Friday, Jan 19th

Last update06:54:49 PM GMT

RSS

میلان میں ہومانیتاس یونیورسٹی کا افتتاح اور ایک پاکستانی لڑکی کی کامیابی

 

14 نومبر 2017 ۔۔۔۔ آج بروز منگل میلان میں ہومانیتاس یونیورسٹی کے کیمپس کا افتتاح اٹلی کے صدر سیرجو متاریلا نے کیا ۔ اس موقع پر ملک کے وزرا ، علاقائی سیاسی لیڈران اور سول سوسائٹی کی مشہور و معروف شخصیات موجود تھیں ۔ صدر مملکت عام طور پر کسی پرا‏‏ئیویٹ یونیورسٹی کا افتتاح کرنے کے لیے تشریف نہیں لاتے ، اس لیے یہ ایک اہم موقع تھا ۔ اسی یونیورسٹی میں ایک پاکستانی لڑکی جویرا علی بھی سال چہارم کی طالبہ ہیں۔ میلانو کے میئر جوزپے سالا نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہومانیتاس یونیورسٹی صرف ایک عام یونیورسٹی نہیں ہے بلکہ ایک اہم ریسرچ سنٹر، ہسپتال اور بین الاقوامی درس گاہ کے طور پر ابھر رہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسکے افتتاح کے لیے صدر مملکت خود تشریف لائے ہیں ۔ میئر نے کہا کہ ہمارے شہر میں 13 ہزار غیر ملکی اسٹوڈنٹس تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ غیر ملکی اس شہر کو اپنا شہر سمجھتے ہیں ۔

صدر مملکت نے اپنی تقریر میں کہا کہ ریسرچ دنیا کی تقدیر بدل رہی ہے ۔ آپ میری عمر ہی دیکھ لیں، یہ سب سا‏ئنس کی ترقی کی بدولت ہے ورنہ میری عمر کے لوگ پہلے اتنے صحت مند نہیں ہوتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میلانو اٹلی کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس شہر میں ترقی یافتہ ، جدید اور ڈیجیٹل انڈسٹری فروغ پا رہی ہے ۔ صدر کی تقریر کے بعد مختلف مقررین نے اس جدید یونیورسٹی کے بارے میں روشنی ڈالی۔ یونیورسٹی کی تقریب کے دوران صرف ایک اسٹوڈنٹ نے صدر مملکت اٹلی کے سامنے تقریر کی اور وہ ہماری پاکستانی لڑکی جویرا علی تھیں ۔ جویرا نے کہا کہ میرے دادا چاہتے تھے کہ میں ڈاکٹر بنو ۔ میں نے سکول اور کالج میں اچھی پوزیشن حاصل کی اور اسکے بعد اس یونیورسٹی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی ۔ یہاں تمام پروفیسر اور سٹاف ہم سے محبت کرتے ہیں ، میں چوتھے سال میں ہوں اور جلد تعلیم مکمل کرنے کے بعد عورتوں کی اسپیشلسٹ بننے کا خواب دیکھتی ہوں ۔ میں امید پرست ہوں اور اپنا اور اپنے یونیورسٹی فیلو کا مستقبل روشن تصورکرتی ہوں ۔ جویرا علی کے والد نعمت علی کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور وہ ریجو امیلیا شہر میں بزنس کرتے ہیں ۔ دونوں والدین اس عظیم الشان تقریب میں موجود تھے اور اپنی بیٹی پر فخر کرتے نظر آرہے تھے ۔  اسکے بعد ہومانیتاس یونیورسٹی کے پروفیسروں نے حاضرین کو بتایا کہ دنیا کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اسکے شہری بھی صحت مند ہوں ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم کینسر کا علاج تلاش کریں ۔ دنیا میں موٹاپاپن بڑہ رہا ہے، دنیا کے کافی ملکوں میں شہری اچھی خوراک نہیں کھا پاتے اور کمزور ہوتے جا رہے ہیں ۔ ہم نے دل کی کافی بیماریوں پر عبور حاصل کر لیا ہے ۔ ہمارے ہسپتال میں 80 فیصد مریض سرکاری سسٹم کے زریعے علاج کروانے کے لیے آتے ہیں ۔ پورے اٹلی اور دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ ہمارے پاس اس لیے آتے ہیں کیونکہ ہمارے علاج کا سسٹم انتہائی جدید اور میسر ہے ۔ ہماری یونیورسٹی میں 12 سو زائد اسٹوڈنٹس ہیں اور ان ميں سے 44 فیصد غیر ملکی ہیں ۔ ہم نے ایک لا‏ئبریری، ریسرچ سنٹر اور کانفرنس ہال تعمیر کیا ہے اور اب ایک نیا کیمپس بھی بنا رہے ہیں ۔ ہمارے ہاں میڈیکل تعلیم کے علاوہ ریسرچر بھی دنیا کے مختلف ممالک سے آتے ہیں ۔ ہماری یونیورسٹی میں انگلش زبان میں تعلیم فراہم کی جاتی ہے اور اسکے علاوہ اٹالین بھی سکھائی جاتی ہے ۔ میلانو شہر اٹلی کا انتہائی خوبصورت شہر ہے ، جس میں جھیلیں، قدیم عمارات، ڈیزائن اور فیشن کی فرمیں موجود ہیں ۔ غیر ملکی اسٹوڈنٹس یہاں بہت خوش رہتے ہیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمارے کلچر سے بھی متعارف ہوتے ہیں ۔ اگر آپ اٹلی میں میڈیکل تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنا چاہتے ہیں تو ہومانیتاس یونیورسٹی آپکے لیے آ‏‏ئیڈیل ثابت ہو سکتی ہے ، اسکی سالانہ فیس 20 ہزار یورو کے لگ بھگ ہے لیکن اسکے وظیفے 6 سے 12 ہزار یورو تک دیے جاتے ہیں ، اس یونیورسٹی کے پروفیسر اٹلی کے مشہور پروفیسر ۔ ان میں سے دو پروفیسر نوبل پرائز ہیں ۔ یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے آپ انکی انٹرنیٹ کی سا‏ئٹ سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔

