Tuesday, Mar 19th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

امیگریشن کی تازہ خبر

روم۔ 17 اپریل 2013 ۔۔۔ کافی دنوں سے آزاد کے قارئین یہ سوال کررہے تھے کہ موجودہ امیگریشن کے بارے میں کیا رپورٹ ہے اور ہماری درخواست کی کیا نوعیت ہے ؟ ان تمام سوالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا ہے اور انہوں نے 9 اپریل 2013 تک کی رپورٹ جاری کردی ہے ۔ موجودہ امیگریشن میں 1 لاکھ 34 ہزار درخواستیں جمع ہوئی تھیں اور انہیں جمع کروانے کے لیے گزشتہ سال 15 ستمبر سے لیکر 15 اکتوبر کا وقت دیا گیا تھا ۔ وزیر اعظم مونتی کے موجودہ قانون کے مطابق وہ غیر ملکی اس قانون کے بعد غیر قانونی کام کریں گا یا پھر اٹلی میں غیر قانونی طور پر رہیں گے ، انہیں اور انکے مالکان کو سخت جرمانے اور سزائیں دی جائیں گی ۔ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اب تک 82190 درخواستوں کی پڑتال کی گئی ہے اور ان پر مختلف دفاتر کام کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ غیر ملکی کی درخواست پر تھانے کا امیگریشن کا دفتر اسکے بعد روزگار کا دفتر اور علاقے کا تھانہ کام کرتے ہیں ، یعنی تین دفاتر جب رپورٹ جاری کرتے ہیں تو اسکے بعد غیر ملکی اور مالک کو بلا کر سوجورنو کا کنٹریکٹ کیا جاتا ہے اور پرمیسو دی سوجورنو جاری کی جاتی ہے ۔ ان درخواستوں میں سے 23 ہزار پر مثبت رائے قائم کرتے ہوئے سوجورنو جاری کردی گئی ہے اور 13 ہزار درخواستیں لوازمات پورے نہ ہونے کیوجہ سے مسترد کردی گئی ہیں ۔ یاد رہے کہ مسترد ہونے والی درخواستوں میں مالک کی سالانہ بچت، غیر ملکی کا اٹلی میں 2011 سے موجود ہونے کا ثبوت اور ٹیکسوں کی ادائیگی وغیرہ ۔ 10 ہزار ایسی درخواستیں ہیں ، جن میں مالکان کو اطلاع کی گئی ہے کہ وہ لوازمات پورا کریں ۔ چند مالکان تھانے میں جا کر لوازمات نہیں دے رہے ، اس صورت میں غیر ملکی کی درخواست مسترد کردی جائے گی ۔ باقی تمام غیر ملکی جن کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے ، وہ انتظار کریں اور حوصلہ نہ ہاریں ۔ میلانو میں 15 ستمبر سے لیکر 30 ستمبر تک کی درخواستوں پر کام ہورہا ہے ۔ یاد رہے کہ زیادہ درخواستیں اکتوبر کے مہینے میں جمع کروائی گئی تھیں ۔ اٹلی کی مزدور یونین کے ڈائریکٹر Maurizio Boveنے کہا کہ امیگریشن پر کام ہورہا ہے لیکن اس کا سسٹم سست ہے ۔ وہ کام کے مالکان جو کہ فوت ہو جائیں گے یا پھر کام والا ادارہ معاشی بحران کیوجہ سے بند ہو جائے گا ، اس صورت میں غیر ملکی کو کام تلاش کرنے کی پرمیسو دی سوجورنو جاری کردی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چند پریفی تورے یا تھانے غیر ملکیوں کا معمولی ثبوت مان لیتے ہیں اور بعض اسے مسترد کردیتے ہیں ، اس وجہ سے بھی درخواستیں مسترد کی جا رہی ہیں ۔ نیچے امیگریشن کی درخواستوں کی نوعیت کی رپورٹ۔ ( پیارے بھائیو ، جب آپ لوگ مجھے اپنی درخواست کے بارے میں سوال کرتے ہو ، تو میرے لیے ہر بندے کو جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے ، میں اخبار کے علاوہ نجی ادارے میں کام کرتا ہوں ، اس لیے وہ لوگ جو میرے جواب سے قاصر رہتے ہیں ، میں ان سے معافی مانگتا ہوں )

STATO DI AVANZAMENTO PROCEDURE EMERSIONE 2012
fonte: Ministero dell’Interno
"Alla data del 9 aprile 2013, sono state lavorate 82.190 domande così suddivise:
 
-          23.255 definite con la firma del contratto di soggiorno e la richiesta del permesso di soggiorno;
-          10.817 già convocati
-          9.746 in fase di integrazione
-          13.417 rigettate
-          183  rinunce
-          24.772  valutate positivamente dalla DTL e dalla Questura calendarizzate per la convocazione
"

