Monday, Jul 15th

Last update12:39:09 AM GMT

RSS

البینگا شہر میں شمالی اٹلی کی سب سے بڑی مسجد کا افتتاح

روم۔ 11 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی کے ریجن لگوریا کے البینگا شہر میں شمالی اٹلی کی سب سے بڑی مسجد کا افتتاح کردیا گیا ہے ۔ اس مسجد کا افتتاح لیگا نورد کی میئر روزی گورارنیری نے کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میری پارٹی پر ہمیشہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ نسل پرست پارٹی ہے اور غیر ملکیوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف ہے  حالانکہ یہ صرف پراپیگنڈہ ہے ۔ میرا شہر البینگا غیر ملکیوں کو تمام وہ سہولتیں فراہم کر رہا ہے جو کہ انکی ضروریات کا حصہ ہیں ۔ اس شہر میں غیر ملکی انٹیگریٹ ہو رہے ہیں اور اب ہم نے شمالی اٹلی کی سب سے بڑی اور خوبصورت مسجد بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم اسلام کے خلاف نہیں ہیں ۔ میئر روزی نے اسلامی کمونٹی سے ملاقات کی اور انہیں مبارکباد پیش کی ۔ تصویر میں میئر روزی گوارنیری

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

سانحہ لاہور سے باہمی ہم آہنگی کو سنگین نقصان پہنچا ہے ، سرور بھٹی

روم ، 10 مارچ 2013 ۔۔۔ اٹلی میں پاکستانی کرسچن کمونٹی کی ایسوسی ایشن  POCOکے صدر سرور بھٹی نے آزاد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کل والے سانحہ لاہور سے باہمی ہم آہنگی کو سنگین نقصان پہنچا ہے ۔ یاد رہے کہ لاہور میں انتہا پسند گروپوں نے مسیجی برادری کے سینکڑوں گھر ، دکانیں اور 2 گرجا گھر جلا دیے ہیں ۔ اس سانحہ کی جڑ ایک حجام کی گواہی ہے ، جس کے تحت ایک کرسچن لڑکے کو توہین رسالت ۖ کا ذمہدار ٹھہرایا گیا ہے ۔ سرور بھٹی نے کہا کہ ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں اور اسکے بعد کرسچن ہیں ۔ ہم پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں اور اسلام کی عزت اپنے مذہب کی طرح کرتے ہیں ۔ جب سے توہین رسالت کا قانون بنایا گیا ہے ، تب سے ہمارے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں ۔ چند لوگ اس قانون کو زاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہوئے ہماری قتل و غارت کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ اس قانون کی آڑ لیکر صرف ہمیں جیلوں میں بند نہیں کیا جا رہا بلکہ ہماری بستیوں کو آگ لگائی جارہی ہے ۔ ہم سالوں سے مسلمانوں سے ڈائیلاگ کا سلسلہ جوڑتے ہوئے بھائی چارے اور باہمی اتحاد کے پل بنا رہے ہیں لیکن پیارے ملک میں چند جاہل اور عسکریت پسند لوگ اس پل کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ہم موجودہ حکام سے دل برداشتہ ہو کر اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کو پامال ہونے سے بچائیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو چاہئے کہ ہزاروں کرسچن جو کہ بے گھر ہو گئے ہیں ، انہیں تحفظ دیا جائے اور انکے گھر و املاک دوبارہ تعمیر کیے جائیں ۔ اس سانحے نے واضع کردیا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اور پولیس امن و امان اور عوام کی زندگی محفوظ کرنے کی گارنٹی فراہم نہیں کر رہی ۔ سروس بھٹی نے کہا کہ آج شام روم میں کرسچن کمونٹی نے ایک اجلاس منعقد کیا ہے ، جس میں عہد کیا گیا ہے کہ ہم اس غمگین سانحہ کے خلاف جلوس و جلسے کی صورت میں احتجاج کریں گے ۔ تصاویر میں سروس بھٹی اور سانحہ لاہور

