان نے عدالت کی کرسیاں توڑنی شروع کردیں اور ججوں گالیاں دیں ۔ انہوں نے مجھے بھی مارنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مجھے عدالت کے پچھلے دروازے سے نکال کر اپنی گاڑی میں بٹھا کر وہاں سے باحفاظت نکال لیا ۔

عدالت نے گزشتہ دنوں قاتل دانیل کو بھی 8 سال کی قید سنائی تھی لیکن بعد میں اسے ایک ایسے سنٹر میں روانہ کر دیا تھا ، جہاں اسے تعلیم و تربیت دی جائے گی ۔ یاد رہے کہ اٹلی میں کم سن کو جیل کی قید نہیں دی جاتی ۔ اصل قاتل اسکا والد ہے کیونکہ اس نے بیٹے کو اکسایا تھا اور ثبوت چھپانے کے لیے اسکے کپڑے اور جوتے بھی پولیس کے پہنچنے سے قبل تبدیل کروا دیے تھے ۔ تصویر میں مرحوم محمد شہزاد اور اسکے کزن محمد عزیزخان اپنے دوستوں کے ہمراہ 

 

 

 

                                                                                                                

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 15 دسمبر 2015 20:33

اٹلی کی موجودہ امیگریشن کی رپورٹ

روم، 22 اکتوبر 2015 ۔۔۔۔۔۔ یہ رپورٹ Centro Studi e Ricerche IDOS  کی جانب سے شائع کی گئی ہے ۔ ایک ریسرچ کے مطابق دنیا میں 2015 میں تارکین وطن کی تعداد 23 کروڑ 70 لاکھ کے قریب ہو گئی ہے ۔ یورپ میں امریکہ میں تارکین وطن کی تعداد میں زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ تارکین وطن کی ملک بدری کیوجہ عدم مساوی حقوق ہیں ۔ دنیا کی 48 فیصد دولت پر 1 فیصد لوگوں کا قبضہ ہے ۔ 46،5 فیصد پر 20 فیصد لوگ اور 5،5 فیصد دولت پر باقی تمام لوگ مالک ہیں ۔ دولت کی غلط تقسیم کے علاوہ دنیا کے سیاسی بحران، فوجی جنگیں اور قدرتی عذاب بھی اہم قرار دیے جاتے ہیں ۔ 2014 میں 6 کروڑ تارکین وطن اپنا ملک چھوڑ کر کہیں دوسری جگہ چلے گئے ہیں ( جو کہ گزشتہ سال سے 80 لاکھ زیادہ ہیں ) ، ان میں سے 60 فیصد کے قریب تارکین وطن اپنے ہی ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ 2 کروڑ کے قریب تارکین وطن نے سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے ۔ ان لوگوں کے لیے سیاسی پناہ حاصل کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں سیاسی پناہ کے بین الاقوامی قوانین پر عمل نہیں کیا جاتا اور دنیا کے مختلف ممالک میں 65 نئی دیواریں غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے بنائی جا رہی ہیں ۔ اس رپورٹ میں اٹلی اور یورپ بھی شامل ہیں ۔ جنوری 2014 تک یورپ میں قانونی تارکین وطن کی تعداد 3 کروڑ 39 لاکھ تھی ۔ یہ تعداد یورپ کی تمام آبادی کا 6،7 فیصد حصہ ہے ۔ ان میں سے 2 کروڑ کا تعلق غیر یورپین ممالک سے ہے جبکہ 1 کروڑ 40 لاکھ کا تعلق یورپین ممالک سے ہے ۔ ان میں سے سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد 6 لاکھ 26 ہزار 710 ہے۔ اٹلی یورپ کے ان بڑے ممالک میں شامل ہوتا ہے ، جن میں زیادہ تارکین وطن موجود ہیں۔ 2014 میں اٹلی میں غیر ملکیوں کی تعداد50 لاکھ 14 ہزار ہوگئی ہے ۔ گزشتہ سال کے برعکس تعداد میں 92 ہزار غیر ملکیوں کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے برعکس ایک لاکھ 50 ہزار اٹالین نے تارکین وطن ہوئے ہیں ، یعنی انہوں نے اٹلی چھوڑ دیا ہے ۔ پوری دنیا میں اٹالین تارکین وطنوں کی تعداد 46 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ اٹلی کی قل آبادی میں 8،2 فیصد غیر ملکی شامل ہیں ، جوکہ یورپین ممالک کی تعداد سے زیادہ تصور کیا جا رہا ہے ۔ IDOSکی سالانہ رپورٹ دوسیر کے مطابق اٹلی میں غیر ملکیوں کی تعداد 54 لاکھ سے زیادہ ہے کیونکہ ایسے غیر ملکی بھی موجود ہیں ، جن کے پاس اٹالین کاغذات نہیں ہیں ۔ اٹلی میں موجود غیر ملکیوں کی اکثریت کا تعلق یورپین ممالک سے ہے ۔ یعنی 26 لاکھ غیر ملکی یورپین ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان میں سے 30 فیصد یعنی 15 لاکھ کا تعلق یورپین یونین کے ممالک سے ہے ۔ اٹلی میں سب سے زیادہ تارکین وطن کا تعلق رومانیہ سے ہے ، جو کہ 11 لاکھ  31ہزار 839 پر مشتمل ہے ۔ البانیہ کے غیر ملکی 4 لاکھ 90 ہزار ، مراکش 4 لاکھ 49 ہزار، چین 2 لاکھ 65 ہزار اور یوکرائن کے غیر ملکی 2 لاکھ 26 ہزار پر مبنی ہیں ۔ اڈوس کے مطابق ان میں سے 27 لاکھ کرسچن ہیں ، 16 لاکھ مسلمان ہیں اور باقی دوسرے مذاہب اقلیتی طور پر موجود ہیں ۔ اٹلی کی وزارت داخلہ کے مطابق 2014 میں 30 ہزار سے زائد غیر ملکی گرفتار ہوئے ہیں ، جن میں سے 15 ہزار سے زائد کو ملک بدر کردیا گيا ہے ۔ سمندر سے غیر قانونی طور پر 2014 میں ایک لاکھ 70 ہزار غیر ملکی اٹلی میں داخل ہوئے ہیں ۔ 2014 میں 64 ہزار سے زائد غیر ملکیوں نے اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے ۔ 2015 میں 30 ہزار سے زائد غیر ملکیوں نے اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔ جون 2015 تک 79 ہزار غیر ملکیوں کی سیاسی پناہ کی درخواست حاصل کرتے ہوئے ان میں سے 19 ہزار کو sprarاور باقی لوگوں کو عارضی کمپوں میں روانہ کیا گيا ہے ۔  2014 میں 1 لاکھ 887۔29 ہزار غیر ملکیوں کو اٹالین شہریت جاری کی گئی ہے جو کہ گزشتہ سال 2013 سے 29 فیصد زیادہ ہے ، اس کے برعکس یورپین اور غیر ملکیوں میں شادیوں کے رجحان میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ 2014 میں گزشتہ سال کی طرح غیر ملکی خاندانوں نے 75 ہزار 067 بچے پیدا کیے ہیں جو کہ قل تعداد کا 14 فیصد سے زائد حصہ تصور کیا جاتا ہے ۔ اٹلی میں 11 لاکھ غیر ملکی بچے ہیں ، جن میں 8 لاکھ 14 ہزار سکول میں داخل ہیں ۔ گزشتہ سال کے برعکس انکی تعداد میں 11 ہزار کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے برعکس اٹالین والدین کے بچوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے ۔ معزور غیر ملکی بچوں کی تعداد 26 ہزار 626 ہے جو کہ اٹالین معزور بچوں سمیت 1،11 فیصد بنتی ہے ۔ 2014 میں 22 لاکھ 94 ہزار غیر ملکی قانونی طور پر ملازمت کر رہے ہیں ، ان میں سے 12 لاکھ 38 ہزار مرد ہیں اور 10 لاکھ 56 ہزار عورتیں ہیں ۔ یعنی 10 فیصد سے زائد ملازمین غیر ملکیوں پر مشتمل ہیں ۔ 2014 میں 1 لاکھ 56 ہزار غیر ملکی بے روزگار ہوئے ہیں اور انکی پرمیسو دی سوجورنو ختم ہوگئی ہے  جو کہ 2013 کی نسبت 6 فیصد زیادہ ہے  ۔ 35 ہزار 740 غیر ملکیوں نے 2014 میں پنشن حاصل کی ہے ، اسکے بعد سوشل پنشن حاصل کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد 51 ہزار 361 ہے ۔ غیر ملکی اٹالین خزانے میں 6،16 عرب یورو جمع کرواتے ہیں اور اس میں سے 13،5 عرب خرچ کرتے ہیں ، یعنی اٹالین خزانے میں ہر سال 3،1 عرب یورو غیر ملکیوں کے کام اور بزنس کی بدولت آتے ہیں ۔ ملک کے سالانہ بجٹ میں غیر ملکی 123 عرب یورو جمع کرواتے ہیں ۔ اٹلی میں امتیازی سلوک کے ادارے انار کے مطابق 2014 میں ایک ہزار کے قریب غیر ملکیوں کے ساتھ انکی نسل، مذہب، رنگ اور ملکی کیوجہ سے غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 31 اکتوبر 2015 19:03