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

منڈی بہاؤالدین

1506عیسوی میں صوفی صاحب بہاؤالدین ، پنڈی شاہ جہانیاں سے اس علاقہ میں آئے تو انہوں نے ایک بستی کی بنیاد رکھی جس کا نام پنڈی بہاؤالدین رکھا گیا جسے اب پرانی پنڈی کے نام سے جانا جاتا ھے-انیسویں صدی میں یہ علاقہ برطانوی حکومت کے زیر تسلط آیا -اس علاقے میں کچھ زمین بنجر اور غیر آباد پڑی تھی-

1902 میں انگریز سرکار نے آبپاشی کے نطامکا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا تو اسی منصوبے کے تحت نہر لویر جھلم بھی کھودی گئی اور اس سے علاقے کو سیراب کیا گیا-علاقے کی چک بندی کی گئی- اکاون چک بنائےگے اور زمین ان لوگوں میں تقسیم کی گئی جنہوں نے سلطنت برطانیہ کے لیے کام کیا تھا-علاقے کو گوندل بار کا نام دیا گیا- چک نمبر51  مرکزی چک قرار پایا جو کہ آج منڈی بہاوالدین کے نام سے مشہور ہے-پلان کے مطابق اس کی تعمیر کی گئی اور یہاں پر غلہ منڈی قائم کی گئی- بیسویں صدی کے اغاز میں مسلمان،ہندو اور سکھ تاجر و زمیندار یہاں آ کر آباد ہونے لگے- 1916ء میں حکومت برطانیہ نے اپنے دفاعی اور تجارتی مفاد میں پنڈی بہاوالدین ریلوے سٹیشن قائم  کیا- 1920ء میں چک نمبر 51 کو منڈی بہاوالدین (مارکیٹ بہاوالدین) کا نام دینے کا اعلان کیا گیا- 1923ء میں قصبہ کی ماسٹر پلان کے مطابق دوبارہ تعمیر کرتے ھوئے گلیوں اور سڑکوں کو سیدھا اور کشادہ کیا گیا- 1924ء میں پنڈی بہاوالدین ریلوے سٹیشن کا نام منڈی بہاوالدین رکھا گیا- 1937ء میں ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دیا گیا اور 1941ء میں میونسپل کمیٹی بنا دیا گیا- 1946ء میں نو دروازے اور چار دیواری تعمیر کی گئ-1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا تو ھندو اور سکھ بھارت چلے گے جبکہ بھارت سے نقل مکانی کر کے پاکستان آنے والے بہت سے مسلمان یہاں آباد ھوئے-1960ء میں سب ڈویژن کا درجہ دیا گیا- 1963ء میں رسول بیراج اور رسول قادرآباد لنک نھر کا منصوبہ شروع کیا گیا - منصوبے سے متعلقہ سرکاری ملازمین اور غیر ملکی ٹھییکیداروں کے لیے منڈی بہاوالدین کے نزدیک ایک بڑی کالونی قائم  کی گئی-1968ء میں یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا- یہ منصوبہ منڈی بہاوالدین کی کاروباری نشوونما میں اضافے کا سبب بنا- 1993ء میں وزیر اعلئ پنجاب میاں منظور احمد وٹو نے منڈی بہاوالدین کو ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کیا- 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم اور راجہ پورس کے درمیان مشھور اور تاریخی لڑائی منڈی بہاوالدین کے مغرب میں دریائے جہلم کے جنوبی کنارے کھیوا کے مقام پر لڑی گئ- اس لڑائی میں راجہ پورس کو شکست ھوئ جس کے نتیجہ میں سکندر اعظم کو دو شہر ملے ایک اس جگہ پر تھا جہاں ان دنوں مونگ ہے اور دوسرا ممکنہ طور پر جہاں پھالیہ ھے- پھالیہ سکندر اعظم کے گھوڑے بیوس پھالس کے نام کی بگڑی ھوئی شکل ھے- کچھ مورخین کے خیال کے مطابق وہ دو شہر جلالپور اور بھیرہ والی جگہ پر تھے- منڈی بہاوالدین سے تھوڑے فاصلے پر چیلیانوالہ کا وہ تاریخی مقام ھے جہاں انگریزوں اور سکھوں کے درمیان 1849ء میں دوسری لڑائی ہوئی تھی-چیلیانوالہ کے نزدیک رکھ مینار میں اس جنگ میں کام آنے والے کئی انگریز افسر اور سپاھی دفن ھیں- منڈی بہاوالدین صوبہ پنجاب کا خوبصورت اور مشہور شہر ھے- اس کے شمال مغرب میں دریائے جھلم اسے ضلع جھلم سے الگ کرتا ھے جبکہ جنوب مشرق سے دریائے چناب اسے گجرات ،گوجرانوالہ اور حافط آباد سے علیحدہ کرتا ھے-مغرب میں ضلع سرگودھا واقع ھے- رقب2673 مربع کلو میٹر اور سطح سمندر سے بلندی 204 میٹر ھے- ضلع میں تین تحصیلیں منڈی بھاوالدین ، پھالیہ اور ملکوال ہیں جبکہ یونین کونسلز کی تعداد 65 ھے- بڑے قصبے چیلیانوالہ،گوجرہ،ھیلاں،کٹھیالہ شیخاں،مانگٹ،مونگ،میانوال رانجھا،پاہڑیانوالا،قادراباد،رسول اور واسو ھیں- سب سے زیادہ آبادی جٹ قبیلہ کی ھے- آرائیں،گجر،کہوٹ،کشمیری،راجپوت،شیخ،مرزا اور سید قبیلوں کے لوگ بھی آباد ھیں-زیادہ بولی جانے والی زبانیں پنجابی اور اردو ہیں- اھم فصلیں گندم،دھان،گنا،آلو،تمباکو ھیں جبکہ چارہ کے لیے جوار،باجرہ،مکئ اور برسیم وغیرہ بھی کاشت کیے جاتے ھیں- صنعتی یونٹوں کی تعداد نو سو کے قریب ھے- شہر کے نزدیک شاہ تاج شوگر مل واقع ہے جس کا رقبہ بیس ایکڑ پر محیط ھے- اس کا شمار علاقے کی بڑی ملوں میں ھوتا ھے معیاری چینی تیار کر کے ملکی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رھی ھے-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ اٹلی میں منڈی بہاوالدین کے تارکین وطن کی تعداد قابل زکر ہے ۔

