Tuesday, Mar 19th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

روم میں بولی ووڈ ڈانس کے آپسرا سکول کا قیام

روم، 23 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کی مشہور بولی ڈانس یا بھنگڑا کی ایکسپرٹ والینتینا مندوقی نے روم میں بولی ووڈ ڈانس کے آپسرا سکول کا قیام کیا ہے ۔ اگر آپ انڈین پاکستانی ڈانس سیکھنے کے خواہشمند ہیں تو آپ ہم سے جلد رابطہ کریں ۔ اسکے علاوہ پاکستانیوں کے فنگشنوں کی رونق دوبالا کرنے کے لیے آپسرا سکول آپکو ڈانس گروپ مہیا کرسکتا ہے ۔ ہم پورے اٹلی کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں ڈانس شو کرتے ہوئے شہرت حاصل کر چکے ہیں ۔ ڈانس ماسٹروں میں انڈین اور اٹالین شامل ہیں ۔ ہم سے جلد رابطہ کریں ۔

Phone

320 293 0720

Email

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Website

http://www.apsarasdance.com

Press Contact

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

Booking Agent

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے ; یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 23 مارچ 2013 19:21

فیس بْک

یہ میری پہلی تحریر ہے۔ میں نے آج سے پہلے کوئی افسانہ ، مضمون یا کہانی کچھ نہیں لکھا۔ بس ایک عجیب و غریب واقعے نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ یہ کہانی فیس بْک سے جڑی ہوئی ہے(فیس بْک آج کے دور کا سب سے بڑا مشغلہ ہے۔ ضرورت، مجبوری، یا اپنوں سے قربت یا کچھ اور پتا نہیں کیا۔ اس بات کا فیصلہ ہر پڑھنے والا اپنے حساب سے کرے گا)۔یہ کہانی میری سہیلی کی بہن کی ہے جس کی شادی کو پانچ ماہ ہوئے تھے۔ گھر میں نندیں، دیور، ساس، سْسر تقریباً سب ہی رشتے موجود تھے۔ ایک چھوٹی سی جنت جہاں سب ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے اور بہت پیار سے رہتے تھے۔ندیم کی شادی سے سب ہی بہت خوش تھے کیونکہ اس نے شادی بہت دیر سے کی تھی (پروفیسر بننے کے بعد شاید اْسے اپنے لیئے وقت ہی نہ ملا تھا)۔ ندیم اور اریبہ کی عمر میں تقریباً ۱۲ (بارہ ) سال کا فرق تھا لیکن ان کی باتوں،مشغلوں اور پیار سے لگتا تھا کہ وہ دونوں ہم عمر ہیں۔ ندیم میں بس ایک ہی برائی تھی کہ بیوی سے زیادہ فیس بْک کو وقت دیا کرتا۔ رات گئے فیس بْک پے اپنے دوستوں سے چَیٹ کرتا رہتا۔ ایک دن کسی خوبصورت لڑکی نے اْسے فرینڈ ریکویسٹ بھیجی جو اس نے فوراً کنفرم کردی۔بس اب کیا تھا۔ اب تو ندیم کی آئی ڈی اور بھی کلر فل ہوگئی تھی۔ اب وہ رات تین چار بجے تک نازش (فیس بْک کی فرینڈ) سے باتیں کرتا رہتا ۔ اریبہ نے محسوس کرنا شروع کردیا کہ پچھلے تقریباً دو ہفتوں سے ندیم اسے اِگنور کررہا ہے۔ جب اریبہ کو یہ پتا چلا کہ ندیم اور نازش کی دوستی فیس بْک سے کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئی ہے اور دوستی پیار کا رنگ اختیار کرتی جارہی ہے۔ اسے یہ جان کر بہت دْکھ ہوا۔ اس نے اپنے اس شک جسے وہ شک یا اپنی غلط فہمی سمجھتی تھی کا ذکر کیا تو ندیم کو بہت غصہ آیا۔ اس نے اریبہ کو جاہل ، بیوقوف، کم عقل اور کْند ذہن اور نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازا۔ بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک آپہنچی۔ ندیم کے پاس تو اولاد نہ ہوئے کا بہانہ بھی موجود تھا حالانکہ ان کی شادی کو ابھی پانچ ماہ ہی گزرے تھے۔ اس کے نزدیک اریبہ کا سب سے بڑا جرم یہی تھا۔ خیر دونوں طرف سے بزرگوں نے بڑی کوشش کی کہ ندیم اور اریبہ کی جوڑی بنی رہے لیکن شاید ندیم اب کچھ اور ہی سوچ رہا تھا (شاید نازش کے بارے میں)۔ اور بہت کوششوں کے باوجودندیم اور اریبہ میں طلاق ہوگئی۔ اس بات کو ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دکھ کا مداوا بھی کردیا اور اریبہ کو ماں بننے کی خوشخبری بھی دے دی۔ دوسری طرف جب ندیم نے نازش سے شادی کی بات کی تو اس نے صاف انکار کردیاکہ اس سے شادی نہیں کرسکتی کیونکہ اس کی شادی اس سے ہو ہی نہیں سکتی تھی ۔اگر ان دونوں کی شادی ہوجاتی تو جس معاشرے میں وہ رہتے تھے اس معاشرے نے اس رشتے کو کبھی تسلیم ہی نہیں کرنا تھا۔ کیونکہ نازش اصل میں ایک لڑکا تھا جو محض تفریح کے لیئے فیک آئی ڈی سے لڑکی بنا ہوا تھا اور اس نے اپنی فوٹو کی جگہ کسی خوبصورت لڑکی کی تصویر لگائی ہوئی تھی۔ جب ندیم کو یہ پتا چلا کہ نازش ایک لڑکا ہے اور دوسری طرف اربیہ ماں بھی بننے والی ہے تو اسے اپنے کیئے پر بڑی شرمندگی ہوئی لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ ایک لڑکے کے چھوٹے سے مذاق سے ایک گھر تباہ ہوگیا ۔ایک فیک آئی ڈی نے دوانسانوں کی زندگی میں زہر گھول دیا۔

