Tuesday, Mar 19th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

غیر ملکیوں کو روکنے سے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے

روم، 2 جون 2013 ۔۔۔ اٹلی کی ایسوسی ایشن لوناریا کے مطابق غیر ملکیوں کو روکنے سے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے چند ادارے کام کررہے ہیں اور انہیں جو اخراجات دیے جاتے ہیں ، ان کا اگر حساب لگایا جائے تو پتا چلتا ہے کہ انہوں نے عربوں یورو خرچ کرنے کے بعد بھی غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے کوئی اعلی کردار ادا نہیں کیا اور اسکے علاوہ انسانی ہمدردی کے ادارے بھی ان کے خلاف رپورٹیں دے رہے ہیں ۔ 2005 سے لیکر 2012 تک اٹلی اور یورپین کمونٹی کے اداروں نے ایک عرب 668 ملین یورو غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے خرچ کیے ہیں ۔ 33 ملین یورو سرحدوں کی حفاظت کے لیے خرچ کیے گئے ہیں ۔ ایک سو گیارہ ملین یورو جنوبی علاقوں میں ماڈرن سسٹم نصب کرنے کے لیے خرچ کیے گئے ہیں ۔ اس سسٹم کے زریعے غیر ملکیوں کو ٹریس کرنا، انکی شناخت کرنی اور انکی رپورٹ دینا وغیرہ شامل ہیں ۔ 60 ملین یورو غیر ملکیوں کے ملک بدر کرنے کے لیے خرچ کیے گئے ہیں ۔ ایک عرب سے زیادہ یورو غیر ملکیوں کو رکھنے کے لیے اداروں CIE, CPSA, CDA e CARAکے لیے خرچ کیے گئے ہیں ۔ 151 ملین یورو ان ممالک کو دیے گئے ہیں جو کہ غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے کردار ادا کررہے ہیں ۔ لوناریا ایسوسی ایشن سے اٹالین قومی اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ امیگریشن کے مسئلے میں یورپین قوانین پر عمل کرے اور غیر ملکیوں کی بھرتی اور ملک بدری کے لیے انسانی ہمدردی کو مدنظر رکھتے ہوئے قوانین بنائے ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اعجاز احمد کی میونسپل کمیٹی کے الیکشن میں ناکامی

روم۔ یکم جون 2013 ۔۔۔۔ پیارے دوستو۔ میں ان تمام بہن بھائیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، جنہوں نے میری کمپین کے دوران دعائیں مانگیں اور میری حوصلہ افزائی کی ۔ اٹلی جیسے ملک میں ایک غیر ملکی کا الیکشن میں کھڑا ہونا بڑی ہمت کی بات ہے ۔ میں نے چند دنوں کی کمپین کے دوران 120 ووٹ حاصل کیے ہیں ، جو کہ میونسپل کمیٹی کی اسمبلی میں داخل ہونےکے لیے ناکافی ہیں ۔ مجھے مزید 96 ووٹ اور مل جاتے تو میں کونصلر بن جاتا ۔ خیر ایسا نہیں ہو سکا " گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں " ۔ اب میں کوشش کررہا ہوں کہ بائیں بازو کے میئر اور میری میونسپل کمیٹی کے صدر 10 اور 11 جون کے روز کامیاب ہو جائیں ۔ اگر وہ کامیاب ہو گئے تو ہو سکتا ہے کہ میری میونسپل کمیٹی میں امیگریشن کا دفتر بن سکے ۔ یاد رہے کہ موجودہ دائیں بازو کی پارٹی نے اس دفتر کو ختم کردیا تھا اور یہاں سے ثقافتی ترجمان کی سیٹ کینسل کردی گئی تھی۔ یاد رہے کہ روم کمونے اور میونسپل کمیٹی کے الیکشن میں غیر ملکی اٹالین شہری کامیاب نہیں ہو سکے ۔ دس کے قریب غیر ملکی الیکشن میں کمپین میں موجود تھے لیکن ان میں سے ایک بھی کامیاب نہیں ہو سکا ۔ تریویزو میں مراکش کا ایک دوسری نسل کا غیر ملکی کونصلر بننے میں کامیاب ہوا ہے  ۔ تحریر، اعجاز احمد

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اشرف محسن اقبال کو یونان میں گرفتار کر لیا گیا

