Thursday, Apr 25th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

ریجو امیلیا میں محمد ارشد وفات پاگئے

ریجو امیلیا ( سید مسعود شیرازی سے ) گواستالہ کمونے میں ایک پاکستانی محمد ارشد حرکت کلب بند ہونے سے وفات پاگئے ہیں ۔ مرحوم کا تعلق گجرات کے گاؤں ساہنوال کلاں سے تھا ۔ حالیہ امیگریشن میں کاغذات جمع کروا رکھے تھے کہ دنیا سے رخصتگی کا وقت آگیا ۔ مرحوم عمر رسیدہ تھے اور 6 ماہ قبل موسمی کام کا ورک پرمٹ حاصل کر کے اٹلی آئے تھے ۔ یہاں پہنچ کر مکمل حالات سے آگاہی ہوئی کہ کاغذات اور کام کیسے ملتے ہیں ۔ مایوس ہر کر اسپین چلے گئے ، گزشتہ سال جب امیگریشن میں کاغذات حاصل کرنے کا موقع آیا تو پھر اٹلی آکر کاغذات اپلائی کردیے ۔ ساتھ رہنے والے دیگر پاکستانیوں سے پتا چلا کہ مرحوم ان دنوں کافی زہنی دباؤ کا شکار تھے کیونکہ اٹلی آنے سے لیکر اب تک کافی رقم خرچ ہو چکی تھی اور پھر پیچھے جواں سال بیٹیوں کا بوجھ بھی سر پر تھا ، یہی غم انکی موت کا سبب بن گیا ۔ گواستالہ اسلامک سنٹر کے ممبران اور انتظامیہ نے اپنی کوشش سے ایک معقول رقم جمع کرکے میت کے ساتھ روانہ کردی ہے ۔

میں اپنے بھائیوں سے ایک دردمندانہ اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ پیچھے پاکستان میں بے شک معاشی حالات ابتر ہیں لیکن جتنے لاکھ دیکر ہم یورپ کا رخ کرتے ہیں ، پھر یہاں آکر مزید لاکھ دیکر کاغذات حاصل کرتے ہیں ، کام کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں اور کیسے حالات کا سامنا کرتے ہیں ، ان سے ہم بخوبی واقف ہیں ۔ اگر ہمارا کوئی عزیز یا دوست اٹلی آنے کے لیے کہے تو اسے صحیح حالات بتائیں ، تاکہ کوئی اور ارشد مستقبل کے سہانے خواب دکھ کر اپنی جان کی بازی نہ لگائے اور اپنے ساتھ ساتھ پورے خاندان کا مستقبل تباہ نہ کرے ۔ تصویر میں گواستانہ کی گلی جہاں مرحوم کبھی سیر کیا کرتے تھے ۔ 

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

لوینیو میں تحریک انصاف کا کامیاب اجلاس

روم، 28 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کے ساحلی شہر لوینیو میں گزشتہ اتوار کے روز  تحریک انصاف کا کامیاب اجلاس منعقد کیا گیا ۔ اجلاس کے میزبان ایڈووکیٹ عامر صدیق بسرا اور شیخ خالد تھے ۔ اس اجلاس کے مہمان خصوصی پی ٹی آئی اٹلی کے کوارڈینیٹر ایڈووکیٹ ندیم یوسف تھے ۔ نائب میزبان شیخ تنویر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری یہ کارنر میٹنگ انتہائی کامیاب رہی ہے اور انشااللہ ہم مستقبل میں بھی لوینیو میں تحریک انصاف کو کامیاب بنانے کے لیے اہم کردار ادا کریں گے ۔ ندیم یوسف نے اپنی تقریر میں کہا کہ تحریک انصاف پاکستان میں مثبت تبدیلی لائے گی اور ہم اپنی جوان نسل کے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کریں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس اجلاس میں جوان نسل موجود ہے اور پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ وہ عمران خان کی قیادت کی بدولت ملک کی ساخت کو بہتر بنائیں ۔ اجلاس میں 90 کے قریب مہمانان گرامی موجود تھے ۔ اس اجلاس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس میں خواتین بھی موجود تھیں ۔ عام طورپر شمالی اٹلی میں محفلوں میں عورتوں کو دعوت نہیں دی جاتی ۔ تحریک انصاف اٹلی کے نائب صدر شبیر خان نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی امید بن کر ابھرے ہیں ۔ پورے ملک میں لیڈر شپ کا بحران ہے اور تمام صوبوں کے عوام عمران خان کو واحد لیڈر تصور کرتے ہوئے ملک میں تبدیلی کے خواں ہیں ۔ روم میں آباد پاکستانی دانشور چوہدری محمد فاروق  انور نے اجلاس میں شرکت کی اور ممبر شپ کرتے ہوئے تحریک انصاف  اٹلی کو مضبوط بنانے کا عہد کیا ۔ اجلاس کے بعد شیخ خالد کی جانب سے تمام مہمانوں کو شاندار اعشائیہ پیش کیا گيا ۔ عامر صدیق بسرا  نے کہا کہ جلد روم شہر میں بھی تحریک انصاف کا عظیم الشان جلسہ منعقد کیا جائے گا ۔ ۔ تمام حاضرین نے تحریک انصاف کی ممبر شپ کرنے کا عہد کیا ۔ ممبر شپ کرنے کے لیے آپ کو مندرجہ زیل تحریک انصاف کی سائٹ میں جانا ہو گا ۔

http://insaf.pk/DRRegistration/tabid/259/Default.aspx?returnurl=http%3a%2f%2finsaf.pk%2fHome%2ftabid%2f36%2fDefault.aspx

