Sunday, Jan 20th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

برطانیہ کے انتخابات میں تین مسلم خواتین پارلیمان کی رکن منتخب

2010alt کے عام انتخابات میں اکیس ایشیائی خواتین نے برطانیہ کی تینوں بڑی جماعتوں کی جانب سے حصہ لیا تھا اور یہ برطانوی پارلیمان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کوئی مسلم خاتون رکنِ پارلیمان بنی ہے۔ منتخب ہونے والی خواتین میں برمنگھم سے تعلق رکھنے والی بیرسٹر شبانہ محمود، مشرقی بولٹن کی یاسمین قریشی اور لندن کے علاقے بیتھنل گرین کی روشن آراء علی شامل ہیں اور ان تینوں خواتین نے لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ پاکستان سے نو سال کی عمر میں برطانیہ آنے والی ایڈوکیٹ یاسمین قریشی نے اس الیکشن میں اٹھارہ ہزار سات سو بیاسی ووٹ حاصل کر کے اپنے مدِ مقابل کنزرویٹو امیدوار اینڈی مورگن کو ساڑھے آٹھ ہزار ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی۔ اس حلقے میں گزشتہ الیکشن کے برعکس کنزرویٹو امیدوار نے قریباً تین فیصد زیادہ ووٹ حاصل کیے اور لیبر کو آٹھ فیصد ووٹوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس کے باوجود لیبر نے یہ سیٹ جیت لی۔ لندن کے بیتھنل گرین حلقے سے انتخاب جیتنے والی روشن آراء علی پہلی بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہری ہیں جو رکنِ پارلیمان بننے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ انہوں نے لبرل ڈیموکریٹ امیدوار اجمل مسرور کو دس ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ خیال رہے کہ بیتھنل گرین میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت آباد ہے اور یہاں ہونے والے انتخاب میں تمام بڑی جماعتوں کی امیدوار بنگلہ دیشی نژاد ہی تھے۔ منتخب ہونے والی تیسری مسلم خاتون شبانہ محمود نے برمنگھم کے لیڈی ووڈ حلقے سے 19950 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ شبانہ کے مدِ مقابل لبرل ڈیموکریٹ امیدوار ایوب خان کو 9845 ووٹ ملے جبکہ اسی حلقے سے کنزرویٹو پارٹی کی خاتون امیدوار نصرت غنی نے چار ہزار دو سو ستتر ووٹ حاصل کیے۔ شبانہ کے برعکس برمنگھم میں جس مسلم خاتون امیدوار کی فتح کی پیشنگوئیاں کی جا رہی تھیں وہ یہ معرکہ سر نہیں کر سکیں۔ انتخابات سے قبل برمنگھم کے ہال گرین حلقے میں جارج گیلووے کی رسپیکٹ پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی سلمٰی یعقوب کی فتح کے واضح امکانات ظاہر کیے جا رہے تھے تاہم انتخابی نتائج کے مطابق یہاں سے لیبر پارٹی کے راجر گوڈسف 16039 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ سلمٰی نے 12240 ووٹ لیے ہیں۔ شکست کے باوجود رسپیکٹ پارٹی کا اتحاد اس نشست پر گزشتہ انتخابات کی نسبت قریباً چودہ فیصد زائد ووٹ لینے میں کامیاب رہا ہے۔ خیال رہے کہ سنہ 2000 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق برمنگھم کےگرین ہال حلقے میں مسلم ووٹرز کی تعداد برطانیہ کے کسی بھی حلقے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس حلقے میں مسلمان ووٹرز کا تناسب اڑتالیس فیصد ہے۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 11 دسمبر 2011 11:30

روح بیتاب ہے میری

 