Humanitas University

Via Rita Levi Montalcini, 4, 20090 Pieve Emanuele Milano, Italy

www.hunimed.eu, Telephone: 0039-0282243777, یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

 

 

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت بدھ, 06 دسمبر 2017 13:29

خواتین و حضرات

 

کافی مدت بعد ہم آزاد کو دوبارہ شروع کر رہے ہیں ۔ ہماری کوشش ہو گی کہ آپ کو وہ تمام معلومات فراہم کی جائیں جو کہ کسی طرح آپکے لیے سود مند ثابت ہو سکتی ہیں ۔ اعجاز احمد 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

محمد شہزاد خان کے قاتل کو 21 سال کی قیدکا فیصلہ

‎‎‎

7 دسمبر 15 ۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ گزشتہ 18 ستمبر کی رات کو نہتے محمد شہزاد اٹلی کے دارالخلافہ روم کے ایک علاقے تور پنیاتارا میں اٹالین باپ بیٹے نے وحشیانہ طور پر قتل کردیا گیا تھا ۔ یہ واقع تورپنیا تارے کی گلی Via Ludovico Pavoni  میں رات پونے بارہ بجے کے قریب پیش آیا ۔ جائے وقوع پر پولیس پہنچ گئی اور انہوں نے قاتلوں کو گرفتار کرلیا ۔ بقلم خود نے  اس محلے کا وزٹ کیا اور لوگوں سے بات چیت کی ۔ محمد شہزاد خان کا تعلق آزاد کشیمر کے گاؤں باغ سے تھا اور اسکی عمر 28 سال تھی ۔ محمد شہزاد روم کی مشہور و معروف شخصیت  ممحمد عزیز خان کا کزن تھا اور اٹلی میں گزشتہ 4 سالوں سے مقیم تھا ۔ محمد شہزاد کے پاس پرمیسو دی سوجورنو تھی اور کبھی کبھار پاکستانی ریسٹورنٹوں میں کام بھی کرتا رہا تھا ۔ اب چند ماہ سے شہزاد بے روزگار تھا اور پریشان حال تھا ۔ اس نے کچھ عرصہ قبل پاکستان میں جا کر شادی کی تھی اور اسکا کا بیٹا بھی تھا ۔ 18 ستمبر کی رات وہ اس خونی گلی میں گاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ  پاکستانی ہے اور مسلمان ہے ۔ اسی اثنا میں ایک سترہ سالہ اٹالین اسکے پاس آیا اور اس نے کہا تم کیا گا رہے ہو ۔ شہزاد نے دوبارہ یہی گانا شروع کردیا کہ وہ پاکستانی ہے اور مسلمان ہے ۔ اس بات پر یہ اٹالین ناراض ہو گیا اور اس نے اسے مارنا پیٹنا شروع کردیا ۔ اسکے بعد اس اٹالین لڑکے کا والد بھی آگیا اور اس نے بھی اسے مارنے کے لیے کہا ۔ گلی کی دوسری منزل سے ایک اٹالین نے آواز دی کہ اس غریب کو مت مارو تو لڑکے کے والد نے اسکے دروازے پر لات مارتے ہوئے کہا کہ اگر تم خاموش نہیں رہو گے تو ہم تمہیں بھی مار دیں گے ۔ دور سے بنگالی لڑکے دوڑتے ہوئے آئے لیکن بہت دیر ہو چکی تھی ۔ محمد شہزاد اس وحشی دنیا کو چھوڑ کر اپنے  محبوب سے جا ملا تھا ۔ اسکے بعد بنگالی لڑکوں نے ثقلین علی کے کباب پر جا کر اطلاع دی تو فوری طور پر ثقلین ، چوہدردی شبیر امرے والا، راؤف خان جائے وقوع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ایمبیسی آف پاکستان روم کے افسر احمد فاروق کو بھی بلا لیا ۔ ساری رات لاش وہاں پڑی رہی اور باپ بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اٹالین اخبارات اور ٹیوی نے یہ خبر دی ہے کہ یہ کیس نسل پرستی کا نہیں ہے اور محمد شہزاد کو اٹالین کمسن  لڑکے نے اس لیے قتل کیا ہے کیونکہ اس نے اسکے منہ پر تھوک پھینکی تھی اور یہ نشے میں تھا ۔ حقیقت کو چھپا دیا گیا ہے اورمحمد شہزاد کو ایک پاگل اور ظالم انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔

اب ایک سال کی تاریخوں کے بعد عدالت اعلی نے 12 ججوں کی موجودگی میں قاتل کے باپ کو 21 سال کی قید کا فیصلہ سنا دیا ہے ۔ محمد شہزاد خان کے قتل کی پیروائی اسکے کزن محمد عزیز خان نے کی ہے ۔ محمد عزیز خان شہزاد کو اٹلی لیکر آئے تھے اور انہوں نے اسکی سوجورنو وغیرہ بنوائی تھی ۔ محمد عزیز اب انگلینڈ میں آباد ہیں لیکن وہ شہزاد کے کیس کے لیے اکثر اٹلی آتے رہے ہیں ۔ محمد عزیز خان نے بتایا کہ شہزاد کے قتل کے بعد انکے خاندان والے سخت پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں اور انکے مالی حالات بھی کافی خراب ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اٹالین انصاف کے اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، جنہوں نے شہزاد کے قاتل کو اصل سزا سنائی ہے ۔ محمد عزیز نے کہا کہ انہوں نے انگلینڈ میں اپنا کاروبار خراب کرنے کے باوجود کیس کی پیروائی کی ہے اور انصاف حاصل کیا ہے ۔ آج جب عدالت نے قاتل کے والد ماسی ملیانو کو 21 سال کی سزا سنائی تو اس بدمعاش خاندان نے عدالت کی کرسیاں توڑنی شروع کردیں اور ججوں گالیاں دیں ۔ انہوں نے مجھے بھی مارنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مجھے عدالت کے پچھلے دروازے سے نکال کر اپنی گاڑی میں بٹھا کر وہاں سے باحفاظت نکال لیا ۔

عدالت نے گزشتہ دنوں قاتل دانیل کو بھی 8 سال کی قید سنائی تھی لیکن بعد میں اسے ایک ایسے سنٹر میں روانہ کر دیا تھا ، جہاں اسے تعلیم و تربیت دی جائے گی ۔ یاد رہے کہ اٹلی میں کم سن کو جیل کی قید نہیں دی جاتی ۔ اصل قاتل اسکا والد ہے کیونکہ اس نے بیٹے کو اکسایا تھا اور ثبوت چھپانے کے لیے اسکے کپڑے اور جوتے بھی پولیس کے پہنچنے سے قبل تبدیل کروا دیے تھے ۔ تصویر میں مرحوم محمد شہزاد اور اسکے کزن محمد عزیزخان اپنے دوستوں کے ہمراہ 

 

 

 

                                                                                                                