اسلام اور بنیاد پرستی

 

روم۔ 25 اپریل 2015 ۔۔۔۔ اسلام ایک بین الاقوامی مذہب ہے ، اسلامی ممالک کی تعداد 54 ممالک سے زائد ہے  ۔ اسلام کا مطلب امن ہے اور اس مذہب میں جاہل انسانوں کے لیے کوئی مقام موجود نہیں ہے ۔ اسلام میں لکھنا پڑھنا لازمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کی موجودہ سائنس کی بنیاد اسلامی سائنس دانوں کی مرہون منت ہے ۔ بنیاد پرستی کیا ہے ۔ بنیاد پرستی اور اسلام ایک دوسرے کے متضاد ہیں ۔ بنیاد پرست صرف بنیادوں پر یقین رکھتا ہے اور عمارت کے خلاف ہوجاتا ہے جو کہ ان بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے ۔ اسلام کی بنیاد کے بعد چودہ سوسال اسکی عمارت ہیں ۔ عربی زبان میں زیر زبر اور پیش اس وقت شامل کیے گئے ، جب اسلام عربی سرحدوں کو پار کرگیا اور غیر عربی قوموں کے لیے عربی سمجھنا اور قرآن پاک کافی مشکل ہوگیا تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لی زیر زبر وغیرہ کی ایجاد ہوئی ۔ اسی طرح بہت سارے ایسے قوانین ہیں جو کہ دوسری قوموں کی آسانی کے لیے بنائے گئے ۔ اس کے برعکس ایک بنیاد پرست صرف ان قوانین کو عمل میں لانے کے لیے ضد کرتا ہے جو کہ اسلام کے پہلے دور سے متعلق ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اجتہاد کرنا لازمی ہوتا ہے ، یعنی پانچ بنیادی اراکین وہی رہتے ہیں لیکن قوانین، روایات اور سماجی تبدیلی دنیا کے مطابق کرنا اسلام کا حصہ ہیں ۔ مثال کے طور پر ہمارے ملک میں بنکنگ سسٹم اسلامی روایات کے مطابق نہیں ہے لیکن دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے اسے رائج کیا گیا ہے اور اسے تسلیم بھی کرلیا گیا ہے ۔

