Thursday, Apr 25th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

مارکے میں عدن فرحاج ڈھولکی کی تان کا مظاہرہ کرتے ہوئے

اس ویڈیو پر کلک کرتے ہوئے اٹلی کے زون مارکے کی مشہور شخصیت کے فن کا مظاہرہ دیکھیں

http://youtu.be/uxIBurSoP1w

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اٹلی میں نئی حکومت کا آغاز

روم، 28 اپریل 2013 ۔۔۔ اٹلی میں چند ماہ قبل الکیشن ہونے کے بعد تین پارٹیوں میں ووٹ تقسیم ہو گئے اور کوئی بھی اکثریت نہ ہونے کیوجہ سے حکومت نہ بنا سکا ۔ دو دن قبل اٹلی میں پی ڈی ایل یعنی دائیں بازو کی پارٹی اور پی ڈی یعنی بائیں بازو کی پارٹی نے ملکر حکومت بنا دی ہے ۔ وزیر اعظم ایک جوان سیاست دان انریکو لیتا ہیں جن کا تعلق پی ڈی سے ہے ۔ انہوں نے اپنے وزرا میں ایک افریقی عورت کو بھی انٹیگریشن کا وزیر منتخب کیا ہے ۔ لیتا نے کہا کہ وہ اس حکومت کے زریعے اٹلی کو معاشی بحران سے باہر نکالنے کی کوشش کریں گے اور اسکے علاوہ اٹلی میں آباد غیر ملکیوں کے لیے مثبت قوانین بنائیں گے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ حکومت غیر ملکیوں کے خلاف نہیں تھی لیکن حق میں بھی نہیں تھی ۔ اسکے برعکس پی ڈی کی حکومت غیر ملکیوں کے خوش آئند ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی پارٹی کے زریعے 2 غیر ملکیوں کو قومی اسمبلی کا ممبر بننے میں مدد کی ہے اور ہم چاہتے کہ اٹلی میں آباد غیر ملکی ہر شعبے میں شمولیت کریں ۔ اٹلی کی موجودہ حکومت میں لیگا نورد پارٹی شامل نہیں ہوئی ۔ نئی حکومت میں 13 وزرا مرد اور 7 عورتیں منتخب کی گئی ہیں ۔ تصویر میں اٹلی کے نئے وزیر اعظم انریکو لیتا

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

تمام اخراجات کے ساتھ ملک بدری دوبارہ شروع

روم ۔۔۔ اٹلی نے گزشتہ سال یورپین قانون کو قبول کرتے ہوئے ملک بدری کے قانون میں تبدیلی پیدا کر دی تھی ۔ اس قانون کے مطابق وہ غیر ملکی جو کہ اٹلی سے تنگ آکر اپنے ملک جانا چاہتے ہیں اور انکے پاس واپس جانے کے اخراجات نہیں ہیں تو انہیں ملک بدر ہونے کے لیے تمام اخراجات فراہم کرنا ہے ۔ اٹلی کی وزیر داخلہ نے اس قانون کو پاس کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہونے کا حکم جاری کیا ہے ۔ ابھی تک یہ قانون صرف کاغذوں میں موجود تھا لیکن اب اس کو عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے ۔ وزارت داخلہ نے یا قانون جنوری کے مہینے میں پاس کر دیا ہے اور اسکے پروگرام کے مطابق وہ غیر ملکی جو کہ اپنی مرضی سے اپنے ملک واپس جانا چاہیں گے اور انکے پاس اخراجات موجود نہیں ہونگے تو انہیں انکے ملک روانہ کیا جائے گا ، انہیں اٹلی سے لیکر انکے ملک تک تمام تر سہولت فراہم کی جائے گی ۔ اس پروگرام میں اٹلی کی وزرات داخلہ، ریجن اور کمونے حصہ لیں گے اس کے علاوہ انٹرنیشنل ایسوسی ایشنیں یعنی OIMکا بھی تعاون حاصل کیا جائے گا ۔ غیر ملکیوں کو کچھ رقم بھی ادا کی جائے گی اور اسکے علاوہ انہیں اپنے ملک میں دوبارہ سیٹ ہونے کے لیے کوئی معمولی کاروبار کرنے کے لیے بھی مدد کی جائے گی ۔ وہ غیر ملکی جو کہ اس پروگرام میں شامل ہونا چاہیں گے ، انہیں پریفی تورا میں درخواست دینی ہو گی ۔ اس کے بعد تھانے والے اس درخواست کی پڑتال کریں گے اور اسکے بع ددستیاب  نشستوں پر اور رقم پر غور کیا جائے گا ۔ یاد رہے کہ اس پروگرام کے لیے بہت کم رقم میسر ہے ۔ وہ غیر ملکی جو کہ بیمار ہیں یا پھر انہیں طوائف بازاری کے کاروبار میں استعمال کیا جارہا ہے انہیں اخراجات کے ساتھ ملک بدری والے پروگرام میں ترجیح دی جائے گی ۔ اسکے بعد ان غیر ملکیوں کی باری آئے گی جو کہ انٹرنیشنل یا انسانی ہمدردی کی پروٹیکشن حاصل کر چکے ہیں ۔ اسکے بعد وہ غیر ملکی آئیں گے ، جن کے پاس پر میسو دی سوجورنو رینیو کروانے کے کوائف موجود نہیں ہیں ۔ اسکے بعد وہ غیر ملکی ہونگے جنہیں ملک بدری کا نوٹس دیدیا جاتا ہے انکی تعداد سب سے زیادہ ہو گی ۔ پروگرام کے لیے رقم سوجورنو کے ٹیکس اور یورپین یونین کے فنڈ سے حاصل کی جائے گی ۔ اخراجات کے ساتھ ملک بدری کا تمام تر کام وزارت داخلہ کے شعبے سول آزادی اور امیگریشن کے سپرد کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس پروگرام میں ایسی ایسوسی ایشنیں بھی کام کریں گی ، جن کا تجربہ بین الاقوامی ہے ۔ اس پروگرام کے زریعے ان غیر ملکیوں کی مدد کی جائے گی جو کہ اپنی مرضی سے اٹلی چھوڑنا چاہتے ہیں ، ان میں وہ غیر ملکی شامل ہیں جو کہ اٹلی میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے یا پھر غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ایسوسی ایشن اوئم کے نمائندے دی جاکومو نے کہا کہ ہم بڑی ابتری سے اس قانون کا انتطار کر رہے تھے ۔ اب تک 500 سے زیادہ غیر ملکیوں نے ہم سے مرضی کی ملک بدری کے درخواست دے رکھی ہے ۔ اوئم ایسوی ایشن نے ایسے غیر ملکیوں کی مرضی کی ملک بدری میں حصہ لیا ہے جو کہ لیبیا اور تیونس میں جنگ کے بعد جانے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پورے سفر کے اخراجات اور اسکے بعد غیر ملکی کے گھر تک اسکی مدد کرتے ہیں اور اسکے بعد اسے معمولی رقم ادا کرتے ہیں اور اسکے علاوہ اسے دوبارہ زندگی شروع کرنے کے لیے کوئی کاروبار کر کے دیتے ہیں لیکن اس صورت میں ہم اسے رقم ادا نہیں کرتے ۔ مثال کے طور پر ہم نے افریقہ کے ایک غیر ملکی کو ایک وین خرید کر دی جو کہ اس نے ٹیکسی کے طور پر استعمال کی اس کے علاوہ ہم نے دوسرے ایک غیر ملکی کو ایک فروٹ کی دکان کھول کر دی ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

