Monday, Jul 15th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

سستی ترین ہوائی ٹکٹ خریدنے کا مرکز

اگر آپ پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک میں جانے کے خواہشمند ہیں تو فوری طورپر شیخ محمد صدیق سے رابطہ کرتے ہوئے سستی ترین ٹکٹ حاصل کریں ۔

اٹلی کے کسی بھی شہر یا جگہ سے فون کرتے ہوئے ٹکٹ خریدیں ۔ شیخ محمد صدیق ٹکٹنگ کے کاروبار میں تجربہ کار اور ماہر ہونے کے علاوہ کمونٹی کی

مشہور شخصیت ہیں اور ان کا نعرہ ہے کہ وہ ٹکٹ کی گارنٹی اور کوالٹی کا خیال رکھتے ہیں ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 11 جون 2013 18:43

اٹلی میں غیر ملکی بچوں کے لیے شہریت کا قانون

 اٹلی میں قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے بچوں کی تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے جن میں سے پانچ لاکھ بچے اٹلی میں پیدا ہوئے ہیں جبکہ باقی پانچ لاکھ چھوٹی عمر میں یہاں آئے ہیں-یہ بچے اطالوی سکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور ان کی تعداد میں اسی ہزار سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے-ان کی تعداد سکولوں میں بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے-یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مستقبل میں ان بچوں کا کردار بڑا اہم ہو گا لیکن بد قسمتی سے ابھی تک ان کی شہریت کے لیے مناسب قانون سازی نہیں کی جا سکی ہے- اس تاخیر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسے سیاسی مسلہ بنا دیا گیا ہے-دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ بائیں بازو کی جماعتیں غیر ملکیوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے آسانی سے شہریت حاصل کرنے کے قوانین بنوا کر ان کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتی ہیں اس لیے وہ اس قانون سازی کی راہ میں روڑے اٹکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں- فی الوقت اٹلی میں غیر ملکیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو قانون نمبر91بتاریخ1992کے تحت شہریت دی جاتی ہے- پیدائیش کے بعد شہریت حاصل کرنے کا یہ واحد ذریعہ ہے-یہ قانون “خون کا حق“ کے اصول پر مبنی ہے جسے  IUS  SANGUINISکے نام سے جانا جاتا ہے-یہ لاطینی زبان کے الفاظ ہیں جن کا مطلب خون کا حق ہے-اس قانون کے مطابق غیر ملکی والدین کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ اٹھارہ سال کی عمر پوری کرنے کے بعد ایک سال کے اندر اپنی رہائش کے کمونے میں شہریت کے لیے درخواست دے سکتا ہے-پیدا ئش سے لے کر بلوغت کی عمر کو پہنچنے تک مسلسل ایطالیہ میں رہائش پزیر رہنا لازمی ہے-یہ تسلسل چھ ماہ سے زیادہ نہیں ٹوٹنا چاہیے- فی الحال یہاں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے شہریت کا حصول ماں باپ کی شہریت پر منحصر ہے-جب والدین میں سے کسی ایک کو دس سالہ رہائش کی بنا پر شہریت ملتی ہے تو ساتھ رہنے والے نا بالغ بچوں کو بھی مل جاتی ہے یا والدین میں سے کسی ایک کو شہریت ملنے کے بعد بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسے بھی اطالوی شہری تسلیم کیا جاتا ہے-امریکہ اور کنیڈا کے علاوہ پورے یورپ میں فرانس واحد ملک ہے جو “زمین کا حق“ کے اصول کی بنیاد پر شہریت دیتا ہے-اطالیہ میں یہ قانون “IUS SOLI“ کے نام سے جانا جاتا ہے- لاطینی زبان میں IUS SOLIزمین کے حق کو کہتے ہیں-اس قانون کے مطابق ریاست کی سرزمین پر پیدا ہونے والا بچہ پیدائش کے وقت سے ہی اس ریاست کا شہری تسلیم کیا جاتا ہے جس میں وہ پیدا ہوا ہے اس کے والدین کی شہریت چاہے کوئی بھی ہو-یورپ کے دیگر ممالک میں مختلف قوانین نافذ ہیں جبکہ اکثر میں “خون کا حق“ کا قانون اطالیہ کی نسبت نرم شرائط کے ساتھ لاگو ہے- ڈنمارک،یونان اوراسٹریا میں شرائط اطالیہ سے ملتی جلتی ہیں یعنی شہریت حاصل کرنا آسان نہیں ہے- جرمنی میں بھی خون کے حق کا قانون رائج ہے جو کہ بڑا سادہ اور آسان ہے-یہاں پیدا ہونے والے بچے کے والدین میں سے ایک کا آٹھ سال سے قانونی طور پر قیام پذیر ہونا لازمی ہے علاوہ ازیں زبان کا امتحان اور اقتصادی طور خود کفیل ہونا بھی ضروری ہے- یہی قانون آئرلینڈ ، بلجیئم ،پرتگال اور سپین میں بھی لاگو ہے- سوئٹزرلینڈ میں بارہ سالہ رہائش کی شرط ہے جبکہ چار قومی زبانوں میں سے ایک کا اچھی طرح جاننا اور سوئس نظام زندگی میں ضم ہونا بھی ضروری ہے-اس وقت اطالوی پارلیمنٹ میں شہریت کا قانون تبدیل کرنے کے متعلق بیس مختلف مسودے بحث کے انتظار میں موجود ہیں-پچھلے دنوں ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے جو مسودہ جمع کروایا گیا ہے اس کے مطابق پانچ سال سے قانونی طور پر مقیم غیر ملکی والدین کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ پیدائش کے وقت سے ہی اطالوی شہری تسلیم کیا جاہے گا جبکہ چھوٹی عمر میں یہاں آنے والے بچے سکول کا ایک درجہ پاس کرنے کے بعد اطالوی شہریت کے حقدار ہوں گے-شہریت کے قوانین میں ترمیم کے بل کو نیشنل اسمبلی میں منظور ہونے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے اس کے بعد سینٹ کی منظوری بھی لازمی ہے- اطالوی صدر، وزیر اعظم جن کا تعلق پی ڈی سے ہے، اسپیکر قومی اسمبلی جن کا تعلق پی ڈی کی اتحادی جماعت سے ہے، وزیر انٹیگریشن جن کا تعلق پی ڈی سے ہے اور وہ کونگو نژاد پہلی غیر ملکی وزیر ہیں، خالد چاؤکی جو مراکش نژاد ہیں اور پی ڈی کے ممبر پارلیمنٹ و “نئے اطالوی“ کے انچارج بھی ہیں کی پر جوش حمایت خوش آئند ہے تو وزیر داخلہ جن کا تعلق دائیں بازو سے ہے، لیگا نورد اور دیگر جماعتوں کی مزاحمت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- لیگا نورد کا موقف ہے کہ شہریت کے قانون میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ شہریت کے بغیر ہی غیر ملکیوں کو تمام بنیادی حقوق اور سہولتیں حاصل ہیں- جبکہ کچھ پارٹیاں ترامیم کے حق میں تو ہیں لیکن آسان شہریت کی مخالف ہیں- ان دنوں کافی کمونوں میں غیر ملکی بچوں کو بڑے زور و شور سے اعزازی شہریت دی جا رہی ہے- یہ ایک سرٹیفکیٹ ہوتا ہے جس کی عملی طور پر حثیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے لیکن یہ پر زور اخلاقی حمایت کا اظہار ضرور ہے- اب دیکھتے بیں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے- (تحریر: حاجی وحید پرویز ، بریشیا)-