عسکریت پسندی اور جہادی اسلام کا پرچار گزشتہ 35 سالوں سے کیا جا رہا ہے ۔ یہ بھی اسلام کے متضاد ہے ۔ جہاد کے لیے خلیفہ یا موجودہ حکومت کی مرضی شامل ہونا ضروری ہوتی ہے ۔ زاتی طور پر جنگ، لڑائی، چڑھاؤ جیسے جراثیم جو بعض اوقات ہمارے ملاں بھی ہمارے اندر پیدا کردیتے ہیں اور ہمارے زہن میں یہ بٹھادیتے ہیں کہ اسلام پوری دنیا میں غالب آنا چاہئے ، یہ سب ایسے نعرے ہیں ، جنکی موجودگی کیوجہ سے بعض اوقات ہمارے جوان اٹلی میں بھی دنیاوی زندگی چھوڑ کر لمبی داڑھی رکھ لیتے ہیں اور جس ملک میں رہتے ہیں ، اسکی رسومات، روایات اور کلچر کے خلاف ہو جاتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ یہ جوان اس ملک یا اٹلی میں خوش نہیں ہوتے اور مذہب کو اپنی ڈھال بناتے ہوئے خوشی تلاش کرتے ہیں ۔ یاد رکھیں کہ اس سال پیرس کے حملوں کے بعد اٹلی میں تین پاکستانیوں کی انکی لمبی داڑھیوں اور مذہبی لباس پہننے اور فیس بک پر انتہا پسند سائٹ دیکھنے کیوجہ سے ملک بدر کردیا گیا ہے اور اب پشتون کمونٹی کے 18 افراد کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ دوستو ، حالات سازگار نہیں ، ہمیں پاکستانی اور مسلمان سمجھ کر ہمارا کنٹرول کیا جاتا ہے اور ہمارا چال چلن دیکھا جاتا ہے  ، اگر کوئی جوان فیس بک پر دولت اسلامی کا نشان استعمال کرے گا تو لازمی بات ہے کہ حکومت اسے ملک بدر کرے گی کیونکہ دولت اسلامی والے یورپ کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں ۔ اٹلی میں مذہبی آزادی ہے لیکن اٹلی کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے کیونکہ یہاں اسٹیٹ سیکولر ہے ۔ مذہب کا پرچار کرنے کے لیے بھی ہمارے لوگ جب تبلیغ اور دعوہ جیسی تنظیموں کا حصہ بنتے ہیں ، انکے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس ملک کی روایات ، سماج اور ثقافت کو رد نہ کریں بلکہ انکی تعریف کریں ۔ آزادی، جمہوریت اور انسانی ہمدردی انکی بنیادی قدریں ہیں اور اگر ہم انکے خلاف پراپیگنڈہ کریں گے تو اس سے تو بہتر یہی ہے کہ ہم اس ملک کو چھوڑ دیں ۔ اسکے برعکس ہم رہنا بھی یورپ میں چاہتے ہیں لیکن ہم اسے بدلنے کے خواب دیکھتے ہیں ۔ سب سے بڑا مسلمان وہ ہے جو کہ محنت مزدوری کرتے ہوئے اس ملک میں اپنا مقام بناتا ہے ، اپنے بچوں کو تعلیم دلواتا ہے اور مہذب شہری بنتا ہے ۔ 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی سے ایک اور پاکستانی دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر

روم۔ 24 اپریل 2015 ۔۔۔ اٹلی کے شہر پراتو سے ایک پاکستانی یار اقبال عمر 27 کو دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر کردیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ پیرس میں دہشت گردی کے واقع کے بعد اب تک تین پاکستانیوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے ۔ یار اقبال اٹلی میں 1999 سے آباد تھا اور قانونی طور پر رہائش پذیر تھا ۔ اقبال اپنے بھائی اور والد کے ہمراہ آباد تھا لیکن کچھ عرصے سے وہ ان سے علیحدہ رہ رہا تھا ۔ پولیس کے مطابق اقبال فیس بک پر جہادی پروگرام دیکھتا تھا اور وہ مذہبی لیڈران کی تقاریر گھنٹوں تک سنتا رہتا تھا ۔ اقبال پراتو کالینسانو میں ایک فرم میں ورکر تھا اور کافی مذہبی ہونے کے بعد جنونی بنتا جا رہا تھا ۔ پولیس نے اسے وزیر داخلہ کے اسپیشل آرڈر کے بعد 22 اپریل کو گرفتار کیا اور اسکے بعد 23 اپریل کو ملک بدر کردیا ہے ۔ اسے روم ائر پورٹ کے زریعے کراچی روانہ کردیا گیا ہے ۔ پولیس نے کہا کہ اسکے گھر سے کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں ملا اور نہ اس کا تعلق کسی گروہ سے تھا لیکن اس کی دلچسپی جہادمیں بڑہ رہی تھی اور یہ کسی وقت بھی فارن فائٹر کے طور پر شام جیسے ملک میں جا کر جہادی فوجی بن سکتا تھا ۔ اقبال پراتو میں ویا فرارا کی مسجد میں نماز پڑھتا تھا ۔ یاد رہے کہ آج سردینیا میں پاکستانیوں کا ایک بڑا گروہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے ، جس میں 17 پاکستانی اور ایک افغان شہری موجود ہے ۔ تصویر میں یار اقبال