یہ کہانی لکھنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ پلیز فیس بْک پے سوچ سمجھ کر دوستی کریں اور اس کی وجہ سے اپنے پیار کرنے والے رشتوں کو مت ٹھکرائیں۔ کہیں کسی اور کا بھی ندیم اور اریبہ جیسا حال نہ ہو۔

اللہ تعالی ہمیں سوچنے سمجھنے کی طاقت دے۔آمین

رْوما بیگ ، اریزو

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پاکستان ایمبیسی روم میں یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کی دعوت

روم، 19 مارچ 2013 ۔۔۔۔ روم میں موجود پاکستانی سفارتخانے میں 23 مارچ بروز ہفتہ یوم پاکستان کی تقریب منائی جارہی ہے ۔ اس روز پرچم کشائی ہو گی اور صدر و وزیر اعظم کے پیغامات اہل وطن تک پہنچائے جائیں گے ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی صبح 10 بجے تقریب کا آغاز کیا جائے گا ۔ روم اور اس کے نواح میں آباد تمام پاکستانیوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خود اور اپنے خاندانوں کے ہمراہ تشریف لاتے ہوئے تقریب کی رونق کو دوبالا کریں ۔ ایسی تقریبات سے اٹلی میں پیدا ہونے والے بچے بھی ہمارے ملک کی اقدار اور تاریخ سے واقفیت حاصل کرتے ہیں اور اسکے علاوہ ایسے مواقعوں سے محب الوطنی میں اضافہ ہوتا ہے ۔

 23مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک موجودہ اقبال پارک میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور اسی دن 1956 میں پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا۔ اس روز کو یوم پاکستان کے طور پر منانے کا اعلان سرکاری طور پر ہوا۔ اس روز وفاقی دارالحکومت اور صوبائی دارالحکومتوں میں فوجی پریڈ منعقد ہوتی ہے۔ پورے ملک میں پاکستان کے قیام پر بحثیں منعقد ہوتی ہیں اور ہر طرف سفید اور سبز پرچم لہراتا نظر آتا ہے ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