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

تعلیم کی ڈگری کے بعد نوکری کا مسئلہ

روم ، تحریر ، ایلویو پاسکا ۔۔۔ وہ غیر ملکی طالب علم جو کہ اٹلی کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں ، اگر یہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کام تلاش کر لیں تو انہیں کام کی پرمیسو دی سوجورنو جاری کی جائے گی اور اگر یہ ایسا نہیں کریں گے تو انہیں اپنے ملک واپس جانا ہو گا یا پھر یہ لوگ غیر قانونی تارکین وطن بن جائیں گے ۔ اٹلی کی وزارت داخلہ کے امیگریشن کے ڈائریکٹر نے کہا کہ اب بھی کئی تھانے ایسے ہیں جو کہ طالب علموں کو کام نہ ہونے پر کام تلاش کرنے کی پرمیسو دی سوجورنو جاری کر دیتے ہیں لیکن یہ بھی قانون کی نفی کرتا ہے ۔ کیونکہ اگر ان طالب علموں نے اپنا یونیورسٹی کا کورس اچھے نمبروں میں پاس کیا ہے اور اس ملک میں پوری طرح انٹیگریٹ ہیں تو اس صورت میں بھی ان کے لیے ضروری ہے کہ یہ اپنی تعلیم ختم کرنے سے قبل ایک قانونی کنٹریکٹ والا کام تلاش کریں ۔ آج کل اٹلی میں معاشی بحران ہے اور اب کافی طالب علم خواہ وہ اٹالین ہوں یا دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے  ۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں کوئی کام مل جائے ۔ اٹلی کے امیگریشن کے قانون میں شامل ہے کہ وہ غیر ملکی طالب علم جو کہ اٹلی میں تعلیم مکمل کرتے ہیں ، ماسٹر کرتے ہیں یا پھر پی ایچ ڈی کرتے ہیں ، ان کا حق ہے کہ انہیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد فوری طور پر کام نہ ہونے کی صورت میں کام تلاش کرنے کی 6 ماہ کی سوجورنو جاری کی جائے ۔ انہوں  نے بتایا کہ اس قانون پر بحث ہونی لازمی ہے کیونکہ ہم نے تمام تھانوں کو ایک سرکولر روانہ کر دیا ہے ، جس میں لکھا ہے کہ غیر ملکی طالب علم اگر تعلیم مکمل کرتے ہیں اور اگر اسکے بعد کام تلاش کر لیتے ہیں تو انہیں تعلیم کی سوجورنو تبدیل کرتے ہوئے کام کی سوجورنو دی جائے ۔ اگر ان کے پاس کام نہیں ہے تو انہیں کام تلاش کرنے کی سوجورنو نہ جاری کی جائے ۔  کام کی سوجورنو حاصل کرنے کے لیے انہیں کوٹوں کا انتظار نہیں کرنا ہو گا لیکن کورس مکمل کرنا لازمی ہے