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 03 جون 2013 17:02

اریزو میں قیصرہ گلناز کی کتاب شائع

روم۔ 28 مئی 2013 ۔۔۔۔ اریزو کی پاکستانی شاعرہ قیصرہ گلناز کی کتاب شائع کردی گئی ہے اور اب اسکی رونمائی یکم جون بروز ہفتہ کمونے کی لائبریری میں کی جا رہی ہے ۔ قیصرہ گلناز کی عمر 10 سال تھی ، جب وہ اٹلی میں آئی تھیں ۔ اب انہوں نے ثقاافتی ترجمان کا کورس کیا ہے اور اب وہ منصوبہ "Straniero, non estraneo"میں کام کررہی ہیں ۔ قیصرہ 1984 میں پیدا ہوئی تھیں اور اب انہوں نے " کچھ خواب کچھ چاہتوں " کے نام سے کتاب شائع کی ہے جو کہ اٹالین زبان میں ہے ۔ اس کتاب کی رونمائی ساڑھے چار بجے شام کی جائے گی ۔ قیصرہ ہسپتال میں بھی ثقافتی ترجمانی کا کام کرتی ہیں اور انٹیگریشن کے لیے اہم کردار ادا کررہی ہیں ۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ میری کتاب کی شاعری میں غم اورخوشی دونوں شامل ہیں۔ کتاب کی رونمائی میں Massimo Zanoccoliمیزبان کا کردار ادا کریں گے اور اسکی نظمیں سدرہ امجد اور Laura Poggiپڑہ کر سنائیں گی ۔ یاد رہے کہ اٹلی کا معاشرہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملٹی کلچرل ہوتا جا رہا ہے اور دوسرے معاشروں کے لوگ کام کرنے کے علاوہ اسکی ثقافت کا بھی حصہ بن رہے ہیں ۔ تصاویر میں کتاب اورقیصرہ گلناز

