Sunday, Aug 25th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

اٹلی میں موجود پاکستانی دہشت گرد گروہ گرفتار

روم، 24 اپریل 2015۔۔۔۔۔ کل شام سے لیکر آج صبح تک دہشت گرد گروہ کے 9 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور باقی 9 افراد کی تلاش جاری ہے ۔ اٹالین پولیس کے مطابق اس گروہ کا گھڑسردینیا صوبہ تھا اور یہ پورے اٹلی میں پھیلے ہوئے تھے ۔ گروہ کا تعلق القاعدہ، تحریک طالبان اور دوسری دہشت گرد تنظیموں سے بتایا جاتا ہے ۔ ان میں سے 2 دہشت گرد اسامہ بن لادن سے براہ راست منسلک بھی تھے ۔ یہ گروہ موجودہ پاکستانی حکومت کے خلاف بھی کام کر رہا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ موجودہ حکومت طالبان کے خلاف کاروائی نہ کرے اور امریکہ سے تعلقات ترک کردے ۔ اس گروہ نے 2010 میں ویٹیکن میں دہشت گردی کرنے کی کوشش بھی کی تھی ۔ 9 دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اٹلی سے فرار ہو چکے ہیں ۔ اس آپریشن میں اٹلی کے 7 صوبے شامل ہیں ۔ اس گروہ پر دہشت گردی، غیر قانونی امیگریشن کی کمائی اور دوسرے الزامات عائد کیے گئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اس گروہ نے شمالی اٹلی میں ایک عورت کو بھی قتل کیا تھا ۔ گروہ کے افراد نے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عورت کے قتل کی ویڈیو میں چھری نظر نہیں آرہی ۔ اس ویڈیو کی تلاش جاری ہے لیکن ابھی تک مل نہیں سکی ۔ اٹلی کے جزیرے سردینیا کے شہر اولبیا سے پاکستانی کمونٹی کے مذہبی لیڈر سلطان ولی خان عمر 39 سال کوگرفتار کر لیا گیا ہے ۔ سلطان ولی خان کو اس وقت گرفتار کیا گیا ، جب وہ اولبیا سے چویتا ویکیا کے لیے سفر کر رہا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ سلطان خان اس گروہ کا سب سے بڑا لیڈر ہے ۔ سلطان خان مسجد کا سربراہ بھی ہے اور اولبیا میں اسکی ایک دکان بازار کے نام سے مشہور ہے ۔ پولیس کے مطابق اسکی دکان سے ایک کاغذ بھی ملا ہے ، جس پر فارسی میں لکھا ہوا ہے کہ " شہادت لازمی ہے " ۔ یہ گروہ جزیرے کی مساجد سے چندہ حاصل کرتے ہوئے القاعدہ، تحریک طالبان، تحریک نفاز اور شریعت محمدی جیسی تنظیموں کی مدد کرتا تھا ۔ پولیس کے مطابق سلطان خان کے بعد گروہ کا نائب حافظ محمد ذوالفقار تھا ، جوکہ بیرگامو میں آباد ہے اور آج اسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ حافظ ذوالفقار بھی مختلف گروہوں کو رقم ارسال کرتا تھا  اور اسکی عمر 43 سال ہے ۔  حافظ بیرگامو اور بریشیا میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا پراپیگنڈہ کرتا تھا اور جوانوں کو اکساتا تھا ۔  اسکے بعد امتیاز خان عمر 40 سال، نیاز میر عمر 41 سال، صدیق محمد عمر 37 سال کو بھی اولبیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ایک افغانی شہری یحیی خان عمر 37 سال کو فوجیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اسکے علاوہ اٹلی کے شمالی شہر چویتا نووے مارکے سے زبیر شاہ عمر 37 سال اور شیر غنی عمر 57 سال کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ان میں سے دو دہشت گرد  پاکستان میں اسامہ بن لادن کے محافظ بھی رہے ہیں ۔ اس گروہ نے پاکستان میں بھی مختلف دہشت گردی کی وارداتیں انجام دی ہیں ، جن میں 28 اکتوبر 2009 میں پشاور کے مینا بازار کی واردات شامل ہے ، جس میں 100 سے زائد معصوم شہری شہید ہوئے تھے ۔ اس گروہ نے غیر قانونی امیگریشن کے زریعے اپنے افراد پورے یورپ میں پھیلا دیے تھے ۔ ان لوگوں کو جعلی کاغذات فراہم کیے جاتے تھے اور انکو سیاسی پناہ بھی دلوائی جاتی تھی ۔ گروہ کے افراد حوالہ کا بزنس بھی کرتے تھے اور اس رقم سے مختلف مقاصد پورے کیے جاتے تھے ۔ ویٹیکن کے ترجمان فادر فیدیریکو نے کہا کہ اس گروہ نے 2010 میں ویٹیکن میں دہشت گردی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انکی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ طور پر گروہ کے پروگرام میں ویٹیکن کو خطرہ لاحق نہیں تھا ۔ گروہ کے افراد پاکستان میں دہشت گردی کے حملے کرنے کے بعد اٹلی کے جزیرے میں واپس آجاتے تھے ۔ اس گروہ کے افراد کا تعلق تبلیغ و دعوہ سے بتایا جاتا ہے ۔ حافظ محمد ذوالفقار بیرگامو اور بریشیا میں تبلیغ کرتے ہوئے رقم اکٹھی کرتا تھا اور پاکستانی اور افغانی کمونٹی میں کافی مقبول تھا ۔ اس نے حال ہی میں روم کے ائر پورٹ کے زریعے 55 ہزار یورو غیر قانونی طور پر روانہ کیے تھے اور کسٹم کے حکام نے اس کا سراغ لگا لیا تھا اور اس رقم کو ضبط کر لیا گیا تھا ۔ پولیس نے بتایا کہ گروپ کے افراد کا تعلق پشتون کمونٹی سے ہے اور انکی موبائل فون کی بات چیت کی مخبری کرنے کے لیے پشتون ترجمانوں کی مدد حاصل کی گئی تھی ۔ پولیس کے مطابق انکی زبان سمجھنا کافی مشکل تھا اور اس خاطر ہم نے ایکسپرٹ ترجمان حاصل کیے تھے ۔ وزیر داخلہ الفانو نے کہا کہ اس گروہ کی تفتیش 2009 میں شروع ہوئی تھی اور اب اس آپریشن کو مکمل کر لیا گیا ہے ۔ یہ گروہ اٹلی میں بھی دہشت گردی کے حملوں کے لیے تیاری کر رہا تھا ۔ تصویر میں پولیس ملزمان کو گرفتار کر رہی ہے ۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 28 اپریل 2015 19:40