روم۔ 29 مئی 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے قصبے Brescelloمیں 2005 میں ایک 50 سالہ اٹالین عورت کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے اشرف محسن اقبال کو یونان میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ 2005 میں محسن نے اپنے تین دوستوں کے ساتھ ملکر ایک عورت سے جنسی زیادتی کی تھی ۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق ان چاروں نے ایک عورت کو جب وہ اکیلی سیر کررہی تھی ، زبردستی پکڑ کر ایک کار میں بٹھا کر اغوا کر لیا تھا اور اسکے بعد ایک گھر میں لیجا کر 5 گھنٹوں تک جنسی زیادتی کی تھی اور اسکا موبائل فون اور سونے کی بالیاں بھی چھین لی تھیں ۔ محسن اقبال اٹلی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا اور پولیس اسکی تلاش میں تھی ۔ اب محسن کی عمر 30 سال ہے اور یورپین پولیس کی مدد سے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے اور ایتھنز کی جیل میں بند کر دیا گیا ہے ۔ اٹالین پولیس فوری طور پر اسے اٹلی لیکر آئے گی اور اسے جج فرار ہونے اور جنسی زیادتی کی سزا دیگا ۔ محسن کو 7 سال قبل 8 سال کی قید دی گئی تھی لیکن اب سزا کی مدت زیادہ ہو گی ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آلیساندرو کا پاکستان کا وزٹ کامیاب رہا

روم۔ 27 مئی 2013 ۔۔۔ مشہور شخصیت Alessandro Battilocchioاپنا پاکستان کا وزٹ مکمل کرنے کے بعد اٹلی واپس پہنچ گئے ہیں ۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ہم نے پاکستان کے انتخابات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اسکے بعد نواز شریف کو وزیر اعظم بنتے دیکھا ۔ پاکستان کے الیکشن کافی خطرناک تھے لیکن اسکے باوجود یہ دور بھی مکمل ہو گیا ۔ ہم نے مختلف پارٹیوں کے لیڈران سے ملاقاتیں کیں اور اسکے علاوہ اسلام آباد میں موجود اٹالین ایمبیسڈر سے بھی ملے ۔ ہماری اٹالین ایسوسی ایشنیں اور او این جی بھی پاکستان میں باہمی منصوبوں پر اہم کردار ادا کررہی ہیں ۔ ہم نے ان سے بات چیت کی اور مکمل جائزہ لیا ۔ آلیساندرو نے مانسہرہ میں 30 عورتوں کو بزنس مین کا ایوارڈ دیا ۔ ان عورتوں نے سنگ مرمر کے ڈیزائن بنانے کا کاروبار ایجاد کیا ہے اور یہ اٹالین ایجنسی سے منسلک ہے ۔ ہم مستقبل میں اٹلی میں موجود پاکستانی سفارتکارہ تہمینہ جنجوعہ کو بھی اپنے کمونے Tolfaمیں دعوت دیں گے اور باہمی منصوبوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کی جائے گی ۔ جون کے مہینے میں آلیساندرو اٹلی کی وزرات خارجہ اور پاکستانی وزارت خارجہ کے ساتھ ملکر ڈیفنس کے معاملے میں کام کریں گے ۔ یاد رہے کہ اٹالین فوج اور پاکستانی فوج مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے ۔ یاد رہے کہ اٹلی کی مشہور سرکاری فرم ENIپاکستان میں گیس نکالنے پر پہلی فرم ہے اور یہی فرم بلوچستان میں پٹرول دریافت کرنے پر بھی کردار اداد کررہی ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