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

فیملی چیک کی نئی رقم جاری

روم۔ 27 مئی 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے قانون کے مطابق ہر سال مہنگائی اور روزمرہ کی زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیملی چیک کی رقم تعین کی جاتی ہے ۔ ہر سال اس رقم میں فرق پیدا ہوتا ہے ۔ اس سال بھی اٹلی کے فیملی چیک کے ادارے انمپس نے نئی رقم کا اعلان کردیا ہے ۔ اس چیک کی رقم یکم جولائی 2013 سے لیکر 30 جون 2014 تک فکس رہے گی ۔ عام طور پر یہ چیک نوکری کرنے والے اور ان پنشن شدہ کو دیا جاتا ہے جو کہ نوکری کرتے رہے ہیں ۔ وہ ملازم جو کہ تہہ شدہ مدت کا کام کرتے ہیں یا پھر parasubordinatiہوتے ہیں ، انکے کام کو مدنظر رکھتے ہوئے چیک کی رقم تہہ کی جاتی ہے ۔ فیملی کے چیک کی رقم بچوں اور بیوی کو مدنظر رکھتے ہوئے تہہ کی جاتی ہے ۔ یہ چیک اٹالین اور غیر ملکی ورکروں کو بغیر کسی تفرق کے دیا جاتا ہے ۔ فیملی چیک کے لیے کام کا مالک اپلائی کرتا ہے اور وہ بوستا پاگا کے زریعے ورکر کو ادا کردیتا ہے اور اسکے بعد انمپس کے ادارے سے اس رقم کی وصولی کرتا ہے ۔ ڈومیسٹک کام اور زراعت میں کام کرنے والے ملازمین کو انمپس کا ادارہ براہ راست فیملی چیک ادا کرتا ہے ۔ فیملی چیک کو assegno familiare  کہتے ہیں ۔ رقم چیک کرنے کے لیے قانون پر کلک کریں

Scarica le nuove soglie di reddito

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 27 مئی 2013 20:58

روم میں شہزاد روئے کا پروگرام کامیاب رہا

روم۔ 18 مئی 2013 ۔۔۔۔ آج شام اٹلی کے دارالخلافہ روم کے باغ بورگیزے میں شہزاد روئے کا پروگرام کامیاب رہا ۔ انہوں نے اپنے مشہور نغمے پیش کرتے ہوئے عوام کے دل جیت لیے اور لوگوں نے خوب ناچ کیا ۔ شہزاد روئے اپنے اٹلی کے دورے پر اپنے گروپ کے ساتھ تشریف لائے ہیں ۔ پاکستان ایمبیسی روم کی جانب سے میزبانی کرتے ہوئے ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ نے مہمانان گرامی کو دعوت دی اور کنسرٹ باغ میں کھلے آسمان تلے وجود میں آیا ۔ روم کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی پاکستانی شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے محفل کو چار چاند لگادیے ۔ باغ میں تین سو کے قریب لوگ موجود تھے ، جن میں اٹالین کی تعداد بھی قابل زکر تھی ۔ شہزاد روئے نے اپنے بینڈ کے ساتھ ملکر کافی گانے پیش کیے اور خوب بھنگڑا ڈالا گيا ۔ ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور قومی ترانے کے ساتھ محفل کا اختتام کیا گیا ۔ یاد رہے کہ شہزاد روئے کو انسانی ہمدردی اور سوشل ورکر کے طور پر کئی تغمے مل چکے ہیں ۔ یہ زندگی ٹرسٹ کے بانی بھی ہیں اور غریب بچوں کی تعلیم کے لیے بھی مدد کر رہے ہیں ۔ 2004 میں انہیں تغمہ امتیاز دیا گیا تھا جو کہ پاکستان میں اعلی انسانی ہمدردی کے عوض جاری کیا جاتا ہے ۔ اسکے بعد کشمیر میں زلزلے کے دوران شہزاد روئے نے دن رات محنت کرتے ہوئے زلزلہ زدگان کی مدد کی تھی اور انہیں ستارہ امتیاز کا تغمہ سونپا گیا تھا ۔ آجکل شہزاد جیو ٹیوی میں چل پڑا کے نام سے ریالٹی شو کر رہے ہیں ۔

 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت ہفتہ, 18 مئی 2013 22:47