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 28 مارچ 2013 22:23

بزنس مین سلمان رضا کا تعارف

روم، 25 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی میں آباد بزنس مین سلمان رضا نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ روم میں 5 سال سے آباد ہیں اور جیولری یک کاروبار کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرا تعلق ساہیوال سے ہے اور میں نے شہر کے کالج سے گریجوایشن کی تھی ۔ اسکے بعد میں اٹلی آگیا اور یہاں بزنس شروع کردیا ۔ اب ہم تھائی لینڈ سے جیولری امپورٹ کرتے ہیں اور اٹلی میں فروخت کرتے ہیں ۔ ہماری فرم کا نام یوٹ انٹرنیشنل ہے ۔ ہم جیولری کے علاوہ آف سیٹ پرنٹنگ مشینری خریدتے ہیں اور تھائی لینڈ میں ایکسپورٹ کرتے ہیں ۔ ہمارا ہیڈ آفس بنکاک میں ہے ۔ وہ پاکستانی جو کہ تھائی جیولری کا بزنس کرتے ہیں ، وہ ہم سے رابطہ کرتے ہوئے سستے دام فائن کوالٹی کی جیولری خریدسکتے ہیں ۔ تمام پاکستانیوں کے نام میرا پیغام ہے کہ وہ پاکستان کا نام روشن کرنے کے لیے اٹلی میں ورک کریں ۔ اگر ہم نوکری ، بزنس اور تعلیم میں کامیابی حاصل کریں گے تو خودبخود پیارے وطن کی مقبولیت ہوگی ۔ مجھ سے رابطہ کرنے کے لیے میرا موبائل نوٹ فرمائیں ۔3275448343