بادانتے


میں شانتی کو گزشتہ چھ سال سے جانتا ہوں۔ مجھے اریزو شہر میں رہتے ہوئے بھی چھ سال ہوچلے ہیں اس لیے میں شانتی کو چھ سال سے جانتا ہوں۔ شانتی ایک سریلنکن عورت ہے جو مذہب کے اعتبار سے ہندو ہے۔ مجھے جب پتا چلا کہ شانتی کودل کا دورہ پڑا ہے تو میں بڑا حیران ہوا کیونکہ میں نے جب بھی اسے دیکھا وہ تیز تیز چل رہی ہوتی۔ یعنی وہ ہر وقت چاک و چوبند رہتی تھی۔ شانتی اس وقت اریزو شہر کے ہسپتال سان دوناتو
(SAN DONATO)
میں زیرِ علاج ہے۔ عین ممکن ہے کہ اُسے مزید علاج کے لیے سینا
(Siena)
یا میلانو
(Milano) بھیج دیا جائے۔ میری یہ دعا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہوجائے۔
پہلے میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ بادانتے
(BADANTE)
یا کولف
(COLF)
کیاہوتا ہے۔ اٹلی میں کسی بھی معذورشخص، بوڑھے شخص یا ذہنی مریض کی دیکھ بھال کرنے والے کو بادانتے کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈومیسٹک جاب
(domestic job)
یا بے بی سٹنگ
(baby sitting)
کاکام بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ یہاں کتوں کی دیکھ بھال کا کام بھی اسی شعبےکا ایک حصہ ہے۔ اب آتے ہیں شانتی کی طرف۔ آج سے کئی سال پہلے شانتی نہ جانے کس طرح یورپ پہنچی اور اس نے آکر کے ڈیرہ اٹلی میں جمایا۔ جب آئی توزبان سے ناواقف تھی، گھر نہیں تھا، کام نہیں تھا، کاغذ نہیں تھے۔ اتنے سارےمسائل کاسامنااسے ایک ساتھ ہی کرنا پڑا۔ یہ اکیلی نہیں تھی بلکہ پورے یورپ میں ایسے کئی لوگ ہیں جن کے پاس کاغذات نہیں ہوتے اور اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال کاغذات کے حصول کے لیے صَرف کردیتے ہیں۔ میں یہاں پر ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں ان لوگوں کے لیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ پانچ لاکھ روپےادا کرکے وہ یورپ آتے ہیں تو کوئی بہت بڑا معرکۃالآراء کام کرتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ یورپ آنے سے پہلے انسان کو ذہن میں ایک بات بٹھالینی چاہیے کہ یہاں کاغذات کا طریقہ رائج ہے۔ ہمارے ملکوں کی طرح نہیں کہ آپ جب چاہیں جس وقت چاہیں جہاں چاہیں کام کرلیں۔ یہاں جب آپ سیر کے ویزے پرآتے ہیں، یا پڑھنے کے لیے آتے ہیں یا کاروبار کے لیے تو آپ کی قانونی نوعیت اور ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر غیر قانونی طریقے سے داخل ہوتے ہیں توآپ کی قانونی حیثیت اور ہوتی ہے۔ اگر آپ یورپ کے کسی بھی ملک میں غیرقانونی طور پر داخل ہوتے ہیں تو آپ ان ملکوں کے قانون کے مطابق بنا کاغذات کےہوتے ہیں۔ یورپ کے ہر ملک کا اپنا قانون ہے لیکن غیرقانونی کا لفظ ہر اسشخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے پاس رہنے کا اجازت نامہ نہیں ہوتا۔ ایسانہیں ہے کہ آپ کسی بھی یورپین ملک میں داخل ہوں تو آپ کو آتے ہی کام ملجائے گایا کاغذات مل جائیں۔ سب سے پہلے تو سر چھپانے کی جگہ چاہیے ہوتی ہے،پھر کام اور اس کے بعد کاغذات کی تگ و دو۔ جس کے کئی طریقے ہیں۔ سیاسی پناہ، شادی کرنا، یا وہ ملک جہاں آپ رہ رہے ہیں اس کی امیگریشن کھل جائے۔