(حاجی وحید پرویز ،بریشیا، اٹلی- موبایل ونڈ00393398705106)- تصاویر میں منڈی کی تاریخی عمارتیں

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

امیگریشن کی خبر

روم، 16 اپریل 2013 ۔۔۔۔ وہ پاکستانی جنہوں نے موجودہ امیگریشن میں درخواست دے رکھی ہے ، وہ اب پریشان ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ ان لوگوں سے التماس ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں اور انتظار کریں ۔ اب تک صرف 30 ہزار درخواستوں پر پرمیسو دی سوجورنو جاری کی گئی ہے ۔ ابھی ایک لاکھ سوجورنو مزید جاری ہونی ہے ۔ ہر تین درخواستوں میں سے ایک درخواست لوازمات پورے نہ ہونے کیوجہ سے مسترد کی جارہی ہے ۔ تمام درخواستوں پر عملدرآمد کرنے کے لیے کم از کم ایک سال لگ جائے گا ۔ وزارت داخلہ اپنی پالیسی کے مطابق زیادہ تر زور ڈومیسٹک کام کی سوجورنو پر دے رہی ہے ۔ آزاد کی انٹرنیٹ کی اٹالین سائٹ استرانیری ان اطالیہ نے وزارت سے درخواستوں کی نوعیت کے بارے میں پوچھا ہے اور لگتا ہے کہ آج یا کل وہ تمام رپورٹ دیدیں گے اور ہم آپ کو اردو میں پیش کردیں گے ۔ وہ درخواستیں جن کے لوازمات پورے نہیں ، یعنی سالانہ بچت کم ہے ، انہیں مسترد کرنے کی بجائے آخر پر ڈالا جا رہا ہے ۔ تحریر ، ایڈیٹر اعجاز احمد