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 15 دسمبر 2015 20:33

اٹلی کی موجودہ امیگریشن کی رپورٹ

روم، 22 اکتوبر 2015 ۔۔۔۔۔۔ یہ رپورٹ Centro Studi e Ricerche IDOS  کی جانب سے شائع کی گئی ہے ۔ ایک ریسرچ کے مطابق دنیا میں 2015 میں تارکین وطن کی تعداد 23 کروڑ 70 لاکھ کے قریب ہو گئی ہے ۔ یورپ میں امریکہ میں تارکین وطن کی تعداد میں زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ تارکین وطن کی ملک بدری کیوجہ عدم مساوی حقوق ہیں ۔ دنیا کی 48 فیصد دولت پر 1 فیصد لوگوں کا قبضہ ہے ۔ 46،5 فیصد پر 20 فیصد لوگ اور 5،5 فیصد دولت پر باقی تمام لوگ مالک ہیں ۔ دولت کی غلط تقسیم کے علاوہ دنیا کے سیاسی بحران، فوجی جنگیں اور قدرتی عذاب بھی اہم قرار دیے جاتے ہیں ۔ 2014 میں 6 کروڑ تارکین وطن اپنا ملک چھوڑ کر کہیں دوسری جگہ چلے گئے ہیں ( جو کہ گزشتہ سال سے 80 لاکھ زیادہ ہیں ) ، ان میں سے 60 فیصد کے قریب تارکین وطن اپنے ہی ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ 2 کروڑ کے قریب تارکین وطن نے سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے ۔ ان لوگوں کے لیے سیاسی پناہ حاصل کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں سیاسی پناہ کے بین الاقوامی قوانین پر عمل نہیں کیا جاتا اور دنیا کے مختلف ممالک میں 65 نئی دیواریں غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے بنائی جا رہی ہیں ۔ اس رپورٹ میں اٹلی اور یورپ بھی شامل ہیں ۔ جنوری 2014 تک یورپ میں قانونی تارکین وطن کی تعداد 3 کروڑ 39 لاکھ تھی ۔ یہ تعداد یورپ کی تمام آبادی کا 6،7 فیصد حصہ ہے ۔ ان میں سے 2 کروڑ کا تعلق غیر یورپین ممالک سے ہے جبکہ 1 کروڑ 40 لاکھ کا تعلق یورپین ممالک سے ہے ۔ ان میں سے سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد 6 لاکھ 26 ہزار 710 ہے۔ اٹلی یورپ کے ان بڑے ممالک میں شامل ہوتا ہے ، جن میں زیادہ تارکین وطن موجود ہیں۔ 2014 میں اٹلی میں غیر ملکیوں کی تعداد50 لاکھ 14 ہزار ہوگئی ہے ۔ گزشتہ سال کے برعکس تعداد میں 92 ہزار غیر ملکیوں کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے برعکس ایک لاکھ 50 ہزار اٹالین نے تارکین وطن ہوئے ہیں ، یعنی انہوں نے اٹلی چھوڑ دیا ہے ۔ پوری دنیا میں اٹالین تارکین وطنوں کی تعداد 46 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ اٹلی کی قل آبادی میں 8،2 فیصد غیر ملکی شامل ہیں ، جوکہ یورپین ممالک کی تعداد سے زیادہ تصور کیا جا رہا ہے ۔ IDOSکی سالانہ رپورٹ دوسیر کے مطابق اٹلی میں غیر ملکیوں کی تعداد 54 لاکھ سے زیادہ ہے کیونکہ ایسے غیر ملکی بھی موجود ہیں ، جن کے پاس اٹالین کاغذات نہیں ہیں ۔ اٹلی میں موجود غیر ملکیوں کی اکثریت کا تعلق یورپین ممالک سے ہے ۔ یعنی 26 لاکھ غیر ملکی یورپین ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان میں سے 30 فیصد یعنی 15 لاکھ کا تعلق یورپین یونین کے ممالک سے ہے ۔ اٹلی میں سب سے زیادہ تارکین وطن کا تعلق رومانیہ سے ہے ، جو کہ 11 لاکھ  31ہزار 839 پر مشتمل ہے ۔ البانیہ کے غیر ملکی 4 لاکھ 90 ہزار ، مراکش 4 لاکھ 49 ہزار، چین 2 لاکھ 65 ہزار اور یوکرائن کے غیر ملکی 2 لاکھ 26 ہزار پر مبنی ہیں ۔ اڈوس کے مطابق ان میں سے 27 لاکھ کرسچن ہیں ، 16 لاکھ مسلمان ہیں اور باقی دوسرے مذاہب اقلیتی طور پر موجود ہیں ۔ اٹلی کی وزارت داخلہ کے مطابق 2014 میں 30 ہزار سے زائد غیر ملکی گرفتار ہوئے ہیں ، جن میں سے 15 ہزار سے زائد کو ملک بدر کردیا گيا ہے ۔ سمندر سے غیر قانونی طور پر 2014 میں ایک لاکھ 70 ہزار غیر ملکی اٹلی میں داخل ہوئے ہیں ۔ 2014 میں 64 ہزار سے زائد غیر ملکیوں نے اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے ۔ 2015 میں 30 ہزار سے زائد غیر ملکیوں نے اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔ جون 2015 تک 79 ہزار غیر ملکیوں کی سیاسی پناہ کی درخواست حاصل کرتے ہوئے ان میں سے 19 ہزار کو sprarاور باقی لوگوں کو عارضی کمپوں میں روانہ کیا گيا ہے ۔  2014 میں 1 لاکھ 887۔29 ہزار غیر ملکیوں کو اٹالین شہریت جاری کی گئی ہے جو کہ گزشتہ سال 2013 سے 29 فیصد زیادہ ہے ، اس کے برعکس یورپین اور غیر ملکیوں میں شادیوں کے رجحان میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ 2014 میں گزشتہ سال کی طرح غیر ملکی خاندانوں نے 75 ہزار 067 بچے پیدا کیے ہیں جو کہ قل تعداد کا 14 فیصد سے زائد حصہ تصور کیا جاتا ہے ۔ اٹلی میں 11 لاکھ غیر ملکی بچے ہیں ، جن میں 8 لاکھ 14 ہزار سکول میں داخل ہیں ۔ گزشتہ سال کے برعکس انکی تعداد میں 11 ہزار کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے برعکس اٹالین والدین کے بچوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے ۔ معزور غیر ملکی بچوں کی تعداد 26 ہزار 626 ہے جو کہ اٹالین معزور بچوں سمیت 1،11 فیصد بنتی ہے ۔ 2014 میں 22 لاکھ 94 ہزار غیر ملکی قانونی طور پر ملازمت کر رہے ہیں ، ان میں سے 12 لاکھ 38 ہزار مرد ہیں اور 10 لاکھ 56 ہزار عورتیں ہیں ۔ یعنی 10 فیصد سے زائد ملازمین غیر ملکیوں پر مشتمل ہیں ۔ 2014 میں 1 لاکھ 56 ہزار غیر ملکی بے روزگار ہوئے ہیں اور انکی پرمیسو دی سوجورنو ختم ہوگئی ہے  جو کہ 2013 کی نسبت 6 فیصد زیادہ ہے  ۔ 35 ہزار 740 غیر ملکیوں نے 2014 میں پنشن حاصل کی ہے ، اسکے بعد سوشل پنشن حاصل کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد 51 ہزار 361 ہے ۔ غیر ملکی اٹالین خزانے میں 6،16 عرب یورو جمع کرواتے ہیں اور اس میں سے 13،5 عرب خرچ کرتے ہیں ، یعنی اٹالین خزانے میں ہر سال 3،1 عرب یورو غیر ملکیوں کے کام اور بزنس کی بدولت آتے ہیں ۔ ملک کے سالانہ بجٹ میں غیر ملکی 123 عرب یورو جمع کرواتے ہیں ۔ اٹلی میں امتیازی سلوک کے ادارے انار کے مطابق 2014 میں ایک ہزار کے قریب غیر ملکیوں کے ساتھ انکی نسل، مذہب، رنگ اور ملکی کیوجہ سے غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 31 اکتوبر 2015 19:03