روم میں ملٹی کلچرل میلے کی نمائش

 

روم۔ 5 فروری 2015۔۔۔ پیارے قارئین آپ سے التماس کی جاتی ہے کہ آپ ہمارے میلے میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اسے بارونق بنائیں۔ اس میلے کا مقصد روم کمونے سے ایک بلڈنگ حاصل کرنا ہے ، جس میں روم کی تمام غیر ملکی ایسوسی ایشنیں اپنے دفتر قائم کر سکیں اور اپنے تہوار ، کانفرنسیں اور دوسرے عوامل کے لیے استعمال کر سکیں ۔ میلے کا ایڈریس تصویر میں موجود ہے ۔ یہ میلہ ایک تھیٹر

  میں منعقد کیا جا رہا ہے ۔ ہفتے کی صبح 10 بجے سے لیکر دوپہر 2 بجے تک مختلف شو پیش کیے جائیں گے ۔ ضرور تشریف لائیں ۔ teatro dei Servi

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

بلزانو سے عثمان کو دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر کر دیا گیا

روم۔ 22 جنوری 15 ۔۔۔۔ عثمان ریان خان عمر 23 سال کو اٹلی کے شمالی علاقے کے شہر بلزانو سے ملک بدر کر دیا گیا ہے ۔ فرانس کے شہر پیرس میں صحافیوں کے سانحہ کے بعد پورے یورپ میں مسلمانوں کی کاروائیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اگر ان میں سے کوئی شدت پسند، عسکریت پسند اور بنیاد پرستی جیسے خیالات کا حامی ہے ، اس پر نظر رکھی جاتی ہے اور اسکے فون ریکارڈ کیے جاتے ہیں ، اسکی سوشل میڈیا کی زندگی دیکھی جاتی ہے اور آخر کار اسے دہشت گرد نہیں لیکن معاشرے کے لیے خطرناک فرد قرار دیتے ہوئے ملک بدر کیا جاتا ہے یا پھر اسکا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے ، تمام پاکستانیوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مذہب کو پرائیویٹ زندگی تک محدود رکھیں اور اسے پبلک زندگی سے دور رکھیں کیونکہ یہ پاکستان نہیں ہے ۔ یہاں اسٹیٹ سیکولر ہے اور مذہب کو کسی قسم کی سرکاری حیثیت حاصل نہیں ہے۔

 خیر عثمان ریان خان بلزانو میں 8 سال کی عمر میں آیا تھا اور اسکے پاس عام پرمیسو دی سوجورنو تھی ۔ یہ کبھی کبھار کام کرتا تھا اور پاکستانی کمونٹی کے بقول ایک اچھا پاکستانی تھا۔ اسے وزیر داخلہ کے حکم کے مطابق خطرناک شہری قرار دیتے ہوئے ملک بدر کر دیا گیا ہے ۔ عثمان نے تعلیم بھی بلزانو میں حاصل کی تھی اور یہ مکمل طور پر جرمن اور اٹالین زبان بولتا تھا۔ اٹالین اخبارات کے مطابق اس نے اپنے فیس بک پر دا‏عش یا دولت اسلامیہ کے جھنڈے کی تصویر لگائی ہوئی تھی ۔  یہ عام طور پر اپنے بیانات کے زریعے بھی جہاد اور عسکریت پسند اسلام کا پرچار کرتا تھا ۔ چند ایسی ویڈیو بھی اسکے فیس بک پر موجود تھیں ، جوکہ جہادی اسلام کی عکاسی کرتی ہیں ۔ عثمان نے پیرس میں ہونے والے ہولناک دہشت گردی کے حادثے پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ناموس رسالت کی پاسداری ہر مسلمان کا فرض ہے ۔ تصویر میں عثمان ریان خان