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 24 اپریل 2015 21:57

اٹلی میں موجود پاکستانی دہشت گرد گروہ گرفتار

روم، 24 اپریل 2015۔۔۔۔۔ کل شام سے لیکر آج صبح تک دہشت گرد گروہ کے 9 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور باقی 9 افراد کی تلاش جاری ہے ۔ اٹالین پولیس کے مطابق اس گروہ کا گھڑسردینیا صوبہ تھا اور یہ پورے اٹلی میں پھیلے ہوئے تھے ۔ گروہ کا تعلق القاعدہ، تحریک طالبان اور دوسری دہشت گرد تنظیموں سے بتایا جاتا ہے ۔ ان میں سے 2 دہشت گرد اسامہ بن لادن سے براہ راست منسلک بھی تھے ۔ یہ گروہ موجودہ پاکستانی حکومت کے خلاف بھی کام کر رہا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ موجودہ حکومت طالبان کے خلاف کاروائی نہ کرے اور امریکہ سے تعلقات ترک کردے ۔ اس گروہ نے 2010 میں ویٹیکن میں دہشت گردی کرنے کی کوشش بھی کی تھی ۔ 9 دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اٹلی سے فرار ہو چکے ہیں ۔ اس آپریشن میں اٹلی کے 7 صوبے شامل ہیں ۔ اس گروہ پر دہشت گردی، غیر قانونی امیگریشن کی کمائی اور دوسرے الزامات عائد کیے گئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اس گروہ نے شمالی اٹلی میں ایک عورت کو بھی قتل کیا تھا ۔ گروہ کے افراد نے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عورت کے قتل کی ویڈیو میں چھری نظر نہیں آرہی ۔ اس ویڈیو کی تلاش جاری ہے لیکن ابھی تک مل نہیں سکی ۔ اٹلی کے جزیرے سردینیا کے شہر اولبیا سے پاکستانی کمونٹی کے مذہبی لیڈر سلطان ولی خان عمر 39 سال کوگرفتار کر لیا گیا ہے ۔ سلطان ولی خان کو اس وقت گرفتار کیا گیا ، جب وہ اولبیا سے چویتا ویکیا کے لیے سفر کر رہا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ سلطان خان اس گروہ کا سب سے بڑا لیڈر ہے ۔ سلطان خان مسجد کا سربراہ بھی ہے اور اولبیا میں اسکی ایک دکان بازار کے نام سے مشہور ہے ۔ پولیس کے مطابق اسکی دکان سے ایک کاغذ بھی ملا ہے ، جس پر فارسی میں لکھا ہوا ہے کہ " شہادت لازمی ہے " ۔ یہ گروہ جزیرے کی مساجد سے چندہ حاصل کرتے ہوئے القاعدہ، تحریک طالبان، تحریک نفاز اور شریعت محمدی جیسی تنظیموں کی مدد کرتا تھا ۔ پولیس کے مطابق سلطان خان کے بعد گروہ کا نائب حافظ محمد ذوالفقار تھا ، جوکہ بیرگامو میں آباد ہے اور آج اسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ حافظ ذوالفقار بھی مختلف گروہوں کو رقم ارسال کرتا تھا  اور اسکی عمر 43 سال ہے ۔  حافظ بیرگامو اور بریشیا میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا پراپیگنڈہ کرتا تھا اور جوانوں کو اکساتا تھا ۔  اسکے بعد امتیاز خان عمر 40 سال، نیاز میر عمر 41 سال، صدیق محمد عمر 37 سال کو بھی اولبیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ایک افغانی شہری یحیی خان عمر 37 سال کو فوجیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اسکے علاوہ اٹلی کے شمالی شہر چویتا نووے مارکے سے زبیر شاہ عمر 37 سال اور شیر غنی عمر 57 سال کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ان میں سے دو دہشت گرد  پاکستان میں اسامہ بن لادن کے محافظ بھی رہے ہیں ۔ اس گروہ نے پاکستان میں بھی مختلف دہشت گردی کی وارداتیں انجام دی ہیں ، جن میں 28 اکتوبر 2009 میں پشاور کے مینا بازار کی واردات شامل ہے ، جس میں 100 سے زائد معصوم شہری شہید ہوئے تھے ۔ اس گروہ نے غیر قانونی امیگریشن کے زریعے اپنے افراد پورے یورپ میں پھیلا دیے تھے ۔ ان لوگوں کو جعلی کاغذات فراہم کیے جاتے تھے اور انکو سیاسی پناہ بھی دلوائی جاتی تھی ۔ گروہ کے افراد حوالہ کا بزنس بھی کرتے تھے اور اس رقم سے مختلف مقاصد پورے کیے جاتے تھے ۔ ویٹیکن کے ترجمان فادر فیدیریکو نے کہا کہ اس گروہ نے 2010 میں ویٹیکن میں دہشت گردی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انکی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ طور پر گروہ کے پروگرام میں ویٹیکن کو خطرہ لاحق نہیں تھا ۔ گروہ کے افراد پاکستان میں دہشت گردی کے حملے کرنے کے بعد اٹلی کے جزیرے میں واپس آجاتے تھے ۔ اس گروہ کے افراد کا تعلق تبلیغ و دعوہ سے بتایا جاتا ہے ۔ حافظ محمد ذوالفقار بیرگامو اور بریشیا میں تبلیغ کرتے ہوئے رقم اکٹھی کرتا تھا اور پاکستانی اور افغانی کمونٹی میں کافی مقبول تھا ۔ اس نے حال ہی میں روم کے ائر پورٹ کے زریعے 55 ہزار یورو غیر قانونی طور پر روانہ کیے تھے اور کسٹم کے حکام نے اس کا سراغ لگا لیا تھا اور اس رقم کو ضبط کر لیا گیا تھا ۔ پولیس نے بتایا کہ گروپ کے افراد کا تعلق پشتون کمونٹی سے ہے اور انکی موبائل فون کی بات چیت کی مخبری کرنے کے لیے پشتون ترجمانوں کی مدد حاصل کی گئی تھی ۔ پولیس کے مطابق انکی زبان سمجھنا کافی مشکل تھا اور اس خاطر ہم نے ایکسپرٹ ترجمان حاصل کیے تھے ۔ وزیر داخلہ الفانو نے کہا کہ اس گروہ کی تفتیش 2009 میں شروع ہوئی تھی اور اب اس آپریشن کو مکمل کر لیا گیا ہے ۔ یہ گروہ اٹلی میں بھی دہشت گردی کے حملوں کے لیے تیاری کر رہا تھا ۔ تصویر میں پولیس ملزمان کو گرفتار کر رہی ہے ۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 28 اپریل 2015 19:40