اسلام اور بنیاد پرستی

 

روم۔ 25 اپریل 2015 ۔۔۔۔ اسلام ایک بین الاقوامی مذہب ہے ، اسلامی ممالک کی تعداد 54 ممالک سے زائد ہے  ۔ اسلام کا مطلب امن ہے اور اس مذہب میں جاہل انسانوں کے لیے کوئی مقام موجود نہیں ہے ۔ اسلام میں لکھنا پڑھنا لازمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کی موجودہ سائنس کی بنیاد اسلامی سائنس دانوں کی مرہون منت ہے ۔ بنیاد پرستی کیا ہے ۔ بنیاد پرستی اور اسلام ایک دوسرے کے متضاد ہیں ۔ بنیاد پرست صرف بنیادوں پر یقین رکھتا ہے اور عمارت کے خلاف ہوجاتا ہے جو کہ ان بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے ۔ اسلام کی بنیاد کے بعد چودہ سوسال اسکی عمارت ہیں ۔ عربی زبان میں زیر زبر اور پیش اس وقت شامل کیے گئے ، جب اسلام عربی سرحدوں کو پار کرگیا اور غیر عربی قوموں کے لیے عربی سمجھنا اور قرآن پاک کافی مشکل ہوگیا تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لی زیر زبر وغیرہ کی ایجاد ہوئی ۔ اسی طرح بہت سارے ایسے قوانین ہیں جو کہ دوسری قوموں کی آسانی کے لیے بنائے گئے ۔ اس کے برعکس ایک بنیاد پرست صرف ان قوانین کو عمل میں لانے کے لیے ضد کرتا ہے جو کہ اسلام کے پہلے دور سے متعلق ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اجتہاد کرنا لازمی ہوتا ہے ، یعنی پانچ بنیادی اراکین وہی رہتے ہیں لیکن قوانین، روایات اور سماجی تبدیلی دنیا کے مطابق کرنا اسلام کا حصہ ہیں ۔ مثال کے طور پر ہمارے ملک میں بنکنگ سسٹم اسلامی روایات کے مطابق نہیں ہے لیکن دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے اسے رائج کیا گیا ہے اور اسے تسلیم بھی کرلیا گیا ہے ۔

عسکریت پسندی اور جہادی اسلام کا پرچار گزشتہ 35 سالوں سے کیا جا رہا ہے ۔ یہ بھی اسلام کے متضاد ہے ۔ جہاد کے لیے خلیفہ یا موجودہ حکومت کی مرضی شامل ہونا ضروری ہوتی ہے ۔ زاتی طور پر جنگ، لڑائی، چڑھاؤ جیسے جراثیم جو بعض اوقات ہمارے ملاں بھی ہمارے اندر پیدا کردیتے ہیں اور ہمارے زہن میں یہ بٹھادیتے ہیں کہ اسلام پوری دنیا میں غالب آنا چاہئے ، یہ سب ایسے نعرے ہیں ، جنکی موجودگی کیوجہ سے بعض اوقات ہمارے جوان اٹلی میں بھی دنیاوی زندگی چھوڑ کر لمبی داڑھی رکھ لیتے ہیں اور جس ملک میں رہتے ہیں ، اسکی رسومات، روایات اور کلچر کے خلاف ہو جاتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ یہ جوان اس ملک یا اٹلی میں خوش نہیں ہوتے اور مذہب کو اپنی ڈھال بناتے ہوئے خوشی تلاش کرتے ہیں ۔ یاد رکھیں کہ اس سال پیرس کے حملوں کے بعد اٹلی میں تین پاکستانیوں کی انکی لمبی داڑھیوں اور مذہبی لباس پہننے اور فیس بک پر انتہا پسند سائٹ دیکھنے کیوجہ سے ملک بدر کردیا گیا ہے اور اب پشتون کمونٹی کے 18 افراد کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ دوستو ، حالات سازگار نہیں ، ہمیں پاکستانی اور مسلمان سمجھ کر ہمارا کنٹرول کیا جاتا ہے اور ہمارا چال چلن دیکھا جاتا ہے  ، اگر کوئی جوان فیس بک پر دولت اسلامی کا نشان استعمال کرے گا تو لازمی بات ہے کہ حکومت اسے ملک بدر کرے گی کیونکہ دولت اسلامی والے یورپ کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں ۔ اٹلی میں مذہبی آزادی ہے لیکن اٹلی کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے کیونکہ یہاں اسٹیٹ سیکولر ہے ۔ مذہب کا پرچار کرنے کے لیے بھی ہمارے لوگ جب تبلیغ اور دعوہ جیسی تنظیموں کا حصہ بنتے ہیں ، انکے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس ملک کی روایات ، سماج اور ثقافت کو رد نہ کریں بلکہ انکی تعریف کریں ۔ آزادی، جمہوریت اور انسانی ہمدردی انکی بنیادی قدریں ہیں اور اگر ہم انکے خلاف پراپیگنڈہ کریں گے تو اس سے تو بہتر یہی ہے کہ ہم اس ملک کو چھوڑ دیں ۔ اسکے برعکس ہم رہنا بھی یورپ میں چاہتے ہیں لیکن ہم اسے بدلنے کے خواب دیکھتے ہیں ۔ سب سے بڑا مسلمان وہ ہے جو کہ محنت مزدوری کرتے ہوئے اس ملک میں اپنا مقام بناتا ہے ، اپنے بچوں کو تعلیم دلواتا ہے اور مہذب شہری بنتا ہے ۔ 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com