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

پاکستانیوں نے 5 ہزار سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروائی ہیں

روم، 20 جنوری 15 ۔۔۔۔ گزشتہ سال یعنی 2013 میں پاکستانیوں نے 5 ہزار سے زائد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروائی ہیں۔ عام طور پر پاکستانیوں کی سیاسی پناہ کی درخواستیں ایک ہزار کے لگ بھگ ہوتی تھیں لیکن گزشتہ سال ہمارے نوجوانوں نے دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے اٹلی کو حیران کردیا ہے ۔ پہلا نمبر نائجیریا کا ہے ، جنہوں نے سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے 22 ہزار سے زائد درخواستیں جمع کروائی ہیں ۔ ہمارے پاکستانی جو کہ سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرواتے ہیں ، عام طور پر وہ یہی کیس کرواتے ہیں کہ طالبان انہیں زبردستی بھرتی کرتے ہوئے جنگ پر روانہ کرنا چاہتے تھے اور جس میں انکی مرضی شامل نہیں تھی ۔ اپنی جان بچانے کے لیے یہ اٹلی پہنچ گئے ہیں ۔ عام طور پر یہ پاکستانی جوان ہوتے ہیں اور ان تعلق پنجاب اور سرحد سے ہوتا ہے ۔ سرحد والے نوجوان اپنےآپ کو افغان پیش کرتے ہوئے بھی کیس کرواتے ہیں ۔ عام طور پر پاکستانیوں کا کیس مسترد کر دیا جاتا ہے لیکن ان میں سے بیشتر کو انسانی ہمدردی کی پرمیسو دی سوجورنو جاری کردی جاتی ہے ۔ یہ سوجورنو عام طور پر ایک سال پر مبنی ہوتی ہے ۔ پشاور میں ملٹری سکول کے بچوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانیوں کا کیس قدرے مضبوط ہوگیاہے۔ کیس کروانے والے پاکستانی زیادہ تر غیر قانونی طور پر ترکی اور لیبیا کے راستے استعمال کرتے ہوئے کشتیوں کے زریعے اٹلی پہنچتے ہیں ۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 20 جنوری 2015 19:54

فرانس میں دہشت گردی کے واقع کے بعد مسلمانوں کے حالات

روم۔ 18 جنوری 15 ۔۔۔۔ فرانس میں دہشت گردی کے واقع کے بعد یورپین مسلمانوں کے حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں ۔ اٹالین اخباراب کے مطابق شمالی اٹلی میں موجود ہماری پاکستانی مساجد پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ہم پر بے جا شک کیا جا رہا ہے ۔ اٹالین سیاسی پارٹی لیگا نورد نے لومبردیا میں ہماری مساجد کی تمام تر کاروائیاں، کرنٹ اکا‎‌ؤنٹ، مساجد کی کمیٹی کے نام اور ہر قسم کی مذہبی کاروائی کا رجسٹر بنانے کا قانون پیش کیا ہے ۔ شمال اٹلی میں منہاج القرآن یورپ کے صدر ارشد شاہ نے اٹالین اخبارات کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ خفیہ پولیس ہمارے اداروں کو چیک کر رہی ہے ۔ پورے اٹلی میں ہمارے 35 ادارے ہیں جو کہ پورے اٹلی میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ آج تک پولیس ہمارے کسی بھی ادارے سے عسکریت پسندی، بنیاد پرستی یا انتہا پسندی کے لوازمات تلاش نہیں کر سکی ۔ انہوں نے کہا کہ میرا پیچھا کیا جاتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ میں کہاں جاتا ہوں ، کس سے بات کرتا ہوں لیکن جب خفیہ ادارے یہ دیکھتے ہیں کہ مجھ میں کوئی خامی نہیں تو وہ خود بخود چلے جاتے ہیں ۔ فرانس میں چارلی ہیبدو کے کارٹونسٹوں کی موت کے بعد پورے یورپ میں مسلمانوں کی کاروائیوں کو شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ۔ مشرق اور مغرب کی تاریخی لڑائی دوبارہ سامنے آرہی ہے ۔ بیشتر اسلامی ممالک میں فرانس کے خلاف جلسے اور جلوس نکالے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ پورے یورپ میں چارلی ہیبدو کی فروخت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ، اب تک 50 لاکھ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں ۔ اس اخبار کے علاوہ فرانسیسی مصنف ہولبیک کی کتاب undermissionبھی شا‏ئع ہو چکی ہے اور اسکی 1 لاکھ 20 ہزار کی اشاعت ہو چکی ہے ۔ یہ کتاب ایک افسانہ ہو ، جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ 2022 میں فرانس کا صدر ایک مسلمان ہو گا اور عورتیں پردہ کریں گی ۔ اس کتاب پر بھی مختلف حلقوں میں کافی تنقیدی بحث کی جا رہی ہے ۔ تحریر، اعجاز احمد

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com