بات ہورہی تھی شانتی کی۔ شانتی کو ان تمام مسائل کا سامنا کرنا پڑا جن کا میںنے اوپر ذکر کیا ہے۔ شانتی کی عمر پچاس سال ہوگی۔ جسامت، دبلی پتلی، شکل واجبی، رنگ کالا، قد چھوٹا، آنکھیں چھوٹی چھوٹی جو بمشکل کھلتی تھیں۔آنکھوں کے گرد سیاہ کالے نشان، (حلقے) اس کی وجہ شاید نیند کا پورا نہ ہونا، تھکن اور ذہنی تناؤ۔ تیز تیز چلتی ہے اور باتوں میں ایک عجیب قسم کاکرب۔
شانتی جب اٹلی وارد ہوئی تو اس کی کوئی ہم وطن اریزو شہر میں رہتی تھی۔ قسمت کی ماری اس کے پاس چلی آئی۔ چونکہ انگلینڈ کے علاوہ یورپ کے تمام ملکوں میں پولیس کو کاغذات چیک کر نے کی اجازت ہے اس لیے اس کی سہیلی نے اسے بہت ڈرایا دھمکایا تھا کہ یہاں پولیس کاغذات چیک کرتی ہے، اس لیے اِدھر اُدھرآوارہ نہ گھوما کرو۔ شانتی ڈرپوک تھی اس لیے اس نے اپنی سہیلی کی بات پرعمل کرتے ہوئے کبھی کسی سے زیادہ بات نہیں کی اور نہ ہی کہیں آتی جاتی۔ وہ گھر کا سارا کام کرتی، کھانا بناتی اور گھر میں چاندی کی چھوٹی چھوٹی زنجیروں کو جوڑ جوڑ کے اپنے اخراجات پورے کرتی۔ اس دوران شانتی کی ہم وطن نے اس کے لیے ایک گھر میں کام ڈھونڈ لیا۔ یہاں ایک بوڑھا آدمی اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ شانتی یہاں رہنے لگی۔ انہوں نے شانتی کو ایک کمرہ دیا۔ وہ تمام گھر کی صفائی کرتی، ان بوڑھوں کے لیے کھانا بناتی۔ اس کے بدلے شانتی کو کھانے کوملتا اور سر چھپانے کی جگہ۔ شانتی کو یہاں کام کرتے ہوئے پوراسال گزر گیا اور اسے پتا ہی نہ چلا کہ اس کی سہیلی اس کی تنخواہ ایک سال سےان بوڑھوں سے وصول کررہی ہے۔ شانتی یہی سمجھتی رہی کہ چونکہ وہ یہاں اِللیگل ہے اس لیے اسے تنخواہ نہیں مل سکتی۔ اس دوران اس بوڑھی عورت کامیاں چل بسا۔ اب شانتی کا کام بھی کم ہوگیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی تنخواہ بھی آدھی ہوگئی۔ اب شانتی تھوڑی تھوڑی اٹالین بولنے لگی تھی۔ اس نے آہستہ آہستہ باہر کی دنیا میں قدم رکھا اور لوگوں سے جان پہچان بڑھائی۔ شانتی بہت کم گو اور محنتی تھی۔ اس لیے اِسے ایک اور جگہ بے بی سٹنگ کا کام مل گیا۔اس بوڑھی عورت کے پاس اس نے اپنی ایک ہم وطن کو چھوڑا۔ لیکن اس نے اس کےساتھ اپنی سہیلی کی طرح نہ کیا۔ یعنی اس کی تنخواہ کبھی وصول نہ کی۔
ابجہاں شانتی کام کرتی تھی یہ لوگ بہت امیر تھے۔ ان کا بہت بڑا گھر تھا۔انہوں نے اریزو میں بطور مشغلہ ایک دوکان کھول رکھی تھی۔ حالانکہ ان کولوگوں اس کی ضرورت نہیں تھی۔ شانتی کو اچھا کھانے کو ملتا اور اچھا پہننےکو ملتا۔ اس کے علاوہ معقول تنخواہ بھی۔ شانتی یہاں زیادہ عرصہ کام نہ کرسکی۔ اس کی وجہ بچے تھے جن کی وہ دیکھ بھال کرتی تھی۔ بچوں کو گورے رنگوالی بے بی سٹر چاہیے تھی۔ اس لیے انہوں نے ایک انٹرنیشنل ایجنسی کے ذریعےایک پولش لڑکی کا انتظام کرلیا اور شانتی کی چھٹی کردی۔ شانتی نے پہلے سےہی کام ڈھونڈا ہوا تھا۔ اسے ایک ریٹائرڈ فوجی کے ہاں کام مل گیا جس نے شادی نہیں کی تھی۔ وہ جوڑوں کے مرض میں مبتلا تھا۔ چل پھر نہیں سکتا تھا۔ زیادہ وقت وہیل چیئر پر ہی گزارا کرتا۔ رات کو شانتی اسے بستر پر لٹا دیا کرتی۔یہاں بھی شانتی کو چوبیس گھنٹے اس کے پاس رہنا پڑتا۔ رات کو وہ سوجاتا لیکن کبھی پانی پینا ہو یا پیشاب کرنا ہو تو شانتی کو گھنٹی بجا کے بلا لیاکرتا۔ شانتی خوش تھی کیونکہ وہ اس سے زیادہ
تکلیف دیکھ چکی تھی۔ شانتی کو اٹلی آئے ہوئے ابھی بمشکل دو سال ہوئے ہوں گے کہاٹلی کی امیگریشن کھل گئی۔ یہ ریٹائرڈ فوجی اچھا آدمی تھا، اس نے شانتی کےکاغذات جمع کروادیئے۔ حتیٰ کہ ٹیکس بھی ادا کیا۔ جسے اطالوی زبان میں کونتریبیوتی