20 مارچ سے کوٹے شروع کیے جا رہے ہیں

روم، 18 مارچ 2013 ۔۔۔۔ اٹلی میں موسمی ملازم بلانے کے لیے 20 مارچ سے کوٹے شروع کیے جا رہے ہیں ، وہ مالکان جو کہ اٹلی میں غیر یورپین ممالک سے موسمی ملازمین بلانے کے خواہشمند ہیں ، یہ لوگ بدہ کے روز سے اٹلی کی وزارت داخلہ کی انٹرنیٹ کی سائٹ nullaostalavoro.interno.it.سے درخواست حاصل کرتے ہوئے اسے پر کریں گے اور تیار کرنے کے بعد انتظار کریں گے ۔ کوٹوں کا اعلان حکومت کی منظوری کی بعد قومی رجسٹر یا Gazzetta Ufficialeدیدیا جائے گا ۔ کوٹوں کا اعلان وزارت کونصل کی جانب سے 15 فروری 2013 کو کیا گیا تھا اور اب وزارت داخلہ کے مطابق اس کا اعلان چند دنوں میں کیا جا رہا ہے ، اس لیے تمام مالکان سے گزارش ہے کہ وہ 20 مارچ صبح 00۔8 بجے سے لیکر درخواست حاصل کرتے ہوئے اسے محفوظ کرلیں ۔ یہ کوٹے 30 ہزار ملازمین پر مبنی ہیں اور یہ صرف ٹورزم اور زراعت کے شعبوں کے لیے جاری کیے جا رہے ہیں ۔ ان شعبوں کے حکام نے کہا ہے کہ 30 ہزار غیر ملکی موسمی کام کی کھپت کے لیے کافی ہیں ۔ وزارت داخلہ نے تمام مالکان سے درخواست کی ہے کہ وہ آرام سے درخواست دیں ، کیونکہ یہ کوٹے 31 دسمبر 2013 تک کھلے رہیں گے اور تمام مالکان انٹرنیٹ کے زریعے یا ٹیلی میٹک طریقے سے درخواست دے سکیں گے ۔ یاد رہے کہ مالکان زاتی طور پر یا پھر کسی کیٹگری کی ایسوسی ایشن کی مدد سے درخواست دے سکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ سابقہ کوٹوں میں پاکستان کا کوٹہ 1000 ملازمین پر مبنی تھا ۔ ان کوٹوں میں دوسری دفع آنے والے ملازمین کو ترجیح دی جائے گی اور انہیں قطاروں میں نہیں لگنا ہو گا ۔ تحریر ، ایلویو پاسکا

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کیا عمران خان اچھے کرکٹر ہونے کے بعد اچھے لیڈر بھی ہونگے ، ایڈووکیٹ محمد ندیم یوسف

 
 

میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے ہمیشہ عمران کی عزت کی لیکن بطور سیاسی ورکر مجھے عمران کی سیاسی حکمت عملی پر شدید اعتراضات تھے۔ میں ہمیشہ کہتا تھا کہ عمران بہت دیانت دار اور قابل انسان ہے لیکن عمران کے پاس ٹیم نہیں، اس کے پاس پارٹی نہیں، اس کے پاس اچھی باتیں تو ہیں مربوط پالیسی نہیں، اس کا فین کلب بہت بڑا ہے لیکن سیاسی ورکرز نہیں، عمران پریشر گروپ بنا پایا ہے مظبوط سیاسی قوت نہیں بن پایا۔ عمران انتخابی سیاست کے ماڈل کو نہیں سمجھ پایا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن عمران نے اپنے اوپر ہونے والی ہر تنقید کو رسپانڈ کیا اور آج پاکستان کی سب سے قابل ٹیم اس کے پاس ہے ہر سکیٹر کے ہیروز اور پرفارمرز عمران کی ٹیم کھلاڑی ہیں، عدلیہ کے حقیقی ہیرو جسٹس وجیہ الدین، سیاسی کارکنان اور جدوجہد کے ہیروجاوید ہاشمی، بدترین حالات میں کامیاب سفارتکاری اور اصولی موقف پر سٹینڈ لے کر اقتدار کو ٹھکرانے والےشاہ محمود قریشی، پاکستان کے بزنس سیکٹر کے ہیرو اسد عمر، دنیا بھر کے ڈینٹل سیکٹر کے ہیرو عارف علوی،دنیا بھر میں کامیابوں کے جھنڈے گاڑنے والے سٹریٹیجک تھنکر عظیم ابراہیم، پاکستان میں کارپوریٹ ماکیٹنگ اور ایجوکیشن سیکٹر کی ہیروئن عندلیپ عباس، عدلیہ تحریک کے آغاز کار اور وکلاء کے ہیرو حامد خان ، ملک میں پہلی مرتبہ ایگری کلچرل ٹیکس کے نفاز کی حقیقی کوشش کرنے والے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کروڑوں روپے کا زرعی ٹیکس جمع کروانے والے محب وطن جاگیر دار جہانگیر ترین ، پاکستان میں چیریٹی ہسپتال بنانے والے اور پوتھ پالیمنٹ جیسا ادارہ بنانے والے ابرار الحق، سیاسی قربانیوں کی تاریخ اسرار شاہ سمیت مرکز سے لے کر یونین کونسل تک پاکستان کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا ، کامیاب اور پاکستان کو دینے والا طبقہ عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے۔ آج پاکستان کی واحد جمہوری سیاسی پارٹی کا سربراہ عمران خان ہے، جس کے لیڈر مرکز سے لے کر یونین کونسلز تک منتخب شدہ ہیں، الیکشن میں جانے سے پہلے ہی وہ نئے بدلیاتی نظام، تعلیمی اصلاحت، توانائی کے بحران پر قابو پانے، معاشی ترقی، انڈسٹری اور ہنرمندی کے فروغ، صحت سے متعلق نئے نظام، ماحولیات اور نوجوانوں سے متعلق مربوط پالیسیاں پبلک ڈیبیٹ کے لیئے پیش کر چکا ہے۔ پاکستان کی ہر جماعت سے تعلق رکھنے والا نظریاتی سیاسی ورکر اب تحریک انصاف کو سپورٹ کر رہا ہے، لوگ عمران کی کرکٹ کو بھول چکے ہیں اور عمران کی سیاست کے مداح ہیں اور سٹیٹس کو پارٹیوں کے لیے عمران اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیاہے۔ ایک کروڑ سے زیادہ لوگ اس وقت اس کے رجسٹرڈ پارٹی ورکر ہیں۔ عمران نے موجودہ گندے سیاسی کلچر کا حصہ بننے کے بجائے ایک نیا غیر متشدد اور محب وطن سیاسی کلچر ترتیب دے کر بہت حد تک ملک کے سیاسی کلچر کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دھائیوں سے راج کرتی سٹیٹس کو پارٹیوں کو آج عوام کو قائل کرنے کے لیے وہ باتیں اور وعدے کرنے پڑ رہے ہیں جو باتیں عمران سترہ سال سے کرتا رہا ہے۔ پاکستان کی تعلیمی اداروں کو ایم ایس ایف کے زریعے کلاشنکوف کلچر دینے والے آج لیپ ٹاپ بانٹ رہے ہیں، تھانہ کو سیاستی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی روایت کے موجد آج پولیس اصلاحات کے وعدے کر رہے ہیں، کرپشن کی جدید ٹیکنالوجیز کے موجد شفافیت لانے کے وعدے کر رہے ہیں۔ یوتھ کو قبضوں کے لیے استعمال کرنے والے یوتھ بیس پالیسیز کا وعدہ کر رہے ہیں، پانچ سال سے مرکزی حکومت کی انشورنس پالیسی بننے والے اور آدھے سے زیادہ پاکستان کے مطلق العنان بادشاہ اپنے لیے اپوزیشن کا ٹائٹل پسند کر رہے ہیں۔ بلدیاتی نظام کے قاتل نئے بلدیاتی نظام کا وعدہ کر رہے ہیں۔ پولنگ بوتھوں پر ہتھیاروں کے زور پر قبضہ کرنے والے غیر متشدد سیاست کی بات کر رہے ہیں، دہشت گردوں سے اتحاد کرنے والے دہشت گردی کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ عمران نے لیفٹ رائٹ برادری صوبائیت فرقہ واریت لسانیت کی تفریق سے نکال کر پورے ملک کو نظام کی تبدیلی کے ایک قومی ایجنڈے پر کھڑا کر دیا ہے۔ اس نے عوام کو یہ شعور دے دیا ہے کہ ملک ٹھیکے پر نہیں چل سکتا بلکہ ایک شفاف اور جدید نظام ہی ملک کو بچاسکتا ہے۔ سٹیٹس کو کی اننگ ختم، اب بلا عمران کے ہاتھ میں ہے۔ اب میچ کا فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ کپتان اپنی ٹیم یعنی پاکستان کے کروڑوں نوجوانوں کو سٹیٹس کو کے خلاف کیسے کھلواتا ہے۔ ۲۳مارچ کو اوپنرز میدان میں اتریں گے، اگر اوپنرز نے اچھا سکور کیا تو آدھے سے زیادہ میچ ہاتھ میں آجائے گا۔

 

MUHAMMAD NADEEM YOUSUF.
ADVOCATE.
COORDINATOR, PTI ITALY.
0039 3336409233

http://www.insaf.pk/Chapters/International/Italy
www.insaf.pk

https://www.facebook.com/muhammadnadeem.yousuf

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 17 مارچ 2013 21:17