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

برلسکونی کو ایک سال قید کی سزا

برلسکونی تین بار اٹلی کے وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں . سابق وزیرِ اعظم سلویو برلسکونی کو غیرقانونی فون ٹیپنگ کے الزام میں مجرم قرار دے کر ایک سال کی سزا سنا دی گئی ہے۔ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پولیس کی جانب سے حاصل کردہ ایک فون ریکارڈنگ کو افشا کر کے ایک اخبار میں شائع کروایا تھا۔ یہ اخبار برلسکونی کے بھائی کا تھا۔توقع ہے کہ برلسکونی اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے اور اس دوران حراست میں نہیں رہیں گے۔فی الحال وہ اپنے خلاف ایک اور مقدمے میں اپیل کر رہے ہیں اور اگلے چند ہفتوں میں ان کے خلاف کئی اور مقدمات میںمزید فیصلے آنے والے ہیں۔ایک مقدمہ ٹیکس چوری کا ہے، جبکہ ایک اور  گزشتہ سال  اکتوبر میں برلسکونی کو ٹیکس چوری کے ایک مقدمے میں ایک برس کی سزا ہوئی تھی۔ اس سزا کا انحصار بھی اپیل پر ہے۔استغاثہ نے یہ مقدمہ اس کے بعد پیش کیا جب فون پر کی جانے والی ایک گفتگو کی تحریری نقل برلسکونی کے بھائی پاؤلو کے اخبار میں شائع ہوئی تھی۔یہ گفتگو انشورنس کمپنی یونی پول اور پیئرو فاسینو کی تھی، جو اٹلی کی سب سے بڑی معتدل دائیں بازو کی جماعت کے رہنما اور اس وقت برلسکونی کے سب سے بڑے سیاسی حریف تھے۔تونی پول بنک 2005 میں بی این ایل بینک کو خریدنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مجسٹریٹوں نے اس ریکارڈنگ کی اشاعت کو بینک خریدنے کی کوشش میں نامناسب مداخلت قرار دیا تھا۔اس اشاعت سے تجارتی رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔برلسکونی پر متعدد مقدمات کے دوران ان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں دھوکا دہی، رشوت، دروغِ حلفی، بدعنوانی اور کم عمر طوائف کے ساتھ جنسی تعلق شامل ہیں۔برلسکونی کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف الزامات سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور وہ بعض الزامات میں یا تو بری قرار پائے ہیں یا پھر وہ کسی نہ کسی قانونی سقم کی وجہ سے بچ نکلے ہیں۔

 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com

آخری تازہ کاری بوقت جمعرات, 07 مارچ 2013 20:19

البانو کرکٹ کلب کا قیام

روم۔ 5 مارچ 2013 ۔۔۔۔ اٹلی کے چھوٹے سے شہر البانو میں ایک کرکٹ ٹیم Albano Cricket Clubکا قیام وجود میں آیا ہے ۔ اس شہر کی ٹینس کی کلب نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستانی اور انڈین لڑکوں کے لیے ایک کرکٹ کلب کا انعقاد کریں ۔ انہوں نے کلب کے ممبران سے مشورہ کیا اور ایک اجلاس بلاتے ہوئے کرکٹ کلب کا اعلان کردیا ۔ اسکے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ ٹیم کو سپانسر کسے کیا جائے  ۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک لاٹری سسٹم کے زریعے ہزاروں یورو جمع کرلیے ۔ انہوں نے لاٹری سسٹم میں بھی موٹر سائیکل کمپنی بیریتا سے معاہدہ کیا ۔ اب اس کلب کے پاس ٹیم کی وردی، کرکٹ کا سامان اور یہاں کے میئر کی مدد کے ساتھ ایک گراؤنڈ بھی وجود میں آگئی ہے ۔ کلب کے اراکین کی خواہش تھی کہ وہ مستقبل میں ہونے والی چیمپئن لیگ میں حصہ لیں اور اس سلسلے میں بھی یہ لوگ لیگ میں کھیلنے کے لیے شامل ہو گئے ہیں اور اب Albano Cricket Clubمئی کے مہینے میں سیریل سی اور انڈر 17 کا ٹورنامنٹ کھیلے گی ۔ وہ کھلاڑی جو کہ البانو کرکٹ کلب میں کھیلنے کے ارادہ رکھتے ہیں ، وہ کلب میں اندراج کروا سکتے ہیں ۔ کلب کے کوچ سندیپ کمار ہیں ، جو کہ اسٹیشن پر موجود ڈونر کباب کے مالک ہیں اور Kingsgrove Milanoکلب میں کھیلتے رہے ہیں ۔ البانو کے میئر Maurizio Donisiنے کہا کہ کرکٹ کلب کے وجود سے غیر ملکی اور اٹالین میں میل ملاپ پیدا ہو گا اور انٹیگریشن کا وجود عمل میں آئے گا ۔ تصویر میں البانو کرکٹ ٹیم 

Joomla Templates and Joomla Extensions by ZooTemplate.Com