(contributi)
کہتےہیں۔ وہ کیوں نہ اس کی مدد کرتا، شانتی تھی ہی اتنی اچھی۔ وہ کبھی کبھی اسے خوش بھی کردیا کرتی۔ شانتی کو یہی ڈر تھا کہ اگر اس کی بات نہ مانی توجمع کروائے ہوئے کاغذات واپس لے لے گا۔ حالانکہ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہاگر مالک اس کے کاغذات واپس لے لے تو وہ مالک پر کیس کرسکتی ہے۔ اس طرح اسےچھ ماہ کی پرمیسو دی سجورنو
(permesso di soggiorno)
مل جائے گی اور اس دوران اسے نیا کام ڈھونڈنا ہوگا۔ شانتی نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ ٹھیک سال بعد پرفیتورا دی اریزو
(prefettura di arezzo)
نے شانتی کو پرمیسو دی سجورنو
(permesso di soggiorno)
جاری کردی۔ وہ بڑی خوش ہوئی۔ اس نے کئی خواب بُن رکھے تھے۔ سری لنکا جائے گی۔اپنے بچوں سے ملے گی۔ اپنے خاوند کا علاج کروائے گی۔ یہ باتیں وہ دن میںکئی بار سوچتی۔ اب ایسا ممکن تھا۔ اس نے اس فوجی سے بات کی۔ وہ کہنے لگا،مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن تمہیں صرف ایک ماہ کی اجازت ہوگی۔ کیونکہ مجھےتمہاری وجہ سے کافی آرام ہے۔ اور ہاں، اپنی جگہ کسی اچھی سی لڑکی کو چھوڑجانا۔ شانتی نے کہا، میں ایسا ہی کروں گی۔ ابھی شانتی کے جانے میں کافی دنباقی تھے۔
وہ روز کی طرح آج صبح بھی اس بوڑھے فوجی کی وہیل چیئر کو دھکیلتی ہوتی جوتو پارک
(Giotto)
پہنچی۔ اس نے وہیل چیئر اس چھوٹے سے حوض کے پاس روکی جہاں سفید رنگ کی دو خوبصورت سوانز
(swans)
بھی ہوتی ہیں۔ اس نے انگلی کے اشارے سے سوانز کو بلایا۔ ایک لحظے میں شانتی نےاپنا ہاتھ واپس کھینچا اور دل پر رکھ لیا۔ وہ دھڑام سے زمین پر آگری۔ وہ بوڑھا فوجی سوچنے لگا کہ وہ شانتی کی مدد کیسے کرے وہ تو خود معذور ہے۔وہاں سے گزرتے کچھ لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو فوراً ایمبولنس کو بلایا۔ وہ لوگ شانتی کو ہسپتال لے گئے۔ اس بوڑھے فوجی کو اس کے گھر چھوڑ آئے۔ ایک عددنرس بھی اس کے پاس رکی جب تک کوئی دوسرا انتظام نہیں ہوجاتا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ شانتی کو آئی این پی ایس (انپس
"INPS",
اٹلی میں یہ ایک ایسا ادارہ ہے اگر آپ بیمار پڑجائیں تو یہ ادارہ جب تک آپ ٹھیک نہ ہوجائیں آپ کو چھ ماہ تک تنخواہ دیتا رہتا ہے) والے پیسے دیں گے یا آئیاین اے آئی ایل (اننائیل،
"INAIL"
یہ ایک ایسا اطالوی ادارہ ہے جو کام کے دوران اگر آپ کو چوٹ لگ جائے یا آپ کے ساتھ کام
کےدوران کوئی حادثہ پیش آجائے تو آپ کی مدد کرتا ہے۔ لیکن یہ دونوں اس صورت میں آپ کی مدد کرتے ہیں جب آپ کا مالک ایمانداری سے آپ کا ٹیکس ادا کررہاہو) والے۔ ویسے تو یہ انفورتونی (کام کے دوران حادثہ پیش آنا یا چوٹ لگنااطالوی زبان میں انفورتونی کہلاتا ہے) ہے لیکن اطالوی قانون کے بارے میں کچھ کہنا ذرا مشکل ہے۔ میری تو یہ دعا ہے کہ شانتی جلدی ٹھیک ہوجائے۔ انسانکے ہاتھ پاؤں سلامت ہوں تو بندا دوبارہ کام کرسکتا ہے لیکن ایک بات طے ہےکہ شانتی اب بادانتے کا کام نہیں کرے گی۔ کیونکہ دل کا مریض تو خود دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے، وہ کسی کی دیکھ بھال کیا کرے گا ۔تحریر سرفراز بیگ

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 26 مئی 2013 21:14