چند لمحوں کے لیے آپ اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنی سوچوں اور جذبوں کو حقیقت کی دنیا سے نکال کر محسوس کریں ۔ ایک خاوند اپنی بیوی کو اپنے ہاتھوں سےمار سکتا ہے ؟ فرض کریں مری ہوئی عورت میں چند لمحوں کے لیے سانس لوٹ آتی ہے اور اسکی روح زندہ ہوجاتی ہے ۔ یہ عورت اپنے جذبات کا اظہار ہم سے اور اپنے خاوند اور بیٹے سے کرتی ہے  ۔ یاد رہے کہ یہ ان عورتوں میں سے ایک عورت ہے ، جسے خاندان کی عزت کے نام پر قتل کیا گیا ہے ۔ آپ تصور میں کھو جائیں اور اور ڈری و سہمی عورت کی دھڑکنیں محسوس کریں۔ وہ آپ سے سوال کرے گی ، مجھے کس نے مارا ، کس نے میری زندگی چھین لی ؟ پھر مجھے یاد آیا کہ مجھے میرے بیٹے اور میرے سرتاج نے قتل کیا ہے ۔ میں نے اپنے قاتل بیٹے کو اپنا دودہ پلایا تھا اور جب وہ بچہ تھا اور روتا تھا میں راتوں کو جاگ کر اسے نیند کی لوری دیتے ہوئے سلاتی تھی ، جب وہ اداس ہوتا تھا ، میں اسے خوش کرنے کے لیے اسکی پسندیدہ ڈش پکاتی تھی ، جب وہ کہیں دیر سے گھر آتا تھا تو میں دروازے پر کھڑے ہو کر اس کا انتظار کرتی تھی ۔ ہاں یہ وہی بیٹا ہے ، جس نے مجھ پرپہلا وار کیا ۔ اس خاوند کے بارے میں کیا کہوں ، جسے میں نے خوبصورت 5 بچوں کا والد بنایا ، انکی پرورش کے لیے اپنی زندگی اجیرن کر دی ۔ میں نے اپنے والدین کے بعد اپنے خاوند کے گھر کو اپنا گھر بنا لیا ۔ آج اسی خاوند نے مجھے موت کی گھاٹ اتار دیا ۔ جن ہاتھوں نے میرا جنازہ اٹھانا تھا ، مجھے حج کروانا تھا وہی ہاتھ میرے قاتل بن گئے ۔ اب میں دنیا کو کیسے اپنے موقف کے بارے میں بتاؤں ، مری ہوئی عورت کی بات کون سنے گا ، میری روح اس لیے بھی تڑپ رہی ہے کہ میرا خاندان تباہ ہو گیا ہے،  میرے سرتاج اور میرا خوبصورت بیٹا میرے قتل کے جرم میں جیل روانہ کر دیے گئے ہیں ۔ یا اللہ میری مدد کرو اور کہہ دو کہ یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے ۔ عدالت سے کیسے کہوں کہ میرے گھر کے مرد میرے قاتل ہیں ۔ چند دن قبل میرے گھر کے باورچی خانے میں میرے کنبے کے لوگ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے ، ہنسی مذاق کے بعد قہقے لگائے جاتے تھے ، بچوں کو سکول لے جایا جاتا تھا ، پاکستان میں موجود اپنے پیاروں کوفون کیا جاتا تھا ،سرد راتوں میں چائے پکتی تھی ، مہمان آتے تھے ، کبھی کبھار ہم لڑائی بھی کیا کرتے تھے ۔ اب ہم کس سے لڑیں گے، کس سے خوشی کا اظہار کریں گے اور کون ہمارے خاندان کا رکھوالا بنے گا ۔ اے دنیا والو میرا مذاق نہ اڑانا اور میرے بچوں کی دیکھبال کرنا، تصویر میں بلال سپرا  ۔ تحریر، محمد بلال سپرا یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم میں پاکستانی حلال فوڈ شاپ کا افتتاح

روم کے علاقے Tor Pignatara میں خان محمد عزیز کی پاکستانی حلال فوڈ شاپ کا افتتاح کر دیا گیا ہے اس شاپ کا نام Sultan Alimentari Mini Market رکھا گیا ہے اور اسکے سائن بورڈ پر ٹیپو سلطان کی فوٹو بھی موجود ہے  ۔ 21 جون کی شام کو دکان میں معزز پاکستانی خواتین و حضرات نے شرکت کی ۔ تلاوت کلام پاک پڑھی گئی اور اسکے بعد ہمسائے میں موجود کشمیر ریسٹورنٹ میں کھانے پینے کا انتظام کیا گیا ۔ خان محمد عزیز اٹلی کی مشہور شخصیت ہیں اور پاکستانی کھانوں کے سب سے پرانے اور اچھے کک یا باورچی ہیں ۔ انہوں نے آزاد کو بتایا کہ میں روم میں آباد تمام پاکستانیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہماری دکان پر تشریف لاتے ہوئے ہمیں خدمت کا موقع دیں ۔ ہمارے ہاں ، تازہ اٹالین اور پاکستانی سبزیاں، اسلامک سنٹر کی مہر والا حلال گوشت، ایشین فوڈ اور اٹالین فوڈ موجود ہے ۔ پاکستانی مٹھائی اور دوسری رواعتی مصنوعات ہمارے ہاں دستیاب ہیں ۔ وہ پاکستانی جو کہ ہمارے مصنوعات کی شاپنگ ویا ٹیلی فون کرنا چاہتے ہیں انہیں بھی ہر قسم کی سہولت دی جائے گی اور ڈومیسائل سروس مہیا کی جائے گی ۔ عزیز خان نے کہا کہ انہیں ٹیپو سلطان کی شخصیت بہت پسند ہے اور وہ بر صغیر کے سب سے بڑے ہیرو ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی شاپ یا منی مارکیٹ کا نام انکے نام سے منسوب کر دیا ہے ۔ Sultan Alimentari Mini Market Via Carlo Della Rocca Roma tel : 339.7917034 Tel. Fax: 06.2412917

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 03 دسمبر 2011 10:36