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

تمام کمونوں سے دوسری نسل کے غیر ملکیوں کی اپیل

روم ، تحریر، ایلویو پاسکا ۔۔۔ اٹلی میں اس سال 15 ہزارکے قریب  ایسے دوسری نسل کے غیر ملکی موجود ہیں جو کہ 17 سے 18 سال کے ہو چکے ہیں ۔ یہ وہ غیر ملکی ہیں جو کہ امیگرنٹس والدین سے اٹلی میں پیدا ہوئے ہیں ۔ یہ تمام 2013میں اٹالین شہریت حاصل کریں گے ۔ اٹلی کی ایسوسی ایشن ANCI, Save the Children e Rete G2نے ملکر ایک کمپین چلائی ہے ، جس کے مطابق سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان غیر ملکی بچوں کو شہریت کی اطلاع کریں ۔ اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ اٹلی کے کمونوں کے تمام میئر ان لڑکے لڑکیوں کو ایک نوٹس کے زریعے اطلاع کریں جو کہ 18 سال کی عمر کے ہوگئے ہیں ۔ اٹلی میں پیدائش کے بعد غیر ملکی بچے کا حق ہوتا ہے کہ وہ 18 سال کی عمر پوری کرنے پر اٹالین شہریت کی درخواست دے سکے ۔ اٹلی کے چند کمونوں نے غیر ملکیوں کو اطلاع کرنی شروع کر دی ہے ، جس میں میلانو کا کمونہ شامل ہے ۔ موجودہ قانون کے مطابق وہ غیر ملکی بچے جو کہ اٹلی میں پیدا ہوئے ، وہ اٹالین شہری بن سکتے ہیں بشرطیکہ ان کا اندراج کمونے کے دفتر اناگرافے میں ہوا ہو ، یہ قانونی طور پر اٹلی میں 18 سال کی عمر تک  رہائش پزیر ہوں اور انہوں نے اپنے اس ریذیڈنس کے دوران گیپ نہ ڈالا ہو ۔ یعنی یہ مسلسل سالوں تک کسی دوسرے ملک میں نہ گئے ہوں ۔ یہ کوائف پورے کرنے کے بعد ان جوانوں کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ یہ اپنے رہائش والے کمونے میں شہریت کی درخوست 19 سال میں دیں ۔ اٹلی میں آباد بہت سارے ایسے جوان ہیں ، جنہیں پتا نہیں کہ شہریت حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس صرف ایک سال کا وقت درکار ہوتا ہے ۔ اس لیے اوپر درج کردہ ایسوسی ایشنوں نے ایک مہم چلائی ہے ، جس کے مطابق تمام کمونوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جوانوں کو 18 سال کی عمر میں ایک خط روانہ کریں ، جس میں تمام تر معلومات موجود ہوں ، اٹلی کی دوسری نسل کی ایسوسی ایشن G2نے ایک آن لائن گائیڈ بھی بنا دی ہے ۔ جس میں شہریت حاصل کرنے کی تمام تر معلومات درج ہیں ۔ اٹلی میں دوسری نسل کے جوانوں میں سال در سال اضافہ ہورہا ہے ، اس اہمیت کو مرنظر رکھتے ہوئے یہ مہم چلائی گئی ہے ۔ اٹلی کے مردم شماری کے ادارے استات کے مطابق 2010 میں اٹلی میں 78 ہزار غیر ملکی  بچے پیدا ہوئے تھے جو کہ ٹوٹل بچوں کا 9،13 فیصد بنتا ہے ۔ اور یہ گزشتہ سال سے 3،1 فیصد زیادہ تھا ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج اٹلی کے سکولوں میں 10 لاکھ غیر ملکی بچے بنچوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ تصویر میں پاکستانی نژاد بچیاں روم کے ایک تہوار میں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 15 اپریل 2013 19:45

پوپ فرانسیسکو کی بانکی مون سے ملاقات

روم۔ 10 اپریل 2013 ۔۔۔۔ اٹلی میں موجود ویٹیکن اسٹیٹ میں پوپ فرانسیسکو کی بانکی مون سے ملاقات ہوئی ۔ جس میں بین الاقوامی امیگریشن ، سیاسی پناہ اور جلاوطنی کے بارے میں بحث ہوئی ۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بانکی مون نے پہلی دفع  پوپ فرانسیسکو سے ملاقات کی ۔ پوپ فرانسیسکو سابقہ پوپ بینیڈکٹ کے استعفی کے بعد پوپ بنے ہیں ۔ موجودہ ملاقات میں حالات حاضرہ پر بحث ہوئی اور خاص طور پر تارکین وطن سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں سوچا گیا ۔ بانکی مون نے کہا کہ دنیا کے کافی ممالک میں ملکی استحکام اور امن خطرے میں ہیں ۔ شام میں جنگ کے دوران لاکھوں لوگ جلاوطن ہورہے ہیں ۔ افریقہ کے کافی ممالک میں امن اور ملکی سالمیت نہ ہونے کیوجہ سے لوگ فرار ہورہے ہیں ، اسی طرح شمالی کوریا کی حالت بھی قابل زکر ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ غیر ملکیوں کے متعلق جمہوری قوانین بنائے جائیں اور انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے ہر قسم کے دروازے کھولے جائیں ۔ بعض ایسے ممالک ہیں جو کہ غیر ملکیوں کو اور خاص طور پر سیاسی پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنا رہے ہیں ، ایسے حالات میں مدد اور مہمان نوازی جیسی قدریں ختم ہو رہی ہیں ۔ اگر غیر ملکیوں کے متعلق مثبت قوانین اور اصول نہ بنائے گئے تو دنیا میں ابتری ، جنگ اور بے چینی بڑہ جائے گی ۔ پوپ نے کہا کہ ویٹیکن نے ہمیشہ تارکین وطن کی مدد اور بہتر سلوک کے بارے میں سوچا ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com