کام تلاش کرنے کی پرمیسو دی سوجورنو

28 جون 2012 سے پرمیسودی سجورنوبرائے کام کی تلاش کی مدت ٦ ماھ سے بڑھا کر ایک سال کر دی گئی ھے۔ یہ سجورنو لگاتار ٢ دفعہ نھیں لے سکتے۔ دوسری بار کام کے کنٹریکٹ سے رینیو ھو گی اور نارمل کام کی سجورنو ھو گی۔کام ختم ھونے کے چالیس دن کے اندر دفتر روز گار میں اندراج کروا دینا چاہیےاس کے بعد بھی کرایا جا سکتا ھے۔ کٹ میں شامل فارم نمبر ١ اور ٢ پر کیا جاءے گا- کارآمد پاسپورٹ اور ختم شدہ سجورنو کی فوٹو کاپیوں کے علاوہ افیچو پر امپییگو میں اندراج کا لیٹرمنسلک کرنا ضروری ھے۔ اس سجورنوکے اخراجات بھی کام کی سجورنو کے برابر ھیں۔ (وحید پرویز-بریشیا۔ فون ونڈ 00393398705106)

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

حجاب کیوجہ سے نوکری نہیں مل سکی

روم، 15 اپریل 2013 ۔۔۔۔ میلانو شہر میں آباد سارا محمود کو حجاب کیوجہ سے نوکری نہیں مل سکی۔ ساراسے فون پر ایک اٹالین جیسیکا بات کرتی ہے اور کہتی ہے ۔ ہیلو سارا، اگر تم حجاب اتار دو تو ہم تمہیں نوکری فراہم کردیں گے ۔ ساراجواب دیتی ہے ، دیکھیں یہ حجاب میں اپنے مذہب کیوجہ سے اوڑتی ہوں ۔ اگر آپ چاہیں تو میں کام کے یونیفارم کے مطابق حجاب اوڑوں گی ۔ جیسیکا کہتی ہے نہیں ہم تمہیں نوکری نہیں دے سکتے کیونکہ ہمارے گاہک اعتراض کریں گے ۔ اصل میں سارا نے پبلسٹی تقسیم کرنی تھی اور وہاں کونسے گاہک اعتراض کرتے ہیں ، اس کا پتا نہیں چل سکا ۔ سارا کی عمر 20 سال ہے اور وہ میلانو میں پیدا ہوئی ہے اور اسکے والدین مصری ہیں ۔ سارا یونیورسٹی میں اثار قدیمہ کی طالبہ ہے اور اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے میلانو کے صنعتی میلے میں عارضی کام کرتی ہے ۔ سارا نے اس فرم پر غیر مساوی سلوک کا کیس کردیا ہے ، جس نے اسے حجاب کیوجہ سے پبلسٹی کا کام کرنے نہیں دیا ۔ سارا کے کیس کے بعد اسکے وکیلوں نے عدالت سے کہا ہے کہ اٹلی میں غیر مساوی سلوک کے خلاف ایک قانون بنانا ضروری ہے ، کسی کے مذہب ، رنگ اور نسل کیوجہ سے غیر مساوی سلوک انتہائی غیر جمہوری ہے ۔ تصویر میں سارا محمود

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com