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

روم ایمبیسی میں یوم پاکستان کا انعقاد

روم، 24 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کے دارالخلافہ روم میں موجود پاکستانی ایمبیسی میں ہر سال کی طرح اس سال بھی 23 مارچ کے موقع پر یوم پاکستان کا انعقاد کیا گیا ۔ کمرشل اتاشی عامر سعید نے تمام مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا اور محفل کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا ۔ تلاوت کے بعد تاشقین نے نعت شریف پڑھتے ہوئے روحانی ماحول پیدا کردیا ۔ اسکے بعد سفارتکارہ میڈم تہمینہ جنجوعہ نے سبز اور سفید پرچم ہوا میں لہرایا اور اس موقع پر قومی ترانہ گایا گیا ۔ روم کی ہوا میں پاکستانی پرچم کا لہرانا تارکین وطن کو ایک خاص قسم کا جذبہ، سرور اور ولولہ مہیا کرتا ہے ۔ اس محفل کے آرگنائزر ہیڈ آف چانسری شہباز کھوکھر اور عامر سعید نے اچکن پہن رکھی تھی اور وہ محفل کی خاص رونق تھے ۔ میڈم تہمینہ جنجوعہ نے اپنی قلیل تقریر کے دوران کہا کہ 23 مارچ 1940 کے روز منٹو پارک میں یہی نعرہ گونج رہا تھا کہ " لے کر رہیں گے پاکستان " اور یہی ہوا کہ ہم نے پاکستان نے لیا ۔ انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم اور صدر کی طرف سے تمام تارکین وطن کو یوم پاکستان کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اگر آپ لوگ آج اس محفل میں تشریف لائے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے پیارے وطن سے محبت کرتے ہیں ، آپ لوگ اس ملک میں پاکستان کے اصل سفارتکار ہیں اور آپ کا فرض ہے کہ آپ پاکستان کو متعارف کروانے کے لیے اہم کردار ادا کریں ۔ میڈم تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے ، ہمیں متحد رہنا ہو گا اورملک سالمیت کے لیے کام کرنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک سال میں پیارے وطن کو متعارف کروانے کے لیے اور پاک اٹلی تعلقات کو مزید ہموار کرنے کے لیے کافی کام کیا ہے ۔ پاکستان کے کلچر پر محفلیں منعقد کی گئی ہیں ۔ اسکے علاوہ جب ہماری وزیر خارجہ اٹلی میں اپنے ہم منصب سے ایک دن کے لیے ملنے کے لیے آئی تھیں تو ہم نے انکے زریعے اٹلی کے وزیر خارجہ کو کمونٹی کے مسائل حل کرنے کے لیے چند نقات پیش کیے تھے ۔ جن میں ڈرائیونگ لائسنس کی قبولیت اور اٹالین ایمبیسی اسلام آباد میں تارکین وطن کے کاغذات کے ترجمے میں آسانی جیسے مسائل کا زکر تھا ۔ میڈم تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ وہ کینڈا میں ایک تقریب کے دوران  تین ہزار کے قریب کمونٹی کے افراد سے ملی ہیں اور وہاں سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہم اپنی دوسری نسل یعنی بچوں کی تعلیم و تریبت کے بارے میں سوچیں اور اب اٹلی میں بھی ہم یہی سوچ رہے کہ ہم اپنے بچوں کی پرورش کے بارے میں منصوبہ بندی کریں ، اسی مقصد کی خاطر ہم نے ہر سال ایک بچی اور ایک بچے کی ہنر مندی کے جواب ایک ایوارڈ رکھ دیا ہے ۔ یعنی اٹالین ہائی سکولوں میں اچھی پوزیشن لینے والے بچوں کے لیے 1000 یورو کا انعام رکھ دیا گیا ہے جو کہ ہر سال 2 بچوں کو دیا جائے گا ، اسی طرح اٹلی کے مختلف شہروں میں آباد کمونٹی کے افراد بھی اپنے شہروں میں ایک علاقائی ایوارڈ کا بندوبست کریں گے جو کہ اس شہر میں کامیاب بچوں کو دیا جائے گا ۔ میڈم تہمینہ جنجوعہ نے مہمانان گرامی میں موجود مسیحی برادری کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ مسیحی بعد میں اور پہلے پاکستانی ہیں ۔ ایمبیسڈر کی تقریر کے بعد بچوں نے قومی نغمے گائے اور تبلے کی دھنک نے محفل کی رونق کو دوبالا کیا ۔ بچوں نے پاکستانی جھنڈے پکڑ رکھے تھے اور کافی خوبصورت لگ رہے تھے ۔ تقاریر کے بعد چارٹ، سموسے، گجریلے اور چائے کا دور چلا اور مہمانان گرامی نے ایک دوسرے سے گفت و شنید کی ۔ اس محفل میں سابق صدر پرویز مشرف کے بھائی جاوید مشرف بھی موجود تھے ۔ تحریر، اعجاز احمد تصاویر عدن کمبوہ۔ فنگشن کی تمام تصاویر دیکھنے کے لیے عدن کی نیچے دی گئی فیس بک کا ملاحظہ فرمائیں ۔ http://www.facebook.com/messages/adankamboh

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

اسلام کے ساتھ ڈائیلاگ ضروری ہے ، پوپ فرانچیسکو اول

روم۔ 22 مارچ 2013 ۔۔۔ پوپ فرانچیسکو اول نے ویٹیکن میں دنیا کے تمام سفارتکاروں کو دعوت دیتے ہوئے ان سے کہا ہے کہ مختلف مذاہب اور کلچروں کے ساتھ ڈائیلاگ ضروری ہے اور خاص طور پر اسلام کے ساتھ مکالمے کی ضرورہے ۔ انہوں نے کہا کہ میری پہلی عبادت کے دوران دنیا کے مختلف ایمبیسڈروں نے شرکت کرتے ہوئے مجھے عزت بخشی ہے ۔ پوپ نے کہا کہ صرف مذہبی لوگوں کے ساتھ نہیں بلکہ غیر مذہبی لوگوں کے ساتھ بھی بات چیت مثبت ثابت ہو سکتی ہے ۔ تمام قومیں ڈائیلاگ کے زریعے ایک دوسرے کے قریب آتے ہوئے آپس میں بھائی چارے اور انسانیت کا رشتہ مضبوط کر سکتی ہیں ۔ ڈائیلاگ سے ہر قوم یہ دیکھے گی کہ اس کے سامنے ایک دشمن یا اس کا مقابلہ کرنے والا نہیں بلکہ اس کا اپنا ہی بھائی ہے ۔ میرا تعلق ارجنٹائن سے ہے اور میں اٹالین نژاد ہوں ، شاید یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈائیلاگ سے بہت دلچسپی ہے ۔ آج دنیا کے فاصلے بہت کم ہو گئے ہیں اور ڈائیلاگ کی جگہ بنانے کے لیے مثبت زرائع موجود ہیں ۔ تمام قومیں اپنی عداوتیں دور کرتے ہوئے بھائی چارے کا رشتہ قائم کر سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مکالمے کو وجود میں لانے کے لیے مذہب کی ضرورت ہے ۔ خدا کو دور رکھتے ہوئے قومیں آپس میں میل جول قائم نہیں کر سکتیں ۔ پوپ نے کہا کہ دوسروں کو بھول کر بھی خدا سے رشتہ قائم نہیں کیا جا سکتا ۔

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعہ, 22 مارچ 2013 20:30